Categories: نومبر2015

حقیقی دولتمند کون؟

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَيْسَ الغِنَى عَنْ كَثْرَةِ العَرَضِ، وَلَكِنَّ الغِنَى غِنَى النَّفْسِ
تخریج:صحيح البخاري کتَابُ الرِّقَاقِ ، بَابُ الغِنَى غِنَى النَّفْسِ ،
حدیث نمبر(8/ 95)،صحيح مسلم، بَابُ لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، حدیث نمبر (2/ 726)
راوی کا تعارف:

حدیث نمبر 15 کی تشریح میں ملاحظہ فرمائیں۔

معانی الکلمات:

لَيْسَ  :   نہیں ہے                        No

الغِنَى :  دولتمندی              Wealth-Richness

الكَثْرَةِ:   کثرت                 Large quantity

العَرَضِ:مال ودولت                  Wealth

وَلَكِنَّ : لیکن                           But

النَّفْسِ: شخص /ذات/دل/روح  Person/heart/sou

ترجمہ :
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: دولتمندی کثرت مال نہیں بلکہ اصل دولتمندی دل کی سخاوت ہے۔
تشریح :
بلاشبہ عموماً غنا، تونگری اور دولتمندی کا معیار یہی ہےکہ مادی اسباب کی کثرت وبہتات ہو اور اگر دل میں احساس ذمہ داری نہ ہوتو یہ دولت اور وسائل اپنےاللّے تللّوں میں ہی صرف ہورہے ہوتے ہیں جبکہ خدمت خلق اور خدمت دین تواصل ذمہ داری ہے ان مقاصد سے پہلوتہی اور غفلت نہ صرف کہ شومیٔ قسمت ہے بلکہ ناکامی ونحوست ہے اس کے بر عکس اگر یہ مال ودولت اور وسائل مخلوق کی خدمت اور دین کی سربلندی کے لیے استعمال ہورہے ہوں تو دنیوی لحاظ سے موجب برکت اور اخروی زندگی میں باعث نجات ہیں چنانچہ سودمند اور ثمر آور وہی دولت ہے جو اللہ کی راہ میںخرچ ہو جائے اسی بناپر درحقیقت وہی شخص مالدار کہلائے گا جو اس مال کو توشۂ آخرت بنالے ورنہ وہ انتہائی غریب و فقیر انسان ہے اللہ تعالی تو اپنے بندوں پر اتنا مہربان ہے کہ اگر ایک شخص اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا سچا ارادہ کرلے حالانکہ اس کے پاس مال موجود ہی نہیں تب بھی اسے اپنی اس خالص نیت کا ثواب دیدیتاہے۔ بنا بریں مال موجود ہو یا نہ ہو اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کی مخلوق کی خدمت کے لیے اپنے وسائل صرف کرنے کا مخلص ارادہ ہی اصل دولتمندی ہے۔ واللہ اعلم

ڈاکٹر عبدالحی المدنی

Share
Published by
ڈاکٹر عبدالحی المدنی

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago