حدیث نمبر 15 کی تشریح میں ملاحظہ فرمائیں۔
معانی الکلمات:
لَيْسَ : نہیں ہے No
الغِنَى : دولتمندی Wealth-Richness
الكَثْرَةِ: کثرت Large quantity
العَرَضِ:مال ودولت Wealth
وَلَكِنَّ : لیکن But
النَّفْسِ: شخص /ذات/دل/روح Person/heart/sou
ترجمہ :
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: دولتمندی کثرت مال نہیں بلکہ اصل دولتمندی دل کی سخاوت ہے۔
تشریح :
بلاشبہ عموماً غنا، تونگری اور دولتمندی کا معیار یہی ہےکہ مادی اسباب کی کثرت وبہتات ہو اور اگر دل میں احساس ذمہ داری نہ ہوتو یہ دولت اور وسائل اپنےاللّے تللّوں میں ہی صرف ہورہے ہوتے ہیں جبکہ خدمت خلق اور خدمت دین تواصل ذمہ داری ہے ان مقاصد سے پہلوتہی اور غفلت نہ صرف کہ شومیٔ قسمت ہے بلکہ ناکامی ونحوست ہے اس کے بر عکس اگر یہ مال ودولت اور وسائل مخلوق کی خدمت اور دین کی سربلندی کے لیے استعمال ہورہے ہوں تو دنیوی لحاظ سے موجب برکت اور اخروی زندگی میں باعث نجات ہیں چنانچہ سودمند اور ثمر آور وہی دولت ہے جو اللہ کی راہ میںخرچ ہو جائے اسی بناپر درحقیقت وہی شخص مالدار کہلائے گا جو اس مال کو توشۂ آخرت بنالے ورنہ وہ انتہائی غریب و فقیر انسان ہے اللہ تعالی تو اپنے بندوں پر اتنا مہربان ہے کہ اگر ایک شخص اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا سچا ارادہ کرلے حالانکہ اس کے پاس مال موجود ہی نہیں تب بھی اسے اپنی اس خالص نیت کا ثواب دیدیتاہے۔ بنا بریں مال موجود ہو یا نہ ہو اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کی مخلوق کی خدمت کے لیے اپنے وسائل صرف کرنے کا مخلص ارادہ ہی اصل دولتمندی ہے۔ واللہ اعلم
ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…
رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…
قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…
جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…
زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…
میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…