احمد ، ابو داؤد اور حاکم نے روایت کیا اور اسے صحیح کہا کہ بے شک نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ، فَھُوَ مُضَادُّ اللهِ فِي أَمْرِهِ’’

جس کی شفاعت اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے مابین حائل ہوجاتی ہے تو وہ اس معاملے میں اللہ کے برعکس کھڑا ہے۔
اور بعض اوقات انسان گناہ سے غافل ہوجاتاہے جس کا مرتکب گناہگار ہوتا ہے، اور وہ واقع ہونے والی سزا کے منظر کو دیکھتا ہے تو اس کا دل اس کے لیے نرم پڑ جاتاہے اور وہ اس (گناہگار) کی طر ف مائل ہوتاہے تو قرآن اس چیز کا اقرار کرتاہے کہ ایمان کی حالت میں ( اس رحم دلی کی ) نفی کی جائے کیونکہ ایمان کا تقاضا پاکی ہے اور جرائم وسمو(دیکھاوا) سے فرد اور جماعت کو منزہ کرکے اعلیٰ آداب اور عمدہ اخلاق کی طرف پھیرنا ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں :

اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَّلَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَاۗىِٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ

زنا کار عورت ومرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ ان پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمہیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیے، اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیے ۔ (سورۃ النور:2)
بے شک معاشرے کے لیے رحمدلی ایک فرد کے لیے رحمدلی سے بہتر ہے ۔
فقسا ليزدجروا ومن يك حازما
فليقس أحيانا على من يرحم
اس نے سختی کی تاکہ یہ نصیحت قبول کر لیں ، اور جو ہوشیار ہوتاہے تو وہ کبھی کبھی سختی کرے ان پر جن پر وہ رحم کرتاہے۔

حدود میں شفاعت :

کسی کی شفاعت کرنا یا ایسا کوئی کام کرنا جس سے اللہ کی حدود میں سے کوئی معطل ہوتی ہو تو وہ حرام ہے ، کیونکہ اس میں محقق مصلحت کا فوت ہونا ہے اور گناہوں کے ارتکاب کی ترغیب کے ساتھ مجرم کو اس کے جرم کی سختیوں سے چھٹکارے کی رضا ہے ، اور یہ اس وقت ہے جب حاکم کے پاس امر پہنچ چکا ہو کیونکہ شفاعت اِسی وقت حاکم کو اس کی پہلی ذمہ داری سے موڑتی ہے اور اسی وقت حدود کی تعطیل کا دروازہ کھلتا ہےجبکہ حاکم کے پاس پہنچنے سے پہلے مجرم کے (گناہوں) پر پردہ ڈالنا یا اس کی شفاعت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
ابو داؤد،نسائی اور حاکم میں روایت ہے جسے حاکم نے صحیح کہا ہے کہ عمرو بن شعیب اپنے والد اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’تَعَافَوْا الْحُدُودَ قَبْلَ أَنْ تَأْتُونِي بِهِ، فَمَا أَتَانِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ’’

’’اپنے مابین حدود کو معاف کروالو پس کوئی حد میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہوجائے گی۔‘‘
اور احمد واہل السنن نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صفوان بن أمیہ کی حدیث کو صحیح کہا ہے کہ بے شک نبی مکرم ﷺ نے جب اس چور کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا جس نے آپ کی چادر کو چرایا تھا تو اس کے بارے میں شفاعت کی گئی تو آپ نے فرمایا :

’’فَهَلَّا كَانَ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ’’

كکیوں نہیں (اگر) تم میرے پاس اسے لانے سے پہلے (اس کی شفاعت)کرتے۔‘‘
اور عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا قبیلہ مخزومیہ کی ایک عورت (لوگوں سے مال) استعارۃ لیتی اور دینے سے انکار کر دیتی تو آپ ﷺ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا تو اس کے گھر والے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے بات کی تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں بات کی ،  آپ ﷺ نے ان سے فرمایا :

’’يَا أُسَامَةُ لَا أَرَاك تَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ’’

’’اے اسامہ ! میں تمہارے بارے میں یہ گمان نہ کرتا تھا کہ تم اللہ عزوجل کی حدود میں شفاعت کرو گے۔‘‘
پھر نبی کریم ﷺ نے بطور خطیب ارشاد فرمایا :

’’إنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِأَنَّهُ إذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ قَطَعُوهُ، وَاَلَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْت يَدَهَا فَقَطَعَ يَدَ الْمَخْزُومِيَّةِ’’

تم سے پہلے کےلوگ اس بنا پر ہلاک ہوئے کہ جب ان کے ہاں اگر کوئی شریف چوری کرتا تو وہ اُسے چھوڑ دیتے اور اگر ان میں کوئی ضعیف چوری کرتا تو وہ اس کا (ہاتھ) کاٹ دیتے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر فاطمہ بنت محمد ﷺبھی چوری کرتی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ۔ تو مخزومی عورت کا ہاتھ کاٹ دیاگیا۔ (اسے مسلم،احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے)
شبہات کی بنا پر حدود کا اسقاط :
حد مجرم كکے بدن اور اس کے وقار پر ضرر پہنچانے والی سزاؤں میں سے ایک سزا ہے اور کسی کے لیے جائز نہیں کہ کسی کی حرمت کو مباح کرے یا اسے تکلیف پہنچائے سوائے حق کے۔ اور یہ حق اس وقت تک ثابت نہیں ہوتا جب تک دلیل نہ ہو جو شک سے خالی ہو اور اگر اس میں شک واقع ہوگیا تو وہ یقین کو مانع ہے جس پر احکام مبنی ہوتے ہیں تو اسی وجہ سے تہمت اور شکوک کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور ناہی انہیں شمار کیاجاتاہے کیونکہ اس میں خطا کا گمان ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’ادْفَعُوا الْحُدُودَ مَا وَجَدْتُمْ لَهُ مَدْفَعًا’’ (رواه ابن ماجه)

’’حدود کو جاری مت کرو اگر تم اسے روکنے کی(کوئی شے)پالو۔‘‘
اور سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :

’’ادْرَءُوا الحُدُودَ عَنِ المُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنْ كَانَ لَهُ مَخْرَجٌ فَخَلُّوا سَبِيلَهُ، فَإِنَّ الإِمَامَ أَنْ يُخْطِئَ فِي العَفْوِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فِي العُقُوبَةِ’’

’’جتنی تمہاری استطاعت ہو اتنا مسلمانوں سے حدود کو روکو اور اگر اس میں کوئی نکلنے کی راہ نکلتی ہو تو ان کا راستہ چھوڑ دو اور بے شک امام (قاضی) کیلئے عفوودرگزر میں غلطی کرنے سے بہتر ہے کہ وہ سزا میں غلطی کرے۔ (اسے امام ترمذی نے روایت کیاہے اور کہا ہے کہ یہ روایت موقوف ہے اور بے شک اس کا موقوف ہونا صحیح ہے اور کہا کہ یہ روایت ایک سے زیادہ صحابہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بالکل ایسی ہی روایت بیان کی ہے۔)
شبہات اور اس کی اقسام :
احناف اورشوافع نے شبہات سے متعلق بیان کیا ہے اور ان دونوں کی اپنی آراء ہیں جنہیں ہم یہاں مختصربیان کرتے ہیں۔
شافعیہ کی رائے :
شافعیہ کے نزدیک شبہات کی تین اقسام ہیں :
۱۔ محل(جگہ) میں شبہ:
یعنی عمل کی جگہ ، مثلاً : شوہر نے اپنی حائضہ یا روزے دار زوجہ سے ہمبستری کی یا اس کے پیچھے سے اتیان کیا تو یہاں فعل محرم کی جگہ کا شبہ قائم ہے۔
جبکہ بے شک وہ جگہ شوہر کی ملکیت ہے اور اس کا حق ہے کہ وہ اپنی زوجہ سےمباشرت کرے اور اس کے لیے (جائز) نہیں ہے کہ وہ اس سے حائضہ یا روزے دار یا پیچھے سے مباشرت کرے سوائے اس کے کہ وہ جگہ شوہر کی ملکیت ہے اور اس کا اس پر حق ہے اور یہ ہی شے شبہ کو جنم دیتی ہے اور اس شبہ کے قائم ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے حد کو روکا جائے چاہے عمل کرنے والا عمل کو حلال سمجھے یا حرام کیونکہ شبہ کی اساس اعتقاد اور گمان نہیں ہے بلکہ اس کی اساس وہ عمل اور عمل کرنے والے کا شرعاً اس پر مسلط ہونا ہے۔
۲۔ فاعل (عمل کرنے والے) میں شبہ :
جیسے کوئی شخص کسی عورت سے مباشرت کرلیتا ہے اور وہ یہ گمان کرتاہے کہ وہ اس کی عورت ہے پھر اس پر یہ واضح ہوجاتاہے کہ وہ اس کی بیوی نہیں ۔۔۔ (تو یہاں) شبہ کی اساس فاعل کا گمان اور اس کا اعتقاد ہے جو فعل کرتے وقت تھا اور وہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اس نے کوئی حرام کام نہیں کیا تو فاعل کے ہاں اس گمان کا قائم ہونا شبہ کو جنم دیتا ہے جس کی بنا پر حد روکی جائے گی جبکہ فاعل اس فعل کو انجام دیتا اور وہ یہ جانتا ہے کہ یہ حرام ہے تو اس معاملہ میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
۳۔ سمت میں شبہ :
اور اس شبہ سے مراد کسی کام کی حلت اور حرمت ہے اور اس شبہ کی اساس فقہاء کے مابین کسی فعل پر اختلاف ہے پس ہر وہ فعل جس کی حلت اور جواز میں اختلاف ہو تو وہ ہی حد کو روکنے کا شبہ ہے جیسے ابو حنیفہ رحمہ اللہ بغیر ولی کےنکاح کو جائز کہتے ہیں ، اور امام مالک رحمہ اللہ بغیر گواہوں کے نکاح کو جبکہ جمہور فقہاء ایسا نکاح جائز ہی نہیں سمجھتے تواس شادی کا نتیجہ یہ ہے کہ ایسے مختلف فیہ شادی میں مباشرت کرنے والے پر کوئی حد نہیں کیونکہ یہ اختلاف شبہ کو کھڑا کرتا ہے جس سے حد کو روکا جاتاہے اگرچہ فاعل اس فعل کی حرمت کا اعتقاد ہی کیوں نہ رکھتا ہو کیونکہ اس اعتقاد کا اس کی ذات میں ہی کوئی اثر نہیں ہے جب تک فقہاء اس کی حلت اورحرمت میں اختلاف کرتے رہیں گے۔
احناف کی رائے :
جبکہ احناف کے ہاں اس شبہ کی دو اقسام ہیں :
۱۔ فعل (کام )میں شبہ :
یہ شبہ اس شخص کے حق میں ہے جسے اس کا فعل شک میں ڈال دے نہکہ اس کے جو شک میں نہ پڑا ہو ۔یہ شبہ اس شخص کے حق میں واقع ہوتاہے جو حلال وحرام میں شک میں پڑ جائے اور ادھر ایسی سمعی(سنی سنائی) دلیل بھی نہیں جو اسے حلال کرے، بلکہ اس نے غیر دلیل کو دلیل بنا لیا ہو جیسے کوئی اپنی مطلقہ ثلاث یا بائنہ بیوی سے عدت کی حالت میں مباشرت کرے تو اس کی علت یہ ہے کہ بے شک نکاح مباشرت کے حق میں ختم ہوچکاہے (جس کی وجہ) اس کے محل کی حلت کو معطل کرنے والی شے کا وجود ہے جو کہ طلاق ہے (لیکن) فراش (بچے) کے حق میں نکاح باقی ہے اور حرمت صرف ازواج پر ہے اور ایسی مباشرت حرام ہے وہ زنا ہے اور اس پر حد واجب ہے (لیکن) اگر مباشرت کرنے والا شک کا دعوی کرے اور اسے حلال گمان کرے کیونکہ اس کا گمان دلیل کی ایک نوع بن چکا ہے کہ اس کا نکاح فراش کے حق میں باقی ہے اور حرمت صرف میاں بیوی پر ہے اور اس نے یہ گمان کیا(اس نکاح) کی بقا مباشرت میں بھی ہے۔ اگرچہ حقیقت میں اس کی یہ دلیل صحیح نہیں ہے لیکن جب اس نے اسے دلیل گمان کیا تو یہ اس کے حق میں (حد کو) روکنے والی بن گئی جیسے شبہات روکتے ہیں اور یہ کہ مجرم اس کی حلت کا اعتقاد رکھے جب کہ وہاں حرمت کی دلیل بھی ہو یا اس کا حلت کا اعتقاد ثابت نہ ہوتا ہو تو اس میں کوئی شبہ نہیں ہے اور جب مجرم اس فعل کی حرمت کے بارے جانتا ہو تو اس پر حد واجب ہوگی۔
۲۔ جگہ میں شبہ :
اسے حکمی شبہ اورمِلکی شبہ بھی کہاجاتاہے یہ شبہ اس وقت قائم ہوتاہے جب محل(جگہ) کی حلت کے شرعی حکم میں شک واقع ہوجائے اور اس شبہ کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ احکام شریعت کے کسی حکم سے نکلاہو اور یہ شرعی دلیل کے قیام سے ثابت ہوتاہے جو اس کی حرمت کی نفی کرے، اور فاعل کے گمان کا کوئی اعتبار نہیں ہے اگر فاعل حلت کا اعتقاد رکھے یا حرمت کے بارے میں جانتا ہو وہ برابر ہے کیونکہ شبہ دلیل شرعی کے قیام سے ثابت ہوتاہے نہ کہ معرفت اور عدم معرفت سے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے