سِلسلةُ رُباعیّات الجامع الصحیح للبخاری. 8

بَاب أَدَاءُ الْخُمُسِ مِنَ الْإِيمَانِ

8-53- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ كُنْتُ أَقْعُدُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ يُجْلِسُنِي عَلَى سَرِيرِهِ فَقَالَ أَقِمْ عِنْدِي حَتَّى أَجْعَلَ لَكَ سَهْمًا مِنْ مَالِي فَأَقَمْتُ مَعَهُ شَهْرَيْنِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِالْقَيْسِ لَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنِ الْقَوْمُ أَوْ مَنِ الْوَفْدُ قَالُوا رَبِيعَةُ قَالَ مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا وَنَدْخُلْ بِهِ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ عَنِ الْأَشْرِبَةِ فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصِيَامُ رَمَضَانَ وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمُسَ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَنِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ وَقَالَ احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ

علی بن جعد، شعبہ، ابوجمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا تو وہ مجھے اپنے تخت پر بٹھا لیتے تھے (ایک مرتبہ) انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم میرے پاس رہو، میں تمہیں اپنے مال سے کچھ حصہ دوں گا، لہذا میں دو مہینے ان کے پاس رہا، بعد ازاں انہوں نے (ایک روز مجھ سے) کہا کہ (قبیلہ) عبدالقیس کے لوگ جب نبی ﷺ  کے پاس آئے، تو آپ نے ان سے کہا کہ تم کس قوم سے ہو؟ یا (یہ پوچھا کہ تم) کس جماعت سے ہو؟ وہ بولے کہ (ہم) ربیعہ (کے خاندان) سے ہیں آپ نے فرمایا کہ مرحبابا القوم یا (بجائے باالقوم کے) بالوفد (فرمایا) غیر خزایا ولاندامیٰ، پھر ان لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺہم سوائے ماہ حرام کے (کسی اور زمانے) میں آپ کے پاس نہیں آسکتے (اس لئے کہ) ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا قبیلہ رہتا ہے (ان سے ہمیں اندیشہ ہے) لہذا آپ ہم کو کوئی ایسی بات بتا دیجئے کہ ہم اپنے پیچھے والوں کو اس کی اطلاع کردیں اور ہم سب اس پر عمل کرکے جنت میں داخل ہو جائیں اور ان لوگوں نے آپ سے پینے کی چیزوں کے بابت بھی پوچھا کہ کون سی حلال ہیں اور کون سی حرام؟ تو آپ نے انہیں چار چیزوں کا حکم دیا اور چار باتوں سے منع کیا، صرف اللہ پر ایمان لانے کا ان کو حکم دیا، آپ نے فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ صرف اللہ پر ایمان لا نا (کس طرح ہوتا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب واقف ہے، آپ نے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ سوا اللہ کے کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کو نماز پڑھنے، زکوۃ دینے اور رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیا اور اس بات کا حکم دیا کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ (بیت المال میں) دے دیا کرو اور چار چیزوں (میں پانی یا اور کوئی چیز پینے) سے ان کو منع کیا، حنتم سے اور دبا اور نقیر سے اور مزفت سے (اور کبھی ابن عباس مزفت کی جگہ مقیر کہا کرتے تھے اور آپ نے فرمایا کہ ان باتوں کو یاد کرلو اور باقی لوگوں کو (جو اپنی جگہ رہ گئے ہیں ان کی تعلیم دو ۔
نوٹ : اس حدیث کے بہت سے توابع وشواہد ہیں وہ بھی رباعی الاسناد ہیں۔

وروى بسند آخرحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ هُوَ ابْنُ عَبَّادٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِالْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  به       ( رقمه  : 523  )
وروى بسند آخرحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِي اللَّه عَنْهمَا يَقُولُ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِالْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ   به    (  رقمه  :    1398)
وروى بسند آخر حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِي اللَّه عَنْهمَا يَقُولُ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِالْقَيْسِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ فَلَسْنَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْخُذُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا قَالَ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَعَقَدَ بِيَدِهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ وَأَنْ تُؤَدُّوا لِلَّهِ خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ   ( رقمه  : 3095 )

ابو نعمان حماد حمزہ ضبعی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ عبدالقیس کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ! ہم لوگ ربیعہ کے قبیلہ میں رہتے ہیں اور ہمارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کفار مضر سکونت پذیر ہیں اور ہم لوگ ماہ حرام کے سوائے آپ ﷺ کے پاس حاضر نہیں ہو سکتے لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو کوئی ایسا عمل بتائیے کہ جسے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھ کر اپنے پیچھے والوں کو اس کی طرف بلائیں تو آپﷺ نے فرمایا میں تم کو چار باتوں کے کرنے اور چار باتوں سے بچنے کا حکم دیتا ہوں (کرنے کے احکام یہ ہیں) اللہ پر ایمان لانا اور اس چیز کی شہادت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوائے دوسرا معبود نہیں ہے اور آپﷺ نے عقد انامل فرمایا (یعنی ایک تو یہ ہوئی اور باقی یہ ہیں) نماز پڑھنا زکوۃ دینا ماہ رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا (اور ممانعتی امور یہ ہیں) جن کے کرنے سے میں تم کو روکتا ہوں کہ لکڑی کاٹو کہ (کٹھلا) چینی کی ٹھلیاں اور پالش کیا ہوا روغنی برتن (یہ ظرف شراب نوشی کے لئے مستعمل ہوتے تھے)۔

وروى بسند آخر حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِي الله عَنْهمَا يَقُولُ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِالْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ    به     ( رقمه   :  3510  )
وروى بسند آخر حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِالْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ    به    ( رقمه  :  4369  )
تراجم الرواۃ :

1نام ونسب : علی بن الجعد بن عبید الجوہری الہاشمی البغدادی
کنیت: ابو الحسن
ولادت ووفات : امام ابو الحسن کی ولادت 136 ہجری  جبکہ وفات 230ہجری بغداد میں ہوئی اور وہی دفن کیاگیا۔
محدثین کے ہاں رتبہ: امام موسی بن داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’ما رأیت أحفظ منہ ‘‘ امام یحی بن معین فرماتے ہیں ’’ ھو ربانی العلم ثقۃ ‘‘ ابو الحسن ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔
2شعبہ بن حجاج رحمہ اللہ کا ترجمہ حدیث نمبر 2 میں ملاحظہ فرمائیں۔
3 ابو جمرۃ
نام ونسب : نصر بن عمران بن عصام الضبعی البصری ابو جمرہ سے ہی مشہور تھے ۔
کنیت: ابو جمرہ بعض کے ہاں ابو حمزہ ہے۔
ولادت ووفات : ولادت کا ذکر نہیں ملتا البتہ وفات 128 ہجری سرخس کے مقام پر ہوئی۔
محدثین کے ہاں رتبہ : امام ابن حجر رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ ثبت تھے اور امام ذہبی رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ تھے ۔
4 نام ونسب : عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف الہاشمی المکی ثم المدنی ثم الطائفی حبر الامہ وترجمان القرآن رسول اللہ ﷺ کے چچا کے بیٹھے فقہاء صحابہ میں شمار ہوتاہے۔ 1660 احادیث کے راوی ہیں۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مشورہ کیا کرتے تھے۔رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے خصوصی دعا فرمائی ۔

اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ(المستدرك على الصحيحين للحاكم 3/615)

’’ اے اللہ اسے دین میں فقاہت اور تفسیر کا علم عطا فرما۔‘‘
ولادت ووفات: ہجرت سے تین سال قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور 68 ہجری کو طائف میں وفات پائی۔
آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کا نام لبابہ بنت الحارث الہلالیہ جو کہ سیدہ ام المؤمنین میمونہ بنت الحارث کی بہن تھی جن کی کنیت ام الفضل تھی۔
تشریح :
اسلام سے پہلے لوگ جن برتنوں میں شراب بنایا کرتے تھے رسول اللہ ﷺ نے ان میں نبیذ(پھلوں، کھجور، کشمش اور دیگر خشک یا تر پھلوں کا پانی کے ذریعے بنایا ہوا آمیزہ) جو بطور مشروب استعمال ہوتا تھا بناکر پینے سے منع فرما دیا ا س غرض سے عموماً چار قسم کے برتن استعمال کیے جاتے تھے ۔
الْحَنْتَمِ :شراب بنانے کی غرض سے مٹی کے بڑے بڑے برتنوں کو اس طرح بنایا جاتا تھا کہ ان کی مٹی گوندھتے وقت اس میں خون اور بال ملا دیے جاتے۔ اس سے ان برتنوں کا رنگ سیاہی مائل سبز ہوجاتا تھا۔ غرض یہ ہوتی کہ اس کی سطح سے ہوا کا گزر بند ہوجائے اور تخمیر کا عمل تیز اور شدید ہوجائے۔ دیکھیے( فتح الباری، کتاب الاشربۃ ، باب ترخیص النبی ﷺ فی الاوعیۃ) ایسے برتنوں کے اندر ہوا کی بندش کو یقینی بنانے کے لیے کوئی روغن وغیرہ بھی لگادیا جاتا تھا۔ یہ برتن اپنی ساخت میں گندے اور غلیظ ہونے کے علاوہ اندرونی سطح پر شراب کے خامروں کو چھپائے رکھتے تھے جن کی وجہ سے اس میں بھی تیزی سے تخمیر کا عمل شروع ہوجاتا تھا۔
الدُّبَّاءِ : بڑے سائز کے کدو جب خشک ہوجاتے تو ان کے اندر کا گودا وغیرہ نکال کر سخت خول کو برتن کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ افریقہ کے ملکوں میں آج بھی اس کا رواج ہے۔ وہاں ایسے کدو بھی پائے جاتے ہیں جو نیچے سے گول ہوتے ہیں اور اوپر کی طرف ان کی بہت لمبی گردن ہوتی ہے ان کو بھی اندر سے خالی کرکے مشروب وغیرہ کے برتن کے طور پر استعمال کیا جاتاہے یہ بالکل صراحی کی شکل کا ہوتاہے۔ فارسی شاعری میں اسی لیے کدو کا لفظ شراب کےبرتن یا صراحی کے لیے استعمال ہوتاہے۔ اس کے باہر کی سطح سخت اور نم پروف جبکہ اندر کی سطح اسفنجی ہوتی ہے اور اگر اس کو شراب کے لیے استعمال کیا جائے تو دھونے کے باوجود اس کی اندورونی اسفنجی سطح میں خامرہ یعنی وہ مادہ جو نبیذ کے رس وغیرہ میں خمیر اٹھانے کا سبب بن جاتاہے موجود ہوتاہے۔ اس لیے ایسے برتن میں پھلوں کا رس تیار کرنے یا رکھنے سے منع کر دیا گیاہے۔
النَّقِيرِ : کھجور کے تنے کو اندر سے کھوکھلا کرکے بنایا جاتا تھا اور اس میں شراب بنائی جاتی تھی۔ بعض لوگ تو درخت کے تنے کا اوپر کا کافی حصہ کاٹ کر اسے کھوکھلا کرتے لیکن اس کی جڑیں اسی طرح زمین میں رہنے دیتے۔ ظاہر ہے کہ اس کا صحیح طور پر دھوناممکن نہ تھا نیز اس کی اندرونی سطح پر شراب کے خامرے اور دوسری گندگی بھی موجود رہتی تھی اس میں پھلوں وغیرہ کا مشروب( نبیذ) بنایا جاتا تو وہ جلد شراب میں تبدیل ہوجاتا تھا۔ اس کا استعمال بھی ممنوع قرار دیاگیا۔
الْمُزَفَّتِ: وہ برتن جس کے اندر روغن’’زفت‘‘ ملایا گیا ہو۔ یہ تارکول سے ملتا جلتا معدنی روغن ہے۔ (لسان العرب)
’’زفت‘‘ ملنے کا مقصد بھی وہی تھا کہ ہوا کا گزر نہ ہو اور شراب سازی کے لیے عمل تخمیر جلد اور شدت سے شروع ہوجائے۔ یہ بھی دوسرے برتنوں کی طرح شراب کے خامروں کا حامل ہوتاتھا۔ اس کے علاوہ روغن ملنے کی وجہ سے چپچپااور ناصاف بھی ہوتا تھا۔
عرب ان برتنوں میں شراب کے علاوہ نبیذ بھی بناتے تھے اور اس میں بہت جلد ترشی آجاتی تھی چونکہ یہ لوگ پہلے ان برتنوں کے مشروبات اور شراب کے عادی تھے تو انہیں معمولی نشے کا احساس بھی نہ ہوتا تھا اس لیے حرمت شراب کی ابتداء میں ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرمادیاگیا مگر بعد ازاں اجازت دے دی گئی تھی۔
(ماخوذ : سنن ابو داؤد (اردو) ترجمہ وفوائد فضیلۃ الشیخ عمر فاروق السعیدی حفظہ اللہ ج3 ص : 877)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے