فضیلۃ الشیخ ابو فوزان محمد طیب عبد الشکور

(فاضل مدینہ یونیورسٹی ، مترجم: محکمۃ العلیا نجران۔سعودی عرب)

رسول معظم کی ولادت باسعادت کے وقت تاریخ اپنے بدترین دور سے گزر رہی تھی۔جہالت،گمراہی اورظلم کا دور دورہ تھا دوسری قوموں کے ساتھ ساتھ اقوامِ عرب بھی خالقِ ارض وسماء کو بھول چکی تھیں۔ حیوانیت، روحانیت پہ غالب ، شیطانیت نے اس قدر مضبوط پنجے گاڑے ہوئے تھے کہ صنف نازک کو زندہ درگور کر دیتے تھے اور اپنے ہاتھوں سے ان نازک کلیوں کو مسلنے میں عزت وفخر محسوس کرتے تھے۔ سود خوری،شراب نوشی ان کا روز مرہ کا معمول اور جنگ وجدل ان کا شیوہ تھا۔ فرعونیت اس حد تک تھی کہ دوسری قوموں کو اپنا زرخرید سمجھتے تھے ، لکھنا پڑھنا نہیں جانتے لیکن زبان دانی پہ فخر غرور کی حد تک تھا، شخصیت پرستی اور مادہ پرستی ان کی رگوں میں رچ بس چکی تھی، ضلالت وگمراہی کے انتہائی گہرے گڑے میں گرے ہوئے تھے۔ بیت اللہ کا ننگا طواف کرنے کو عبادت کا نام دیا ہوا تھا، ان کا ضمیر بادصرصر کی ستم رسیدہ کونپل کی طرح مرجھا چکا تھا، خود غرضی اور بے راہ روی نے سابقہ انبیاء کی تعلیمات کو ان سے اوجھل کر دیا تھا، انصاف کے معاملے میں امتیازی سلوک کیاجاتا گویا کہ طغیان ومعصیت اور ظلم وجبر کا طوفان بپا تھا۔

رب کائنات نے اس سسکتی ہوئی انسانیت پہ رحم کیا اور آپ  دعائے خلیل، نوید مسیحا اور آمنہ کے خواب کی تعبیر بن کر دنیا میں تشریف لائے ۔آپ ﷺ نے معصومانہ طفولیت اور بے داغ جوانی گزاری، نبوت سے پہلے اپنی چالیس سالہ زندگی میں ہمیشہ حق کا ساتھ دیا، معاہدہ حلف الفضول ہو یا حجر اسود کی تنصیب کا مرحلہ ہو نہایت ہی خوش اسلوبی اور دانشمندی کا ثبوت دیا۔

بے کسوں، یتیموں،مسکینوں اور کمزور لوگوں کی مدد کرنے میں راحت سمجھی گویا آپ نے نبوت سے پہلے کی زندگی حقوق العباد کی خاموش تبلیغ میں صرف کی، معاملات دنیا نہایت امانت وصداقت سے ادا کرتے رہے اور اپنی قوم میں رسالت ملنے سے قبل ہی ’’صادق وامین‘‘ کے لقب سے پہچانے جانےلگے۔

اللہ تعالیٰ نے خلوت میں ریاضت کا ثمر نبوت کی صورت میں عطا کیا اور ختم نبوت کا تاج آپ ﷺ کو عطا ہوا ، جبریلِ امین اللہ کی طرف سے (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ)کی پہلی وحی لے کر آپ  کے پاس آئے اور حکم الٰہی لائے (يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ) کی تعمیل میں آپ  اپنی نبوت کا اعلا ن کرتے ہوئے اللہ کی وحدانیت کی طرف بلایا، تین سو ساٹھ(360) بتوں کے پجاری آپ کے جانی دشمن بن گئے، آپ  کی حق گوئی اہل مکہ کو ناگوار گزری اپنے پرائے بن گئے،دوست دشمنی پہ اُتر آئے، اقارب ’’عقارب‘‘ بن گئے طرح طرح کی تکلیفیں دی جانے لگیں آپ علیہ السلام کو ڈرایا، دھمکایا،مارا پیٹاگیا، شاعر ومجنون کہاگیا، آپ کے گھر میں کوڑاکرکٹ پھینکاگیا اور راستے میں کانٹے بچھائے گئے، پتھر مار کر لہولہان کیا گیا، دعوت الی اللہ کی پاداش میں ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے، تین سال تک آپ ﷺ کے گھر والوں کے ساتھ

سوشل بائیکاٹ کیا گیا جب ان حربوں میں ناکام ہوئے توزر،زن اور سرداری کا لالچ دیاگیالیکن داعی حق ﷺفرماتے ہیں کہ: ’’اگر میرے دائیں ہاتھ پہ سورج اور بائیں ہاتھ پہ چاند رکھ دیا جائے اور کہا جائے کہ کلمہ حق نہ کہوں ، اللہ کی قسم ! میں کبھی بھی اس راستہ کو نہ چھوڑوں گا یہاں تک کہ اللہ کا دین غالب آجائے یا میں راہ حق میں شہید کر دیاجاؤں‘‘۔

جب آپ نے دیکھا کہ اہل مکہ کی سنگدلی اور عداوت وشقاوت بڑھتی جارہی ہے تو آپ ﷺ نے طائف کا سفر کیا کہ اگر مکہ والے گُلِ اسلام کو مسلنے پہ بضد ہیں اللہ کرے یہ طائف میں مہک اُٹھے لیکن طائف والے تو اہل مکہ سے بھی دوہاتھ آگے نکلے، حق کو قبول کرنے کی بجائے داعی حق رسول کریم کو پتھر مارنے لگے اور آپ ﷺکو لہولہان کر دیا آپ ﷺ صبر وتحمل اور استقامت کا پیکر بنے رہے اور جب فرشتے نے کہا اگر کہیں تو ان لوگوں کو دو پہاڑوں کے بیچ کچل دیں ،  آپﷺ نے عفوودرگزر کا دامن نہ چھوڑا آپ نے کہا: نہیں ، اگر یہ حق کو قبول نہیں کر رہے تو مجھے اللہ سے امید ہے کہ ان کی اولاد حق کو ماننے والی ہوگی اور واپس مکہ تشریف لے آتے ہیں۔

جب کفار مکہ کی ظلم وبربریت حد سے بڑھ گئی تو آپ  نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت اور بعد ازاں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی اور جب مکہ کے سنگدل آپ کی جان کے دشمن ہوگئے اور آپ  کے گھر کا گھیراؤ کر لیا تو آپ ﷺ نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیکر اللہ کے حکم سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کہا کہ اہل مکہ کی امانتیں واپس کرکے مدینہ چلے آنا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا ۔ مدینہ منورہ میں پہنچ کر آپ نے دو بنیادی کام کیے ایک تو مہاجرین وانصار میں اخوت کا رشتہ استوار کیا اور دوسرا مسجد نبوی کی تعمیر کی۔

جب مکہ والوں نے دیکھا کہ مسلمان تو مدینہ میں سکون واستقرار حاصل کر رہے ہیں تو وہ بے قرار ہوگئے اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بننے لگے جس کے نتیجہ میں بدرواُحد اور خندق کے میدان سجے ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہر میدان میں کامیابی عطا کی پھر صلح حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا۔

مسلمانوں نے سختیوں ،تلخیوں ،مصائب وآلام کو صبر واستقامت ،جوانمردی اور ثابت قدمی سے برداشت کیا جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عزت وآبرو ، فتح ونصرت ، وقار واستقرار، مال ومتاع بھی ان کے مقدر میں کردیا۔ آخر جب اہل مکہ نے عہد شکنی کی اور صلح حدیبیہ کی شرائط کو پامال کیا تو آپ  اپنے ساتھ چودہ سوجانثار لیکر جہاں سے بےیارومددگارنکلے تھے آج ایک فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہورہے ہیں۔ مادہ پرستی ، قبائل پرستی،صنم پرستی، فرعونیت ونمرودیت، جاہلانہ رسم ورواج آپ کے قدموں میں ڈھیر ہیں۔

سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جن کو غلامیٔ محمد قبول کرنے کی پاداش میں کوڑے مارے جاتے تھے ، بے بسی کے عالم میں اَحد، اَحد کا جوابی تیر ان کے دلوںمیں پیوست کرتے تھے، آج وہی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیت اللہ کی چھت پہ کھڑ ہوکر اللہ اکبر،اللہ اکبر کی صدا بلند کرتے ہیں اور سرداران قریش ، ظلم وجبر کے داعی، خونِ انسانیت کے پیاسے، جاہلانہ رسم ورواج کے پیروکار حیرت واستعجاب کی تصویر بنے بے بسی وبے چارگی کے عالم میں آنسوں بہاتے ہوئے آغوش اسلام میں آجاتے ہیں اور باقی مکہ چھوڑ جاتے ہیں اس کے بعد طائف فتح ہوا ، حنین میں فتح ونصرت نے قدم چومے اور تبوک تک دشمنان اسلام کا پیچھا کیاگیا۔

کل جنہیں ( نبی کریم ﷺکو) اہل مکہ نے سرزمین مکہ سے بےیارومددگار نکالا تھا آج وہ شاہ عرب وعجم ہیں لیکن ان کا سینہ انتقام کی آگ سے خالی ہے اور آپ ﷺ اہل مکہ کے لیے عام معافی کا اعلان فرماتے ہیں ، آپ  کا اخلاق ہی تھا کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فارس سے اور سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ روم سے کھچے چلے آئے ، آپ ﷺ نے اپنے عمده اخلاق، عفوو درگزر، حلم وبردباری، شرافت وصداقت،جود وسخا، امانت ودیانت،عدل وانصاف،شرم وحیا،صبر واستقامت، عادات واطوار ، نشت وبرخاست،طرز تکلم وخطابت ، دعوت وتبلیغ ، عاجزی وسادگی، رحمت وشجاعت اور ایفائے عہدی کی وجہ سے نبوت کے تیئس سال کے مختصر دور میں ایسا انقلاب بپا کیا جس کو لیل ونہار،ماہ وسال غرض کہ گردش ایام کے چودہ سوسال کا سیل رواں بھی نہ مٹا سکا اور ایسا انقلاب لائے کہ جس سے ایوانِ کسری ہی نہیں شان عجم،شوکت روم بھی منہ کے بل زمین بوس ہوئی اور آتش کدہ فارس اور آذر کدہ گمراہی سرد ہوکر رہ گئے۔اور صنم خانے میں خاک اڑنے لگی، صنم دھول چاٹنے لگے، شیرازئہ مجوسیت بکھر گیا ، عرب کے جاہل گنوار،بادیہ نشینوں نے جب آستانہ نبوت پر جبیں جھکائی تو رب ذوالجلال نے رفعتیں ، بلندیاں ان کے مقدر میں کر دیں۔ جو راہزن تھے ، رہبر بن گئے ، فسق وفجور کے داعی عفت وپاکیزگی کی علامت سمجھے جانے لگے، ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بھائی بھائی بن گئے، لٹیرے عزت وناموس کے محافظ بن گئے جو آپ  کی مجلس میں آگیا وہ آپ ﷺکا ہی ہوگیا۔

عليه افضل الصلاة وازكي التسليم يا رب العالمين

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے