Categories: نومبر 2019

گناہ کا اثرِ بد زائل کرنیکا طریقہ

ڈاکٹرعبد الحئی مدنی                                 (حدیث نمبر:75)

عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّقِ اللَّهِ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ
تخریج : سنن الترمذی ، حدیث نمبر : 1987 ، مسند احمد ، حدیث نمبر :

21392
راوی کا تعارف : حدیث نمبر 56کی تشریح میں ملاحظہ فرمائیں ۔
معانی الکلمات:
اتَّقِ اللهِ
اللہ سے ڈرو
Fear Allah
حَيْثُمَا كُنْتَ
جہاں کہیں تم ہو
Where ever you are
وَأَتْبِعِ
پیچھے کرو
Follow
السَّيِّئَةَ
برائی
Sin
الحَسَنَةَ
اچھائی/نیکی
Good deed
تَمْحُهَا
اسے مٹا دیگی
Will remove it
وَخَالِقِ النَّاسَ
لوگوں کے ساتھ سلوک کرو
Deal/Treat the people
خُلُقٍ حَسَن
اچھا اخلاق
Good manner
ترجمہ :سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو، اور گناہ کے بعد نیکی کر لو، وہ نیکی اس گناہ کو ختم کر دے گی اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آیا کرو۔
تشریح :پیارے نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابی کو قیمتی نصیحتیں فرماتے ہوئے راہنمائی کی اور تین ارشادات فرمائے۔
1 سفر میں ہو یا حضر میں، لوگوں کے درمیان ہو یا تنہائی میں ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا گناہ کے قریب نہ جانا۔لوگوں کے سامنے گناہ سے بچنا آسان ہے بنسبت تنہائی کے ، تنہائی میں بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں اس وقت بھی سیدنا یوسف علیہ السلام کی طرح پاکیزگی کا دامن نہ چھوڑنا تقویٰ ہے ۔
2   اگر کبھی کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو معافی وتوبہ کے ساتھ ساتھ کوئی نیکی کر لیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ایک مہربانی یہ بھی ہے کہ نیکیوں کی برکت سے گناہ مٹا دیتاہے۔
3 ہمیشہ لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ اور حسن سلوک رکھنا۔ واللہ أعلم بالصواب
حسن اخلاق کی تعلیم مقصدِ نبوت ہے    (حدیث نمبر:77)

عَنْ مالِكٍ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ حُسْنَ الْأَخْلَاقِ
تخریج : مؤطا امام مالك ، كتاب الجامع ، باب ما جاء في حسن الخلق ، حديث نمبر :

2633
راوی کا تعارف : حدیث نمبر 3کی تشریح میں ملاحظہ فرمائیں ۔
معانی الکلمات:
بُعِثْتُ
میں بھیجاگیاہوں
I am sent
لِأُتَمِّمَ
تاکہ مکمل کروں
to complete
ترجمہ : امام مالک رحمہ اللہ کو یہ روایت پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں (تو) حسن اخلاق کی تکمیل کیلئے (ہی) بھیجاگیاہوں۔
تشریح : مذكوره حديث میں اخلاق حسنہ کی اہمیت کو اس طرح بیان کیاگیا ہے کہ آخری رسول ﷺ کی بعث کا مقصد ہی یہ تھا کہ اچھے اخلاق، حسن سلوک، نیک برتاؤ کی تعلیم پر زور دیا جائے اور لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے کے لیے خیرسگالی کے پیامبر بنانے کی کوشش کی جائے۔ اس کے لیے سب سے پہلے محمد رسول اللہ ﷺ کو بہترین اخلاق کی بلندی پر فائز کرکے عملی نمونہ بنایاگیا تاکہ زبانی تعلیم کے ساتھ ساتھ عملاً مثال کے ذریعے بھی راہنمائی کی جاسکے۔

ڈاکٹر عبدالحی المدنی

Share
Published by
ڈاکٹر عبدالحی المدنی
Tags: gunahhadith

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago