صحابہ کرام کی فضیلت اور بلند مقام ومرتبے پر قرآن کریم اور ذخیرہ احادیث میں  کثرت سے نصوص پائی جاتی ہیں۔بحیثیت مسلمان ہر فرد طبعی طور پر اس مبارک جماعت سے بے پناہ محبت وعقیدت اور لگاؤ رکھتا ہے اور ان سے محبت کو اپنے ایمان کا جزو لا ینفک سمجھتا ہیں۔اس لئے ہر مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ سب صحابہ کرام حق پر قائم تھے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پاکیزہ سیرتوں اور منور زندگیوں پر لا تعداد کتب لکھی گئی ہیں۔ذیل کی سطورمیں ہم نے ان کتابوں سے سلف صالحین اور صحابہ کرام کے وہ اقوال اختصار کے ساتھ نقل کئے ہیں جن سے اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین کی افضلیت وبلند مرتبت اور ان کے عظیم الشان مقام پر روشنی پڑتی ہے۔
اقوالِ سلف ذکر کرنے سے یہ باور کرانا مقصود ہے کہ خود ان علم وتقوی کے ان میناروں کی آراء کا ہمیں علم ہوجائے کہ وہ صحابہ کو کس نظر سے دیکھتے تھے۔
کیونکہ جس طرح قرآن و حدیث کی نصوص مقام صحابہ کیلئے حجت و دلیل ہے بالکل اسی طرح اس معاملے میں اقوال سلف کسی بھی مسلمان کے عقیدے کیلئے تقویت کا باعث اور مشعل راہ ہیں۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم  کے فرامین:
اس عنوان کے تحت « وشهد شاهد من أهلها» کے مصداق بعض صحابہ کرام کے اقوال ذکر کریںگے کہ کس طرح وہ حقیقی طور پر ’’رحماء بینهم’’ عملی نمونہ تھے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود -رضی اللہ عنہ -کا قول :
امام احمد بن حنبل -رحمہ اللہ-مسند احمد میں مشہور صحابی سیدنا عبدالله بن مسعود رضی الله عنہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں :بے شک الله تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں کو دیکھا تو تمام بندوں کے دلوں سے سب سےبہتر دل محمد ﷺ کے دل مبارک کو پایا، پس اسے الله تعالیٰ نے اپنے لیے چن لیا اور انہیں اپنی رسالت کے ساتھ نبی بنا کر مبعوث فرمایا ،پھر سیدنا محمد ﷺ کے دل مبارک کو چن لینے کے بعد اپنے بندوں کے دلوں کو دیکھا تو سب بندوں کے دلوں سے زیادہ بہتر دل محمد ﷺ کے صحابہ کے دل پاے اور انہیں اپنے نبی کا جانشین ومعاون بنا دیا جنہوں نے دین کی سربلندی کے لیے اپنے نبی کریم ﷺ کے ساتھ جہاد کیا۔
آپ رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں:» جو کوئی اقتداء کرنے والا ہو تو وہ اصحاب محمد علیہ السلام کی اقتداء کرے کیونکہ وہ اس امت کے نیک ترین لوگ ،علم میں رسوخ رکھنے والے ،کم تکلف والے ،سیدھے راستے پر چلنے والے ،بہترین کیفیت والے ایسی قوم ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کی صحبت کیلئے منتخب فرمایا ہے۔پس ان کی فضیلت کو پہچان لیجئے اور اور ان کے آثار کی اتباع کیجئے کیونکہ وہ سیدھے راستے پر تھے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول :
سیدنا عبداللہ بن عمر- رضی اللہ عنہما- سے منقول ہے۔۔آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔»جو کوئی عمل کرنے والا اور پیروی کرنے والا ہو تو ان کے راستے پر چلے جو وفات پاچکے ہیں اور آپ علیہ السلام کے اصحاب ہیں جو اس امت کے بہترین لوگ ہیں»
سیدنا حذیفہ -رضی اللہ عنہ -فرماتے ہیں:»ہر اس عبادت سے بچیں جو صحابہ کرام نے نہیں کی»
سیدنا ابن عباس۔رضی الله عنہما۔ نے میمون بن مھران سے کہا:

يَا مَيْمُونُ بْنَ مِهْرَانَ لَا تَسُبَّ السَّلَفَ، وَادْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ (معجم لابن الأعرابي3/986)

«اے میمون! تم سلف صالحین یعنی صحابہ کو برا مت کہنا جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے «
آپ رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں:»صحابہ کرام کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کیلئے مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا ہے حالانکہ اللہ رب العالمین بخوبی جانتے ہیں کہ وہ باہم قتال کریں گے۔»

اقوال تابعین

خلیفہ راشد عمر بن عبد العزیز- رحمہ اللہ -کا فرمان:
آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:»جس خون سے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھ کو پاک و صاف رکھا ہے، میں اپنی زبان اس سے آلودہ نہیں کرنا چاہتا»

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے فرامین:

آپ فرماتے ہیں :اس راستے پر چلنا  جس پر صحابہ کرام تھے اور اس کی اقتداء کرنا ہمارے نزدیک اصول سنت میں سے ہے۔
پھر فرماتے ہیں:»ہماری اپنی ذات کیلئے بھی ان کی رائے ہماری رائےسے بہتر ہے»
آپ رحمہ اللہ صحابہ کرام کے بارے میں برا بھلا کہنے والے کے اسلام کے بارے میں واضح طور پر فرماتے ہیں:»جب آپ دیکھو کہ کوئی  صحابہ کرام کو برے الفاظ سے یاد کرتا ہے تو اس کے اسلام کی خیر مناؤ»
علاوہ دیگر آپ صحابہ کرام کے محاسن و فضائل کو بیان کرنا سنت سمجھتے ہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:»صحابہ کرام کے محاسن کو بیان کرنا اور ان کے مابین ہونے والے مشاجرات کے حوالے سے بات نہ کرنا سنت ہے۔»

امام مالک – رحمہ اللہ – کا فرمان:

آپ فرماتے ہیں:»جس نے صحابہ کرام کو بھرا بھلا کہا مال فئ میں ان کا کوئی حق نہیں ہے»
امام نووی-رحمہ اللہ- (شارح صحیح مسلم ) کا فرمان :
وہ فرماتے ہیں:»جان لو کہ صحابہ کرام کو سب و شتم کرنا فحش حرکات میں سے ہے۔»

ایوب سختیانی -رحمہ اللہ- کا فرمان:

آپ صحابہ کرام کی شان کے حوالے سے کہتے ہیں:»جس نے صحابہ کرام کی مدح و ثناء کی وہ نفاق سے بری ہوگیا۔۔اور جس نے کسی بھی صحابی کی تنقیص کی یا اس سے بغض رکھا وہ بدعتی ہے۔سنت اور سلف صالحین کا مخالف ہے۔»

امام ابو زرعہ رازی-رحمہ اللہ – کا فرمان:

صحابہ کرام پر جرح کرنے والے کے بارے میں آپ فرماتے ہیں:»جب آپ دیکھیں کہ آدمی کسی بھی صحابی کی تنقیص کر رہا ہے تو سمجھ جائیں کہ وہ زندیق ہے۔کیونکہ رسول حق ہیں،قرآن حق ہےاور قرآن و حدیث کو ہم تک صحابہ کرام نے پہنچایا ہے۔»

امام آجری رحمہ اللہ کا قول:

امام آجری -رحمہ اللہ – صحابہ کرام پر تبراء کرنے والے پر سخت غصے کا اظہار فرماتے ہوۓ کہتے ہیں۔
«جس نے صحابہ کرام پر سب و شتم کیا وہ خسارے میں رہا کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے۔اس پر اللہ کی لعنت،رسول کی لعنت،فرشتوں کی لعنت اور تمام مومنین کی لعنت ہے۔»

امام اوزاعی رحمہ اللہ کا قول

امام اوزاعی رحمہ اللہ صحابہ کرام کے علم کو ہی اصل قرار دیتے ہوۓ فرماتے ہیں۔»علم تو وہ ہے جو اصحاب محمد رضی اللہ عنہم سے منقول ہے اور جو ان سے منقول نہیں وہ علم نہیں ہے۔»
اور پھر مزید فرماتے ہیں:»آپ پر سلف کے آثار لینا واجب ہے»

محمد بن نصر المروزی رحمہ اللہ کا قول:

آپ رحمہ اللہ صحابہ کرام کو لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قرار دیتے ہوۓ فرماتے ہیں:» صحابہ کرام- رضوان اللہ علیہم اجمعین -اللہ کے پیغمبر کے بعد مخلوق پر اللہ کی حجت ہے۔وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے وہ بات پہنچاتے ہیں جو ان کو رسول اللہ ﷺ نے پہنچائی تھی اور ان کو یہی حکم ملا تھا»

ابن عبد البر -رحمہ اللہ – کا قول:

ابن عبد البر رحمہ اللہ اپنی شہرہ آفاق کتاب «الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب» میں صحابہ کرام کی توصیف و تعریف میں کچھ اس طرح رطب اللسان ہیں:»صحابہ کرام کی جماعت بہترین صدی کے بہترین لوگ ہیں جنہیں لوگوں کی دعوت کیلئے منتخب کیا ہے۔۔سب کے سب کا درجہ عدل پر فائز ہونا اللہ تعالیٰ کا  ان کی تعریف کرنے اور رسول علیہ السلام کی زبانی ثابت ہے ۔اور ان سے زیادہ کوئی عادل نہیں جن سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر علیہ السلام کی صحبت اور ان کے دین کی مدد کیلئے راضی ہوا ہو۔اور صحابہ کرام کیلئے اس سے بہتر کوئی تزکیہ ہے نہ ہی عالی درجے کی تعدیل۔»

امام ابن حجر رحمہ اللہ کا قول:

امام ابن حجر رحمہ اللہ «الاصابہ» میں لکھتے ہیں:» کسی بھی شخص کی اس حیثیت کو جاننے کیلئے کہ وہ صحابی ہے ہم دو امور کا سہارا لیتے ہیں۔ایک درجہ عدل-اور صحابہ کرام سب کے سب عادل ہیں اور دوسری صحبت۔»
مزیدفرماتے ہیں:اہل سنت و الجماعت کا اس پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام سب عادل ہیں اور بات میں اختلاف صرف چند اہل بدعت نے کیا ہے»
اور آپ -رحمہ اللہ – صحابہ کرام کے راستے پر چلنے کو خوش نصیبی قرار دیتے ہوۓ فرماتے ہیں۔
«پس خوش نصیب وہ ہے کہ وہ اس چیز پر عمل پیرا ہو جس پر سلف تھے اور اس عمل سے اجتناب کرے جس کو خلف (بعد والوں) نے ایجاد کیا ہے»

ابن حزم -رحمہ اللہ – کا قول:

ابن حزم ر-حمہ اللہ- صحابہ کرام کے عادل ہونے ان کے شان اور مرتبہ اور صحبت کے حوالے سے فرماتے ہیں:»اور صحابہ کرام سب کے سب عادل ائمہ اور سب سے بہترین لوگ ہیں۔ہم پر واجب ہے کہ ہم ان کا ادب و احترام کریں ۔ان کیلئے مغفرت طلب کریں اور ان سے محبت کریں۔اور ان میں کسی کا صدقہ کردہ ایک کھجور اس سے بہتر ہے کہ ہم سے کوئی اپنا سارے کا سارا مال صدقہ کرے۔اور ان کا  پیغمبر علیہ السلام کے صحبت میں ایک دفعہ بیٹھنا ہم میں سے کسی کی ساری زندگی کی عبادت سے افضل ہے۔۔الخ..»

امام ابن تیمیہ- رحمہ اللہ – کا قول:

اس عنوان کے تحت شیخ  الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اقوال بھی بہت اہمیت کے حامل ہے۔چنانچہ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
«اور جس نے صحابہ کرام کی سیرت کو علم و بصیرت سے دیکھا اور جو اللہ تعالیٰ نے فضائل میں ان پر احسان کیا ہے وہ یقینی طور پر جان لے گا کہ صحابہ کی جماعت انبیاء کے بعد بہترین لوگ ہیں۔ ان جیسا ہے نہ ہوگا اور وہ  اس امت کے چنے ہوئے ان بہترین لوگوں میں سے ہیں جن پر اللہ نے اپنا کرم  فرمایا ہے»
اس طرح العقیدۃ الواسطیہ میں آپ اہل سنت والجماعت کے عقیدہ کو ذکر کرتے ہوۓ فرماتے ہیں:»اور اہل سنت والجماعت کے اصولوں میں یہ بات شامل ہے کہ « ان کے دل اور ان کی زبانیں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے بارے میں بدزبانی سے محفوظ  ہیں»
اس طرح آ پ مزید فرماتے ہیں:»اہل سنت و الجماعت ان رافضیوں کے طریقے سے براءت کا اعلان کرتے ہیں جو صحابہ سے بغض رکھتے ہیں اور انہیں گالی دیتے ہیں ۔»

امام طحاوی- رحمہ اللہ – کا قول فیصل:

امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ العقیدۃ الطحاویہ میں فرماتے ہیں ،اور ان (صحابہ) سے بغض رکھنا کفر ، نفاق اورسرکشی ہے»
صحابہ کی فضیلت اور مقام ومرتبے سے متعلق سلف کے بے شمار اقوال کتب سیر میں منقول ہیں۔ان سب اقوال کو جمع کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے۔مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر ہم نے یہاں چند اقوال نقل کئے ہیں۔استیعاب مقصود نہیں تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *