مٹی میں ملے ہوئے بہت سے بیج اور جڑیں جو عرصہ طویل سے نیم مردہ حالت میں پڑے ہوتے ہیں، جونہی موسم بہار آتا ہے تو ان میں زندگی کی رمق پیدا ہوجاتی ہے، اور دیکھتے ہی دیکھتے گردوغبار اڑانے والے میدان، شادابی سے لہلہانے لگتے ہیں۔

ایسے ہی امت مسلمہ کے بہت سے افراد کے دلوں میں ایمان کی حرارت کمزور ہونے لگتی ہے، تو رمضان المبارک کا موسم بہار آنے پر دوبارہ ایمان کی چاشنی اور شادابی تازہ ہوجاتی ہے اور لوگ قرآن، مسجد اور دیگر نیک اعمال کی طرف اس طرح کھینچے چلے آتے ہیں جس طرح برسات کے موسم میں پروانے شمع کے گرد جمع ہوتے ہیں۔

اس کے پیش نظر ماہِ رحمت کے ابتداء سے انتہا تک کے چیدہ چیدہ احکام دوست و احباب کی خدمت میں ہدیہ کر رہا ہوں۔

فضائلِ رمضان:

1۔رمضان کا وہ مہینہ جس میں ہم نے قرآن نازل کیا۔(البقرہ:185)

2۔رمضان المبارک جس میں جنت کے درواز ے کھول دئیے جاتے ہیں اور دوزخ کے بند کردئیے جاتے ہیں اور شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ (بخاری:3277)

3۔رمضان اور شب قدر کی وجہ سے گذشتہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔(بخاری:1896 )

4۔جو رمضان کا مہینہ پائے اور گناہوں کی معافی نہ کروائے وہ بدبخت انسان ہے۔(حاکم:153/4)

5۔رمضان المبارک میں عمرہ کرنا، حج کرنے کے برابر ثواب رکھتا ہے۔(بخاری:1863)

 6۔ایک رمضان،دوسرے رمضان تک گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے، جب کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔(مسلم:233)

 7۔روزہ اور رات کا قیام، قیامت کے دن سفارش کریں گے اور ان کی سفارش قبول کی جائے گی۔(مسند احمد :174/4 ،سنن نسائی)

رمضان سے پہلے:

1۔رمضان المبارک کا روزہ چاند دیکھ کر رکھنا چاہیے، شک کی صورت میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔ اگر مطلع صاف نہ ہو اور چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کرنے چاہئیں۔(بخاری:1909 )

2۔رمضان سے ایک یا دو دن پہلے استقبالیہ روزہ  رکھنا منع ہے، البتہ اگر کوئی شخص اپنی عادت کے مطابق روزہ رکھتا ہو اور اتفاق سے وہ دن رمضان سے پہلے آجائے تو اس کے لئے جائز ہے۔ (بخاری:1914 )

3۔رمضان کے چاند کی گواہی ایک معتبر شخص کی بھی کافی ہے، البتہ شوال (عید) کے چاند کے لئے دو معتبر آدمیوں کی گواہی ہونی چاہیئے۔(ابو داؤد:2342 )

4 ۔چاند دیکھ کر یہ دعا پڑھنی چاہیئے:

اللهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلامَةِ وَالْإِسْلامِ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ(مسند احمد)

روزے کے مقاصد:

روزے کا سب سے بڑا مقصد تو اللہ تعالیٰ اور رسول اکرمﷺ کے حکم کی اطاعت ہے، تاہم علمائے کرام نے روزوں کے مندرجہ ذیل مقاصد بیان کئے ہیں:

تقویٰ:

سال بھر وافر مقدار میں کھانے کی وجہ سے جسم و روح میں سرکشی و درندگی پیدا ہوجاتی ہے اس کو ختم کرنے کیلئے ایک ماہ کےروزے لازم کئے گئے ہیں۔

ضبطِ نفس:

تمام حیوانات کے دو بنیادی مقاصد ہوتے ہیں، وہ کھانا، پینا، اور افزائش نسل، اور یہی دو مقصد انسان کو جرائم پر آمادہ کرتے ہیں اس لئے ان دونوں پر پابندی لگا کر تربیت کرائی گئی ہے۔

احساس و ہمدردی:

جب تک انسان کو خود تکلیف و پریشانی سے واسطہ نہ پڑا ہو تب تک دوسروں کی تکلیف کا احساس نہیں ہوتا، ایک ماہ بھوک و پیاس برداشت کرنے سے غریبوں کے ساتھ احساس و ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔

صبر و تحمل:

زندگی تغیرات کا نام ہے۔ اگر آج خوشحالی ہے تو کل تنگ دستی سے بھی سامنا ہوسکتا ہے تو روزوں کے ذریعے صبر و تحمل کا مادہ پیدا کیا جاتا ہے اور تنگی برداشت کرنے کا عادی بنایا جاتا ہے۔

بیماریوں کا تدارک:

ہمیشہ کثرت سے کھانے ، پینے کی وجہ سے جسم میں ایسی رطوبتیں پیدا ہوجاتی ہیں جو آہستہ آہستہ زہر کی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔ جن سے شوگر، بلڈ پریشر، موٹاپا اور دل و معدہ کے امراض پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایک ماہ روزوں کے ساتھ ان بیماریوں کا تدارک کیا جاتا ہے۔ 1994 سابلانکا میں بین الاقوامی کانفرنس میں رمضان اور صحت کے موضوع پر 50 نکات و فوائد پر روشنی ڈالی گئی۔

روزے کےاحکام و مسائل:

نیت : فرضی روزہ کی نیت رات کو طلوعِ فجر سے پہلے کرنی ضروری ہے۔(سنن ابی داوٗد:2454)

البتہ نفلی روزہ کی نیت دن کے وقت، زوال سے پہلے کی جاسکتی ہے۔(مسلم:1154)

نیت کا تعلق دل کے ارادے سے ہے، زبان سے نیت کرنا اور کیلنڈروں پر مروجہ الفاظ ثابت نہیں ہیں۔

سحری و افطاری:

۱۔ سحری کرنا مسنون طریقہ ہے، اہل اسلام اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان سحری کا فرق ہے۔(مسلم:1096)

۲ ۔سحری میں برکت رکھی گئی ہے۔(بخاری:1923)

۳۔ سحری کا آخری وقت میں کھانا مسنون ہے۔(بخاری:1921 ، مسلم:1097)

 ۴۔ سورج غروب ہونے کے فوراً بعد روزہ افطار کرلینا چاہیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک روزہ افطار کرنے میں جلدی کریں گے۔ (بخاری:1957، مسلم:1098)

 ۵۔ افطاری کے وقت یہ دعا پڑھنی چاہیے:

ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللهُ (ابوداود:2357)

کیلنڈروں پر لکھی ہوئی یہ دعا صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں ہے:

اَللّٰھُمَّ لَكَ صُمْتُ وَبِكَ اٰمَنْتُ وَ عَلَیْكَ تَوَکَّلْتُ وَعَلٰی رِزْقِكَ اَفْطَرْتُ

 ۶ ۔مسنون طریقہ یہ ہے کہ کھجور کے ساتھ روزہ فطار کیا جائے، اگر کھجور نہ ملے تو پانی کے ساتھ افطار کیا جائے۔(سنن ابی داؤد:2356)

 ۷۔ افطاری کے وقت کی گئی دعا ردّ نہیں ہوتی(بلکہ قبول ہوتی ہے)(سنن ابن ماجہ:1753)

۸۔ افطاری کرانے والے کو بھی اتنا اجر و ثواب ملتا ہے، جتنا روزہ رکھنے والے کو ملتا ہے۔(شعب الایمان : 3953 ترمذی:807)

 ۹۔ روزہ افطار کرانے والے کے لئے یہ دعا کریں:

اَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّآئِمُونَ، وَاَكَلَ طَعَامَكُمُ الْاَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَآئِكَةُ   (سنن أبي داؤد:2357)

روزہ سے مستثنیٰ:

1۔مریض کے لئے رخصت ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے (بشرطیکہ بیماری شدید ہو)(البقرہ:185)

2۔مسافر کے لئے رخصت ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے۔(البقرہ:185) (بخاری، 1943)

 3۔حیض و نفاس والی عورت کے لئے روزہ کی ممانعت ہے۔(بخاری)

4۔حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت دقت محسوس کرے تو وہ بھی روزہ چھوڑ سکتی ہے۔ (ترمذی:715 )

 نوٹ: بہت بوڑھا، کمزور یا دائمی مریض جس کے شفایاب ہونے کی امید نہ ہو وہ روزے کا فدیہ دے یعنی ہر روزے کے بدلے ایک غریب ، مسکین کو کھانا کھلادے۔(البقرہ:184 )

اور وقتی عارضے والا رمضان کے بعد قضا دے۔ (البقرہ:185)

چھوڑے ہوئے روزوں کی تواتر سے قضا لازمی نہیں، بلکہ وقفے کے ساتھ بھی رکھے جاسکتے ہیں۔(بخاری:1950)

اگر وہ شخص فوت ہوجائے جس کے ذمہ فرضی روزے تھے تو اس کا وارث اس کی طرف سے قضا دے۔ (بخاری:1952)

روزہ کی حالت میں ممنوع کام:

1۔جان بوجھ کر کھانا پینا،ازدواجی تعلقات قائم کرنا منع ہے۔ (بخاری:1936 مسلم:1151)

2۔عمداً قئی کرنا منع ہے۔(سنن ابی داود:2380 )

3۔حیض و نفاس آنے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے۔(چاہے غروب آفتاب سے چند منٹ پہلے ہی ہو)۔(بخاری:1951 مسلم:335)

4۔بیوی سے محبت کا اندازاپنانا جس سے شہوت کے غلبہ کا خدشہ ہو یا مشت زنی کرنا، منع ہے۔

5۔خون لگوانا، گلوکوز، یا کوئی طاقت بخش ٹیکہ وغیرہ لگوانا منع ہے۔

6۔مبالغہ کے ساتھ ناک میں پانی چڑھانامنع ہے۔(ترمذی:788 ابوداؤد:142)

7۔روزہ کی حالت میں اتنی مقدار میں خون نکلوانا جس سے روزہ کی تکمیل مشکل ہوجائے، یہ بھی منع ہے۔ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: سینگی لگوانے اور لگانے والے نے روزہ چھوڑدیا۔(مسند احمد،ابوداود)

البتہ زخم، پھوڑا، اور نکسیر سے خون بہے تو روزہ باطل نہ ہوگا۔

8۔روزہ کی حالت میں غیبت، جھوٹ، دھوکہ، موسیقی کا سننا وغیرہ تمام کام ممنوع ہیں۔

9۔یہ سمجھ کر کھانا پینا کہ ابھی صبح صادق نہیں ہوئی، حالانکہ صبح صادق ہوچکی ہو تو اس سے روزہ باطل ہوجاتا ہے۔

روزہ کی حالت ميں جائز كام :

1۔غسل كرنا، كلي كرنا، ناك ميں پاني ڈالنا بشرطيكه مبالغه نه كرے تو جائز هے۔(سنن أبي داؤد :2366)

2۔مسواك كرنا جائز هے (خوره خشک هو يا تر اور يهي حكم ٹوتھ پيسٹ كا هوگا۔( بخاري :887)

3۔حالت جنابت میں سحري كھانا جائز هے البته نماز كے لئے غسل كرنا ضروري هے۔ (بخاري 1926)

4۔اگر شهوت كا خدشه نه هوتو بيوي سے بوس وكنار كرنا جائز هے۔(بخاری:1927 مسلم:1106)

5۔سرمہ لگانا، کان یا آنکھ میں دوائی ڈالنا جائز ہے۔ ( ابن ماجہ :1678)

6۔بوقت ضرورت ہنڈیا وغیرہ کا ذائقہ چکھنا جائزہے۔(بخاری :1209)

7۔گرد وغبار ،دھواں یا مکھی وغیرہ حلق میں چلے جائیں تو روزہ باطل نہیں ہوتا ۔(فتح الباری :155/1)

8۔خود بخود قئی آنے سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔(ابوداؤد:2393)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے