کلمۃ الجامعہ (اداریہ)

باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:  

اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْت لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا

آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ (المائدہ:۳)

دین اسلام رب کا ئنات کا پسندیدہ اور منتخب کردہ دین ہے۔دین اسلام کی تعلیمات زبانی فلسفوں سے منزہ اور نظریاتی و منطقی الجھنوں سے یکسر پاک ہیں۔ اسلام کے اعتقادی مسائل فطرت سلیمہ اور طبائع مستقیمہ سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں۔

شریعت اسلامیہ کے اصول و مبادی انسانی ضروریات اور بشری تقاضوں کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہیں۔ دین اسلام دنیاوی مصلحتوں اور اخروی منافع کا ضامن ہے۔

شریعت محمدیہ علی صاحبہا افضل السلام و ازکی التحیات جملہ آسمانی شریعتوں کا خلاصہ اور پیغامات الہیہ کا نچوڑ ہے۔ باری تعالیٰ نے اس حقیقت کا اعلان اس فرمان میں کیا ہے:

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٖٓ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ ۭ كَبُرَ عَلَي الْمُشْرِكِيْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَيْهِ ۭ اَللّٰهُ يَجْتَبِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ     (الشوریٰ 13)

اللہ تعالٰی نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کر دیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے آپ کی طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وہ تو (ان) مشرکین پر گراں گزرتی ہے اللہ تعالٰی جسے چاہتا ہے اپنا برگزیدہ بناتا ہے اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرے وہ اس کی صحیح راہنمائی کرتا ہے ۔

یہ دین اسلام ہی ہے جس نے پوری انسانیت کو ایک ہی منہج ،ایک معبود اور ایک ہی آخری رسالت پر جمع ہونے کی دعوت دی ہے۔

قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَاۗءٍۢ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْـــًٔـا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ؀

آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالٰی کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیںنہ اللہ تعالٰی کو چھوڑ کر آپس میں آپ دوسرے کو ہی رب بنائیں پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں (اٰل عمران:۳)

دین اسلام میں مقرر کی گئی مختلف عبادتوں سے نفس کی تطہیر، دلوں کا تزکیہ اور کردار و گفتار کی تہذیب و اصلاح ہوتی ہے۔

اسلام اپنے ماننے والوں کو کامل ترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا دائرہ انسان کی عملی زندگی کے اصول و قواعد تک پھیلا ہوا ہے۔ قارئین کرام ۱۹۴۷؁ اسی دینِ حنیف پرعمل کرنے کے لئے اور عَلمِ اسلام کو پوری دنیا میں لہرانے کے لئے اس مملکت پاکستان کے حصول کے لئے بے شمارقربانیاں دی گئی تھیں۔

ارض پاکستان ریاست مدینہ کے بعد دنیا کی دوسری اسلامی نظریاتی مملکت ہے جسکے حصول کا بنیادی مقصد دینِ اسلام کے احکامات پر مکمل عمل در آمد کرنا تھا۔

پاکستان میں ایک حقیقی فلاحی ریاست کے مکمل خدو خال اجاگر کرنے چاہئے تھے۔

مگر افسوس ! کہ آج ملک عزیز پاکستان میں ہر سطح پر اسلام دشمن سرگرمیاں عروج پکڑ چکی ہیں۔ اسلام دشمن عناصر دین اسلام کی روشن تعلیمات کو مسخ کرنے اور پاکستان کے اسلامی تشخص کو داغدار کرنے میں شب وروزمصروف عمل ہیں، دینِ اسلام کو سرنگوں کرنے اور وطن عزیز کے وقار کو مجروح کرنے میں نام نہاد اہل اسلام ہی پیش پیش نظر آتے ہیں، جس کا مشاہدہ آئے روز رونما ہونے والے واقعات سے ہوتا رہتا ہے۔ اس واقعہ کا اجمالی خاکہ کچھ یوں ہے کہ صوبہ سندھ کے ضلع جیکب آباد سے تعلق رکھنے والی لیڈی ڈاکٹر لتا کارنی نے دینِ اسلام کی آفاقی تعلیمات کا عمیق مطالعہ کیا اور حقائق جاننے کے بعد دینِ اسلام قبول کرلیا۔

قبولیت اسلام کے بعد ان کا اسلامی نام حفصہ رکھا گیا۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد جیکب آباد ہی کے رہائشی نادر بیگ سے پسند کی شادی کرلی، جب ہندو برادری کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو انہوں نے اس مسئلہ کو پاکستان میں اقلیتوںمیں عدم تحفظ کے احساس کے حوالے سے عالمی ایشو بنادیا۔ ڈاکٹر حفصہ کے والد ڈاکٹر رمیش کمار نے یہ الزام لگایا ہے کہ ان کی بیٹی کو اغوا کرکے زبردستی شادی کی گئی ہے اور قبولیت اسلام کا سرٹیفکٹ بھی جعلی ہے۔اسی طرح کا معاملہ گھوٹکی میں اسلام قبول کرنے والی فریال(سابقہ نام رنکل کماری) کا بھی ہے، فریال کو پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور درگاہ چونڈی شریف کے ذمہ دار میاں عبد الحق عرف میاں مٹھو نے دائرہ اسلام میں داخل کیا۔

فریال کے قبول اسلام کے علاوہ بھی سکھ اور عیسائی ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرچکے ہیں۔ فریال نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا تھا اور نوید شاہ نامی شخص سے شادی کی، مگر سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان کے عائلی قوانین اور اسلامی قوانین کے بالکل برعکس انہیں دارالامان بھیجنے کی ہدایات جاری کردی۔حالانکہ نو مسلمہ خواتین نے عدالت کے روبرو اپنے بیانات میں اس بات کا اظہار کیا تھا کہ انہوں نے اپنی خوشی سے دینِ اسلام قبول کیا ہے او راپنی مرضی ہی سے نکاح کیا ہے، لہٰذا انہیں اپنے اپنے شوہروں کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی اجازت دی جائے مگر سندھ ہائی کورٹ نے حکومتی دباؤ اور اپنےمغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے انہیں دارالامان بھیجنے کاغیر منصفانہ فیصلہ صادر کردیا۔

قارئینِ کرام ! دستورِ پاکستان اور اسلام کی تعلیمات میں اقلیتوں کے تحفظ کے لئے واضح احکامات موجود ہیں۔

دین اسلام نے تو شوہر کے گھر کو عورت کے لئے جائے پناہ اور محفوظ ترین ٹھکانہ قرار دیا ہے، مگر ہماری عدالتیں ان خواتین کو اپنے شریک حیات سے ملنے پر بھی پابندی لگاتی ہیں۔

ریاست مدینہ کے مثالی حکمران تو نو مسلم سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہکو سلمان منا اہل البیت(سلمان تو ہمارے اہل کا حصہ ہے)کا مژدہ سنائیں، مگر ہم آج نو مسلم کو عدالتوں کے کٹہرے میں لاکھڑا کریں۔ رسول اکرم ﷺ قبولیت اسلام کے لئے ہر مادی فوائد ترک کرکے بارگاہِ نبوی میں خالی ہاتھ حاضر ہونے والے جری مجاہد سیدنا صہیب رومی رضی اللہ عنہ کو ربحت التجارۃ (سودا نفع بخش ہے)جیسے تسلی بخش کلمات سنائیں اور ہم خلعت اسلام کو زیبِ تن کرنے والوں کی پاک دامنی پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔

دینِ اسلام کی تعلیمات تو مؤلفۃ القلوب کے تحت نو مسلم افراد کی مالی معاونت کرنے کی تلقین کرے اور ہم ہیں کہ انہیں مالی نقصان پہنچانے کے لئے حیلے اور بہانے تلاش کریں ۔ قول و فعل کا یہ تضاد ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہمارا یہ طرزِ عمل کہیں نو مسلم افراد کو ڈگمگانے کا باعث تو نہیں بنے گا۔؟؟ !

اس واقعہ کو میڈیا کے بعض عناصر نے بھی منفی رنگ دیا ہے جو کہ ہر حال میں قابلِ مذمت ہے۔

پاکستان میں قبول اسلام کے متعدد واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں مگر میڈیا نے اپنے منفی عزائم کی تکمیل کے لئے صرف اسی واقعہ ہی کو کیوں شہہ سرخی بناکر پیش کیا ہے؟ ان دونوں خواتین سے پہلے بہت سی معززات نے گوشہ اسلام میں عافیت اختیار کی ہے مگر ان کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں نہ میڈیا، نہ مغربی فنڈز کے سہارے قائم رہنے والی نام نہاد این۔ جی اوز۔ اور نہ ہی سیاسی تماشہ گر ٹس سے مس ہوئے ہیں مگر حالیہ واقعہ پر تو سیاسی شعبدہ باز، امریکہ و انڈیا کی دلدادہ فلاحی تنظیموں نے ایک طوفانِ بدتمیزی برپا کیا ہوا ہے۔

کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اس واقعہ کو اسلام دشمن قوتیں دینِ اسلام کی تعلیمات کو مسخ کرنے اور سیاسی رہنما اپنے مزعومہ سیاسی مقاصد کے پیش نظر موضوعِ بحث بنارہے ہیں ہم ان سطور کے ذریعے الدین النصیحۃ کے تحت اپنی دونوں نو مسلم بہنوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ رسول معظم ﷺ کے اس فرمان:قل اٰمنت باللہ ثم استقم کہ کہہ دو ! میں ایمان لایا، اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ، کے مطابق آنے والی ہر مصیبت میں استقامت کا مظاہرہ کریں ۔ اور اسلام کے ابتدائی زمانے میں قبولیت اسلام میں استقامت فی الدین کا مظاہرہ کرنے والی انمول شخصیات کے ایمان افروز واقعات کا گہرا مطالعہ کریں۔ہم انہیں اسلامی کمیونٹی میں داخل ہونے پر ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں اور باری تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ آپ کو بقیہ زندگی اسلام کی خدمت میں بسر کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ ہم حکومت وقت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ نو مسلم خواتین و حضرات کے بنیادی حقوق کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں مکمل تحفظ فراہم کرے اور اسلام نے جو حکومت وقت پر ذمہ داریاںعائد کی ہیں، ان کو پورا کرے۔

ستم بالائے ستم یہ ہے کہ گھر سے بھاگ کر اپنی پسند کی شادی کرنے والی لڑکیوں کے لئے ہمارا آزاد میڈیا بھرپور تائید فراہم کرتا ہے آزادی نسواں کے نام پر یہ اباحیت کو فروغ دینے والی ایج جی اوز بھی میدان میں اترآتی ہیں مذہب کو خالص فرد کا ذاتی مسئلہ بتانے والے ترقی پسندوں سے لیکر محبت کی شادیوں کو آزادی کے نام پر یہ سند جواز فراہم کرنے والوں کے پیمانے یہاں کیونکر یکسر تبدیل نظر آتے ہیں؟ خود ہندوستان کے اندر محترم ڈاکٹر ذاکر نائک کے ہاتھ کتنے مرد و زن مسلمان ہوچکے ہیں وہاں تو یوں طوفانِ بد تمیزی امڈتا نظر نہیں آیا، آخر یہاں ایسا کیوں ہے جب کہ دینِ اسلام کسی کو اسلام لانے پر مجبور بھی نہیں کرستا مگر اسلام لانے کے بعد اسے اتداد سے مجبور کرنے کو صریحا کفر بتاتا ہے اصل مسئلہ ریاست کے تشخص کو مٹانے کا ہے جس پر اقتدار پر قابض مخصوص فکر کے حامل لوگ تسلسل کے ساتھ عمل پیرا رہیں۔

علمائے کرام سے گزارش ہے کہ حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اسلام کی مثبت دعوت عقیدہ توحید کو عوام الناس کے سامنے پیش کریں اور گروہی، مذہبی تعصبات سے بالاتر ہوکر صرف اور صرف خالص کتاب و سنت کی طرف لوگوں کو بلائیں ۔ہماری دعوت کا بنیادی ہدف صرف اہل اسلام کی جزوی اصلاح نہیں ہونا چاہئے بلکہ دینِ اسلام ایک عالمگیر دین اور طرزِ حیات ہے تو اس کی دعوت کو بھی ہر قسم کے نظریات رکھنے والے انسانوں تک پہنچنا چاہئے۔ عوام الناس کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اس پر فتن دور میں اسلام کی ہدایات پر مکمل عمل پیرا ہوں تاکہ غیر مسلم کو معاشرہ میں اسلام کے بارے میں اچھا تاثر ملے۔

آج محب دین و ملت شخضیات و ادارہ جات کو چاہئے کہ وہ ہر سطح پر اسلام کے محاسن و امتیازات، انسانیت پر ہدایات اسلامیہ کے احسانات اور اسلام کے فطرتی اسالیب و قواعد کی نشرو اشاعت کے لئے اپنی صلاحیتیں استعمال کریں۔یقیناً اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت رسول مبشر ﷺ کی اس خوش خبری کی بدولت ہے جس میں آپ ﷺ نے اہل اسلام اور متبعین اسلام کے بارے میں فرمایا تھا کہ الاسلام یعلو ولا یعلیٰ علیہ (الجامع الصغیر، حسن) اسلام ہمیشہ سربلند رہے گا کبھی سرنگوں نہ ہوگا۔ ان شاء اللہ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے