Categories: جنوری2022

وعدہ کی اہمیت

لمحہ فکریہ

قرآن حدیت اور سیرت کے ان پہلووں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ وعدے کی پاسداری کا عمل ہماری زندگی میں کس قدر اہم ہے اور ہم اس کی ادائیگی میں کس قدر سچے ہیں۔

بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ ہم کسی کو وقت دے کر، کسی سے قرضہ لے کر، کسی کو اپنے انتظار میں بٹھاکر کس قدر غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہیں۔

اسی طرح ہم اپنی ملازمت اور معاہدے وغیرہ میں کس قدر پورے اترتے ہیں اور ادھوری ذمہ داری کے ساتھ ہم کس طرح اپنی روزی حلال سے حرام کردیتے ہیں۔

یہ سب سوچنے کے پہلو ہیں، اللہ رب العزت ہم سب کو سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

وعدے کی تعریف اور ضرورت

جب ہم کسی کام کی تعمیل کا ذمہ لیتے ہیں تو اسے وعدہ کہا جاتا ہےچونکہ انسان لین دین کا محتاج ہے اسی لیے اسے بعض اوقات وعدے کی بنیاد پر بہت سے امور ملتوی رکھتے ہیں۔

لہذا جو وعدے کو پورا کرتے ہیں وہ آپس کے اعتماد اور بھروسے کو برقرار رکھتے ہیں اور وعدے کی خلاف ورزی آپس میں غفلت اور بے اعتمادی کی فضاء پیدا کرتی ہے جو کہ معاشرے کے لیے بہت نقصان دہ ہے ۔

وعدے کا ذکر قرآن کریم میں

قرآن کریم سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا:

وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا[الإسراء: 34]

’’وعدے پورے کیا کرو یقینا وعدوں سے متعلق قیامت میں سوال کیا جائے گا ۔‘‘

اللہ رب العزت سورۃ آل عمران میں اپنی ذات سے متعلق فرماتے ہیں

إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ [آل عمران: 9]

’’یقینا اللہ تعالی اپنے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن حدیث میں ہم سے جو جو وعدے بیان فرمائے ہیں وہ پورے ہوکر رہیں گے۔

وعدے کا ذکر حدیث میں

وعدے کی اہمیت کا اندازہ رسول اللہ ﷺکی اس معروف روایت سے بھی ہوتا ہے جس میں منافق کی تین نشانیاں ذکر فرمائی ہیں :

1۔جھوٹ بولنا                            2۔وعدہ خلافی کرنا

3۔امانت میں خیانت کرنا

مطلب یہ کہ جو شخص وعدے کی پاسداری نہیں کرتا وہ در اصل اپنے ایمانی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا جو کہ منافق کی مختلف نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی ہے۔

وعدہ اور سیرت النبی ﷺ

واقعہ معروف ہے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ ﷺنے غزوہ احد جیسے عظیم غزوے میں صرف اس وجہ سے شرکت سے منع فرمایا کیونکہ مکہ سے مدینے سفر کے دوران انہوں نے بعافیت پہنچنے کی خاطر ابو جہل سے وعدہ کیا تھا کہ ہم مدینہ جاکر آپ سے لڑائی نہیں کریں گے۔

admin

Share
Published by
admin

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

5 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago