اخبار الجامعہ

شیخ ابو یحییٰ نور پوری حفظہ اللہ کی طلبہ کیلئے قیمتی نصیحت

اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ۰۰۱۲۵ (النحل:125)

اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو ،بیشک تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے گمراہ ہوا اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔

انہوں نے طالبعلموں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں حکمت کے ساتھ نرم انداز میں لوگوں کو دین کی طرف دعوت دینی چاہیے۔اور بطور طالبعلم کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اپنے اسلاف کے اجتہادی مسائل پر خاموشی اختیار کریں یہ کسی طور مناسب نہیں کہ آپ کسی فریق کی حمایت کررہے ہوں اور دوسرے فریق کا رد کررہے ہوں ایک طالبعلم کو یہ بات زیب نہیں دیتی اس بارے میں ہمیں امام بخاری سے سیکھنا ہوگا انہوں نے بڑے بڑے افکار باطلہ کا رد کردیا مگر کسی کا نام نہیں لیا بس قال بعض الناس لکھ دیا ۔اسکے علاوہ آج کے طالبعلم کو سوشل میڈیاکے فتنے سے دوری اختیار کرنی چاہیے ۔مزید برآں انہوں نے طلبہ کرام کو اپنے علم میں رسوخ پیدا کرنے کی تلقین فرمائی۔اللہ تعالیٰ شیخ محترم کا جامعہ میں آنا قبول و منظور فرمائے اور ہمیں کما حقہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،آمین

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں النادی الادبی العربی الاسلامی کے تحت سالانہ تقریری مقابلہ 17 فروری 2022ء بروز جمعرات صبح ساڑھے نو انعقاد پذیر ہوا جس میں تمام اساتذہ کرام کو مدعو کیاگیا تھا جامعہ کے چھ طلبہ شریک مقابلہ تھے۔ طلبہ کو چار عنوان دیئے گئے تھےجبکہ مقابلہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی امتیازی خصوصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حسب سابق عربی زبان میں رکھا گیا تھا ، مقابلے کے عناوین مندرجہ ذیل تھے۔

التوحید أولاً یا دعاة الإسلام
السنة ھي الإسلام
لزوم الجماعة وإمامهم
الجھاد السني

اسٹیج سکریٹری کے فرائض الکلیۃ الرابعہ کے طالب علم ادریس بن احمد شاہ اور الکلیۃ الثالثہ کے طالبعلم عصمت اللہ نے سرانجام دیئے ۔ پروگرام کا آغاز جامعہ کے طالب علم حذیفہ عبدالرزاق کی مسحور کن تلاوت سے ہوا اس کے بعد مشارکین نے اپنے اپنے موضوع پر لب کشائی کی۔ مقررین نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ مذکورہ عناوین پر روشنی ڈالی ۔ ان موضوعات پر لب کشائی کرتے ہوئے خطباء کا کہنا تھا کہ :اسلام میں داعی کی اولین ذمہ داری توحید کی طرف دعوت ہوتی ہے کیونکہ یہ اسلام کی اساس ہے اپنی دعوت میں ہر چیز پر توحید کو مقدم رکھیں اور توحید کے پیغام کو لے کر دنیا کے چپے چپے میں پہنچ جائیں کیونکہ اسلام کی دعوت یہی ہے ۔جبکہ دیگر خطبات میں اتحاد امت پر زور دیا گیا اور آپس کے اختلافات کو بھلا کر ایک حاکم کے تحت جمع ہونے اور اللہ کی رسی کو مظبوطی سے تھام لینے کی طرف پرزور دعوت دی گئی ۔

مقابلے میں جج(منصفین) کے فرائض جامعہ کے استاذ الشیخ محمد عثمان حفظہ اللہ ،الشیخ ظفر الدین حفظہ اللہ اور الشیخ صلاح الدین حفظہ اللہ نےسر انجام دیئے۔ اسکے بعد مرکز ثانی کے طالبعلم اویس احمد نے کچھ عربی قصائد پیش کئے۔کلمۃ الشکر میں میں نائب مشرف الجامعہ خالد محمود الحذیفی حفظہ اللہ نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور طلبہ کو قیمتی نصیحتوں سے نوازا۔

پروگرام کے دوسرے مرحلے میں مختلف اساتذہ کرام جن میں مفتی الجامعہ ابو معاذ محمد شریف حفظہ اللہ ،شیخ ابوزبیرمحمد حسین بلتستانی حفظہ اللہ ،شیخ حسین لکھوی حفظہ اللہ ،شیخ ظفر الدین حفظہ اللہ ،مدیر الجامعہ شیخ ضیاء الرحمن مدنی حفظہ اللہ ،مشرف الجامعہ الشیخ طاہر باغ حفظہ اللہ نے طلبا کرام سے دینی علوم کی اہمیت ،حصول علم کی اہمیت پر سیر حاصل گفتگو کی اور کتاب دوستی اور موبائل سے دوری کی تلقین فرمائی۔

جس کے بعد شرکاء کو کچھ دیر کا وقفہ دیا گیا جس میں ہلکی پھلکی ریفریشمنٹ سے شرکاء کی تواضع کی گئی ۔

تیسرے مرحلے کا آغاز مرکز اول کے طالبعلم ’’حسن علی‘‘ کی تلات سے ہوا ۔جس کے بعد امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قصیدہ اللامیہ فی عقیدۃ الاسلامیہ پیش کرنے کیلئے مرکز ثانی کے طالبعلم’’ مصطفی نثار‘‘ کو مدعو کیا گیا جنہوں نے پرسوز انداز میں قصیدہ پیش کیا ۔

تقریب کے آخر میں نتائج کا اعلان کیاگیاجس میں نمایاں پوزیشن لینے والے طلبہ کوکتابوں اور نقدی کی صورت میں انعام سے نوازا گیا جس میں پہلی پوزیشن المعہد الثالث کے طالب علم ’’سعود فیصل ‘‘ نے حاصل کی اور دوسری پوزیشن المعھد الرابع کے طالب علم ’’عبدالرحمن فارسی ‘‘کے حصے میں آئی جبکہ تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے دو طالب علم تھے جن میں ’’امیر معاویہ ‘‘المعھد الرابع کے طالبعلم اور’’ وقار عزیز ‘‘جو کہ المعہد الثانی کے طالب علم ہیں۔

پوزیشن ہولڈرطلبہ کو النادی الادبی العربی الاسلامی کی طرف سے کتابوں اور نقدی کی صورت میں قیمتی انعامات سے نوازا گیا اور یوں یہ بابرکت تقریب اپنے اختتام کو پہنچی ۔

فضیلۃ الشیخ عبد الصمد کی طالب علموں کے نام قیمتی نصیحت

قال اللہ: قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ

ترجمہ : آپ فرما دیجیئے کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں ؟(الزمر:9)

وقال النبي صلى الله عليه وسلم : مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ

اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت کر دیتا ہے۔

اگر آپ خدمت دین کی توفیق چاہتے ہیں تو اس کیلئے کچھ اسباب،بعض صفات اپنے نفس میں پیدا کریں ۔یاد رکھیں ہر چیز اپنی صفات کی وجہ سے قیمتی ہوتی ہےکیونکہ اس میں صفات کمالات ہوتی ہیں ۔اس کیلئے جو پہلی چیز قرآن کریم میں ذکر کی گئی ہے وہ (خشیت اللہ ) ہے۔ مطلب:دل میں اللہ کا ڈر ،خوف ،عظمت ۔

خشیت کے ساتھ جو دوسری چیز ہے وہ ہے ظاہراً عمل کرنا۔دل میں خوف ،ظاہر میں عمل کا لباس ۔یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔

اپنے آپ میں اچھے اعمال پیدا کرلیں مہینے میں کم از کم ایک بار ضرور قرآن ختم کریں ۔ہمیں معاشرے کیلئے مثال بننا ہے اگر آپ میں یہ صلاحیتیں ابھی سے نہیں ہوں گی تو آپ عملی میدان میں کیسے پیدا کریں گے ۔

یہودیوں کی مثال اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں گدھے کے ساتھ دی کیونکہ انکے پاس علم تو بہت ہے مگر عمل نہیں تھا ۔ تو طالبعلم کو علم کے ساتھ عمل کو بھی لازم رکھنا چاہیے۔تیسری اہم بات کہ اپنا حلیہ اپنا گیٹ اپ طالبعلم کا اپنائیں ،کتاب و سنت کے مطابق بنائیں،ظاہراً حلیہ شکل و صورت ،حسن اخلاق اور اساتذہ کا احترام کریں۔علم کے ساتھ عمل بہت ضروری ہے اللہ علم و عمل کے ساتھ ہی اوپر اٹھاتا ہے یہ وقت علم و مطالعہ و عمل کا ہے یہ وقت دعوت الی اللہ کا ہے ۔ مہینے میں کم از کم چار روزے ،تہجد کا اہتمام کریں یقیناً اللہ آپکے علم میں برکت کریگا ۔خدمت و ادب علم کیلئے بہت ضروری ہیں ۔اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

editor

Share
Published by
editor

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

5 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago