اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۰۰۱۸۳ ( البقرۃ: 183)

’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے جاتے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر روزے فرض کیے گئے تھے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔‘‘

تقویٰ لغوی اعتبار سے خود کو ایسی چیزوں سے بچانا یا محفوظ رکھنا ہے جس سے انسان خوفزدہ ہو۔ جبکہ شریعت میں تقویٰ کا مطلب ہے کہ انسان ان چیزوں پر عمل کرے جن کا حکم دیا گیا ہے اور ان چیزوں کو چھوڑ دے جن کو چھوڑ نے کی تاکید کی گئی ہے۔یا دوسرے لفظوں میں خود کو گناہوں اور ان چیزوں سے بچانا اور محفوظ رکھنا جو گناہوں میں مبتلا ہونے کا باعث بنتی ہیں۔

تقویٰ کی انتہا اللہ تعالی کے علاوہ ہر چیز یا ہر شخص سے کنارہ کش ہوجانا اور دنیا کے تمام گمراہ کن فلسفیانہ عقائد و نظریات سے دامن کو پاک رکھنا ہے۔ شکوک وشبہات انسان کے ذہن کو پرا گندہ کرتے ہیںاور فلسفہ شک کا دروازہ کھول دیتا ہے پھر اسے بند نہیں کرتا۔ تقویٰ ریب و تشکیک کی جڑیں کاٹ دیتا ہے۔ چنانچہ تقویٰ کی ابتدا شرک  و اوہام سے بچنا ہے، اس کا درمیانی حصہ حرام سے بچنا اور عمومی تقویٰ فرمانبرداری کی انتہا ہے، ڈر اور خوف اس کی ابتدا ہے ۔ کبھی تقویٰ کو خوف و خشیت کہتے ہیں اور کبھی خوف و خشیت کو بھی تقویٰ کہا جاتاہے۔    تقویٰ سعادت و نجات کا ذریعہ بھی ہے اور اور مصائب و آلام کو دور کرنے کا ایک بہترین تیر بہدف نسخہ بھی۔اور یہی دنیا اور آخرت میں عزت و توقیر کا موجب بھی ہے۔ ارشاد ربانی ہے: وَ

مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ۰۰۲ وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق :3)

’’ اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ پیدا کردے گا اور اسے ایسی  جگہ سے رزق دے گاجہاں اسے گمان بھی نہ ہو۔‘‘

بعض علمائے کرام اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ قرآن حکیم کی جامع آیات میں سے ہے، کیونکہ اللہ نے اس میں دنیا ور آخرت کی بھلائی اور کامیابی دونوں کو ترتیب کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔کیونکہ مصائب کو دور کرنا اور بندے کو اس جگہ سے روزی عطا کرنا جس  طرف اس کا خیال تک نہ ہو تو یہ دنیا اور آخرت دونوں کے لیے ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان کامل اور وہ غیبی امور جس کی خبر رسولوں نے دی ہے اس کی تصدیق کا نام ہی تقویٰ ہے۔

اہل معرفت کے نزدیک یہ تخیلی اور تصوراتی قوتوں کی ایک ورزش ہے جس کا مقصد ان کی توجہ مادی چیزوں سے ہٹاکر ملکوتی تصورات کی طرف مبذول کرنا ہے۔مسلسل مشق کے بعد یہ قوتیں انسان کی حق پرستی کی فطرت سے ہم آہنگ ہوجاتی ہیں اور جب انسان کی باطنی روح روشنی حاصل کرنا چاہے تو یہ سدِ راہ نہیں بنتیں۔

مادی چیزوں سے توجہ ہٹانے اور معرفت الٰہی حاصل کرنے کا ایک موثر ذریعہ روزہ ہے۔جس میں بعض حلال چیزوں پر پابندی لگا کر انسان کے اندر تقویٰ اور زہد و ورع کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے۔یہی وہ مشق ہے جس سے ملکوتی صفات انسان کے باطن میں اجاگر ہوتی ہیں۔کیونکہ ملائکہ جسمانی حاجات اور نفس و شہوات کے جذبات سے ما ورا ہیں۔

نماز روزمرہ کا عمومی نظام تربیت ہے تو روزہ سال میں ایک ماہ کا غیر معمولی نظام تربیت ہے۔جو انسان کو ایک خاص ڈسپلن کے شکنجے میں جکڑ کر رکھتا ہے تاکہ روزانہ کی تربیت میں اگر کمی کوتاہی یا خامیاں رہ گئی ہیں تو وہ اس خصوصی تربیت سے دور ہوجائیں۔فطری معرفت اور فکری معرفت میں فرق ہے۔جو معرفت اور آشنائی سب کو حاصل ہے وہ شرست اور فطرت کی سطح پر ہے اور جو معرفت حاصل نہیں ہے اسے کوشش اور عمل سے حاصل کیا جاسکتا ہے، وہ سوچ بچار کی سطح پر ہے۔اور یہی وہ سطح ہے جس پر اکثر انکار کی نوبت آتی ہے، یعنی دو سطحوں میں ایک قسم کا تضاد پیدا ہوجاتا ہے۔

اسلام اس خاص نظام تربیت سے گزار کر انسان کے شعور میں اللہ کی حاکمیت اور اس کے اقرار و اعتراف کو مستحکم کرنا چاہتا ہے کہ اس طرح انسان اپنی آزادی اور خود مختاری سے دست بردار ہوجائے اور اللہ کا وجود محض ایک ما بعد الطبیعی عقیدہ نہ رہے بلکہ عملی زندگی میں محسوس و کارفرما رہے۔اس احساسِ بندگی کے ساتھ جو چیز لازمی طور پر پیدا ہوگی اس میں اللہ کی بندگی کے ساتھ اس کی اطاعت کا جوہر بھی پیدا ہوجائے گا۔چنانچہ روزے کا مقصد احساس بندگی کی یاد دہانی کے ساتھ اطاعت امر کی تربیت دینا بھی مقصود ہے۔

حیات دنیوی کے تمام شعبہ ہائے عبادات و معاملات میں ہر لحظہ یہ تصور قلب و ذہن میں مستحضر رہے کہ وہ علیم و خبیر ذات مجھے دیکھ رہی ہے۔اگر انسان زمین کی پہنائیوں میں بھی چھپ کر کوئی عمل کرے گا تو اللہ وہاں بھی اسے دیکھ لے گا۔وہ انتہائی قوت والا اور باریک بین ہے ۔وہ اس کائنات کے سب اسرار و رموز سے واقف ہے۔یہ حقیقت جب انسان کے دل کی گہرائیوں میں جاگزین ہوجائے تو اس احسا س کا نام تقویٰ ہے۔اور جو تقویٰ کی روش اختیار کر ہے ، اس خوش نصیب کے لیے اُس کے ربّ کی طرف سے بے شمار انعامات کا وعدہ ہے۔

قرآن حکیم کا یہ اعجازہے کہ وہ اکثر حکم کی علت و حکمت بھی بیان کر دیتا ہے۔جس طرح سورہ طٰہ میں نماز کی علت یہ بیان فرمائی کہ یہ اللہ کے ذکر کے لیے فرض کی گئی ہے۔زکوٰۃ کی ادائی کی حکمت مال کی صفائی اور طہارت ہے۔ اسی طرح روزہ کی حکمت یہ بیان ہوئی انسان کے لیے تقویٰ کے حصول میں آسانی پیدا ہو جائے۔تقویٰ کی روش اختیار کرنے میں منہیات کے اجتناب، نفسانی خواہشات کے غلبہ پر قابو پانا، اوامر کے التزام اور نواہی سے حتی الامکان بچنے کی سعی و جہد کرنااور خیر مطلق کے حصول کا شعوری ادراک اور اس کا عملی مظاہرہ تقویٰ کا اہم تقاضا ہے۔اس کو اپنی زندگی کے ہر عمل میں شامل کرنے میں انسان کے لیے خیر کثیر موجود ہے۔ارشاد ربّ العزت ہے:

’’ اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے ،اللہ اس کے لیے (مشکلات سے)نکلنے کے لیے کوئی راہ پیدا کردے گااور اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں اس وہم و گمان بھی نہ ہو۔اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ اس کے لیے اس کے کام میں آسانی پیدا فرما دیتا ہے ، یہ اللہ کا حکم ہے جو اُس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے۔اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے گناہ مٹا دے گا اور اسے بڑا بھاری اجر دے گا۔‘‘(الطلاق )

سورۃ ص میں ارشاد فرمایا:’’ اور یقیناً متقی لوگوں کے لیے بہترین ٹھکانہ ہے، ہمیشہ رہنے والی جنتیں ،جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے۔ ان میں وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے،خوب پھل اور مشروبات طلب کر رہے ہوں گے۔اور ان کے پاس شرمیلی اور ہم عمر بیویاں ہوں گی۔یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں حساب کے دن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔‘‘

ان تمام نعمتوں اور انعامات کا حصول تقویٰ کے اندر پوشیدہ ہے۔ اور تقویٰ حاصل کرنے کا بہترین موقع رمضان المبار ک کا با برکت و سعادت اور دنیوی بھلائی اور نجات ِ آخرت کا  مہینہ ہے۔

اس مہینے کا تقدس اور فضیلت اس امر سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ اسی ماہِ مبار ک میں حق و باطل کے درمیان پہلا نتیجہ خیزمعرکہ ’’غزوۂ بدر‘‘ پیش آیا۔قرآن نے اسے ’’یوم الفرقان‘‘ کے نام سے نوازا۔رمضان کے مہینے میں ہی ’’فتح مکہ‘‘ ہو جس سے حق کا بول بالا ہوا اور باطل اس کے سامنے سرنگوں ہوا۔اس کے علاوہ اللہ کی عظیم الشان نعمت ، رشد و ہدایت کا سر چشمہ ’’قرآن حکیم‘‘ نازل ہوا۔قیام اللیل اور سماعت قرآن کا ایک روحانی سلسلہ جاری و ساری ہوا۔انسان کے نیک اعمال کا اجر و ثواب میں کئی گنا اضافہ اسی مضان المبارک کے مقدس مہینے میں حاصل ہوتا ہے۔

دن کا روزہ اور رات کا قیام جس میں قرآن حکیم کی آیات سننے اور سنانے کا عمل انسان کی روح کو مہکاتا اور اسے اللہ کے قریب کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے روزے داروں پر اپنی انتہائی شفقت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:

’’ آدم زاد کا ہر عمل اس کے لیے ہے، سوائے روزے کے، کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔‘‘ (متفق علیہ)

یہ واحد عبادت ہے جس کے اجر کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے منسو ب کیا ہے۔جو انسان کے لیے یہ انتہائی شرف و کرامت اور عزت و توقیر کا مقام ہے۔یہ ایک مہینے کی روح کو سیراب کرنے والی تربیت ،آئندہ آنے والے روز وشب میں تقویٰ اور زہد و ورع کا مؤثر ذریعہ ہے۔

اس تربیت میں انسان کی اپنی مضبوط قوتِ ارادی اور نیت و ارادے کی پختگی کا ہونا لازمی ہے۔کیونکہ شیطانی قوتیں انسان پر چاروں اطراف سے حملہ آور ہوتی ہیں۔

اسلام میں جو اعمال اور عبادات و فرائض یا واجب کی گئیں ہیں ، ان میں ایک حکمت پوشیدہ ہے۔دراصل اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر خصوصی مہربانی کرتے ہوئے ان کے لیے وہی اصول وضوابط مقرر فرمائے ہیں جو بندوں کی کامیابی اور سعادت دارین کا موجب ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے دربار میں مقبول عبادت کا سب سے اہم اوربنیادی قاعدہ ، خلوصِ نیت اور حضورِ قلبی ہے ۔اگر عبادت کا بنیادی محرک رِضائے الٰہی نہ ہوتواس کی عبادت کی کوئی حیثیت ہے اور نہ ثواب ۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا:

’’ کتنے ہی روزہ دار ایسے جنہیں روزے سے بھوک پیاس کے سواکچھ حاصل نہیں ہوتا اور کتنے ہی راتوں کو قیام کرنے والے ایسے ہیں جن کے پلے اس مشقت سے رت جگے کے سوا کچھ نہیں پڑتا۔‘‘ (الدارمی)

ایک اور حدیث مبارکہ کے الفاظ کچھ یوں ہیں:

’’ جس شخص نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا ، تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑ دے۔‘‘ (رواہ البخاری، ابو داؤد، ترمذی)

جھوٹ بولنے کے ساتھ ’’ جھوٹ پر عمل کرنے‘‘ کا جو ارشاد فرمایا گیا ہے یہ بڑا ہی معنی خیز ہے۔دراصل یہ لفظ تمام نافرمانیوں کا جامع ہے۔جو شخص اللہ کو اللہ کہتا ہے اور پھر اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ حقیقت میں خود اپنے اقرار کی تکذیب کرتا ہے۔روزے کا اصل مقصد تو اپنے عمل سے اقرار کی تصدیق ہی کرنا تھا ، مگر جب وہ روزے کے دوران میں اس کی تکذیب کرتا رہا تو پھر روزے میں بھوک پیاس کے سوا اور کیا باقی رہ گیا؟حالانکہ اللہ کو اس کے خلوئے معدہ کی کوئی حاجت نہ تھی۔

روزے سے مقصود ضبط نفس ہے تاکہ وہ ناجائز خواہشات پوری کرنے سے رک جائے ، پسندیدہ چیزوں کو ترک کرسکے۔اور شہوانی قوتوں میں اعتدال پیدا ہو، انسان ابدی سعادت اور کامل انعامات حاصل کر سکے اور اسے بارگاہِ الٰہی سے شرفِ قبولیت حاصل ہو۔یہی طریقہ ہے تزکیہ نفس کا اور اسی میں ابدی زندگی کی کامیابیاں پوشیدہ ہیں۔روزے کی حالت میں انسان دوسرے انسانوں کی بھوک و پیاس اور ان کی تکالیف کو بھی اچھی طرح محسوس کر سکتا ہے ۔اکل و شرب کی کمی سے شیطان کے راستے تنگ ہوجاتے ہیں نیز دنیا و آخرت کے نقصان سے بچنے کا سامان ہوجاتا ہے۔روزہ جسم کے ہر عضو کو تسکین بخشتا ہے اور ہر قوت کو بے راہ روی سے روکتا ہے۔گویا روزہ اہلِ تقویٰ کی لگام،اپنے نفس سے جہاد کرنے والوں کی ڈھال اور ابرار و مقربین کی ریاضت ہے۔

ٰٰٰیہی وہ مقدس مہینہ ہے جس میں خالق کون و مکاں کی جانب سے اس عظیم الشان رات کا بھی نزول ہوا ہے جس نے اس ارض خاک کی قسمت میں چار چاند لگا دیے ۔یہ وہ رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے افضل اور فیوض برکات سے مزین ہے، جس کو لیلۃ القدر اور لیلۃ المبارکہ کے نام سے موسوم کیا گیا۔فرمان الٰہی ہے:

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِۚۖ۰۰۱ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِؕ۰۰۲ لَيْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ۰۰۳ تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ۰۰۴سَلٰمٌ١ۛ۫ هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِؒ۰۰۵

’’ہم نے اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں نازل کیا، اور آپ کو کیا معلوم کہ لیلۃ القدر کیا ہے؟لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے روح(جبرئیل امین) اور فرشتے اس رات اپنےربّ کے اذن سے ہر حکم لے کر نازل ہوتے ہیں ۔(وہ رات) سراسر سلامتی ہے،طلوعِ فجر تک۔‘‘ (سورۃ القدر)

ان آیات سے ظاہر ہے کہ یہ رات اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوسرے بیش بہا انعام و اکرام کے ساتھ اپنے دامن میں قرآن حکیم جیسی انمول کتاب لائی جس میں نسلِ انسانی کے لیے کامل ہدایت نامہ ہے۔دنیا اور آخرت میں فوز وفلاح سے ہمکنا ر کر کے اور تمام خباثتوں اور آلودگیوں سے منزہ کر کے ایک دل آویز انسان بنانے کے لیے یہ نسخہ کیمیا ہے۔اس حقیقت کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا:

حٰمٓۚۛ۰۰۱ وَ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِۙۛ۰۰۲ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ۰۰۳ فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍۙ۰۰۴ اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَۚ۰۰۵ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُۙ۰۰۶

’’حٰمٓ۔اس واضح کتا ب کی قسم، کہ ہم نے اسے ایک خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے کیونکہ ہمیں بلا شبہ خبردار کرنا مقصود تھا۔اس رات میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ کر دیاجاتا ہے۔یہ ہمارا ہی حکم ہوتا ہے اور ہم ہی رسول بھیجنے والے ہیں ۔یہ آپ کے ربّ کی رحمت ہے، بلا شبہ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔(سورۃ الدخان1۔6)

اس رات کی عظمت و بزرگی بیان کرتے ہوئے رسول معظمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس کسی نے شبِ قدر میں ایمان کی حالت میں اور اجر و ثواب کی نیت سے عبادت اور قیامِ لیل کیا تو اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے گئے۔‘‘ (متفق علیہ)

یہ بظاہر ایک ایسی عبادت ہے جس میں آدمی اکل و شرب اور بعض دوسرے فطری تقاضوں پر عمل کرنے سے پورے دن خود کو روکے رکھتا ہے ، جن پر عام حالات اور مہینوں میں کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ لیکن غور طلب پہلو یہ ہے کہ آخر انسان کے اس عمل کی ایسی کیا افادیت ہے کہ جس کی وجہ سے نہ صرف امت مسلمہ پر بلکہ ہم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں پر بھی اس عبادت کو فرض کیا گیا، آخر ہمارے بھوکا پیاسا رہنے سے اللہ تعالیٰ کو کیا دلچسپی ہے؟ اور جائزو فطری تقاضوں پر پابندی عائد کر کے ہمیں کس مقصد کی بجا آوری کے لیے مستعد کرنا چاہتا ہے اور اس عمل میں ہمارے کون سے فوائد پوشیدہ ہیں؟ اس کا واضح جواب تو وہی ہے جو سورۃ البقرہ کی آیت ۱۸۳ میں بتایا گیا ہے۔یعنی صرف تقویٰ کی جڑیں انسان کے فکر و عمل میں مضبوط ہوجائیں۔

دراصل یہ تقویٰ ہی اسلامی سیرت کی جان ہے،جس نوعیت کا کردار (Character) اسلام ہر مسلمان میں پیدا کرنا چاہتا ہے اس کا اسلامی تصور اس تقویٰ کے لفظ میں پوشیدہ ہے۔افسوس کہ آج کل اس لفظ کا مفہوم بہت محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک خاص طرز کی شکل و وضع بنالینا ، چند مشہور و نمایاں گناہوں سے بچنا اور اور بعض ایسے مکروہات سے پر ہیز کرنا جنہوں نے عوام کی نگاہ میں بہت اہمیت اختیار کرلی ہو بس اسی کا نام تقویٰ ہے۔حالانکہ دراصل یہ ایک نہایت وسیع اصطلاح ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔

قرآن حکیم نے انسان میں دو قسم کے فطری میلانات رکھے ہیں ایک فجور اور دوسرا تقویٰ!  فجور کے میلان کو آج کی اصطلاح میں مادّہ پرستی (Materialism)، افادیت (Utilirianism )، مصلحت پرستی (Pragmatism)،ابن الوقتی (Opporrunism) کے ناموں سے موسوم کیا جاسکتا ہے۔جبکہ انسان کا دوسرا طرزِ عمل یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک ایسے بالا تر حکمراں کا تابع اور اس کے سامنے جواب دہ سمجھتا ہے جو عالم غیب و الشہادت ہے ۔اور وہ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتا ہے کہ اسے ایک روز اپنی دنیوی زندگی کے پورے کارنامے کا حساب دینا ہوگا۔وہ اپنے طرزِ عمل کا فیصلہ ان مستقل فائدوں اور نقصانات کی بنیاد پر کرتا ہے جو آخرت کی پائدار زندگی میں ظاہر ہوں گے۔اور یہ کہ وہ مادی فائدوں کے مقابلے میں اخلاقی اور روحانی فضائل کو زیادہ قیمتی سمجھتا ہے اور مادی نقصانات کی بہ نسبت اخلاقی اور روحانی نقصانات کو شدیدتر خیال کرتا ہے۔اور ایک ایسے دستور کی پابندی کرتا ہے جس میں اپنے اغراض و مصالح کے لحاظ سے اسے ترمیم و تنسیخ کرنے کی آزادی حاصل نہیں ہے۔اس دوسرے طرزِ خیال و عمل کا نام تقویٰ ہے۔

یہ دراصل زندگی کے دو مختلف راستے ہیں جوبالکل ایک دوسرے کی ضد واقع ہوئے ہیں اور اپنے نقطۂ آغاز سے لے کر نقطۂ انجام تک کہیں بھی ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔چنانچہ روزہ انسان کی سیرت و کردار میں تقویٰ کی آبیاری کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔

ایک اور فکری پہلو یہ بھی ہے کہ روزوں کے لیے ماہِ رمضان کا ہی انتخاب کیوں کیا گیا، اس کی کیا حکمت و مصلحت ہے؟ اس گتھی کو بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے کھول دیا:

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ

’’ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور یہ ایک ایسی واضح تعلیمات پر جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے، لہذا تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اس پر لازم ہے کہ ا س (پورے مہینے) کے روزے رکھے۔‘‘( سورۃ البقرۃ:185)

اس آیت میں کھول کر بیان کر دیا گیا کہ روزوں کے لیے رمضان کے مہینے کا انتخاب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ یہ نزولِ قرآن کا عظیم الشان مہینہ ہے۔اور اس مقدس و مبارک مہینے  میں روزوں کی فرضیت کا ایک اہم مقصد اور اس کی غرض و غایت امت مسلمہ کے اندر روحانی پاکیزگی، ترفع اور کردار وعمل کی فکری بلندی پیدا کرنا ہے۔لیکن روزے جیسی عبادت سے گزر کر بھی انسان کی روح شاد کام نہ ہوئی تو یہ روزہ نہ ہوا۔بلکہ محض خود کو بھوکا پیاسا رہنے کی سعی لاحاصل مشقت ہے۔

ہماری دنیوی زندگی اور ہمارا مادی وجود نفسانی خواہشات، مرغوبات اور قلب و ذہن کو مائل کرنے والی شیطنت کے حصار میں رہتا ہے۔ان خاردار جھاڑیوں سے خو کو بچا کر زندگی کی طویل شاہراہ پر گامزن ہوجانا ہی سعادت اور صالحیت ہے۔اللہ کی کتاب ہدایت کو اپنے زندگی کا رہبر بنانا اور اس کی تعلیمات پر بلا کسی تردد اور ذہنی خلجان میں مبتلا ہوئے بغیر عمل پیرا ہونا ہی قربِ الٰہی کا واحد راستہ ہے۔جن عبادات کا ایک مسلمان کو پابند بنایا گیا ہے ،اس میں اس کی فوز و فلاح کی بے شمار مصلحتیں پوشیدہ ہیں ، اگرچہ وہ ہماری سمجھ میں نہ آئیں۔

غیب کی باتوں پر یقین کامل ہی انسان کو بندۂ مؤمن بناتا ہے۔روزہ میں تقویٰ کی روح اپنے پورے تقاضوں کے ساتھ کارفرما ہوتی ہے اور اس عبادت کو نیک بختی ، اخلاص اور خو د احتسابی کے عمل کے ساتھ پورا کرنے پر اللہ تعالیٰ کا حقیقی قرب حاصل ہوتا ہے۔ اللہ کاروزہ کی جزا کو اپنی ذات سے منسوب کرنے میں یہی راز پنہاں ہے۔کاش انسان اس حکمت کو سمجھ سکتا!اور اپنی غفلت اور نادانی کی بنا پر جبرئیل امین کی اس بد دعا اور رسول مکرمﷺ کی آمین کا مصداق نہ بنتا ہے کہ’’ تباہ و برباد ہو وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنی مغفرت نہ کرواسکا۔‘‘ (مستدرک حاکم)

By editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *