الحمد للّٰہ رب العالمین والصلاة والسلام علی سید المرسلین نبینا محمد وعلی آله وأصحابه وأھل طاعته أجمعین، أمابعد!

تعارف : حافظ علی نواز المعروف اللہ نواز بن محمد خان ہرل

 ساکن ؛ گوٹھ غلام حسین ہرل نزد قاضی احمد نواب شاہ سندھ

 ولادت : تعلیمی اسناد کے مطابق یکم آگست 1969 ء ہے۔

تعلیم : ابتدائی تعلیم گوٹھ گھرام مری قاضی احمد سے حاصل کی ہے۔

 خریج

کلیۃ القرآن الکریم الجامعہ الاسلامیہ
تحفیظ القرآن الکریم ( جامعہ ابی بکر الاسلامیہ)
 کلیۃ الحدیث شریف ( جامعہ ابی بکر الاسلامیہ )

ایم اے سندھ یونیورسٹی

شہادت العالمیہ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان

 جامعہ ابی بکر الاسلامیہ سے انتساب 

گوٹھ غلام حسین ہرل کے جوار میں استاذی و مکرمی شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ موسسہ الجامعہ ( ابی بکر الاسلامیہ کراچی ) کی زرعی زمین تھی جہاں پر ان کے خاندان نے گوٹھ چوہدری ہدایت اللہ بن چوہدری عطاء اللہ رحمھما اللہ کے نام سے بستی آباد کی، جس سے دینی و دنیاوی ایسا تعلق قائم ہوا کہ دونوں خاندان ایک گھر کے مانند ہوگئے، ہر خوشی و غمی بلکہ ہر معمولی معاملات میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ دینا اور تعاون کرنا لازم ہوگیا ۔ یہ تعلق اس قدر مضبوط ہوا کہ راقم الحروف نے اپنے شفیق استاد شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ کے بڑے بھائی چوہدری ہدایت اللہ رحمہ اللہ سے کئی بار سنا تھا کہ : ہم آپس میں تین بھائی ہیں اور ہمارا چوتھا بھائی محمد خان ہرل ہے۔

اس محبت بھرے تعلق کے پیش نظر جب جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی تاسیس ہوئی اور جامعہ میں تعلیم وتدریس کا سلسلہ شروع ہوا اور 1980 ء میں راقم الحروف نے پرائمری کی ابتدائی تعلیم کا امتحان مکمل کرلیا تو شیخ محترم کے اشراف و نگرانی میں جامعہ کے شعبہ تحفیظ القرآن والناظرہ میں داخلا ہوا۔

 گھریلو تعلقات کی وجہ سے تقریباً ہر جمعرات کو شیخ رضی اللہ رحمہ اللہ ( نائب مدیر الجامعہ ) کے ساتھ لوکل ٹرین کے ذریعے ماڈل کالونی حاضری ہوتی تھی جہاں قرآن مجید کا دور بابا جی عطاء اللہ رحمہ اللہ کو سنایا جاتا۔ شیخ رحمہ اللہ کے گھر سے ایسی شفقت اور محبت ملتی کہ حقیقی ماں باپ کی یاد بھول جاتی۔

جزاھم اللہ عنی و اھلی خیر الجزاء اللّٰھم احسن الیھم کما احسنوا الی ۔ ( آمین )

ماضی کی محبتیں ، شفقتیں یاد آنے پر دل غمگین ہے اور آنکھیں آنسووں سے تر ہیں اور قلم یادیں رقم کرنے سے عاجز ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ رب کریم نے جس روحانی تعلق سے دنیا میں رکھا ہے اسی طرح جنت میں بھی ہمیں اکٹھا رکھے اور ایک دوسرے کا جوار نصیب فرمائے۔ آمین

 جامعہ ابی بکر میں تعلیم و سندِ فراغت

راقم الحروف نے تعلیم و تربیت کے سلسلے میں جامعہ میں 1981 ء سے لیکر 1993 ء تک تیرہ سال گزارے ہیں اسی دورانیہ میں جامعہ کے اساتذہ کرام و مشائخ عظام سے علمی استفادہ کیا۔ جب جامعہ داخل ہوا تھا تو سفید کاغذ کی طرح تھا اور جب سند فراغت حاصل کی تو مہربان اساتذہ نے دل و دماغ پر سوچ ، فکر اور عقیدہ و عمل کے اعتبار سے ایسے علمی و روحانی نقوش مرتب کیے کہ پوری زندگی ان سے استفادہ ہونے کا اعزاز رہے گا اور اپنے مشائخ کا قدردان، مشکور و ممنون رہوں گا۔

راقم الحروف نے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ سے تین تعلیمی شعبہ جات سے سند فراغت حاصل کی ہے ۔

الف : شعبہ تحفیظ القرآن الکریم
ب : شعبہ المعہد العلمی الثانوی
ج : شعبہ کلیۃ الحدیث الشریف

اسی عرصے کے دوران گورنمنٹ کے اداروں سے میٹرک ، انٹر اور B.A کا امتحان بھی پاس کیا ہے۔

جامعہ سے سند فراغت اور نوابشاہ شہر میں دینی خدمات :

1993 ء کو میرے آخری سالانہ امتحان کے ابھی تین پرچے باقی رہتے تھے تو محترم مدیر الجامعہ سے آئندہ عملی میدان میں اترنے کے سلسلے میں بطور مشورہ تفصیلی ملاقات ہوئی راقم الحروف نے شیخ محترم والد المکرم سے عرض کیا کہ : بندہ نے جامعہ میں تقریباً تیرہ سال گزارے ہیں اب میرے لیے کیا ہدایت اور حکم ہے ؟ شیخ محترم نے قیمتی نصیحتوں اور مشوروں سے مستفید کیا بالآخر سالانہ امتحان کے بعد جامع مسجد اہلحدیث ریلوے پھاٹک نوابشاہ کو تعلیم وتربیت کا مرکز مقرر کرکے دعوت و تعلیم کے عمل کا آغاز کیا۔

میرے آنے سے پہلے جماعت اختلاف و افتراق کا شکار تھی باہمی اتحاد و اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے مسجد میں انتشار و شدید اختلاف پھیلا ہوا تھا جس کی وجہ سے جماعتی معاملات بگاڑ و فساد کا شکار تھے۔

اللہ تعالیٰ کی توفیق سے دعوت وتبلیغ کا سلسلہ بڑھ گیا اور رب تعالیٰ نے اس میں برکت عطا فرمائی جماعت میں بھی اتفاق و اتحاد قائم ہوا ۔ اسی دوران گورنمنٹ سروس کا بھی آغاز ہوا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی استحکام عطا کیا اور درپیش مسائل بھی حل ہوگئے۔ وللہ الحمد !

استاذی و محترمی شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ کو جب علم ہوا کہ نوابشاہ کی جماعت میں اتفاق و اتحاد قائم ہوچکا اور دعوت تبلیغ کا سلسلہ جاری و ساری ہے اور اس کے ثمرات حاصل ہونا شروع ہوگئے تو آپ رحمہ اللہ کا مشورہ تھا کہ جامعہ ابی بکر کے اشراف میں دعوت وتبلیغ کا عمل شروع کیا جائے، راقم الحروف نے عرض کیا کہ کہیں یونس علیہ السلام والا کام نہ ہو ! بالآخر یہ مشورہ طے پایا کہ نوابشاہ اور قرب جوار میں دعوت وتبلیغ کا سلسلہ جاری رہے، ہمارا دستِ شفقت آپ پر رہے گا۔

 جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ 

ادارہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا دستور ہے کہ سند فراغت حاصل کرنے کےلیے ایک عدد علمی مقالہ ( بحث ) پیش کرنا ضروری ہے۔ چونکہ مضمون کا تعین سالانہ امتحان کے قریب ہوا تھا اس لیے اسے مکمل کرنے کے بعد جمع کروانے کےلیے جامعہ میں حاضری ہوئی، ابھی جامعہ کے گیٹ پر پہنچا ہی تھا کہ استاذی و مکرمی فضیلۃ الشیخ بشیر احمد صلاد صومالی حفظہ اللہ سے ملاقات ہوئی، اور انہوں نے محبت اور شفقت بھرے انداز سے کہا : أين أنت يا نواز شريف ؟! شیخ محترم عام طور پر مجھ سے اسی طرح مخاطب ہوتے تھے، میں نے کہا یہ میرا مقالہ بحث ہے جسے جمع کرانے کےلیے حاضر ہوا ہوں آپ حفظہ اللہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے جامعہ اسلامیہ ( مدینہ منورہ ) سے قبول و تسجیل کے سلسلے میں آئی ہوئی ٹیم کے پاس لے گئے اور ان سے تعارف کروانے کے بعد سفارش بھی فرمائی ۔ جزاہ اللہ عنی جزاء الخیر

طویل مناقشے کے بعد مجھے ایک ورقہ دیا گیا جس پر عمادۃ القبول والتسجیل کی مہر ثبت تھی اور مجھے کہا گیا کہ آپکو جامعہ سے لیٹر ملے گا اس کے مطابق آپ نے عمل کرنا ہے، الحمد للہ ایک ہفتے میں لیٹر وصول ہوا اور سالہا سال کی امیدیں اور تمنائیں رب تعالیٰ کے فضل و مہربانی سے پوری ہوئیں اور میں سب کچھ چھوڑ کر جامعہ اسلامیہ میں حاضر ہوا جہاں مختصر مناقشہ کے بعد کلیۃ القرآن الکریم میں داخلہ ہوا جہاں پر حرمین کی برکات اور مشائخ عظام کے علمی و تربیتی دروس سے استفادہ کیا گیا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے کلیۃ القرآن الکریم بالجامعہ الاسلامیہ اور کلیۃ الحدیث الشریف جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی سے مع تحفیظ القرآن کی اسناد حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ وللہ الحمد!

آخری سالانہ امتحان کے بعد مدیر الجامعہ الاسلامیہ فضیلۃ الشیخ صالح عبود حفظہ اللہ نے جامعہ اسلامیہ یا وزارہ کی نگرانی میں الحلقات القرانیہ سعودیہ میں تدریس تعلیم کیلئے ویزا پیش کیا لیکن بندہ عاجز نے اپنے علاقے میں تعلیم و تربیت اور دعوت وتبلیغ کو ترجیح دیتے ہوئے معزرت کرلی۔

پاکستان واپسی کے بعد دوبارہ جامع مسجد اہلحدیث نوابشاہ کو تعلیم و تربیت اور دعوت وتبلیغ کا مرکز مقرر کرکے عملی کام شروع کیا۔

تعلیمی مراکز اور مساجد کی تعمیرات

الحمد للہ نوابشاہ شہر میں اس وقت تین تعلیمی و تربیتی مراکز ہیں۔

جامع مسجد اہلحدیث و مدرسہ تعلیم القرآن والسنہ ریلوے گیٹ نوابشاہ یہ تحفیظ القرآن والناظرہ کیلئے مختص ہے ۔

 مرکز اہلحدیث جامعہ تعلیم القرآن والسنہ رحمت ماڈل ٹاؤن شہداد پور روڈ نوابشاہ جہاں شعبہ درس نظامی قائم ہے۔ اور دعوت و تبلیغ کا اہم مرکز ہے جہاں ہفتہ وار ہر جمعرات کی شام تبلیغی و اصلاحی پروگرام ہوتا ہے۔ اور سالانہ اجتماع کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔

جامعہ آمنہ الاسلامیہ للبنات نوابشاہ یہ جامعہ طالبات کی تعلیم و تربیت کیلئے مختص ہے جہاں تحفیظ القرآن و شعبہ درس نظامی قائم ہے۔

یہ تعلیمی مراکز گورنمنٹ پاکستان سے رجسٹرڈ اور وفاق المدارس السلفیہ سے ملحق ہیں جہاں سیکڑوں کی تعداد میں طلباء و طالبات سند فراغت حاصل کرچکے ہیں ۔ اور اس وقت 200 کے قریب طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ وللہ الحمد!

مساجد کی تعمیر 

نوابشاہ شہر اور مضافات میں تقریباً 100 مساجد جمعیت اہلحدیث کے زیر اشراف ہیں جن میں سے 50 مساجد کا کام راقم الحروف کے توسط اور احبابِ خیر کے تعاون سے مکمل ہوا ہے۔ جن میں قرآن کریم کے حلقات اور دروس دینیہ کا سلسلہ شروع ہے، اور تعلیم و تدریس کے فرائض بھی انجام دیے جاتے ہیں۔

اسکول کی تعمیر 

نوابشاہ میں جامعات و مدارس میں زیر تعلیم طلباء و طالبات اور دیگر مقامی بچوں کیلئے عصری تعلیم کے سلسلے میں جامعہ تعلیم القرآن والسنہ کے اشراف میں پرائمری و مڈل اسکول کا اجراء ہوچکا ہے جو مستقل قریب میں ھائی اسکول کا درجہ حاصل کرے گا ۔ ان شاء اللہ!

 دعوت و تبلیغ :

الحمد للہ جامعہ تعلیم القرآن والسنہ نوابشاہ کے اشراف میں دعوت و اصلاح کا شعبہ قائم ہے۔ رب تعالیٰ کی توفیق سے دعاۃ و علماء کی جماعت میسر ہے۔ جن کے مختلف مساجد و مراکز میں دینی و اصلاحی پروگرام اور اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں۔

اسی طرح تعلیم و تربیت اور دعوت و اصلاح کے سلسلے جاری و ساری ہیں جن کے ثمرات و نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔ اور یہ سب کچھ استاذی المکرم سماحۃ الشیخ محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ اور ان کے خاندان اور میرے مشائخ اساتذہ کرام کیلئے صدقہ جاریہ ہیں اور جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے روشن مینار سے روشن کی گئی شمع کا نتیجہ ہے جو صوبہ سندھ وادی مھران کے وسط میں عوام الناس کیلئے رہنمائی اور اصلاح کا ذریعہ ہے۔

 کبار مشائخ سے لقاء اور استفادہ :

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے مشائخ اور اساتذہ کرام کے علاوہ درج ذیل علمی شخصیات اور مشائخ عظام سے تعلیمی و تربیتی استفادہ کیا گیا ۔

سماحۃ الشیخ العلامہ عبداللہ بن عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ ( مکۃ المکرمہ و ریاض )
سماحۃ الشیخ العلامہ صالح عثیمین رحمہ اللہ ( عنیزہ )
سماحۃ الشیخ عبدالقادر سندھی رحمہ اللہ ( مدینہ منورہ )
سماحۃ الشیخ العلامہ محب اللہ شاہ راشدی السندی رحمہ اللہ
سماحۃ الشیخ العلامہ بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ
سماحۃ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ
سماحۃ الشیخ ابوطاہر محمد یوسف الزبیدی رحمہ اللہ (الإجازة برواية الحدیث)

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انتظامیہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ اور اس کے مشائخ و معاونین کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کے علمی جہود جو عالم اسلام کیلئے پیش کر رہے ہیں اس میں برکت عطا کرے اور ہم سب کو اس کی قدر اور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

By editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *