النادي الأدبي العربي کا ششماہی پروگرام

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ ایک معروف دینی وتربیتی درسگاہ ہے جہاں نہ صرف دین حنیف کی تعلیم منہج سلف کی روشنی میں تعلیم دی جاتی ہے بلکہ جامعہ کا تربیتی نظام بھی اتنا منظم ہے کہ ایک طالبعلم اس نظام میں بہت جلد علم کے تقاضے پورا کرنے لگ جاتاہے۔

علم کے اساسی تقاضوں میں سے اہم تقاضہ جس کے بارے میں سورۃ العصر میں اللہ تعالیٰ نے اس انداز سے فرمایا ہے کہ ’’وتواصوا بالحق‘‘ کہ وہ حق بات کی وعظ ونصیحت کرتاہے اور جس کا نبی آخر الزماں ﷺ نے کچھ اس انداز سے حکم فرمایا ہے کہ

’بَلِّغُوْا عَنِّيْ وَلَوْ آيَةً

وہ تقاضہ دعوت وابلاغ کا تقاضاہے۔

اور دعوت وتبلیغ کے طریقوں میں سے اہم ترین طریقہ ’’خطابت‘‘ کا طریقہ ہے۔ جس کا لوگوں کے دل واذہان پر ایک گہرا اثر پایا جاتاہے۔

اسی سلسلے میں جامعہ میں ابتدائی طور پر ہفتہ وار پھر ماہانہ اور پھر ششماہی اور سالانہ تقریری مقابلوں کا انعقاد کیا جاتاہے۔ جسے ’’النادی الادبی العربی‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتاہے۔

تعلیمی سال کے ششماہی امتحانات سے قبل ادارے نے ’’النادی الادبی العربی‘‘ کا نصفی (ششماہی) پروگرام منعقد کروایا۔ جو 25 ستمبر 2022ء بمطابق صفر 1444ھ بروز اتوار کو پرتپاک انداز میں صبح 9 بجے منعقد ہوا۔

پروگرام کی ابتداء معہد الرابع کے طالب علم ’’احسان الٰہی‘‘ نے تلاوت کلام ربانی سے کی جس کے بعد ’’مرکز اللغۃ العربیۃ‘‘ کے طلبہ کے درمیان ’’عمل الیوم واللیلۃ‘‘ (دن،رات کے اعمال) کے موضوع پر تقریری مقابلہ شروع ہوا جس میں ماہانہ مقابلوں سے کامیاب ہونے والے 6 طلبہ نے حصہ لیا اور لب کشائی کی پہلے مرحلہ کے اختتام سے پہلے الشیخ ابو زبیر محمد حسین رشید نے منفرد انداز میں خطاب کیا اور محفل میں ایک بار پھر روح پھونک دی۔

اس کے بعد پروگرام کے دوسرے مرحلہ میں داخل ہوا جس میں ’’معہد الثانوی‘‘ کے طلبہ کے درمیان ’’آثار العبادۃ فی حیاۃ المسلم‘‘ (مسلمان کی زندگی پر عبادت کے آثار) کے عنوان پر مقابلہ ہوا۔ جس میں آٹھ طلباء نے شرکت کی اور حیات انسانی پر ہونے والے عبادات کے بہترین اثرات پر گفتگو کی۔ اس مقابلے کے اختتام پر معہد الثالث کے طالب علم ’’صبر اللہ‘‘ نے خوبصورت نشید پیش کی اور پھر ریفریشمنٹ کا وقفہ ہوگیا۔

ریفریشمنٹ کے بعد تقریب کا ایک بار پھر آغاز ہوا۔ مرکز اللغۃ کے طالب علم ’’عمیر علی‘‘ نے تلاوت کلام اللہ سے محفل کو ایک بار پھر جلا بخشی اس کے بعد تقریب کے مہمان خصوصی علامہ نور محمد نے ’’واتقوا اللہ ویعلمکم اللہ ‘‘ کے تناظر میں علم وتقویٰ کے بندھن پر مختصر اور پُر اثر خطاب کیا جس میں آپ نے اہم ترین بات یہ کہی کہ جب جب علم کو تقویٰ کے بندھ سے توڑا گیا تب تب علم بھی بے سود ثابت ہوا۔

اس کے بعد جامعہ کے شیخ الحدیث الشیخ ابو عمر محمد یوسف نے ’’منہج سلف‘‘ کے موضوع پر لب کشائی کی جس میں آپ نے فرمایا یہ جامعہ منہج سلف کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا اور منہج سلف کو چھوڑ کر اپنی رائے سے کام لینا جامعہ کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہوگا۔

اس کے بعد مدیر الجامعہ الشیخ ضیاء الرحمن المدنی نے صدارتی خطاب فرمایا جس میں آپ نے ’’زبان کی ہلاکتیں‘‘ کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ اپنی زبانیں لمبی کرتے ہیں اور وہ یہ سوچتے ہیں کہ شاید ایسا کرنے سے وہ لوگوں میں نمایاں ہوجائیں گے تو انہیں چاہیے کہ اپنی زبانوں کو لگام دیں اور کوئی بھی نئی بات کرنے سے پہلے علماء ومشائخ سے ضرور مشورہ کر لیں۔

آپ نے طلباء کومخاطب کرتے ہوئے خصوصی طور پہ فرمایا کہ آپ بہت صلاحیت مند ہیں اسی لیے اپنی قدر کیجیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ تو آپ کی صلاحیتوں سے فائدہ حاصل کر لیں لیکن آپ خود کچھ نہ پاسکیں اس لیے خود کی قدر پہچانیے جیسا کہ جناب عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس فلسفہ خودی سے واقف تھےاسی لیے انہوں نےمحبت میں سب سے پہلا درجہ خود کر دیا۔ آخر میں پی ایچ ڈی اسکالر فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فراز الحق نے مختصر خطاب کیا جس میں انہوں نے النادی الادبی العربی کے انعقاد اور بہترین انتظام پر تعجب اور تشکر کا اظہار کیا اور ادارہ نادی اور منتظمین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار فرمایا۔

آخر میں تمام فائزین اور کامیاب ہونے والے طلباء کو کتابوں کی صورت میں انعامت دیئے گئے۔ اسی طرح نادی الأدبی کی طرف سے خطاط النادی ’’احمد مہر‘‘ اورمنصفین صاحبان ’’عبد العزیز‘‘ اور ’’عبد القدوس‘‘ کو بھی خصوصی انعامات دیئے گئے۔ اس پُر وقار تقریب میں ’’فقیر اللہ، زوہیب احمد اور سعود فیصل ‘‘ نے اسٹیج سیکٹری کے فرائض انجام دیئے۔ تقریب کے اختتام پر النادی الادبی العربی کے امیر زید محسن نے علماء وطلباء کا شکریہ ادا کیا اور یوں نادی کا یہ پروگرام دوپہر کے پُر تکلف ظہرانہ کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔

editor

Share
Published by
editor

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago