موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے نہ کوئی انکار کر سکتاہے اور نہ فرار ہوسکتاہے۔ ہر امیر وغریب اور نیک وبَد پر ایسا وقت ضرور آئے گا کہ وہ اپنے پاؤں پر ایک قدم نہ چل پائےگا بلکہ دوسروں کے کندھوں کا محتاج ہوگا۔ ہم جس زمین کی پشت پر نازونخرے سے چلتے ہیں، ایک دن اس کے پیٹ میں جاچھپناہے۔اس دھرتی پر کتنے انسان آئے اور آخر کار اس کے اندر جاچھپے، اس کا تخمینہ لگانا بھی مشکل ہے۔ ان میں اکثر انسان ایسے ہیں کہ ان کی قبروں کے نشان تو دور کی بات، ان کے نام بھی کسی رجسٹرودیوان میں نہیں پائے جاتے۔لیکن اس دھرتی پر کچھ ایسے انسان بھی گزرے ہیں کہ مرورِزمانہ ان کی زندگی کے نقوش مٹانہ سکا بلکہ ان کی زندگی کے تمام پہلو دل اور اوراق میں محفوظ چلے آرہے ہیں۔

یقیناً ایسے لوگ وہی ہوتے ہیں جو اپنے لیے نہیں جیتے بلکہ دوسروں کے لیے جیتے ہیں اور دوسروں کو جینے کا طریقہ وسلیقہ سکھاتے ہیں۔ اور دوسروں کے غم کو اپنا غم سمجھتے ہیں۔

انہیں پاکیزہ اور خوش بخت افراد میں سے ایک میرے محسن ومربی بلکہ اپنے اور غیروں تمام کے محسن ومربی، ملک وملت اور دین کے خیرخواہ اور وفادار مولانا محمدعائش رحمہ اللہ ہیں۔ جنہوں نے اسلام اور اہل اسلام کیلئے ایک مثالی زندگی گزاری ہے۔ ان کی زندگی کے چند پہلو اختصار کے ساتھ قارئین کرام کے حاضر خدمت کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔

تعارف

مولانا موصوف کا اسم گرامی محمد اور عرف میں عائش محمد سے معروف تھے والد محترم کا نام فضل دین تھا۔ آپ کی ولادت 4 فروری 1941ء کو گاؤںبڈھیمال ضلع فیروزپور(انڈیا) میں ہوئی جو ا سوقت علم وعرفان کا مرکز اور اہل اللہ وعلمائے کبار کا مسکن شمار کیا جاتاتھا۔ تقسیم ہندوستان کے بعد مولانا موصوف اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان کے ضلع لائل پور(فیصل آباد) کے قصبہ ستیانہ بنگلہ کے قریب چک 36 گ۔ب میں سکونت پذیر ہوئے۔

تعلیم

مولانا عائش محمد رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم مولانا حافظ احمد اللہ بڈھیمالوی رحمہ اللہ اور ان کے گھرانہ سے شروع کی۔ مولانا موصوف کی بڑی سعادت مندی تھی کہ ناظرہ قرآن مجید کی تعلیم ہی ایک عظیم محدث ومفسر عالم سے حاصل کرنے کا موقع ملا۔

اور عصری تعلیم کیلئے اپنے گاؤں چک 36 گ۔ب میں داخلہ لیا اور پرائمری کی آخری کلاس میں تمام طلباء میں اول پوزیشن حاصل کی۔ پھر ہائی تعلیم کیلئے گورنمنٹ ہائی اسکول ستیانہ بنگلہ میں داخلہ لیا اور میٹرک کا امتحان اسکول بھر میں اول پوزیشن سے پاس کیا اور پھر گورنمنٹ کالج فیصل آبا دمیں ایف۔اے کیلئے داخلہ لیا۔

چونکہ مولانا عائش محمد کو گھر کے ماحول اور ابتدائی تعلیم سے ہی روحانیت کی تربیت دی گئی تھی۔ اس لیے عصری تعلیم کے دوران بھی صوم وصلاۃ کی پابندی اور عبادت وریاضت کا غلبہ تھا اس چیز کا اندازہ اس سے لگائیں کہ جب 1953ء میں قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی اور چک 36 گ۔ب میں بھی چند گھر قادیانیوں کے تھے۔ اور اس گاؤں میں اکثرت واغلبیت سلفی علماء وعوام کی تھی جس کی وجہ سے قادیانیوں کے ساتھ مقابلہ بازی رہتی تو ایک مرتبہ معاملہ لڑائی تک پہنچ گیا اور بہت سے لوگوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا اور مولانا عائش محمد رحمہ اللہ کو صغر سنی کی وجہ سے گرفتار نہ کیاگیا تھا۔ ان دنوں مولانا موصوف بہت رویا کرتےتھے کہ انہیں تحریک ختم نبوت میں گرفتاری سے کیوں محروم رکھا گیا۔ جب مولانا اسکول کی پانچویں کلاس میں زیر تعلیم تھے اور انہیں پتا چلا کہ کچہری بازار لائل پور میں تحریک ختم نبوت کا جلوس نکالنے کی وجہ سے روزانہ ختم نبوت کے پروانوںکی گرفتاری ہوتی ہے تو مولانا موصوف کشاں کشاں وہاں پہنچ گئے مگر ان کی دلی حسرت کی تکمیل میں صغرسنی حائل ہوتی رہی۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اس دور میں 11/12 سال کا بچہ پولیس کو دیکھ کر ہی سہم جاتاہے لیکن مولانا عائش محمد گرفتاری دینے کیلئےبے تاب تھے، یہ سب دینی تعلیم وتربیت اور دینی غیرت کا نتیجہ تھا۔

جب مولانا عائش محمد رحمہ اللہ نےگورنمنٹ کالج فیصل آباد میں داخلہ لیا تو شام کے ٹائم میں مدرسہ دار القرآن جناح کالونی میں دینی تعلیم حاصل کرنے کا بھی باقاعدگی سے اہتمام کیا اور شیخ التفسیر والحدیث مولانا حافظ احمد اللہ صاحب بڈھیمالوی سے تعلیم شروع کی جب مولانا بڈھیمالوی صاحب مدرسہ ڈھلیانہ ضلع اوکاڑہ میں تدریس کے لیے منتقل ہوگئے تو مولانا عائش محمد رحمہ اللہ نے بھی دینی تعلیم کیلئے ان کے ساتھ ڈھلیانہ جانا پسند کیا اور صحیح البخاری کی تکمیل تک وہاں تعلیم حاصل کی اور کتاب وسنت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی اور روحانیت کی طرف بہت توجہ دی چنانچہ تعلیم کے دوران اکثر روزہ رکھتے اور روزانہ دس پارے قرآن مجید کی تلاوت کے انتہائی رقت آمیز انداز میں کیا کرتے تھے۔ انہی ایام میں سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ سے تعلق ہوگیا اور اکثر ان کی مجالس میں شرکت کرنا اور روحانی فیض حاصل کرنے کا اہتمام کرنا اور اس سلسلہ میں کافی محنت ومشقت برداشت کرتے رہے۔

شخصیت

مولانا صوفی عائش محمد رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے باطنی وروحانی خوبیوں کیساتھ ظاہری وجسمانی خوبیوں سے بھی نوازا تھا۔ مولانا موصوف کی شخصیت اور حلیہ کچھ اس طرح ہے :

قد متوازن، قدرے بھاری جسامت، اعضاء میں تناسب، گولائی میں چہرہ، سرخ وسفید رنگ، موٹی آنکھیں اور ان میں ہلکی سرخی ڈوری، آنکھوںمیں حیا کا غلبہ، ناک مناسب اُبھری ہوئی، کھلا سینہ،سینہ مروت کے آثار سے بھرپور، سرخ لمبی داڑھی، پست مونچھیں، سر کے بال اکثر پست، شگفتہ مزاج، خوش گوار لہجہ، میٹھا اور سادہ بول، گفتگو میں روانگی اور بلندی، انتہائی سادہ اور قمیص وشلوار لباس، بارُعب اور پر وقار شخصیت کہ دیکھنے والے پر رعب چھا جائے، چلتے وقت نظر اور جسم میں جھکاؤ، کھانے اور سواری میں انتہائی سادگی وعاجزی کا انداز،ملاقات کے وقت خندہ پیشانی، ہنس مکھ اور ساتھ دعائیہ کلمات، معمولی کمی وکوتاہی پر چھوٹے وبڑے سے معذرت خواہانہ انداز، ہمہ وقت دعوت وتبلیغ کا شوق اور نفاذ اسلام وغلبہ اسلام کیلئے کوشاں بھی اور دعائیںبھی، گویا کہ ان کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا ہی نفاذ اسلام اور غلبہ اسلام تھا اور طاغوتی وکافرانہ نظام کا خاتمہ تھا۔ یہ تھے ہمارے شیخ محترم مولانا صوفی عائش محمد رحمہ اللہ۔

خدمات

مولانا عائش محمد رحمہ اللہ نے اپنی زندگی اسلام اور اہل اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی انہوں نے ہمہ وقت اپنے آپ کو اسی کام میں مشغول رکھا اور اپنے یا اپنے اہل خانہ کیلئے کبھی سوچ وفکر نہ کی۔

دین حنیف کی خدمت کیلئے ہر میدان میں اپنے آپ کو پیش کیا چنانچہ ان کی چند خدمات کا تذکرہ کیا جاتاہے۔

مساجد ومدارس کا قیام

مولانا موصوف فرمایا کرتے تھے کہ مساجد ومدارس معاشرہ کی اصلاح کے مراکز اور دین کی حفاظت کے قلعے ہیں۔ ان کے بغیر نہ معاشرے کی اصلاح ہوسکتی ہے اور نہ ہی دین حنیف محفوظ رہ سکتاہے۔ اس کیلئے وہ دوسروں کو بھی ترغیب دلاتے تھے اور خود بھی عمل پیرا ہوتے رہے چنانچہ دینی تعلیم سے فراغت کے فوراً بعد مولانا صاحب نے اپنے گاؤں چک نمبر 36 گ۔ب میں ’’مدرسہ رحمانیہ‘‘ کے نام سے دینی ادارہ قائم کیا اور یہ ادارہ درحقیقت اس مدرسہ کی تجدید اور احیاء تھا جسے قیام پاکستان سے پہلے بڈھیمال میں شیخ الشیوخ مولانا عبد الرحمن رحمہ اللہ نے قائم کیا تھا۔ اور لمبا عرصہ تک یہ ادارہ قائم رہا اور بہت سے لوگوں نے اس سے فیض حاصل کیا۔

چونکہ مولانا عائش محمد صاحب میں جذبہ جہاد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور جماعت المجاہدین کے ساتھ بہت مضبوط تعلق رکھتے تھے اور اس سلسلہ میں صوفی محمد عبد اللہ رحمہ اللہ آف ماموں کانجن کے ہاتھ میں بیعت یافتہ بھی تھے اس لیے جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن کے ساتھ بہت عقیدت رکھتے تھے اور اس طرح جامعہ ابی بکر الاسلامیہ گلشن اقبال کراچی سے بھی جماعت المجاہدین کا ادارہ ہونے کی وجہ سے بہت دلچسپی وعقیدت رکھتے تھے اور ان اداروں کو بہت زیادہ وقت دیتے تھے جس کی وجہ سے چک 36 گ۔ب والا ادارہ کچھ عرصہ کیلئے بند رہا۔

راقم الحروف تقریباً 1984 تا 1987 تک جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں زیر تعلیم رہا ہے اور وہاں نائب مدیر الجامعہ کے طور پر مولانا موصوف کو دیکھتا رہا ہے اور اس کے علاوہ اسفار حج وعمرہ کے اور دعوت وتبلیغ کے سلسلہ میں جامعہ میں موجود پایا ہے اور ہمہ وقت طلباء کی تعلیم وتربیت میں کوشاں پایاہے۔ اس طرح مرکز علوم اسلامیہ ستیانہ بنگلہ کے ساتھ مولانا صاحب کو بہت عقیدت ومحبت تھی اور کثرت کے ساتھ اس ادارہ میں آمد ورفت رہتی تھی اور اکثراوقات اساتذہ کرام اور طلباء کو درس ووعظ بھی فرمایا کرتے تھے۔

مولانا موصوف کی تمنا وکوشش ہوتی تھی کہ مساجد ومدارس کے ذاتی ذرائع آمدن ہونے چاہئیں تاکہ ہنگامی حالات میں بھی تعلیم وتربیت میں کمی واقع نہ ہو۔ اس کیلئے انہوں نے اپنے مدرسہ چک 36 گ۔ب کیلئے اپنی ذاتی تمام زرعی وقف کر رکھےتھے۔اور مزید خرید کر تقریباً سات ایکٹر مدرسہ کیلئے وقف کی ہوتی تھی۔ اور مرکز تعلیم الاسلام ماموں کانجن اور جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کیلئے بھی زرعی زمینیں اور مکانات وقف کررکھے تھے۔ اور پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ کو مکہ مکرمہ میں حرم شریف کے قریب یرموک ہوٹل خریدنے کا مشورہ دیا تاکہ اس کی تمام آمدن مدارس اور جماعت المجاہدین کیلئے وقف کی جاسکےاور وفات تک ذاتی کوئی زرعی زمین یا کوئی رہائش مکان وغیرہ نہ تھا۔

راقم الحروف کو مارچ 2016ء کو ایک خواب آیا جس میں سیداسماعیل شاہ شہید رحمہ اللہ کی زیارت ہوئی، خواب میں استاذ محترم مولانا محمد رفیق الاثری رحمہ اللہ بھی موجود تھے۔ طویل ملاقات اور گفتگو کے بعد سید اسماعیل شہید رحمہ اللہ کو میں نے بتلایا کہ ستیانہ بنگلہ کے قریب چک 36 گ۔ب میں مولانا عائش محمد صاحب نے آپ کے نام پر ایک مدرسہ(سیدین شہیدین بالاکوٹ) بنایا ہے تو شاہ صاحب سن کر مسکرا دیئے۔ میں نے خواب بیدار ہونے پر تحریر کر لیا اور کچھ دنوں بعد مولانا عائش محمد رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی تو تواضع کی وجہ سے جھجکتے ہوئے مولانا صاحب کو خواب سنایا وہ سن کر باغ باغ ہوگئے اور فوراً میرے ساتھ گھر تشریف لے آئے اور تحریر شدہ خواب لینے کا پُر زور مطالبہ کیا۔ جب میں نےاوراق تھمائے تو ڈبکتی ہوئی نظروں سے پڑھنے لگے اور فوراً ایک طالب علم کو کئی کاپیاں فوٹو اسٹیٹ کرانے کے لیے کہا۔ میں نے عرض کی کہ شیخ محترم میں نے سادہ انداز میں رَف سا لکھا ہے آپ کو بہت پسند ہے تو میں دوبارہ خوشخط اور تفصیل سے لکھ دیتاہوں۔

چنانچہ مولانا صاحب کے کہنے پر دوبارہ چار صفحات پر لکھ کر دیا تو انہوں نے بہت سی کاپیاں کروالیں اور بعد میں جب بھی ملتے تو بہت شکریہ ادا کرتے اور فرماتے کہ تیرے خواب نے میری زندگی میں انقلاب پیدا کر دیا ہے اورمیری بہت بڑے کام کی طرف راہنمائی کر دی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے چک 36 گ۔ب مدرسے کی طرف دوبارہ بھرپور توجہ دی اور اب ایک خوبصورت مسجد اور بہت سے کمرہ جات پر اچھی عمارت میں مدرسہ سیدین شہیدین کے نام سے چل رہا ہے اور کئی مرتبہ مولانا صاحب نے تمنا کا اظہار کیا کہ میں ایک بہت بڑی اسلامک یونیورسٹی بنانے کی کوشش میں ہوں جس کیلئے بہت وسیع جگہ اور عمدہ ترین عمارت ہوگی اور دینی وعصری تمام قسم کی تعلیم دی جائے گی۔

مولانا صاحب کی کوشش اور ترغیب سے بہت جگہوں پر مساجد اور چھوٹی سطح پر ناظرہ و حفظ کے مدارس کا قیام کیاگیاہے جن کا شمار مشکل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

اوصاف حمیدہ

مولانا صوفی عائش محمد صاحب رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سے اوصاف حمیدہ اور کمالات عالیہ سے نوازا تھا۔ وہ نہایت سلیم الطبع،حلیم الطبع،صابر وشاکر،زہد وتقویٰ، خودداری واستغناء، تواضع وانکساری،ضبط نفس وخواہشات،سادگی انتہا درجہ کی دینداری، کتاب وسنت کے داعی، حق بات کو واضح بیان کرنے والے، دینی غیرت وحمیت والے،ہمیشہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر پر کاربند،کثرت سے نوافل روزے، تلاوت اور ذکر کرنے والے، مستجاب الدعوات اور صاحب کرامات تھے۔مختصر یہ کہ ہر وہ خوبی جو کسی شخصیت کی بلندی کا سبب بن سکتی ہے وہ تمام عملی طور پر اپنائے ہوئے تھے۔

وہ حلیم، وہ تواضع اور وہ طرزِ خود فراموشی

خدابخشے جگر کو لاکھ انسانوں کا وہ انسان تھا

مولانا صاحب کے مذکورہ چند اوصاف حمیدہ صرف عقیدت اور افراط کی وجہ سے نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہیں۔ ان کی زندگی کے چند واقعات ذکر کرتاہوں جو اس حقیقت کی عکاسی بھی اور دوسروں کیلئے درس وعبرت بھی فراہم کرتے ہیں۔

1 جن ایام میں فضیلۃ الشیخ صوفی عائش محمد رحمہ اللہ اسلامیہ کالج فیصل آباد میں زیر تعلیم تھے، ان دنوں میں ریگل روڈ، گھنٹہ گھر فیصل آباد پر ایک معذور آدمی بیٹھا ہوتا تھا جس کے تمام جوڑ جواب دے چکے تھے اور اپنے ہاتھ سے کھانا بھی نہیں کھا سکتا تھا۔ ایک دن مولانا موصوف کا اس کے پاس سے گزر ہوا اور اس کی حالت دیکھ کر بہت ترس آیا، چنانچہ اس کے قریب بیٹھ کر اس کا حال دریافت کیا تو اس معذور آدمی نے اپنی غمناک داستان سنائی کہ میں تن تنہا رہتاتھا، میرے بعض رشتہ داروں نے میری جائیداد پر قبضہ کرنے کے لیے مجھے کھِیر میں پارہ ملا کر کھلاکر مارنے کی کوشش کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے جان تو بچا دی لیکن میرے اعضاء شل ہوچکے ہیں اور بے یارو مددگار یہاں بیٹھا رہتاہوں، کبھی پیٹ بھرنے کے لیے کوئی چیز دے دیتاہے اور بمشکل منہ تک پہنچا کر کھاتاہوں۔

مولانا صاحب نے کہا: بزگوار! اگر آپ اجازت دیں تو کھانے کا روزانہ انتظام میں کر دیا کروں گا۔ ان دنوں مولانا صاحب کا کھانا ان کے قریبی رشتہ دار اور استاد فضیلۃ الشیخ حافظ عبد اللہ صاحب رحمہ اللہ کے گھر سے آتا تھا۔ مولانا صاحب نے گھر سے زیادہ کھانا لانے کی اپیل نہ کی، البتہ خود بازار سے بھنے چنے لے کر کھالیتے اور گھر سے آئے ہوئے کھانے کی دیسی گھی میں چوری بناتے اور اس معذور آدمی کے پاس آجاتے اور ایک ایک لقمہ اس کے منہ میں ڈالتے اور پانی پلاتے اور واپس مسجد میں آجاتے۔ وہ معذور آدمی اکثر یہ دعا دیا کرتا تھا کہ اللہ پاک تجھے بار بار حج وعمرہ کرائے، اللہ تعالیٰ تجھے مکہ ومدینہ دکھائے۔

مولانا عائش محمد رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے مجھے پچاس کے قریب حج اور سینکڑوں عمرے کرنے کا شرف بخشا ہے اور جب بھی حج وعمرہ کے سفر پر جاتاہوں تو اس معذور آدمی کے دعائیہ کلمات دل ودماغ پر چھائے ہوتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اس قدر حج وعمرے کی توفیق ملنے میں اس معذور کی دعائیں ضرورشامل ہوتی ہیں۔

2مولانا ابو بکر بن عائش محمد بیان کرتے ہیں کہ والد محترم نے دو خواب مجھے کئی بار سنائے بھی اور تحریر بھی کروائے۔

۱۔ مولانا عائش محمد فرماتے ہیں کہ ایک بار میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بیت اللہ کے مطاف میں بیٹھا ہوں اور بیت اللہ کا دروازہ مجھ سے دوسری سمت میں ہے۔ اچانک بیت اللہ گھوما اور اس کا دروازہ میرے سامنے آگیا۔ میں بیداری کے وقت اس خواب کی وجہ سے کافی پریشان ہوا۔ میں نے اس کا تذکرہ اپنے امیر صوفی محمد عبد اللہ رحمہ اللہ کے سامنے کیا تو وہ فرمانے لگے:

یہ تو اچھا خواب ہے، آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی تعبیر یہ ہے کہ بیت اللہ تک پہنچنا تیرے لیے بہت آسان ہوگا۔ مولانا موصوف فرمایا کرتے تھے کہ مجھے مکہ ومدینہ پہنچنے میں کوئی پریشانی ودشواری نہیں ہوتی۔تقریباً آج سے اڑھائی سال قبل مولانا موصوف ستیانہ مدرسہ میں تشریف لائے اورمدرسہ کے طالب علم محمد اویس قرنی کو کہا کہ مجھے موٹر سائیکل پر چک 36 گ۔ب میں چھوڑ آئیں۔ اویس قرنی بیان کرتے ہیں جب ہم موٹر سائیکل پر جارہے تھے تو مولانا صاحب راستے میں فرمانے لگے:

بیٹا! مجھے ستیانہ سے چک36 گ۔ب جانا مشکل لگتاہے لیکن مکہ ومدینہ جانا آسان لگتاہے۔

۲۔ مولانا عائش محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اکیلا بیت اللہ کا طواف کررہا ہوں۔ اس خواب کی تعبیر فضیلۃ الشیخ حافظ احمد اللہ رحمہ اللہ سے کروائی تو وہ فرمانے لگے کہ بیت اللہ کا طواف تو ہمیشہ جاری وساری رہے گا، البتہ ایک ایسا وقت آئے گا کہ تجھے ایمان ویقین کا وہ درجہ حاصل ہوگا جو عام لوگوں کو حاصل نہیں ہوتا۔

۳۔ مولانا ابو بکر عائش بیان کرتے ہیں کہ والد صاحب نے کبھی کوئی فیصلہ تھانے وعدالت سے نہیں کروایا تھا بلکہ کتاب وسنت سے کرواتے تھے۔ اس کے لیے وہ قاضی حافظ احمد اللہ رحمہ اللہ کو بناتے تھے اور ان کے بعد شیخ الحدیث والتفسیر مولانا عبد اللہ امجد چھتوی رحمہ اللہ کو اوران کے بعد فضیلۃ الشیخ حافظ عبد العزیز علوی وغیرہ کو قاضی تسلیم کرکے فیصلہ کرواتے تھے۔ بیسیوں جماعتی،رشتہ داروں اور دوست واحباب کے فیصلے اسی طرح کتاب وسنت سے کروائے اور اگر مجرم دیت نہ دےسکتا ہوتا تو اپنی طرف سے دیت ادا کردیتے تھے۔

۴۔ مولانا ابو بکر عائش اور حماد بن عتیق اللہ سلفی دونوں نے یہ واقعہ بیان کیا ہے:

مولانا عائش محمد نے فرمایا: 1969ء کی بات ہے، میں لاہور سے فیصل آبادآیا اور پتہ چلا کہ چوہدری میاں عطاء اللہ صاحب حج کی تیاری میں ہیں تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میاں صاحب فرمانے لگے: مولانا صاحب! کیا آپ میرے ساتھ کراچی تک الوداع کرنے کے لیے جانا پسند کریں گے تاکہ راستہ میں احکام ومسائل بھی چلتے رہیں گے اور سفر بھی آسانی سے طے ہوجائے گا اور آپ کے آنے جانے کا ٹکٹ میرے ذمہ ہوگا۔ میں نے کہا: ضرور یہ سعادت حاصل کروں گا لیکن پہلے امیر محترم صوفی عبد اللہ صاحب سے اجازت لینا ضروری ہے۔ یہ کہہ کر میں ماموں کانجن صوفی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوکر اجازت طلب کی اور اپنے حج کے لیے دعا بھی کروائی۔ صوفی عبد اللہ صاحب نے دعا میں یہ الفاظ بھی کہے کہ یا اللہ! اسے رحمت کے فرشتوں کے پروں میں لپیٹ کر خیریت سے لے بھی جانا اور خیریت سے واپس بھی لے آنا۔پھر کتابوں کی ایک لمبی فہرست دی کہ مدرسہ کے لیے یہ کتابیں لے کر آنا۔ پھر میاں عطاء اللہ کے پاس فیصل آباد پہنچے اور اگلے دن کراچی کا سفر شروع کردیا۔ ان دنوں عام حجاج بحری جہاز کے ذریعے سفر کرتے تھے چنانچہ میاں صاحب روزانہ حاجی کیمپ میں جاتے اور میں بھی ساتھ جاتا اور حجاج کی حالت دیکھ کر بہت ذوق وشوق پیدا ہوتا۔ لیکن میری جیب میں صرف سوا روپیہ تھا اور وہ بھی مدرسہ رحمانیہ چک 36گ۔ب کی امانت تھی اور میں نے مدرسہ کا کبھی پیسہ قرضِ حسنہ کے طور پر بھی استعمال نہ کیا تھا گویا کہ ذاتی ایک پیسہ بھی جیب میں نہ تھا۔ میں حاجی کیمپ کی مسجد میں جاکر بیٹھ گیا اور میرے قریب ایک پٹھان آکر بیٹھا اور بلند آواز سے تلبیہ کہنے لگا۔ یہ سُن کر میں بھی بلندی آواز سے تلبیہ کہنے لگا اور ساتھ آیت کریمہ (لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١اِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ) کا وظیفہ شروع کر دیا اور آخر میں گریہ زاری سے دعا شروع کردی۔ کچھ دیر بعد وہ پٹھان میرے پاس آیا اور پوچھا کہ حج پر جاناہے؟ میں نے کہا: جانا ضرور ہے لیکن میرے پاس کوئی چیز بھی نہیںہے۔ پٹھان صاحب نے کہا: مجھے گھر سے فوتگی کی اطلاع آئی ہے جس کی وجہ سے میں اس سال حج پر نہیں جاسکتا، اس لیے میرا ویزہ وٹکٹ آپ لے لیں۔ وہ تمام کاغذات میرے سپرد کرکے چلا گیا۔ میں نے شیخ خلیل الرحمن مشرقی سے رابطہ کیا اور کاغذات اپنے نام تبدیل کرنے کا کہا، اس نے بہت کوشش کی لیکن کوئی کام نہ بنا۔ اسی دوران میری ملاقات مولانا علی محمد صمصام شاعر مسلک سے ہوئی اور تمام صورتحال سے آگاہ کیا، وہ فرمانے لگے: مولانا صاحب! آپ حج پر کیسے جاسکتے ہیں، تمہارے پاس پاسپورٹ،ویزہ اور ٹکٹ کا پیسہ کوئی چیز بھی نہیں ہے اور جہاز کی تمام سیٹیں بک ہوچکی ہیں۔ میری زبان سے شوق حج میں یہ الفاظ نکلے: میں ان شاء اللہ ضرور حج پر جاؤں گا اور فرسٹ کلاس میں جاؤں گا۔

جب میرے ایجنٹ نے جواب دے دیا کہ تمہارے جانے کی کوئی صورت نہیں بنتی، البتہ ایک کوشش ہوسکتی ہے کہ بنگال سے آنے والے جہاز میں کچھ سیٹیں خالی ہیں لیکن آنے جانے کا کرایہ واخراجات 4500 روپے ہیں۔ میں نے چوہدری عطاء اللہ سے بات کی تو وہ بھی فرمانے لگے: اس سال زیادہ رش کی وجہ سے جہاز کا ٹکٹ کافی مہنگا ہوگیا ہے اور پھر آپ نے سب کچھ ارجنٹ بنوانا ہے اس لیے آئندہ سال حج کر لینا۔

میں نے کہا: چوہدری صاحب! اگر بیت اللہ اور مسجد نبوی میں ایک نماز کے بدلے ایک لاکھ روپیہ بھی خرچ آجائے تو مہنگا نہ ہوگا۔ یہ سُن کر انہوں نے قرضِ حسنہ کے انداز میں رقم دے دی اور کہنے لگے: آپ کوشش کرلیں۔ اسی اثناء میں مجھے وہاں محمد موسیٰ نامی ساتھی ملا اور اس نے بتایا کہ ہوائی جہاز کا ایک طرفہ ٹکٹ 3000 میں ملتاہے۔ میں وہاں سے فوراً ایئر پورٹ پہنچا اور ارجنٹ کاغذات مکمل کرکے ٹکٹ خریدلی اور چوہدری عطاء اللہ اورمولانا علی محمد صمصام سے پہلے جدہ پہنچ گیا۔ اور جلد ہی مکہ پہنچ کر خوب شوق پورے کیے۔

حج کے بعد مجھے ایک فکر دامن گیر تھی کہ امیر محترم صوفی عبد اللہ صاحب نے کتابیں لانے کا فرمایا تھا، کتابوں کی فہرست کافی طویل ہے اورمیری جیب میں کوئی پیسہ نہیں ہےچنانچہ میں نے کتب دستیابی کے لیے دعا شروع کردی۔ ایک دِن ایک آدمی ملا اور کتب کی فہرست لے کر چلا گیا اور تمام کتب لاکر میرے سپرد کر دیں۔

۵۔ مولانا ابو بکر عائش بیان کرتے ہیں کہ میں والد صاحب کی ڈائری کھول کر دیکھتا تو اس میں حج یا عمرہ کے لیے جانے کا پروگرام لکھا ہوتا، میں تعجب سے پوچھتا: ابا جان! ہمارے پاس تو کوئی پیسہ نہیں ہے اور آپ نے ڈائری میں حج یا عمرہ کا پروگرام لکھا ہوا ہے، تو والد محترم فرماتے: بیٹا! ہم نے صرف پروگرام ترتیب دیناہوتاہے، اسباب ووسائل اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنے ہوتے ہیں اور ساتھ آیت پڑھتے : 

وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ۰۰۲ وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا۰۰۳ (الطلاق:2۔3)

اور فرماتے: انگریز سوسال کا پروگرام مرتب کرکے چلتاہے تو مؤمن کی بصیرت اس سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔ اس کا توکل اسباب ووسائل پر ہوتاہے جبکہ مؤمن کا توکل اسباب ووسائل کو بنانے والے اللہ تعالیٰ پر ہوتاہے ….۔

چنانچہ میں نے بارہا مشاہدہ کیا کہ ڈائری میں لکھے ہوئے پروگرام کے مطابق حج یا عمرہ پر پہنچ جاتے۔ ایک دفعہ گھر میں بیٹھے بیٹھے میری والدہ کو کہنے لگے کہ میرا پاسپورٹ نکال کردو، میں حج کے لیے مکہ جانا چاہتاہوں۔ ان دنوں گھر میں کافی تنگی تھی، والدہ نے غصہ میں کہا کہ گھر میں ضرورت کا سودا سلف نہیں ہے اور آپ مکہ جانے کی باتیں کررہے ہو، تو والد صاحب نے اپنے ایک ساتھی کو فون کیا کہ پانچ سو روپیہ قرض حسنہ دیں اور جلدی واپس کر دیا جائے گا، چنانچہ اس نے جلدی ہی پانچ سو روپے بھیج دیئے اور ان کا سودا خرید کر گھر دیا اور پھر والدہ کو فرمانے لگے: پکڑو! یہ سودا آگیاہے۔ اب پاسپورٹ دو اور ساتھ اپنا پاسپورٹ بھی دے دو، ہم دونوں نے حج پر جاناہے۔ والدہ نے والد صاحب کی جذباتی باتیں سمجھتے ہوئے دونوں پاسپورٹ نکال کر دے دیئے۔ انہوں نے تھیلے میں ایک سوٹ اور دونوں پاسپورٹ ڈالے اور سلام کرکے گھر سے نکل پڑے اورمیری والدہ محترمہ کو کہنے لگے: تیاری کرکے رکھنا، ہم نے حج پر جاناہے۔ صورتحال یہ تھی کہ اس وقت والدصاحب کی جیب میں ایک روپیہ بھی نہ تھا۔گھر سے باہر نکلے تو ایک نوجوان موٹر سائیکل پر جارہا تھا اس نے بابا جی کو دیکھ کر بریک لگائی اور پوچھا کہاں جاناہے، تو بابا جی فرمانے لگے: فیصل آباد کی ویگن تک پہنچا دیں۔ اس نوجوان نے فیصل آباد کو جانے والی ویگن پر بٹھایا اور کنڈیکٹر کو کرایہ بھی دےدیا۔

فیصل آباد جی ٹی اڈا پر اُتر کر مسجد میں چلے گئے، وضو کرکے دو رکعت ادا کی تھی کہ ایک دوست کا فون آیا کہ بابا جی کہاں ہو؟ میں کافی دیر سے فون کر رہا ہوں اور رابطہ نہیں ہورہا۔ تو انہوں فرمایا کہ میں جی ٹی اڈا کی مسجد میں بیٹھا ہوں۔ وہ دوست گاڑی لے کر مسجد میں پہنچے، حال واحوال کے بعد پروگرام پوچھا تو فرمانے لگے: میں اسلام آباد جانے کا ارادہ رکھتاہوں، اس نے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور ڈائیوو اڈا پر لے گیا، ٹکٹ لے کر گاڑی میں بٹھادیا۔اسلام آباد کے قریب جاکر اپنے ایک دوست کو فون کیا کہ مجھے ڈائیوو کے اڈے سے لے لینا۔چنانچہ وہ ساتھی گھر لے گیا اور ضیافت کے بعد پروگرام پوچھا تو فرمانے لگے: میری بات جنرل حمید گل سے کرائیں۔ ان سے فون پر بات کی تو انہوں نے فوراً اپنے دفتر آنے کی دعوت دی۔ اُن کے پاس پہنچے تو بابا جی نے جنرل حمید گل کو فرمایا کہ حج پر جانے کے آخری ایام ہیں، میں نے بیوی سمیت حج پر جاناہے اس لیے آپ اپنے لیٹر پیڈ پر سعودی ایمبیسی شیخ کو دوویزوں کی سفارش کردیں۔ جنرل صاحب نے فوراً لیٹر پیڈ پر لکھ کر آدمی روانہ کردیا۔ اس نے ارجنٹ دو ویزے پاس کردیئے۔

بابا جی دونوں ویزے لے کر واپس گھر ماموں کانجن پہنچے لیکن ابھی تک ٹکٹ نہ خریدے تھے اور نہ ہی ٹکٹ کے لیے جیب میں کوئی پیسہ تھا اور کسی کے سامنے اس کا اظہار بھی نہ کیا تھا، گھر میں پہنچے ہی تھے کہ لاہور سے بابا جی کے ایک خاص مرید اور دوست جناب انجم وحید صاحب کا فون آیا اور پوچھا کہ مجھے معلوم ہوا کہ آپ بیوی سمیت حج پر جارہے ہیں، تو بابا جی نے ہاں میں جواب دیا۔ اس نے پوچھا: ٹکٹ وغیرہ خرید لی ہے؟ تو بابا جی نے فرمایا: ابھی تک تو نہیں خریدی، وہ فرمانے لگے: کسی اور سے ٹکٹ نہیں لینا، یہ سعادت مجھے عنایت فرمائیں اور انہوں نے فوراً دو ٹکٹ خرید کر اطلاع کردی، چنانچہ ائیرپورٹ پر الوداع کرتے وقت جناب انجم وحید صاحب نے پانچ سو ریال سفری اخراجات کے لیے جیب میں ڈال دیئے۔

جب جدہ ائیر پورٹ پر پہنچے تو چیکنگ والوں نے روک لیا کہ تم نے سرکاری فیس جمع نہیں کرائی، چونکہ ویزا جنرل حمید گل صاحب کی سفارش پر ایمبیسی انچارج آفیسر نے لگایا تھا اس لیے پاکستان میں فیس جمع کرائے بغیر جہاز میں سوار ہوگئے۔جدہ ائیر پورٹ والوں نے کہا کہ ایک حاجی کی فیس 1030 ریال جمع کرانا ضروری ہے ورنہ تم آگے نہیں جاسکتے۔ جبکہ بابا جی کی جیب میں صرف پانچ سو ریال تھے، انہوں نے اپنے دیرینہ دوست میاں خالد صاحب کو فون کیا جو جدہ میں مقیم تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس وقت پاکستان میں ہوں، کام بتایئے، بابا جی نے تمام صورتحال سے آگاہ کیا، تو میاں صاحب فرمانے لگے: آپ فلاں جگہ بیٹھ کر انتظار کریں ابھی آدمی پہنچ جاتاہے، چنانچہ تھوڑی دیر میں میاں صاحب کا آدمی 2100 ریال لے کر پہنچ گیا انہوں نے 2060 ریال جمع کرائے اور مکہ کا رخ کیا اور اطمینان وسکون سے حج کرکے واپس پہنچ گئے۔

۶۔ مولانا ابو بکر عائش نے اپنے پاس تحریر کردہ واقعہ پڑھ کر سنایا کہ صوفی محمد عبد اللہ رحمہ اللہ کی حیات میں والد صاحب حج کے لیے جانے لگے تو صوفی صاحب نے کئی نصیحتیں کیں۔ اور آخر میں کہا: اگر آپ کو شاہ فیصل سے ملاقات کا موقع ملے تو اس کو میری طرف سے گزارش کرنا کہ ہمیں حرم کے قریب وسیع جگہ دے دیں، وہاں ہم جماعت المجاہدین کی طرف سے لوگوں کو جہاد کی تربیت دیں گے تاکہ بوقت ضرورت غیر مسلموں کی یلغار کا مقابلہ کیاجاسکے اور اسی طرح اس کے ذریعے دعوت ورفاہی کام بھی کیے جائیں۔

بابا جی فرماتے ہیں کہ حج کے دوران مجھے امیر صاحب کے حکم کی یاد بار بار آتی رہی لیکن شاہ فیصل تک رسائی کی کوئی صورت نہ بنی۔ اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ مستقل جگہ ملنی مشکل ہے تو کوئی ہوٹل کرایہ پر لے کر کام کرتے ہیں۔اگر جہادی تربیت نہ ہوئی تو کم از کم دعوت وتبلیغ اور رفاہی کام کرنے کے مواقع ملیں گے۔ میں نے سوچ وبچار اور دعا والتجا کرکے جائزہ لیا تو باب ملک عبد العزیز کے سامنے ایک ہوٹل’’مطعم یرموک‘‘ پسند آیا، جو اِن دنوں خالی پڑا تھا۔ اس کے مالک سے ملاقات کی اور ہوٹل کرایہ پر لینے کی بات ہوئی تو ہمارا سودا طے نہ ہوسکا۔ میں نے دعا شروع کردی کہ یااللہ! یہ ہوٹل کسی اور کو نہ ملے اور ہمیں ہی عطا کرنا، چنانچہ میں نے آیت کریمہ کا وظیفہ شروع کر دیا، میں کھجور اور زمزم لے کر صفا پہاڑی کے عقب میں جاکر بیٹھ جاتا اور لگاتار تین راتیں اور تین دن وہاں بیٹھ کر آیت کریمہ سوا لاکھ بار پڑھی، صرف نماز کے لیے حرم میں آتا اور باقی تمام وقت وہی گزارتا، وظیفہ مکمل کرکے دعا والتجا کرکے پاکستان واپسی ہوئی۔جب میں حج کے بعد واپس کراچی جامعہ ابی بکر الاسلامیہ آگیا۔ اس ہوٹل کے لیے بہت سے لوگ مالک کے پاس آئے لیکن کسی ایک سے سودا نہ بن سکا اور کافی وقت اسی طرح گزرگیا اورہوٹل بند رہا۔ آخر ہوٹل کے مالک عربی شیخ نے ایک دن مجھے فون کیا اور پوچھا کہ تم کہاں ہو؟ میں نے کہا آپ کام بتائیں فوراً آپ کے پاس پہنچ جاؤں گا، وہ کہنے لگا کہ کل فلاں جگہ ملاقات کریں تاکہ ہوٹل کا معاملہ طے کیا جائے۔ مجھے یقین ہوگیا کہ دعائیں قبول ہوگئی ہیں لیکن صورتحال یہ تھی کہ میری جیب میں تین چوانیاںیعنی بارہ آنے تھے اور بیٹھا بھی پاکستان میں تھا لیکن اللہ تعالیٰ پر اعتماد وتوکل کرکے اگلے دن مکہ میں ملاقات کا وعدہ کرلیا۔ میں نے شیخ ظفر اللہ صاحب کو کہا کہ ایک ضروری کام کے لیے مکہ جانا ہے اور کام کا تذکرہ نہ کیا۔ انہوں نے فوراً آدمی بھیج کر ٹکٹ خرید کر اسی دن کی بکنگ کرادی۔ جب جدہ ائیر پورٹ پہنچا تو میری جیب میں وہی بارہ آنے تھے اور مکہ پہنچنے کے لیے کرایہ بھی نہ تھا اور کسی کے سامنے اظہار تک بھی نہ کیا۔ میں ٹیلی فون بوتھ پر فون کرنے گیا اور اس میں ایک چوانی ڈال دی، جب بٹن دبایا تو بوتھ نے چوانی باہر نکال پھینکی۔ میں نے دوبارہ چوانی ڈال کر بٹن دبایا تو اس نے پھر باہر پھینک دی، جب تیسری مرتبہ ایسے کیا تو ایک آدمی کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا، حاجی! اس میں سعودی سکہ ھلالہ ڈالو، تب بات کر سکوں گے، میں نے عرض کی اگر میرے پاس سعودی ھلالہ ہوتا تو میں ضرور وہی ڈالتا، میرے پاس پاکستانی چوانی ہے اس لیے وہی ڈال رہا ہوں چنانچہ ٹیکسی والے نے اپنی جیب سے بوتھ میں ھلالے ڈالے اور میں نے دیرینہ دوست میاں خالد صاحب سے بات کی (جو پاکستان کے معروف صحافی ہارون الرشید کے خالہ زاد ہیں) وہ مجھے لینے کے لیے ائیر پورٹ پر پہنچے اور گھر لے کر کھانا کھلایا اور اتنی جلدی دوبارہ آنے کا پروگرام پوچھا۔ بابا جی نے بتایا کہ پہلے تو عمرہ کرنا ہے اور پھر ہوٹل والی بات بھی کرنی ہے۔میاں صاحب کہنے لگے کہ عمرہ کے لیے جارہے ہو تو احرام باندھا ہی نہیں۔بابا جی فرمانے لگے: میرے پاس احرام کی چادریں نہیں ہیں اور خریدنے کی استطاعت نہیں ہے اس لیے انہیں کپڑوں میں عمرہ کرنے کی نیت کر لی ہے۔ میاں صاحب نے احرام کی چادریں خرید کر دیں اور مکہ تک چھوڑنے کے لیے آئے۔ اور عمرہ کرنے کے بعد ہوٹل کے مالک سے مقررہ جگہ ملاقات کے لیے گئے۔ اس وقت میاں خالد صاحب کے پاس بیس ہزار ریال تھے۔ جب مالک ہوٹل کو ملے تو قیمت پانچ لاکھ ریال طے ہوئی۔ بابا جی عائش محمد رحمہ اللہ نے بیس ہزار نکال کر عربی شیخ کو دیئے۔ اس نے بغیر گنے جیب میں ڈال لیے اور کہا: بلدیہ کمیٹی کے دفتر چلیں اور آپ کے نام ہوٹل کرادیاجائے، جب بلدیہ کے دفتر میں پہنچے تو متعلقہ آفیسر نے شیخ عربی سے پوچھا: کیا آپ نے تمام رقم وصول کر لی ہے؟ اس نے کہا، سب کچھ وصول کر لیا ہے، ہوٹل میری نگرانی میں یہ لوگ چلائیں گے۔ اور بلدیہ والوں کو ہر طرح کا اعتماد دلا کر ہوٹل ان کے نام کر دیا۔

بابا جی نے ہوٹل میں نظام یہ رکھا تھا کہ غریب، مسکین،یتیم وغیرہ کو کھانا مفت ہوگا اور جو لوگ ہوٹل سے فاصلہ پر رہتے تھے اور تنگ دستی کی زندگی گزاررہے تھے مولانا عائش محمد رحمہ اللہ ان کے گھروں میں خود کھانا پہنچاتے یا بعض ملازم اس کام کے لیے رکھے ہوئے تھے وہ کھانا گھروں تک پہنچاتے۔ اس طرح 90 خاندانوں کو یومیہ کھانا پہنچایا جاتاتھا۔اور اس ہوٹل کی کل آمدن دینی مدارس کے طلباء،یتیموں،مسکینوں،بیوگان اور دیگر جماعتی کاموں میں استعمال ہوتی تھی۔بابا جی نے اس کی آمدنی میں سے کبھی اپنی ذات پر کوئی پیسہ خرچ نہ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکات کا یہ حال تھا کہ ہوٹل میں چار کاؤنٹر تھے اور ان کو پیسے وصول کرنے کے لیے لائن کا انتظام کرنا پڑتا تھا اور مکہ کے تمام ہوٹلوں میں سے اس میں رش زیادہ ہوتا تھا۔ یہ ہوٹل تقریبا 1988ء تا 1992ء تک چار سال خوب چلتارہا۔ پھر انتظامیہ میں بعض غلط لوگ شامل ہوگئے اور آمدن کا حساب وکتاب درست نہ رہنے لگا، جس کی وجہ سے بابا جی نے پریشان ہوکر ہوٹل والاسلسلہ بند کردیا۔

۷۔حافظ محمد اسامہ ولد چوہدری محمد حسین رینالہ خورد(اوکاڑہ) بیان کرتے ہیں کہ اگست 2019ء کی بات ہے کہ میرے گھر رینالہ خورد میں مولانا عائش محمد صاحب تشریف لائے اور رات میرے ہاں قیام فرمایا۔ ان دنوں میرے کاروباری حالات اور دیگر معاملات بڑے پریشان کُن تھے، میں نے مولانا صاحب کو عرض کی کہ دعا فرمائیں کیونکہ میرے حالات ایسے ایسے ہیں۔ وہ فرمانے لگے: چلو حج پر چلیں، تمام پریشانیاں ختم ہوجائیں گی۔ میں نے مولانا صاحب کی بات کو مذاق سمجھا کیونکہ کاروباری سلسلہ میں بہت الجھا ہوا تھا، ایسے حالات میں حج پر جانا کیسے ممکن ہوگا؟ نیز حج کی آخری پرواز جانے والی تھی اور ہم اب تک ہر چیز سے خالی ہاتھ گھر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ مولانا صاحب نے دوبارہ حکماً فرمایا کہ پاسپورٹ لاؤ اور فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر مقبول احمد مکی حفظہ اللہ کو کراچی بھیج دو اور میرا پاسپورٹ ان کے پاس پہلے سے موجودہے۔ میں نے بابا جی کا حکم مانتے ہوئے تذبذب کے انداز میں فوری پاسپورٹ ارسال کردیا اور بابا جی کی فون پر بات بھی کرادی۔

اگلے دن ہی ویزا لگنے کی اطلاع آگئی اور ہم نے جلدی سے تیاری کی اور ائیر پورٹ پہنچ گئے مختصر یہ کہ ہم عشاء کے بعد مکہ پہنچے اور جس ہوٹل میں رہائش کا پروگرام تھا اس نے ہماری کوئی بات نہ سنی اور اُلٹا ہوٹل کے انتظار گاہ میں بیٹھنے سے بھی روک دیا۔میرے پاس دوبڑے بیگ اور بابا جی کا ہاتھ پکڑنا اور تمام دوڑ دھوپ کرنا تھا اور پھر رہائش کے لیے کوئی جگہ نہ مل رہی تھی اور دودِن کی تھکاوٹ نے بھی چُور کر رکھا تھا۔ میں پاکستان میں جناب عزیر صاحب کو فون کیا اور پریشانی بتلائی۔ بابا جی ایک جگہ بیٹھے دعا میں مشغول تھے۔ اتنے میں ایک آدمی محمد رمضان ساکن 39 گ۔ب(فیصل آباد) آیا، جن کے ساتھ بابا جی کا پہلے کوئی تعارف نہ تھا۔ اس نے ہمارا تمام سامان اٹھایا اور اپنے گھر لے گیا اور جب تک مکہ مکرمہ میں رہے اتنے دن تک بہترین رہائش ، کھانااور دیگر عمدہ ترین سہولیات اس نے میسر کیں۔ حج کے ایام میں ہمارے پاس کوئی خیمہ،سواری وغیرہ کچھ نہ تھا لیکن ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہتر سے بہتر انتظام ہوتے رہے۔ مسجد خیف اور نمرہ میں انتہا درجہ کا رش تھا اور باب جی جیسے کمزور اور معذور آدمی کا مسجد میں داخل ہونا انتہائی مشکل تھا لیکن میں نے دیکھا ہر جگہ اچھی اور پُر سکون جگہ ملتی اور کھانے پینے کا بھی اچھا انتظام ہوجاتا حالانکہ مذکورہ دنوں مساجد سے باہر نکلنے پر دوبارہ جگہ ملنا بہت مشکل ہوجاتا ہے اور بابا جی کو بار بار پیشاب کا عارضہ بھی تھا لیکن جب بھی مسجد سے نکلنے کے بعد دوبارہ واپس آئے ہیں تو وہی جگہ یا اس سے بھی بہتر جگہ مل جاتی تھی اور رات کے وقت اکثر شرطہ(پولیس والے) داخل ہونے سے روکتے تھے لیکن ہمیں کبھی کسی پولیس نے نہیں روکا تھا۔ ایک دِن میں نے بابا جی سے پوچھا کہ آپ کیا پڑھا کرتے ہیں کہ ہمیں بڑی آسانی سے جگہ مل جاتی ہے تو فرمانے لگے میں وہی پڑھا کرتاہوں جو اصحاب کہف نے پڑھا تھا: 

رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَيِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا۰۰۱۰(سورۃ الکہف:10)

جب منیٰ میں پہنچے تو بابا جی فرمانے لگے: بیٹا اُسامہ! ہم نے قربانیاں خود خرید کر کرنی ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے خود قربانیاں کی تھیں، پھر آپ نے ان کی کلیجی بھون کر کھائی تھی تو ہم نے بھی اپنے ہاتھ سے قربانی کرنی ہے اور ان کی کلیجی بھی بھون کر کھانی ہے۔ میں نے عرض کی: بابا جی! حالات بہت کٹھن ہیں اور پولیس والے قربانی خود نہیں کرنے دیتے اس لیے مہربانی فرمائیں اور ہم بینک کے ذریعہ قربانی کر لیتے ہیں۔ فرمانے لگے نہیں، ہم نے سنت کے مطابق کام کرناہے، چنانچہ ہم منڈی گئے اور خوبصورت دوبکرے لیے، ابھی میں سوچ رہا تھا کہ ذبح کرنے اور کلیجی بھوننے والی بات کیسے ہوگی؟ اتنے میں ایک گاڑی(ڈالہ) والا آگیا اور کہنے لگا: میری گاڑی پر جانور لادو، میں فلاں جگہ پہنچا بھی دوں گا اور ذبح بھی کردوں گا، چنانچہ ہم نے دونوں جانور لادے اور ایک محفوظ جگہ جاکر خود ذبح کیے اور کچھ گوشت لیا اور باقی گاڑی والے کے سپرد کر دیا۔

پھر اسی اثناء میں ہمیں عظیم مقبول آف رینالہ خودر ملا، اس نے کہا: میں نے آپ دونوں کی دعوت کرنی ہے۔ میں نے کہا: ہماری دعوت یہی ہوگی کہ یہ گوشت لیں اور اس کا بہترین سالن پکا کر دیں کیونکہ بابا جی نے کہا ہے کہ ہم نےحج کے لیے آئے ہوئے مولانا بشیر احمد(راقم الحروف)، مولانا محمد صدیق( مولانا عائش محمد کے بھائی) اور خالد صاحب کی دعوت کرناہے چنانچہ اس نے مختلف انداز میں سالن تیار کیا اور مذکورہ افراد کی رہائش گاہ میں پہنچ گئے۔

جب ہم نے مدینہ کا رخ کیا تو ایک ٹیکسی کرایہ پر کی اور چل پڑے لیکن ٹیکسی ڈرائیور انجان تھا وہ راستہ بھول گیا اور دور دراز کے راستوں سے گھماتا ہوا تقریباً 9 گھنٹوں کے بعد مدینہ پہنچایا۔ مجھے اس پر بہت غصہ آرہا تھا کہ عام سواری کے ٹائم سے تین گنا وقت زیادہ لگادیا۔ میں نےذہن بنایا تھا کہ اس کو مقرر اُجرت سے کم دوں گاکیونکہ اس نے بہت پریشان کیاہے، لیکن جب اُترنے لگے تو بابا جی فرمانے لگے: بیٹا اسامہ! اس بیچارے کو 50 ریال زیادہ دے دینا کیونکہ اس کا تیل کافی زیادہ استعمال ہواہے۔

ایک دن ہم مسجد نبوی کے محراب والی سمت باہر کھلی جگہ پر بیٹھے تھے کہ ایک نوجوان لڑکا بابا جی کی خدمت میں حاضر ہوا ، کچھ دیر مجلس کرکے رخصت ہونے لگا تو بابا جی فرمانے لگے: بیٹا! ہم آپ کی کوئی ضیافت نہیں کر سکے، اور سَر سے ٹوپی اُتار کر دےدی کہ ضیافت میں یہی لے جاؤ، اس نے بھی تبرک سمجھ کر جلدی سے ٹوپی لی اور رخصت ہوگیا اور بابا جی سَر سے ننگے رہے۔

ایک دن ریاض الجنۃ میں بہت رش تھا اور ہم روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کے لیے جارہے تھے اور بڑی مشکل سے چل رہے تھے، جب روضۂ رسول کے قریب پہنچے تو ایک شرطہ(پولیس والے) نے آواز دی، اور کہنے لگا: 

أَتُرِيْدُ رِيَاضَ الْجَنَّةِ

بابا جی نے ہاں میں جواب دیا تو اس نے ہم دونوں کو رش میں سے نکال کر ریاض الجنۃ کے اندر بٹھا دیا، اور کئی مرتبہ ہمیں اس طرح کے مواقع ملے کہ رش ہونے کے باوجود اکرام سے ریاض الجنۃ میں جگہ مل جاتی اور اپنی مرضی سے اُٹھ کر آتے اور کوئی پولیس والا ہمیں کھڑا بھی نہ کرتا تھا، حالانکہ پولیس والے زیادہ دیر وہاں بیٹھنے نہیں دیتے تھے۔ سفر حج میں بابا جی ایک دِن فرمانے لگے: بیٹا اُسامہ! مجھے ایسا لگتاہے کہ یہ میرا آخری حج ہے اور ایسی بات بابا جی نے سفر حج کرنے سے پہلے اپنے بیٹے ابو بکر عائش سے بھی کہی تھی چنانچہ ایسے ہی ہوا کہ یہ اُن کی زندگی کا آخری حج ثابت ہوا۔

۸۔ مولانا ابو بکر عائش فرماتے ہیں کہ والد صاحب نے آخری عمرہ مولانا عبد الرشید حجازی حفظہ اللہ کے ہمراہ کیا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ بابا جی چک 36گ۔ب میں آئے اور فرمانے لگے: بیٹا تین ویزے لگ چکے ہیں اور ٹکٹ بھی بُک کرادی ہے لیکن پیسوں کی ادائیگی کرنی ہے جبکہ وقت بہت کم ہے۔ میں نے کہا: بابا جی! ہمارے پاس فی الحال پیسے نہیں ہیں اور تین ٹکٹوں کی ادائیگی کیسے ہوگی؟ تو بابا جی نے فرمایا: کیسے ہوگی والی فکر چھوڑ دے، یہ کام اللہ تعالیٰ نے کرناہے، آپ وضو کرکے دورکعت اداکرکے دعاکریں۔ مولانا ابو بکر صاحب فرماتے ہیں : میں وضو کرکے ابھی نماز شروع ہی کی تھی کہ فیصل آباد سے محترم ساجد شریف صاحب تشریف لے آئے۔ دعا سلام کے بعد اس نے کہا کہ میں دعا کے لیے حاضر ہوا ہوں کہ اس بار کی کمیٹی میری نکل آئے کیونکہ مجھے پیسوں کی اشد ضرورت ہے اور اسی دوران اس کو پتہ چلا کہ بابا جی عمرہ کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ وہ کہنے لگے اگر شام کو کمیٹی میری نکل آئی تو تینوں ٹکٹوں کی ادائیگی میں کروں گا۔ بابا جی نے دعا کرکے انہیں رخصت کر دیا اور کچھ دیر بعد ساجد تشریف صاحب کا فون آیا کہ کمیٹی میرے نام کی نکل آئی ہے اور آپ تیاری کرکے آجائیں، اخراجات میں ادا کروں گاچنانچہ مولانا عائش محمد، ان کی اہلیہ اور مولانا عبد الرشید حجازی تینوں وقت پر عمرہ کے لیے روانہ ہوگئے۔

مولانا ابو بکر عائش فرماتے ہیں کہ بابا جی نے روانگی کے وقت مجھے کہا: بیٹا یہ میرا آخری عمرہ ہوگا۔ واقعی اسی طرح ہوا کہ اس کے بعد کوئی اور عمرہ نہ کرسکے۔ اور یہ اُن کی زندگی کا آخری عمرہ ثابت ہوا۔

۹۔ مولانا عائش محمد رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح دیگر بہت سی خوبیوں اور اوصاف حمیدہ سے متصف کیا تھا، اسی طرح ایک عظیم خوبی عفوودرگزر اور صبر واستقامت بھی تھی۔

جب مولانا موصوف 2002ء میں حج کے لیے تشریف لے گئے تو حج کے بعد مزید عبادت وریاضت کے لیے محرم تک مکہ میں ٹھہرے رہے۔ ایک رات تقریباً 2 بجے ہوٹل سے نکلے تاکہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی فون کرکے حال واحوال دریافت کیا جائے اور روڈ کراس کر رہے تھے کہ ایک سعودی آدمی کی تیز رفتار گاڑی نے ٹکر مار کر مولانا صاحب کو سڑک پر گرادیا جس کی وجہ سے بایاں بازواور بائیں ٹانگ تین جگہ سے فیکچر ہوگئی۔ مقامی لوگوں نے فوراً شاہ فیصل ہسپتال میں پہنچایا جس وقت مولانا سڑک پر گرے پڑے تھے سعودی گاڑی والا اُتر کر آیا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگی۔ مولانا سڑک پر گرے ہوئے اسی حالت میں اسے معاف کر دیا اور کہا آپ آرام سے گھر جائیں آپ پر کوئی گرفت نہ ہوگی لیکن سعودی حکومت نے اپنی کارروائی کرنے کے لیے اس آدمی کو گرفتار کیا اور کسی عدالت میں پہنچا۔ اس آدمی نے جج صاحب کو اطلاع دی کہ مریض نے مجھے معاف کر دیا ہے۔ جج نے اپنا وکیل بھیج کر تحقیق کرائی تو مولانا صاحب نے فرمایا: میں نے کلی طور پر اس بھائی کو معاف کر دیا ہے اب میں یا میرے ورثاء کسی قسم کا مطالبہ نہ کریں گے، اگر میں فوت بھی ہوجاؤں تو میرے ورثاء کو مطالبہ کا حق نہ ہوگا۔ دوست واحباب اور سرکاری افراد نے اصرار کیا کہ آپ کو چالیس ہزار ریال دیت ملے گی وہ وصول کر لیں تاکہ علاج ومعالجہ اچھے انداز میں ہوسکے۔مولانا صاحب فرمانے لگے: میں نے ایک ریال بھی نہیں لینا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے معاف کردیاہے۔ اس وقت مولانا صاحب کی جیب میں صرف 50 ریال تھے وہ بھی عبد الرحیم نوجوان کو ہدیہ کر دیئے جو ان کی خدمت کر رہا تھا۔ اور اس کے بعد بالکل خالی جیب کے ساتھ رہے۔

ڈاکٹر محمد ندیم آف لندن جس نے آپریشن میں مرکزی کردار ادا کیا اور سات گھنٹے کی مسلسل محنت سے آپریشن کیا۔وہ فرماتے ہیں کہ اتنے بڑے آپریشن کے لیے مولانا صاحب کو بے ہوش نہیں کیاگیا تھا بلکہ آپریشن تھیٹرجاتے وقت وہ سورۃ الفاتحہ، سورۃ یس اور سورۃ الملک پڑھ رہے تھے اور آپریشن سے واپس تک یہ سورتیں پڑھتے رہے۔ اور کسی تکلیف کا اظہار تک نہ کیا۔

۱۰۔ مولانا عائش محمد رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے صبر وتحمل اور عفو ودرگزر کی عظیم خوبی سے وافر حصہ دیا تھا کئی مرتبہ دیکھنے وسننے کا موقع پیش آیا کہ غلطی وزیادتی مخالف کی بھی ہوتی لیکن وہ خود معذرت کرنے میں پہل کرتے تھے۔مولانا موصوف نے اپنی چھوٹی بیٹی جو بہت لاڈلی تھی اس کا نکاح اپنے سگے بھتیجے محمد عثمان سے کر دیا لیکن ان کا نباہ نہ ہوسکا اور اس نے جلدی ہی اُسے طلاق دے دی۔ مولانا صاحب کے ایک عقیدت مند نے آکر کہا کہ اگر آپ اشارہ کریں تو میں اس لڑکے کو خوب ماروں یا قتل ہی کر دیتاہوں جس نے ناحق طلاق دے کر آپ کو پریشان کیا ہے۔ مولانا صاحب فرمانے لگے: اگر آپ کو واقعی مجھ سے عقیدت ومحبت ہے تو میری بات مانو گے؟ وہ کہنے لگا : ضرور عمل ہوگا، حکم فرمایئے، تو مولانا فرمانے لگے آپ بازار سے اچھی قسم کے دو یا تین کلو سیب لے کر میرے بھتیجے محمد عثمان کے گھر دے کر آئیں۔

مولانا صاحب کے خادم خاص حماد بن عتیق اللہ سلفی بیان کرتے ہیں کہ جس دن مولانا نے بیٹی کا سامان اٹھانے جانا تھا تو مولانا صاحب مجھے بھی ساتھ لے گئے، اپنے بھائی حافظ محمد صدیق صاحب کو جاکر بہت پرتباک انداز سے ملے اور بھتیجے محمد عثمان کو بھی ملے اور فرمانے لگے کہ اگر میری طرف سے یا میری بیٹی کی طرف سے کوئی زیادتی ہوئی ہو تو معاف کرنا۔ اور حافظ محمد صدیق صاحب میرا اسی طرح بھائی رہے گا جیسے پہلے تھا اور محمد عثمان میرا اسی طرح بھتیجا رہے گا جیسے پہلے تھا اور پھر فرمانے لگے کہ کھانا تیار کریں میں نے آپ کے گھر سے کھانا کھاناہے اور طلاق دینے والوں کے گھر میں مل بیٹھ کر کھانا تناول کیا۔ اور طلاق کی بات چلنے کے بعد اور طلاق ہونے کے بعد جب بھی گاؤں میں جاتے تو موسم کے مطابق پھل لے کر اپنے بھائی حافظ محمدصدیق کے گھر ضرور جاتے۔ حتی کہ جب اپنی اس مطلقہ بیٹی کی دوسری جگہ شادی کی تو اپنے بھائی اور بھتیجے کو بھی بھرپور دعوت دی اور حافظ محمد صدیق صاحب نےشادی میں شرکت بھی کی۔ اور جب طلاق دینے والے بھتیجے محمد عثمان کی دوسری جگہ شادی ہوئی تو مولانا عائش محمد صاحب نے بڑی محبت اور خوشی سے شادی میں شرکت کی۔

آج کے دور میں کوئی اس طرح کی مثال پیش کرکے دکھائے کہ کس قدر صبر وتحمل تھا اور یہ سب کچھ صرف اسلامی تعلیمات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَيْسَ الوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنِ الوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا (بخاري،حديث:599)

’’رشتہ داری کو ملانے والے کے ساتھ بناکر رکھنا صلہ رحمی نہیں ہوتی بلکہ صلہ رحمی تو اس کو کہتے ہیں کہ جب تعلقات کو توڑا جائے تو پھر کوئی جوڑے۔‘‘

۱۱۔مولانا عائش محمد رحمہ اللہ کا دین سے شغف اور سادگی کا یہ واقعہ بھی سبق آموز ہے کہ غالباً 1994ء میں مرکز علوم اسلامیہ ستیانہ بنگلہ میں مولانا صاحب کا داماد محمد اصغر تیسری کلاس میں پڑھتا تھا۔ ایک دن مولانا موصوف ستیانہ مدرسہ میں تشریف لائے اور محمد اصغر کو کہا کہ مولانا احمد اللہ صاحب کی بیوی وفات پاگئی ہے اس کی تعزیت کے لیے جانا ہے اس لیے مجھے سائیکل پر چک 36 گ۔ب میں چھوڑ آئیں۔ تعزیت کے بعد اپنے گھر گئے۔ اس وقت محمد اصغر کو ساتھ لے کر مولانا احمد اللہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور اُن سے نکاح پڑھانے کی درخواست کی۔ اور حق مہر یہ مقرر کیا کہ محمد اصغر مکمل دینی تعلیم حاصل کرے گا اور اس وقت تک اس کے گھریلو تمام اخراجات میرے ذمہ ہوں گے۔

اور نکاح کے بعد اپنے گھر چک 36 گ۔ب میں رخصتی کرکے خاوند وبیوی کو بھیج دیا۔ تمام اہل خانہ کو نکاح کا بعد میں علم ہوا۔

۱۲۔ مولانا عائش محمد رحمہ اللہ اپنی اولاد اور تلامذہ کی تربیت بھی اپنے خاص منہج واسلوب کے مطابق کی ہے۔ مولانا ابو بکر بن عائش محمد فرماتے ہیں کہ جب میں نے ناظرہ قرآن کی تعلیم کا آغاز کیا تو والد محترم نے سب سے پہلے مجھے سورۃ الفیل یاد کرائی۔ ہماری مسجد الفاروق ماڈل کالونی (کراچی) کے امام قاری ثناء اللہ صاحب نے کہا کہ پہلے آپ ابوبکر کو نماز اور دعائیں سکھائیں اور پھر سورۃ الناس سے بالترتیب سورتیں یادکرائیں گے۔ تو والد صاحب فرمانے لگے: میں نے ایک خاص مقصد کے تحت اپنے بیٹے کو سب سے پہلے سورۃ الفیل حفظ کرائی ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ چھوٹے پرندوں کو ابرہہ کے لشکر کے لیے تباہی کا سبب بنادیا ہے، اسی طرح میرے چھوٹے سے بیٹے کو کفر کی تباہی کا سبب بنا دے اور جس طرح ان پرندوں کے ذریعے اپنے گھر بیت اللہ کی حفاظت کی ہے، اسی طرح میرے اس بیٹے کے ذریعے اسلام کی حفاظت کرانا۔

مولانا ابو بکر عائش فرماتے ہیں کہ والد کی تعلیم وتربیت کا طریقہ یہ تھا کہ گھر میں دو بڑی الماریاں کتب کی بھر رکھی تھیں۔ جن میں تفاسیر،احادیث،سیرت النبی ﷺ، سیرت صحابہ کرام اور جماعت المجاہدین کی کتب موجود تھیں۔ والد صاحب ایک کتاب شروع کرتے اور ہمیں کہتے کہ مجھے پڑھ کر سناؤ۔ ہم تمام بہن وبھائی باری باری کتاب پڑھتے جاتے اور والد صاحب اس کی وضاحت فرماتے جاتے۔ اس طرح کئی تفسیر کی مکمل کتب اور سیرت النبی ﷺ اورسیرت صحابہ اورمجاہدین کے متعلق کتب پڑھا دیتے اور بعض کتب کئی مرتبہ پڑھاتے تھے۔ اور سورۂ یوسف کی تفسیر کئی مرتبہ مکمل کرائی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم دو بھائی اور تین بہنیں کسی نہ کسی انداز میں دین حنیف کی خدمت کے ساتھ منسلک ہیں۔

مرض الموت کے ایام:

مولانا عائش محمد رحمۃ اللہ کو چند ہلکےقسم کے امراض کا عارضہ کئی مہینوں سے تھا لیکن انہوں نے ان عوارض کو کبھی خاطر میں نہیں لایا تھا بلکہ حسب معمول اپنے کام جاری وساری کیے ہوئے تھے یہ حقیقت ہے کہ جسم ایک وقت تک امراض و عوارض کے مقابلہ کرتا رہتا ہے آخر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ہمت ساتھ نہیں دیتی، خصوصاً جب بڑھاپے کی دہلیزپر قدم رکھا ہو تو امراض کا مقابلہ مشکل ہو جاتا ہے۔

مولانا موصوف کو شدید قسم کا عارضہ 29 مارچ 2022 بروز منگل مطابق 25 شعبان 1443ھ کو ہوا۔ انہیں ہسپتال لے جانے کی گزارش کی گئی تو فرمانے لگے مجھے محترم ڈاکٹر زعیم الدین لکھوی حفظہ اللہ کے پاس اوکاڑہ میں لے جا ؤ چنانچہ فورا ڈاکٹر صاحب کی خدمت لے کر پہنچے تو انہوں نے چیک کرنے کے بعد اور دیگر ڈاکٹروں سے مشورہ کرکے سول ہسپتال اوکاڑہ میں داخل کرا دیا اور مسلسل ان کے علاج میں شریک رہے تقریباً دو ہفتے بعد ہسپتال سے جامعہ محمدیہ اکاڑہ میں منتقل کر دیا گیا اور ڈاکٹر لکھوی صاحب کے زیر علاج رہے پھر طبیعت میں قدر ےافاقہ ہونے پر 16 رمضان کو واپس ماموں کانجن لایا گیا اور ساتھ حکیم عبدالرؤف تبسم (سمندری) سےعلاج بھی شروع کر دیا گیا۔ لیکن طبیعت مستقل طور پر سنبھل نہیں رہی تھی کبھی افاقہ ہو جاتا لیکن کبھی شدت کی تکلیف شروع ہو جاتی۔ شدید تکلیف کے باوجود نماز پابندی، تفسیربخاری، سیرت کی کتب کا مطالعہ جاری رہا اور جماعتی ریکارڈ کو مرتب و مدون کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

3 جون 2022 ء بروز جمعۃ المبارک صبح کی نماز کے بعد اپنے بیٹے ابوبکر کو کہا کہ مجھے تفسیر محمدی سناؤ۔ جب انہوں نے سورۃ الفاتحہ کی تفسیر مکمل کی تو فرمانے لگے اب بس کریں اور طبیعت میں کمزوری اور بے چینی کی کیفیت محسوس ہو رہی تھی چارپائی پر لیٹنے لگے تو ساتھ ہی الماری تھی جس میں جماعتی کاغذات وغیرہ تھے ان کو ترتیب دینے لگے ابوبکر عائش نے کہا: باباجی! میں ترتیب لگا دیتا ہوں آپ کو کافی تکلیف ہے اس لیے آرام کر لیں تو فرمانے لگے رسول اللہ ﷺ نے آخری دم تک دین کا کام کیا ہے حتی کہ وفات سے چندلمحات پہلے بھی امت کو درس دے رہے تھے ( الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ) (مسند احمد:26483)اس لیے ہمیں بھی آخر دم تک دین کا کام کرنا چاہیے ۔

پھر غسل کروانے کا کہا، غسل کے بعد مسجد کی طرف اشارہ کر کے فرمانے لگےکہ مجھے وہاں لے چلو بیٹے نے کہا : باباجی! ابھی تو 10 بجے ہیں جمعہ کے قریب لے جائیں گے لیکن جمعہ کے قریب طبیعت میں بہت کمزور اور شدید تکلیف کا عارضہ شروع ہو گیا جس کی وجہ سے مسجد تک نہ جا سکے۔

عصر کی نماز کے بعد تمام اہل خانہ کو اکٹھا کیا اور سب کو انتہائی قیمتی نصائح کیں اور ہر فرد کو کتب کا ایک سیٹ دیا جو رحمۃ للعالمین، تقویۃ الایمان، جماعت المجاہدین کے متعلق کتب، مولانا عبدالمالک مجاہد کی کتب کا ایک سیٹ اور دیگر کتب پر مشتمل تھا اور فرمانے لگے میری یہی وراثت ہے جو تمہیں دے کر جا رہا ہوں۔

ہمیشہ کتاب وسنت کو اختیار کیے رکھنااورجماعت المجاہدین کے ساتھ منسلک رہنا۔

مغرب کی نماز کے بعد محترم ڈاکٹر زعیم الدین عابد صاحب گھر تشریف لائے اور کافی دیر چیک کرنے کے بعد کچھ ادویات منتخب کیں لیکن کافی پریشان حالت میں اجازت لے کر واپس لوٹے۔

ہفتہ کے دن ابوبکر عائش کو کہا کہ بیٹے مجھے اچھی طرح غسل کرادیں ۔ اس نے کہا: باباجی! ہر روز ہی اچھی طرح غسل کراتا ہوں فرمانے لگے: اب میں سفر پہ جا رہا ہوں اس لیے مزید اچھی طرح غسل کرانا۔ چنانچہ مولانا ابوبکر نے حجامت وغیرہ کر کے اچھی طرح غسل کرایا پھر مولانا صاحب لمبی دعا و التجا کے بعد لیٹ گئے اور ظہر وعصر کو جمع صوری کے انداز میں ادا کیا اور نماز کے بعد باباجی کاپوتا احمد صاحب خدمت کر رہا تھاتو فرمانے لگے: بیٹا! اب میں سفر پر جارہا ہوں، آپ نے محنت سے پڑھائی کرنا ہوگی، آپ کی طرف سے کسی قسم کی شکایت نہ ملے ۔ اتوار کی رات تہجد کے وقت طبیعت میں قدرے آفاقہ محسوس ہوا بلکہ ہر رات تہجد کے وقت طبیعت میں آفاقہ ہوجاتا تھا کچھ نوافل ادا کرنے کے بعد ابو بکر عائش کو کہا: بیٹا میرے قریب ہوجا۔ اور پھر فرمانے لگے: بیٹا! تین مرتبہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر اعتراف کرو کہ ہمیشہ دین کا کام صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کروں گا اور تین بار قسم اٹھا کر کہہ کہ آج تک جو پریشانی وتکلیف کسی ادارہ کی طرف سے،کسی رشتہ دار کی طرف سے، کسی دوست واحباب کی طرف سے پہنچی ہے، میں نے وہ سب کو معاف کر دی۔

مولانا ابو بکر عائش فرماتے ہیں: دوسری بات کا اقرار کرنے سے میں خاموش ہوگیا کیونکہ بعض تکالیف ایسی تھیںجن کی معافی پر دل آمادہ نہ ہورہا تھا۔ یہ کیفیت دیکھ کر مولانا نے پھر فرمایا: 

بیٹا! میں نے زندگی بھر تمہیں سورۂ یوسف کی تفسیر پڑھائی ہے، اس کو مدنظر رکھ کر تمام کو معاف کروگے تو میں دنیا سے سکون کے ساتھ رخصت ہوجاؤں گا۔ میں تیرا باپ بھی ہوا اور امیر بھی ہوں، اس لیے میری بات تسلیم کرلو۔ ابوبکر نے ہاں میں جواب دیا تو فرمانے لگے: تین بار قسم اٹھا کر اونچی آواز سے اقرار کرو چنانچہ اس نے اس طرح کہا تب جاکر ان کی طبیعت میں سکون کی کیفیت پیدا ہوئی۔

پھر اتوار کی نماز فجر کے بعد انتہائی شدید تکلیف شروع ہوگئی اور کوئی دوائی کا رگر ثابت نہ ہورہی تھی اس دوران مولانا صاحب دعاء استغناء اور التجا بار بار کرتے رہے اور 11 بجے کے قریب مولانا صاحب کے قریبی دوست محترم جناب انجم وحید صاحب،اسد وحید صاحب اور فرحان انجم لاہور سے تشریف لائے لیکن مولانا صاحب کسی کو بھی پہچان نہ سکے، جس سے محسوس ہوا کہ حالت انتہائی نازک مراحل میں ہے۔ ایمبولینس کا انتظام کرکے فاؤنڈیشن ہسپتال رجانہ لے جانے لگے تو فرمانے لگے: بیٹا! مجھے اللہ کے سپرد کرو اور کہیں نہ جاؤ۔ بعد ازاں تکلیف میں مزید اضافہ ہوتا جارہا تھا تو مجبوراً فیصل آباد لیور ہسپتال میں داخل کرایاگیا۔ ہسپتال کے تمام عملے نے بہت تعاون کیا اور ہر ممکنہ کوشش کی تو رات کے 12 بجے طبیعت میں قدرے آفاقہ ہوا تو ظہر،عصر،مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں اور ابو بکر عائش نے کپڑے تبدیل کیے، کپڑے بدلنے کے چند منٹ بعد پہنی ہوئی قمیص کو اتارنے کی کوشش کرنے لگے، مولانا ابو بکر نے کہا:  ابھی کپڑے پہنائے ہیں اور آپ اُتارنے کی کوشش کر رہے ہیں تو فرمانے لگے: بیٹا! دو دن بعد کاٹ کر اُتاریں گے تو کسی کے کام نہ آئیں گے، اب میں خود اُتار کر دیتاہوں کہ کسی طالب علم یا غریب ویتیم کے کام آجائیں گے۔ ابو بکر کپڑے اتارنے پر آمادہ نہ ہورہے تھے لیکن قریب کھڑی ہمشیرہ نے کہا: بھائی ابو بکر! ابا جان کی بات مان لیں، چنانچہ ابو بکر نے قمیص اتار کر جسم پر سادہ چادر ڈال دی تو آرام سے لیٹ گئے اور اذکار،دعائیں اورمغفرت کا سلسلہ جاری کر دیا۔

مولانا ابو بکر عائش بیان کرتے ہیں کہ سوموار کی نماز فجر کے بعد آواز دی کہ اگر نماز ادا کر چکے ہو تو جلدی سے میرے پاس آؤ۔ میں حاضر خدمت ہوا تو فرمانے لگے کہ میں نے جتنی وصیتیں ریکارڈ کرائی ہیں وہ تمام محترم ومکرم میاں خالد صاحب کو سینڈ کردو اور پھر فون کرکے پوچھ بھی لینا کہ وصول ہوگئی ہیں۔ پھر دِن کے 8 بجے بے ہوشی کے عالم میں ہوگئے ۔ اس کے بعد علماء،شیوخ اور رشتہ دار واحباب کا تیمارداری کے لیے سلسلہ بندھ گیا، بے ہوشی کے عالم میں کبھی کبھی ابو بکر اور ان کے بیٹے احمد کا نام زبان سے ادا کرتے رہے، اس کے علاوہ گفتگو نہیں کی البتہ ایسی کیفیت میں بھی نماز جاری رہی۔ اس کی پہچان اس وقت ہوتی جب تشہد میں انگلی کا اشارہ کرتے تھے۔

زندگی کی آخری رات،منگل کی رات تھی۔ سحری کے وقت ڈاکٹر صاحب نے چیک کرنے کے بعد ابو بکر عائش کو کہا کہ اس نوعیت کے میری زندگی میں صرف دو مریض آئے ہیں جن کا دل ودماغ کام کر رہا ہے اور باقی تمام اعضاء ختم ہوچکے ہیں پھر یہی کیفیت جاری رہی بلکہ آہستہ آہستہ کمی ہوتی جارہی تھی۔

أَنْتَ تُرِيْدُ وَأَنَا أُرِيْدُ، وَاللهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ

’’تیرے بھی چاہتیں ہیں اور کچھ میری بھی تمنائیں ہیں لیکن ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتاہے۔‘‘

آخر صبح 11:15بجے روح دنیا فانی سے عالم جاودانی کو کوچ کر گئی۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ

نماز جنازہ شیخ التفسیر والحدیث حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ نے انتہائی رقت آمیزی کے ساتھ جامع مسجد تعلیم الاسلام ماموں کانجن کے ہال میں پڑھائی جس میں علماء،شیوخ الحدیث،طلباء اور دیگر ہزاروں افرادکا جم غفیر تھا۔ اور تمام نے سسکیوں اور آہوں کے ساتھ نماز جنازہ ادا کی اور پھر جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن کے ساتھ متصل مرکزی قبرستان میں دفن کیاگیا۔

اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَأَوْسِعْ مُدْخَلَهُ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ الْفِرْدَوسِ الْأَعْلَى

By editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *