«مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ المَرْءِ عَلَى المَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ» (سنن الترمذي، الزهد،حديث:2376)
’’دوبھوکے بھیڑیئے جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیا جائے اتنا نقصان نہیں پہنچائیں گے جتنا نقصان آدمی کے مال وجاہ کی حرص اس کے دین کوپہنچاتی ہے۔‘‘
مجھے ایسے محسوس ہورہاہے کہ میرے محسن مربی اور ممدوح زہد وورع میں قرون مفضلہ کے اسلاف کی یاد تازہ کرنے والے مولانا عائش رحمہ اللہ مجھے بغور دیکھ کر حسب معمول یہ حدیث سنارہے ہیں لیکن یہ تو صرف میری چشم تصورہے جو تحت الشعور کے تابع ہوکر مولانا کو درس دیتے دیکھ رہی تھی وہ اکثر حب جاہ اور حب مال کے فتنہ کی نشاندہی اپنے انداز سے فرماتے تھے۔ عمر بھر زہد وبے نفسی کی عملی مثال بنے رہے جو نہ زندہ باد کے نعروں کی طلب رکھتے تھے اور نہ مردہ باد کے نعروں سے ڈرتےتھے، وہ صاحب سیف وسناں تو نہ تھے مگر مجاہدین ان کو اپنا روح رواں سمجھتے تھے وہ سیدین شہیدین سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید رحمہما اللہ کی محبت میں ڈھلے ہوئے سچے اور سُچے مجاہد تھے وہ شہداء بالاکوٹ کے سچے وارث تھے۔
فَقَاتِلُوْۤا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ (التوبة:12)
’’پس تم بھی سرداران کفر سے قتال کرو۔‘‘
کو نصب العین بناکر دشمنان اسلام ،رؤساء کفر کا خاتمہ ان کی دلی تمنااور راہ جہاد میں شہادت مطلوب ومقصود رہی جس کے لیے انہوں نے جانباز کی ٹریننگ بھی کی انہوں نے افغانستان کا سفر بھی کیا وہ دنیا کی سپرپاور کو قرآن کی زبان میں مکڑی کے جالے سے بھی بوداثابت کرتے ہوئے ان کے خوف سے دلوں کو آزاد کرکے اللہ رب العالمین کی کبریائی کا نقش ثبت کرتے اگرچہ وہ کوئی بہت بلند آہنگ خطیب نہ تھے مگر بڑے بڑے خطباء ان کے لیے گوش برآواز رہتے۔
1983ء میں کراچی مادر علمی جامعہ ابی بکر میں تین روزہ سیدین شہیدین رحمہما اللہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ خطیب الخطباء، شہید محراب ومنبر جرأت وبہادری کے نشان علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کا آخری خطاب تھا۔ دِن رات کے مسلسل سفر اور خطابات سے ان کی طبیعت علیل تھی اور آنے سے معذرت کررہے تھے مگر جب مولانا عائش صاحب کا فون گیا تو پھر انکار نہ کرسکے بڑی محبت وعقیدت سے مولانا کو صوفی صاحب کہہ کر مخاطب کیا اور پھر تشریف لائے اور کانفرنس کا ایک معرکۃ الآراء اختتامی خطاب فرمایا۔ حضرت صوفی عائش محمد جب درس دیتے تو وہ لوگوں کی قلت وکثرت سے بے نیاز رہتے وہ اسٹیج اور مجمع کے محتاج نہ تھےاور فرماتے سیدنا یوسف علیہ السلام نے جیل کے اندر جیل کے دو ساتھیوں کو ان الفاظ میں درس دیا:
يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ۠ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ۰۰۳۹ (یوسف:39)
’’اے قید خانے کے ساتھیو! کیا الگ الگ رب بہتر ہیں یا اللہ، جو اکیلا ہے، نہایت زبردست ہے؟‘‘
تو جہاں دو بندے بھی میسر آجائیں دعوت دین کا کام وہاں بھی کرنا چاہیے۔ دنیا کی حقارت رب تعالیٰ کی کبریائی،علم دین اور طلباء علم دین کی قدرومنزلت اس انداز سے بیان فرماتے کہ کہتری وکمتری کا خیال بھی قریب پھٹکنے نہ پائےوہ دلوں سے مخاطب ہوتے اور سامعین محسوس کرتے کہ ان ہی کے دل کی بات کہی جارہی ہے۔
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
وہ کوئی کہنہ مشق مدرس نہ تھے کہ کسی خاص مقام کو مسند تدریس کے لیے منتخب کر رکھا ہو مگر وہ جہاں بیٹھ گئے وہی ان کا حلقہ درس بن گیاکہ
رند جو ظرف اٹھا لیں وہی ساغر بن جائے
جس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی مے خانہ بنے
سرمایہ کائنات،فخر موجودات سیرت سید الاولین والآخرین ان کا خاص موضوع تھا، علامہ سیدسلیمان منصورپوری رحمہ اللہ کی کتاب ’’رحمۃ للعالمین‘‘اور رئیس المحدثین امام بخاری رحمہ اللہ کی ’’صحیح بخاری‘‘ اکثر ان کے مطالعہ میں رہتیں، قرآن وحدیث سے استدلال واستنباط کے بادشاہ تھے جو ذکر الٰہی کے استغراق ، حدیث رسول مقبول ﷺ کے مطالعہ میں تسلسل وانہماک کے نتیجہ میں عطیۂ الٰہی تھا۔
علامہ صاحب علیہ الرحمہ کے برادر خورد جناب شکور الٰہی رحمہ اللہ جامعہ میں تشریف لاتے رہتے تھے وہ حج پہ جارہے تھے اور مولانا صاحب بھی عازم سفر تھے۔ شکور الٰہی رحمہ اللہ ایک دِن صبح سے شام تک بابا جی کے دروس اور ملاقاتوں میں ساتھ رہے آکر کہنے لگے او بھائی طاہر بابا جی تو ہر بات کا استدلال قرآن وحدیث سے کرتے ہیں حتی کہ نئی اور اچھی گاڑی سواری کے لیے منتخب کرنے پر بھی انہوں نے قرآن وحدیث سے استدلال کیا پھر ان کے زہد وبے نفسی کا ایک واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ سیالکوٹ ہماری مسجد میں تشریف لائے۔ اباجی رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھا کہ پاؤں سے ننگے ہیں انہوں نے فوراً نئے جوتوں کا انتظام کیا، اگلی نماز میں دیکھا جوتے پھر نہیں تھے، استفسار پر بتایا کسی ضرورت مند نے مانگ لیے تو اسے دے دیئے۔ بیت المال سے متعلق احتیاط پر بہت تاکید کرتے ۔ راقم نے 1982ء میں جامعہ ابی بکر میں داخلہ لیا ان کے دروس سننے کا موقع ملا ۔
سیدنا یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان فرماتے اور صبرثابت قدمی کے ساتھ داعی کے کردار کی چادرکے اُجلااور شفاف ہونے کی تلقین فرماتے، وفاداری، امانت، ایفاء عہد، نفاذ شریعت اور پوری دنیا میں مدینہ منورہ کا سکہ رائج ہونے کی بات کرتے اور یہ شعر اکثر زبان پر ہوتا۔
نقداً عليه سكة نبوية
ضرب المدينة أشرف البلدان
اور ترجمہ یوں کرتے کہ سکے صرف وہی چلیں گے جن پہ مدینہ منورہ کی مہر لگی ہوگی۔
طلبہ کے ساتھ بہت ہی مشفقانہ رویہ تھا، طلبہ نے کوئی بات منوانا ہوتی تو مولانا صاحب کو واسطہ اور سفارشی بناکر مدیر جامعہ جناب شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ تک بات پہنچاتے۔ عید الاضحی کی چھٹیوں کا اعلان ہوا تو دور دراز سے آنے والے طلباء کو یہ چھٹیاں کچھ کم محسوس ہوئیں، بابا جی کے پاس گئے اور انہوں نے سفارش فرمادی۔ امتحان ہوئے ہمارے ساتھی تھے ابراہیم محمدی انہوں نے کہا کہ بابا جی پوزیشن لینے والے طلباء کے لیے انعام ہونا چاہیے، بابا جی نے صحیح بخاری شریف کا وعدہ کر لیا اور پھر مبتدی سے لے کر منتہی طلباء تک یعنی مرکز کی پہلی کلاس سے کلیۃ الحدیث کی آخری کلاس تک سب پوزیشن ہولڈرز کو بخاری شریف دی گئی۔
جانباز ٹریننگ میں طلباء شریک ہوئے تو کسی نے بابا جی سے کہا طلباء کو بہت بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے، ٹریننگ میں بہت مشقت ہوتی ہے، طلباء کے لیے صبح ناشتہ کے ساتھ گرم دودھ کا انتظام کروا دیا۔
انتہائی زندہ دل شب زندہ دار اور صائم بالنہار رہ کر زندگی گزاری وہ کبھی مایوس نہ ہوتے تھے اور نہ ہونے دیتے تھے۔ دوسروں کے غم کا مداوا بھی کرتے اور مایوسیوں سے اس طرح نکالتے کہ سننے والا محسوس کرتا کہ اللہ کی رحمت قریب ہے۔ جب روس کا طوطی بولتا تھا اور وہ افغانستان پہ چڑھ دوڑا تھا تو مولانا اس وقت کہا کرتے تھے کہ (ماسکو از نو ویئر) اپنے آفس میں لکھوا کر لگوا رکھا تھا اور فرماتے تھے کہ روس کے ٹکڑے ہوجائیں گےایک ولی کی کمال بصیرت تھی وہ دوسری سپر پاور کی موت دیکھنے کی حسرت لے کر دنیا سے رخصت ہوگئے، جب ڈاکٹروں نے ان سے کہا کہ آپ کو ایسی بیماری نے آگھیرا ہے کہ شاید آپ جانبرنہ ہوسکیں تو جواب میں جو بات انہوں نے کہی وہ ان کی زندگی کا خلاصہ ہے فرمانے لگے:
امریکہ کی شکست دیکھے بغیر جنت میں جانے کا کیا مزا آئے گا؟!
بُجھ گیا وہ شعلہ جو مقصودِ ہر پروانہ تھا
اب کوئی سودائی سوزِ تمام آیا تو کیا
زہد ،انکساری،تواضع، غمخواری وشفقت اور بے نفسی ان کی خاص خوبیاں تھیں۔ ان کی طبیعت کی ہماہمی کا یہ عالم تھا کہ جب ہم جون کے مہینے میں ان کو گرم کمبل اوڑھے ہوئےدیکھ کر صوفی کہنا چاہتے تواچانک انتہائی سردی میں افغانستان کے پہاڑوں میں جبہات پر جہاد کی تدریب کرتے نظر آتے اور جناب جنرل حمید گل رحمہ اللہ جیسے مجاہد ان کے مرید نظر آتے ہیں۔
جامعہ کی ابتداء میں 1980ء اور 1981 میں مولانا رضی اللہ علیہ الرحمہ نے مدیر الجامعہ محترم شیخ ظفر اللہ علیہ الرحمہ کی نیابت کی پھر مولاناعائش محمد آئے پھر چوہدری عبد الحفیظ صاحب پھر ڈاکٹر راشد رندھاوا صاحب جناب حضرت الامیرغازی عبد الکریم صاحب کا دست شفقت رہا اورچوہدری عبد الرحمن صاحب کا ساتھ رہا۔(رحمہم اللہ جمیعاً) میں سوچ رہا تھا اور مجھے ایسا لگا کے مخملیں غلاف میں لپٹے ہوئے ہیروں کا ایک سلسلہ تھا جیسے طواف کے سات چکر یاد رکھنے کو تسبیح کے سات دانے جو طواف کرنے والے کو ہر چکر یاد دلاتے ہیں یہ بھی ہمیں ہماری منزل کی یاددہانی کرواتے رہے اس سلسلہ کا آخری ہیرا مولانا عائش رحمہ اللہ کی صورت میں تھا جو 6 جون 2022ء بروز پیر صبح دم سورج ابھی کچھ ہی بلند ہوا تھا کہ ہمیں داغ مفارقت دے کر ہم سے رخصت ہوئے۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ
اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ
بزبان آغا شورش کاشمیری رحمہ اللہ:
عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ
اشک ہیں آستین نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے،
افق پہ مہرِ مبین نہیں ہے
تیری جدائی میں مرنے والے،
وہ کون ہے جو حزِیں نہیں ہے
مگر تیری مرگِ ناگہاں کا
مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
تیری لحد پہ خدا کی رحمت
تیری لحد کو سلام پہنچے
اترگئے منزلوں کے چہرے،
امیر کیا؟ کارواں گیا ہے
مولانا صاحب عام سے عام آدمی کو بھی بہت عزت دیتے، گاہے تربیت بھی فرماتے رہتے ان کی تواضع اور انکساری ، شفقت ومحبت کی وجہ سے ان کے قریب رہنے والے بعض اوقات حد ادب کا خیال نہ رکھتے تو ہرگز بدمزہ نہ ہوتے مگر کسی موقع پر میٹھی سی تربیتی پھبتی کے ذریعے تنبیہ فرمادیتے۔ ایسے ہی کسی موقع پر فرمایا:
حضرت سید ابو بکر غزنوی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ بے ادب انسان گھوڑے کی مانند ہے ، جسے اصطبل میں باندھ دینا چاہیے، ان کے ارادتمندوں میں سے ایک صاحب جب اعیال دار ہوئے اور انہوں نے ایک کے ساتھ دوسری ملازمت بھی شروع کر دی جس کی وجہ سے وہ صبح سے لے کر آدھی رات تک مصروف رہتے، بابا جی کو پتہ چلا حال احوال کے بعد باتوں ہی باتوں میں فرمانے لگے کہ اگر صرف محنت ہی سے بندہ مالدار اور امیر ہونا ہوتا تو گدھا سب سے زیادہ امیر ہوتا، پھر فوراً ہی انہوں نے اپنی اس بات پہ معافی بھی مانگ لی۔
معاف کرنے اور معافی مانگ لینے میں ذرا بھی توقف نہ کرتے۔قاری عبد الرشید حفظہ اللہ صاحب بتاتے ہیں کہ جب مکہ میں ان کا حادثہ ہوا اور ان کی ٹانگ میں تین جگہ فریکچر ہوگیا، ہسپتال میں جب ہوش آیا تو سب سے پہلے اس گاڑی والے کو معاف کیا جس نے یہ حادثہ کیا تھا۔ غالباً اس وقت جو دیت بن رہی تھی، چالیس ہزار ریال تھی۔
مکہ ومدینہ حرمین شریفین سے محبت وشیفتگی میں بالکل دیوانگی کی حد تک لگاؤ تھا کہ جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں تھا۔ ہر وقت رخت سفر باندھے مکہ اورمدینہ کی زیارت کے لیے تیار رہتے گویا ان کا وجود یہ کہہ رہا ہوتا تھا۔
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
عجب ڈھب کے انسان تھے ویزہ وغیرہ کے لیے انتہائی کوشش کرتے اور ویزا مل جانے پر جس قدر خوش ہوکر دعائیں دیتے اس سے کہیں زیادہ کام نہ ہونے پر رب کا شکر بجا لاتے کہ یہی رب کی مرضی تھی اور دعاؤں میں کمی نہ فرماتے ، کبھی بھی مورد الزام نہ ٹھہراتےکہ فلاں نے صحیح کوشش نہیں کی۔
اندازہ کیجیے کہ ٹانگ تین جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے،ڈاکٹر منع کر رہے ہیں، آپ سفر نہیں کر سکتے مگر مصر ہیں کہ جانا ہے اور یہی عالم اس رمضان میں تھا۔ یہ ان کی زندگی کا آخری رمضان تھا اور کوشش میں لگے ہوئے ہیں کسی طرح مکہ کا سفر ہوجائے اور سفر زیست وہیں تمام ہوجہاں وہ یہ آرزو ناتمام لے کر بار بار گئے ہیں۔ بھائی نوید ظفر حفظہ اللہ سے فرمائش کے ساتھ مکہ معظمہ کے اشعار علامہ اقبال علیہ الرحمہ کی نظم
یا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے
جو قلب کو گرما دے، جو رُوح کو تڑپا دے
بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت صحرا دے
اورمدینہ پاک کے سفر سے متعلق اشعار سنتے:
مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
جبیں افسردہ افسردہ قدم لغزیدہ لغزیدہ
راقم الحروف سے پیار سے کہتے بھائی طاہر آصف یہ ہمارے لیے مکہ کی سیڑھی ہے اللہ اکبر عمرہ وحج اور زیارت حرمین کے لیے بے تاب رہتے کبھی شیخ مقبول حفظہ اللہ کو فون کرتے کبھی مبشر شاہ صاحب کو کبھی بھائی ضیاء الرحمن صاحب کوحفظہم اللہ جمیعاً۔
لو آج ایک ہی بات کے لیے بار بار فون کرنے والا ہم سے رخصت ہوا، سب بزرگوں کے بچھڑنے کا غم اپنی جگہ مگر ہم اپنے حقیقی والد محترم رحمہ اللہ کے بعد ایک دفعہ شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ کی ناگہاں شہادت پہ اور دوسری دفعہ بابا جی کے شہادت میں رخصت ہونے پہ یتیمی کا دکھ اور صدمہ اٹھارہے ہیں جیسا کہ بھائی عبد الستار عاصم حفظہ اللہ (مقیم برطانیہ) نے صوفی صاحب کی وفات پہ اپنےجذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم پھر سےیتیم ہوگئے ہیں۔
اور سکون والی بات وہی ہے جو ایک اعرابی نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ان کے والد محترم کی وفات پہ تعزیت کرتے ہوئے کہی تھی:
اصْبِرْ نَكُنْ بِكَ صَابِرِينَ فَإِنَّمَا
صَبْرُ الرَّعِيَّةِ عِنْدَ صَبْرِ الرَّاسِ
خَيْرٌ مِنْ الْعَبَّاسِ صَبرُكَ بَعْدَهُ
وَاللهُ خَيْرٌ مِنْك لِلْعَبَّاسِ
’’صبر کرو، ہم بھی تمہارے ساتھ صبر کرنے والے ہیں،رعایا کا صبر سردار کے صبر ہی کے ساتھ ہوتاہے، ان کے بعد تمہارے لیے عباس کے وجود سے صبر بہتر ہے، اور اللہ تعالیٰ عباس کے لیے تم سے بہتر ہے۔‘‘
21 مارچ 2021ء بروز اتوار جامعہ میں سالانہ تقریب صحیح بخاری تھی، پروگرام ختم ہوا بڑی شفقت سے حوصلہ افزائی فرمائی۔23 مارچ بروز منگل میں ظہر کے بعد حاضر خدمت ہوا کچھ باتیں ارشاد فرمائیں جو اختصارکے ساتھ تحریر کیے دیتاہوں۔ اس مجلس میں زیادہ تر تذکرہ جناب سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ کا رہا۔
سیدصاحب رحمہ اللہ کی بیعت کا تذکرہ فرماتے ہوئے ایک آیت اور حدیث رسول ﷺکا حوالہ دیا۔
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ (النساء:59)
اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول اللہ ﷺکی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ يُطِعِ الأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ يَعْصِ الأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي (صحيح البخاري، كتاب الجهاد والسير، باب يقاتل من وراء الإمام ويتقى به،حدیث:2957)
’’جس نے امیر کی اطاعت کی گویا اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی گویا اس نے میری نافرمانی کی۔‘‘
پھر رب تعالیٰ سے حقیقی محبت کا تذکرہ مجازی پیرائے میں یوں فرمایا:
نظارے کو جنبش مژگاں بھی با رہے
نرگس کی آنکھ سے تجھے دیکھا کرے کوئی
بابا جی نے بتایا کہ سیدصاحب فرمایا کرتے کہ اباجی (سیدعلامہ داؤد غزنوی رحمہ اللہ) فرمایا کرتے تھے، ایسا آدمی کہاں سے تلاش کریں کہ ساری زندگی اس کے سپرد کردیں۔
بابا جی کہتے ہیں میں نے ایک روایت بیان کی سید صاحب کو الفاظ میں کچھ سقم نظر آیا تو اپنے پہاڑ جیسے علمی مقام کے باوجود مجھ سے یہ نہیں کہا کہ آپ نے صحیح نہیں کہا بلکہ فرمانے لگے، اباجی رحمہ اللہ کچھ اس طرح سے بیان فرمایا کرتے تھے۔
بابا جی علیہ الرحمہ کا اصل میں تحت اللفظ یہ ادب کا درس تھا کہنے لگے: سید صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے کہ میں نے بڑی کوشش کی آپ میرے پیچھے چلیں مگر یہ سب آپ کے سرمنڈھاہوا ہے؟
فرماتے تھے کہ بیعت تو کر لی واضح راہنمائی بھی ہونی چاہیے، فرماتے: اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہوسکتا ہے کہ جہاد پر تقریر کرکے کسی کے جذبات بھڑکادیئے جائیں اور پھر واضح راہنمائی نہ ہو۔
بابا جی فرماتے ہیں : تحریکی زندگی میں سورۃ یوسف کی اس آیت کی بڑی اہمیت ہے۔
قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۰۰۱۰۸
’’آپ کہہ دیجئے میری راہ یہی ہے، میں اور میرےپیروکار اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں ۔‘‘
دینی قیادتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ علی وجہ البصیرت کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق فرمان باری تعالیٰ کی روشنی میں دعوت کا کام کریں۔
اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ
’’اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے۔‘‘
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ (مسند أحمد،حديث:17142)
’’میں تمہیں روشن (شریعت) پر چھوڑ رہا ہوں۔ جس کی رات بھی دن کی طرح (روشن) ہے، میرے بعد وہی شخص کج روی اختیار کرے گا جو ہلاک ہونے والا ہے۔‘‘
قیادتوں کو چاہیے کہ وہ دوپہر کے سورج کی طرح واضح راہ ہدایت پر لوگوں کو لے کر چلیں۔
شیخ الحدیث محترم مولانا عبد اللہ رحمہ اللہ جھال والے ان کے ایک درس کا ذکر فرمایا اور حدیث بیان کی ۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللهَ، وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُجَدَّعٌ فَاسْمَعُوا لَهُ، وَأَطِيعُوا مَا أَقَامَ لَكُمْ كِتَابَ اللهِ (سنن الترمذي،أبواب الجهاد، باب ما جاء في طاعة الإمام، حديث:1706)
’’لوگو! اللہ سے ڈرو، اوراگرکان کٹا ہوا حبشی غلام بھی تمہارا حاکم بنا دیا جائے تو اس کی بات مانواور اس کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہارے لیے کتاب اللہ کو قائم کرے (یعنی کتاب اللہ کے موافق حکم دے)۔‘‘
بابا جی فرماتے ہیں: میں نے سید صاحب سے عرض کی حضرت صاحب تحریکی کام کیسے ہو، میرا دماغ کام نہیں کرتا اور آپ سرکار کے ملازم ہیں۔ یہ سن کر سید صاحب نے فرمایا:
آپ نے سخت تنقید کی ہے، اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں عریاں تلوار ہوتا۔
بابا جی بیان کرتے ہیں کہ سید صاحب علیہ الرحمہ نے مجھے مدرسہ تقویۃ الایمان میں درس دینے کا کہا تو میں نے وعدہ کر لیا اور پھر مسلسل روزے رکھے کیونکہ روزہ سے بہیمیت ختم ہوتی ہے اور ملوکیت غالب ہوجاتی ہے۔ پھر میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث پردرس دیا جس میں ذکر ہے کہ صرف نیت کی خرابی کی وجہ سے سب سے پہلے تین پہاڑ جیسے عمل کرنے والے اشخاص پر جہنم کو گرمایا جائے گا یعنی عالم، مجاہد اور صدقہ وخیرات کرنے والا سخی۔فرماتے ہیں کہ درس کے دوران سید صاحب موٹے موٹے آنسؤوں سے رو رہے تھے۔
رونے پہ آجائیں تو دریا ہی بہا دیں
شبنم کی طرح ہمیں رونا نہیں آتا
مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَ زِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَ هُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ۰۰۱۵ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖٞ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِيْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۱۶ (هود:15-16)
’’جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا چاہتا ہو ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال (کا بدلہ) یہیں بھرپور پہنچا دیتے ہیں اور یہاں انھیں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ ہاں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہوگا وہاں سب اکارت ہے اور جو کچھ اعمال تھے سب برباد ہونے والے ہیں۔‘‘
وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى ١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِيَ الْعُلْيَا (التوبة:40)
’’اس نے کافروں کی بات پست کردی اور بلند و عزیز تو اللہ کا کلمہ ہی ہے ۔‘‘
مَثَلُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِيَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَيْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُيُوْتِ لَبَيْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ۰۰۴۱ (العنکبوت:41)
’’جن لوگوں نے اللہ کے سوا اور کارساز مقرر کر رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک گھر بنا لیتی ہے، حالانکہ تمام گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہے ،کاش! وہ جان لیتے۔‘‘
اللہ کے دشمنوں کی حیثیت تار عنکبوت کی مانند ہے بابا جی فرمانے لگے کہ قرآن میں ان کی انتہائی کمزوری کو نمایاں کرنے کے لیے مؤنث کا صیغہ عنکبوت(مکڑی) استعمال ہواہے۔ عنکب(مکڑا) استعمال نہیں ہوا۔ سب سے بودا گھر مکڑی کا جالا ہے جو پرانے کپڑے کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ طاغوتی طاقتیں اتنی ہی کمزور ہیں اللہ کی نصرت کے مقابلہ میں ۔
وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ۰۰۴۰ (الحج:40)
’’جو اللہ کی مدد کرے گا اللہ بھی ضرور اس کی مدد کرے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں والا بڑے غلبے والا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
ادْعُوْنِيْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (غافر:60)
’’ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا ۔‘‘
یعنی مانگتے ہوئے اپنی طرف نہیں بلکہ میری طرف دیکھو کہ میں کتنی قدرت رکھتا ہوں۔
ہفت کشور جس سے ہو تسخير بے تيغ و تفنگ
تو اگر سمجھے تو تيرے پاس وہ ساماں بھي ہے
بابا جی نے پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور فرعون اور جادوگروں کا قصہ تفصیل سے بیان فرمایا، وہی جادوگر جو چند لمحے پہلے غالب آجانے کی صورت میں کچھ ٹکوں کا وعدہ لے رہے تھے۔
اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِيْنَ۰۰۴۱ (الشعراء:41)
’’اگر ہم جیت گئے تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا ؟ ۔‘‘
طاغوتی نظام کی اخلاقی پستی کا عالم یہ ہےکہ ان کی ساری تگ وتاز صرف مالی فوائد ومصالح سمیٹنے تک محدود ہوتی ہے اور فرعون ان کو مال اور عہدوں کا وعدہ دے رہا تھا اور کہہ رہا تھا۔
فَاَجْمِعُوْا كَيْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا (طه:64)
’’تو تم بھی اپنا کوئی داؤ اٹھا نہ رکھو، پھر صف بندی کرکے آؤ۔‘‘
وہی جادوگر جب حق کو پہچان گئے، ایمان اُن کے دلوں میں اُتر گیا تو پھر پھانسی کی سزا اور ہاتھ پاؤں کاٹے جانے کے خوفناک انجام کو فرعون کے منہ سے سن کر بھی جواب دے رہے تھے۔
فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ (طه:72)
’’اب تو تو جو کچھ کرنے والا ہے کر گزر۔‘‘
نبی علیہ السلام نے انتہائی کمزوری کے باوجود وعدہ فرمایا: کہ ایمان لے آؤ
تملكون بها العرب وتدين لكم بها العجم (فتح المجيد،ص:130)
عرب وعجم کے مالک بن جاؤ گے۔
اور اس وقت کمزوری کا عالم یہ تھا کہ جب آپ ﷺ دعوتِ حق دینے کے لیے نکلتے تو پیچھے ابو لہب ہوتا جو تاک تاک کر پتھر آپ کے مبارک ٹخنوں پر مارتا اور کہتا:
لَا يَغُرَّنَّكُمْ عَن آلِهَتِكُمْ إِنَّهُ صَابِئٌ كَذَّابٌ
’’تمہارے دین سے متعلق تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے یہ بے دین اور جھوٹا ہے۔‘‘
آپ نے قبیلہ بنو عبد اللہ پر دعوت پیش کی انہوں نے ابولہب سے آپ کے متعلق پوچھا تو اسے کہنا پڑا کہ سرداروں کا سردار ہے اور جب انہوں نے آپ کی دعوت سے متعلق بتایا تو پھر آپ کے خلاف بولنے لگا۔
إِنَّ اللهَ اصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ، إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ بَنِي كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ (سنن الترمذي،أبواب المناقب،حديث:3605)
’’اللہ نے سیدناابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا انتخاب فرمایااور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنی کنانہ کا، اور بنی کنانہ میں سے قریش کا، اور قریش میں سے بنی ہاشم کا، اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا۔‘‘
پھر پنجابی میں شعر پڑھا:
جبریل کہے میں لیندھے چڑھدے ڈھونڈیا جگ رسیلا
محمد جیھا نہ مانس ڈیٹھا نہ ھاشم جیھا قبیلہ
یقیناً اللہ کے وعدے سچے ہیں اگر ہم سچے ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں اپنا قانون لانے والی طاغوتی طاقتوں کو قرآن پاک میں اُولٰٓىِٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ(یہی لوگ مخلوق میں سب سے برے ہیں )کہاگیاہے۔
اور غزوۂ بدر کے موقع پر جب ابو جہل سمیت ستر لاشیں ایک ویران وبرباد اجڑے ہوئے کنویں میں ڈالی جارہی تھیں اور ستر قیدی بناکر انہیں جکڑا جارہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
لَوْ كَانَ المُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا، ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلاَءِ النَّتْنَى لَتَرَكْتُهُمْ لَهُ (صحيح البخاري، كتاب فرض الخمس، باب ما من النبي صلى الله عليه وسلم على الأسارى من غير أن يخمس، حديث: 3139)
’’اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور وہ ان نجس اور بدبودارلوگوں کی سفارش کرتا تو میں اس کی سفارش سے انھیں چھوڑ دیتا۔‘‘
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے:
دَمُهُمْ دَمُ کَلْبٍ
یقیناً ایمان ہی عزت واحترام، حرمت وتکریم کا ضامن ہے۔
بابا جی بتارہے تھے کہ سید صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میرے عقیدے میں داخل ہے کہ نظام صرف ایک ہے اور وہ ہے
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ
اور فرمایا میں اسی تحریک کے لیے زندہ تھا۔ درس کے بعد سید صاحب نے فرمایا آپ آئندہ جمعرات نہ آئیں مجھے مری جانا ہے۔ بابا جی فرماتے ہیں میرے منہ سے نکلا اور مجھے مکہ شریف جانا ہے یہ سن کر سید صاحب چونکے اور پوچھنے لگے آپ کی کتنی زمین ہے، میں نے کہا: زمین تو میں نےامریکہ کی (مونجھ کوٹنے) یعنی مرمت اور ٹھکائی کے لیے رکھی ہے۔
مجھ سے کہنے لگے : دین کے غلبہ اور اس مبارک تحریک کے لیے آپ ہیں اور کون ہے ؟ میں نے ایک بزرگ کا نام لیا، فرمانے لگے: ٹھیک ہے ایک وہ ہوئے ایک میں ہوا اور کون ہوگا ؟میں نے ایک اور بزرگ کا نام لیا جن سےبڑا تعلق تھا تو فرمانے لگے نہیں ، وہ نہیں ہوں گے اور واقعتاً جب ان سے کہاگیا تو وہ شامل نہ ہوئے۔
ہمہ شب دریں امیدم کہ نسیم صبح گاہی
بہ پیام آشنائی بنوازد ایں گدا را
’’پھر بھی رشتۂ امید ہاتھ سے نہیں چھوٹتا اور تمام رات اس امید میں بسر ہوتی ہے کہ کسی دن صبح نسیم کی مانند وہ محبوب پیغام آشنائی سے اس حقیر کو سرفراز کرے گا۔
سید صاحب بیمار تھے تو ملک غلام مرتضیٰ رحمہ اللہ عیادت کے لیے آئے دیر تک بیٹھے رہے سید صاحب سے پوچھا کہ بڑی دیر تک ملاقات کی فرمانے لگے ہاں ، داغہائے دل گنوارہا تھا۔
مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا
سید صاحب مجھ سے کہا کرتے تھے اگر آپ مرتب ہوجائیں تو بہت عظیم بن جائیں، بابا جی علیہ الرحمہ مجسم عجز وانکسار تھے، فرماتے ہیں حضرت سید صاحب بڑے نفیس اور مرتب تھے اور میں غیر مرتب ڈائریکٹ مجھ سے نہیں کہتے تھے آپ غیر مرتب ہیں بلکہ جب دعا فرماتے تو کہتے:
اللهُمَّ رَتِّبْ بَرْنَامِجَنَا
’’اللہ ہمارے پروگرام مرتب فرمادے۔‘‘
فرماتے: پروگرام مختصر بنائیں اورمرتب بنائیں کرنے کاکام بہت ہے اور وقت بہت تھوڑا ہے۔
لمبے لمبے منصوبے بنانا اور لمبی تان کر سو رہنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ دینی جماعتوں اور تحریکوں سے متعلق فرماتے ہیں کئی تحریکیں ایسی ہیں جن کے پاس دماغ ہے دل نہیں ہے اور کئی ایسی ہیں جن کے پاس دل ہے دماغ نہیں ہے۔
ایک عالمی یونیورسٹی کے قیام کا تصور تھا میں نے کہا اس کا نام شاہ شہید یونیورسٹی ہوگا آپ نے انکار نہیں کیا مگر فرمایا: ہمیں کام کرنا ہے نام سے کیا غرض؟
دلم بے مہر صد پارہ باد و ہر پارہ
ہزار ذرہ و ہر ذرہ در ہوائے تو باد
دل کے تیرے راستے میں سوٹکڑے ہوں ہر ٹکڑے کے ہزار ذرےہوں اور ہر ذرہ صرف تیری محبت اور تیری رضا میں ہو، ہر ذرے سے صرف تیرے نام کی آواز آرہی ہو۔
إلٰهِيْ أَنْتَ مَقْصُوْدِيْ وَرِضَاكَ مَطْلُوْبِيْ
’’اے الله !تو ہی میرا مقصود ہے اور تیری رضا ہی میرا مطلوب ہے۔‘‘
پھر بابا جی نے ایک کرنل کا واقعہ سنایا جو رافضی تھا کہ سید صاحب نے کسی حکمت سے اسے قریب کیا اور دین کی طرف راغب کیا اور ذکر الٰہی کی فضیلت اور سید صاحب کے خاص اہتمام کا تذکرہ فرمایا۔
پس از سی سال این معنی محقق شد بہ خاقانی
کہ یک دم باخدا بودن بہ از ملکِ سلیمانی
’’تیس سال کی تحقیق کے بعد خاقانی پر یہ راز کھلا کہ کچھ ساعات کے لیے اللہ والا ہونا ملکِ سلیمانی کے تصرف سے بہتر ہے۔‘‘
لَهَا أَحَادِيثُ مِنْ ذِكْرَاكَ تَشْغَلُهَا
عَنِ الشَّرَابِ وَتُلْهِيهَا عَنِ الزَّادِ
اس کی باتوں کو یاد کرکے وہ کھانے پینے سے بھی بے نیاز ہوجاتا ہے اور اس کی ایک ایک اَداکو یاد رکھتاہے۔
بابا جی حقیقی محبت کی ترغیب مجاز کے پیرائے میں انتہائی استغراق کے ساتھ بیان کر رہےتھے اور عجیب چیز ہے لذت آشنائی کے مصداق میں لکھنے سے زیادہ سننے پر توجہ دے رہا تھا کہ اذان عصر کا نغمہ علویہ گونجا اور بابا جی جیسے کسی بڑے سفر سے لوٹ آئے اور فرمانے لگے میرے بھائی! اذان ہوجائے تو پھر ہر کام چھوڑ دیں اور وضو کرنے چل دیئے وہ سلسلۂ گفتگو ایسا ٹوٹا کہ پھر بحال نہ ہوسکا ۔ اپنے رب سے امید ہے کہ وہ اپنے خاص فضل سے جنت میں اپنے اولیاء سے محبت کے عوض ان سے ملاقات کروادےگا۔پلے تو کچھ نہیں مگر رحمت کی امید ہے
بابا جی علیہ الرحمہ کی ساری ترکیز خلوص نیت پر ہوتی۔ اللہ ہماری نیتوں کو خالص فرمائے۔ بابا جی اس ملک کو عطیۂ الٰہی سمجھتے تھے اور اس کی سلامتی کے لیے ہمیشہ دعا گو رہے۔
اب جب اگست 2022ء میں قوم پچھترواں یوم آزادی منارہی ہے تو بابا جی کی دعائیں اس ملک اور عالم اسلام کے لیے یاد آرہی ہیں۔نفاذِ شریعت اس ملک کی منزل ہے جس کے لیے بابا جی ہمیشہ کوشاں رہے۔ اس ملک سے ان کی محبت کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیں کہ جب اندراگاندھی کی موت کی خبر ملی تو وہ وضو کرنے جارہے تھے اور وہی سجدہ ریز ہوگئے۔اس ملک کا اصل مسئلہ مہنگائی اور معاشی بدحالی نہیں بلکہ شریعت سے دوری ہے۔ نفاذِ شریعت اس ملک کی منزل ہے اور اس کے بقاء کی ضامن ہے۔
