ننھے قارئین ! کیسے ہیں آپ سب؟
امید ہے کہ خیریت سے ہوں گے…اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے۔
پیارے بچو!جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہوگا کہ آج کل ہمارے ملک میں ایک بڑا سیلاب آیا ہوا ہے جسکی وجہ سے بہت سارے لوگوں کے گھر ڈوب گئے ہیں اور بہت سارے لوگ بھوکے ، پیاسے ہو گئے ہیں جو انتظار کر رہے ہیں کہ لوگ انکی مدد کریں تو وہ کچھ کھا ، پی سکیں اور کہیں جا کر رہ سکیں۔
(اللہ ہمیں زیادہ سے زیادہ انکی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے)
لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ سیلاب ، طوفان اور زلزلے وغیرہ کیوں آتے ہیں؟نہیں نا؟؟؟
ہمیں قرآن و حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سیلاب وغیرہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے آتے ہیں ، تاکہ ہم دوبارہ اللہ کی طرف لوٹ جائیں….اور اگر ہم اللہ کی طرف نہیں لوٹیں گے تو پتہ ہے کیا ہوگا؟؟؟
آئیے ہم آپکو ایک قوم کا قصہ سناتے ہیں جنکے گناہوں کی وجہ سے اس قوم میں سیلاب آیا اور پھر وہ قوم پوری کی پوری پانی میں غرق ہو کر تباہ ہو گئی!
ننھے ساتھیو ! بہت پہلے زمانے کی بات ہے جب لوگ صرف اللہ تعالی کی عبادت کیا کرتے تھے اور یہ دیکھ کر شیطان رجیم جلتا کڑتا اور پریشان رہتا تھا کہ یہ لوگ گناہ کہ کام کیوں نہیں کرتے؟
پھر آخر اس نے ایک دن ایسی ترکیب سوچی کہ لوگوں کو نہ صرف گناہ کی طرف لگایا بلکہ انکا یہ حال کر دیا کہ وہ «شرک» جیسے گناہ عظیم میں مبتلا ہو گئے۔
کیا آپ جانتے ہیں شیطان نے یہ کام کیسے کیا؟
شیطان ایک دن اس قوم کے لوگوں کے پاس کسی بزرگ شخص کی صورت بنا کر آیا اور ان سے پوچھنے لگا کہ «ود، سواع ، یغوث یعوق اور نثر» کیسے لوگ تھے؟
کیونکہ یہ اس قوم کے مشہور عبادت گزار بزرگ تھے اس لئے ان سب نے یہی کہا کہ: «یہ سب تو بہت اچھے لوگ تھے»
تو شیطان نے ان سے کہا: «کیا میں تمہیں ان سب کی تصویریں بنا کر نہ دے دوں؟ تاکہ تم جب بھی ان عبادت گزار بزرگوں دیکھو تو تمہیں بھی عبادت کا شوق آ جائے؟»
کیونکہ اس دور میں کیمرے تو ہوتے نہیں تھے اسلئے ان لوگوں کو تصویر کا نہیں پتہ تو وہ یہ سن کر حیران ہو گئے اور حیرت سے پوچھنے لگے: «کیا ایسا ممکن ہے؟»
شیطان نے کہا: «ہاں ہاں بالکل ممکن ہے»….اور کچھ ہی دنوں میں اس نے انکو ان بزرگوں کی تصویریں بنا کر دی دیں۔
لوگوں نے وہ ےصویریں بازار میں لگا دیں اور وہ لوگ جب بھی ان تصویریں دیکھتے انہیں اپنے بزرگ یاد آ جاتے اور وہ عبادت کی طرف راغب ہو جاتے….
لیکن شیطان کا مقصد عبادت کروانا تھوڑی تھا…عبادت سے تو اللہ تعالی خوش ہوتے ہیں اور شیطان یہ کیسے قبول کر سکتا تھا….اسی لئے کچھ عرصے بعد وہ آیا اور کہنے لگا: «تم لوگوں کو تصویریں دیکھنے بازار جانا پڑتا ہے…میں ایسا کرتا ہوں کہ تمہارے لئے مٹی کے مجسمے تیار کر دیتا ہوں تم لوگ وہ گھر میں رکھ لینا اور آتے جاتے انہیں دیکھ کر عبادات و اذکار میں مصروف رہنا»
لوگوں کو یہ بات بہت پسند آئی اور انہوں فورا ھامی بھر لی…اور کچھ ہی دنوں میں سب کے گھروں میں بزرگوں کے مجسمے اور مورتیاں نصب ہو گئیں….اب لوگ انہیں دیکھ کر عبادت کرنے لگے۔
لوگ تو بتوں کو دیکھ کر اللہ کی ہی عبادت کرتے تھے لیکن انکے چھوٹے بچے یہ سمجھے کہ عبادت اللہ تعالی کی نہیں بلکہ ان بزرگوں کی کرنی ہے اور یوں کچھ ہی عرصے میں وہ قوم اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر بزرگوں کے مجسموں اور بتوں کی عبادت کرنے لگےاور یہ دیکھ کر شیطان بہت خوش ہوا کیونکہ اس نے بڑی ہی چالاکی سے لوگوں کو گمراہ کر دیا تھا اور وہ پوری قوم شیطان کی چالاکی سمجھے بغیر گمراہی میں گر گئی…
ننھے ساتھیو!ہمیں بھی ہمیشہ شیطان کی چالاکیوں سے بچنا چاہئے ورنہ وہ تو ایسا چالاک ہے کہ عبادت کے نام پر بھی دھوکہ دے سکتا ہے اسی لئے ہمیں کوئی بھی نیک کام کرنے سے پہلے کسی عالم دین سے یہ ضرور پوچھ لینا چاہئے کہ اس عمل کا حکم قرآن و حدیث میں ہے نا؟
اگر قرآن و حدیث سے وہ عمل ملتا ہو تو ہمیں ضرور کرنا چاہئے اور اگر ایسا نہ ہو تو ایسے ہر عمل سے دور رہنا چاہیے کیونکہ وہ عمل شیطانی عمل ہو سکتا ہے جو ہمیں (اللہ نہ کرے) شرک تک لے جا سکتا ہے۔
قارئین!شرک اللہ تعالی کو بالکل بھی پسند نہیں ہے اسی لئے جب زمین میں شرک عام ہونے لگا تو اللہ رب العلمین نے اس وقت پہلے نبی سیدنا نوح علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔
انہوں نے لوگوں کو سمجھایا کہ یہ اللہ کے ساتھ شرک ہو جاتا ہے جس سے اللہ تعالی بے حد ناراض ہوتے ہیں اور پھر اللہ کا عذاب آ جاتا ہے لیکن ان لوگوں نے سیدنا نوح علیہ السلام کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور ساڑھے نو سو سال (950) سال تک دعوت دینے کے باوجود سوائے چند غریب لوگوں کے اور کوئی بھی سیدنا نوح علیہ السلام پر ایمان نہ لایا بلکہ امیر لوگوں نے اور سرداروں نے تو انکا مذاق بھی اڑایا اور انہیں پتھر وغیرہ بھی مارے کیونکہ انہیں سیدنا نوح علیہ السلام کی دعوت توحید بالکل بھی پسند نہیں آئی تھی۔
دن بدن قوم نوح کے مظالم بڑھتے گئے اور وہ بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے سیدنا نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم دیا۔
سیدنا نوح علیہ السلام اکیلے ہی کشتی بنانے کی تیاریوں مصروف ہو گئے وہ جنگلات سے لکڑی لاتے اور پھر اللہ کے حکم کی تعمیل میں کشتی بناتے.
جب انکی قوم نے انہیں دیکھا کہ وہ کشتی بنا رہے ہیں تو مذاق اڑاتے ہوئے کہنے لگے کہ: «یہاں تو کوئی سمندر ہی نہیں ہے ، تم یہ کشتی کہاں چلاؤ گے؟»
سیدنا نوح علیہ السلام انکی باتوں کا جواب نہ دیتے بلکہ اللہ کے ذکر مصروف رہتے اور کشتی تیار کرتے رہتے کیونکہ انہیں اللہ پر یقین تھا کہ وہ انہیں ضرور کامیاب کرے گا کیونکہ وہ اللہ ہی کا تو حکم مان رہے تھے۔
ننھے ساتھیو!اگر ہم کوئی نیک کام کر رہے ہوں اور کوئی ہمارا مذاق اڑائے تو ہمیں بجائے ناراض ہونے یا شرمندہ ہونے کے اللہ کے حکم کے مطابق کام کرتے رہنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالی اپنا حکم ماننے والوں کا ہمیشہ ساتھی ہوتے ہیں۔
ننھے قارئین!آخر ایک دن ایسا آیا کہ سیدنا نوح علیہ السلام ایک بہت بڑی کشتی تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے جس میں تین حصے بنائے گئے تھے۔
پھر اللہ تعالی نے سیدنا نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ ہر جانور اور ہر پرندے کا ایک ایک جوڑا اس کشتی میں سوار کر لیں اور ان لوگوں کو بھی ساتھ لے لیں جو اللہ کا حکم مانتے تھے اور سیدنا نوح علیہ السلام پر ایمان لائے تھے،پھر زمین سے بہت سارا پانی نکلا اور آسمان سے بھی تیز بارش ہوئی یہاں تک کہ سیلاب اور طوفان آ گیا اور جو لوگ سیدنا نوح علیہ السلام کا مذاق اڑاتے تھے وہ پانی میں غرق ہو گئے پھر اللہ کے حکم سے کشتی جودی پہاڑی کی چوٹی پر جا کر رکی اور دنیا صرف وہی لوگ باقی رہے جنہوں نے سیدنا نوح علیہ السلام کی بات مانی اور اللہ کے حکم سے کشتی میں سوار ہوئے اور جو لوگ گناہوں سے نہ رکے اور شرک کرتے ہے وہ سب ختم ہو گئے۔
دیکھا ننھے قارئین!جب وہ لوگ گناہوں سے باز نہیں آئے تو کیسے سیلاب ، طوفان اور اللہ کے عذاب نے انہیں ختم کر دیا….بالکل اسی طرح اگر ہم بھی اپنے گناہوں کو نہیں چھوڑیں گے تو ہم بھی اس عذاب سے ختم ہو جائیں گے۔اسی لئے ہمیں چاہئے کہ اس سیلاب سے عبرت حاصل کریں اللہ تعالی سے توبہ استغفار کریں۔
سوال
1۔کیا آپ بتا سکتے کہ سیدنا نوح کو «ابو البشر» کیوں کیا جاتا ہے؟
2۔سیدنا نوح کے کتنے بیٹے تھے اور ان میں سے کتنے بچے تھے؟
3۔ اگر سیدنا نوح پہلے نبی تھے تو سیدنا آدم ، سیدنا شیث اور سیدنا ادریس علیہم السلام کون تھے؟
4۔نبیوں کے بعد دعوت و تبلیغ کا کام کون لوگ کرتے ہیں؟
