6جون 2022ء کو جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن اور جامعہ ابی بکر کراچی کے سرپرست حضرت صوفی عبداللہ صاحب مرحوم کے دست راست صوفی عائش محمد بھی اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔سادگی اور بے نیازی کا پیکر تھے۔
مستجاب الدعوات شخصیت تھے۔ان سے ایک دفعہ میں نے بھی دعا کروائی جو رب کریم کے حضور مقبول ہوئی۔
ان سے چند ملاقاتیں رہیں۔
جس میں اسلاف کے حالات زندگی اور دعوتی تبلیغی جدوجہد کا احوال معلوم ہوا۔
انکی چاہنے والے جتنے تھے اگر اس دنیا میں انھیں کوئی کشش محسوس ہوتی تو انکا طرز زندگی بہت معیاری اور بلند ہوتا۔
لیکن انکی سادگی دیکھ کر معلوم ہوتا کہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق
كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ
کے مصداق ہمہ وقت وہ اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔
کچھ دنوں سے انکی صحت کی سنگینی کی خبریں معلوم ہورہی تھیں۔جو انکی وفات پر منتج ہوئیں۔
اللہ انکی مغفرت کرے۔صالحین کا ساتھ نصیب کرے۔
کل جیسے ہی خبر ملی تو دل میں کسک سے اٹھی اس ولی کے جنازہ میں شریک ہوا جائے۔ابھی ارادہ بن ہی رہا تھا کہ چوہدری منور کاہلوں کا فون آیا کہ آپ گئے تو مجھے ساتھ لے جائیں۔
پھر اسرار اور زین بھائی کو کال کی کہ ساتھ چلیں۔عصر سے کچھ پہلے تینوں بھائی میری دکان پر پہنچ گئے۔اور خبیب صاحب بھی گاڑی لیکر آگئے۔
سفر شروع کیا۔ڈسکہ انٹرچینج کیساتھ پٹرول پمپ پر نماز عصر پڑھی اور پٹرول بھروایا۔اور روانگی ہوئی۔
بھلا ہو میاں نوازشریف کا کہ پاکستانی قوم کے لئے موٹروے جیسی سہولت فراہم کرگئے ہیں۔اور جو سفر کم و بیش 6 گھنٹوں کا تھا۔
اب تین ساڑھے تین گھنٹوں میں ہم لوگ مامونکانجن پہنچ گئے۔وہیں جامعہ میں نماز مغرب ادا کی۔
لوگوں کا جم غفیر تھا۔ملک کے اطراف و کنار سے بلا تخصیص مسلک و مذہب و سیاست سب جمع تھے کہ اللہ کے ولی کی رخصتی تھی۔حضرت حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ نے انکا جنازہ پڑھایا۔آپکی وصیت کے مطابق ان کا جنازہ و تدفین مامون کانجن رکھی گئی۔
کافی جماعتی احباب سے ملاقات ہوئی۔کچھ اپنے کچھ پرائے بھی ملے۔کچھ وہ بھی ملے جو کبھی ساتھ ساتھ تھے
آج کل روٹھے ہیں۔اللہ انھیں جماعت میں واپس لائے۔وہیں سے واپسی کا قصد کرنے والے تھے۔کہ برادرم قاضی ریاض قدیر کی کال آئی کہ کہاں ہیں بتایا کہ ابھی مسجد کے گراونڈ میں ہی ہیں۔
چند لمحوں بعد ملاقات ہوگئی۔اپنے گھر لے گئے اور بہترین لذیذ کھانا کھلایا۔
اور آخر میں کڑک چائے جسے قاضی صاحب سیالکوٹی چائے کہتے ہیں۔پلاکر رخصت کیا۔
