1985 میں پہلی بار عالمی دانش گاہ جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی میں داخلے کے لیے جانا ہوا۔ ہمارے علاقے کی معزز شخصیت حاجی عبد المجید آرائیں صاحب گوٹھ جھٹہ والے سعودی عرب میں کام کیا کرتے تھے اور ان کی مکہ مکرمہ میں کئی دفعہ بانی و مدیر جامعہ پروفیسر محمد ظفراللہ صاحب سے ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ حاجی صاحب نے اپنے گوٹھ میں جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی کی برانچ کھولنے کی استدعا بھی کی تھی اور اس مقصد کے لیے اپنی زرعی زمین کا کچھ حصہ اس مقصد کے لیے وقف بھی کرنا چاہتے تھے۔ انہی کی کاوشوں سے علاقے کے تقریباً سات بچے جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے گئے تھے جن میں راقم الحروف اور ان کے دو بیٹے بھی شامل تھے۔ حاجی عبد المجید صاحب ہمیں اس نظریے سے لے کر گئے تھے کہ ہم قرآن مجید بھی حفظ کریں گے اور اسکول کی تعلیم بھی ساتھ حاصل کریں گے۔ جامعہ میں پہنچ کر معلوم ہوا کہ جامعہ کی تعلیمی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ حفظ کرنے والے بچے اسکول نہیں پڑھیں گے بلکہ وہ صرف حفظ قرآن مجید پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے۔ البتہ اس سال ایک نیا شعبہ المعھد المتوسطہ کے نام سے جاری کیا گیا تھا اس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کی سہولت مہیا کی گئی تھی۔ حاجی صاحب اپنی سوچ کے مطابق کہ جب حفظ اور اسکول ساتھ ساتھ نہیں تو ہمیں واپس لے آئے۔

اگلے سال 1986 میں دوبارہ برادر اکبر شیر سندھ مولانا محمد ابرہیم طارق صاحب ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث صوبہ سندھ کے ساتھ عیدالاضحی کی تعطیلات کے بعد جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی میں داخل ہوا اور تعلیمی سلسلہ شروع کیا۔

جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی چونکہ ہماری مادر علمی ہے اس کے ساتھ بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ اس مادر علمی سے جہاں علمی فائدہ اٹھایا وہاں اساتذہ کرام کی محبت بھی ملی اور ایک تعارف بھی حاصل ہوا اور بانی و مدیر جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی کا قرب بھی حاصل ہوا۔ آپ کے ساتھ سفر بھی کیے اور آپ کے دسترخوان سے اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے مواقع بھی میسر آئے۔

میرے لیے اعزاز کی بات

مولانا صوفی عائش محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس وقت جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی کے نائب مدیر تھے۔ شیخ محمد ظفر اللہ صاحب کی قربت کی وجہ سے ان کی وفات کے بعد مولانا عائش محمد صاحب مجھے کہا کرتے تھے کہ ’’آپ بھائی محمد ظفر اللہ صاحب کے خاص ساتھی ہیں ‘‘اور ان کی یہ بات میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھی۔ایک دن حضرت صوفی عائش محمد صاحب نے مجھے ساتھ لیا اور باتیں کرتے ہوئے حضرت غازی عبد الکریم صاحب رحمہ اللہ ( اس وقت غازی صاحب جماعت مجاہدین کے امیر تھے) کے پاس لے گئے اور کہنے لگے کہ یہ عبدالرحمن ثاقب ہمارے بھائی ظفراللہ صاحب کے ساتھی ہیں ان کی بیعت لیں۔ حضرت صوفی عائش محمد صاحب کو سلسلہ مبارکہ سیدین شہیدین سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا اور اس سلسلے کے ساتھ نہ صرف خود وابستہ تھے بلکہ ان کی تمنا اور کوشش ہوا کرتی تھی کہ سارے لوگ اس سلسلہ مبارکہ سے منسلک ہوجائیں۔

کتب اور مطالعہ سے دلچسپی

جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی میں، مین دروازے سے داخل ہوں تو سامنے دائیں ہاتھ پر پودوں کی قطار کے قریب بینچ ہوا کرتی تھی جہاں پر بارہا صوفی عائش محمد صاحب رحمہ اللہ کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ صحیح بخاری کا مطالعہ کرنے میں منہمک پایا۔ اسی طرح سے کتاب مسئلہ جہاد کشمیر از مولانا فضل الہی وزیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کو کئی دفعہ پڑھتے ہوئے دیکھا۔

1994 میں جامعہ الدراسات الاسلامیہ یونیورسٹی روڈ کراچی ہمارے مربی وشیخ پروفیسر محمد ظفراللہ رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد ہوا تھا۔ شیخ صاحب نے راقم الحروف کی دیگر امور کے ساتھ لائبریری کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی لگائی تھی۔ ایک دن صوفی عائش محمد صاحب میرے پاس لائبریری میں تشریف لائے تو مجھ سے سیدین شہیدین کے بارے کتب کا پوچھا تو میں نے بتایا کہ ان کے بارے یہاں کوئی کتاب موجود نہیں ہے۔ تو انہوں نے نہ صرف ان کتب کی فراہمی کی حامی بھر لی بلکہ چند روز میں ہی سیدین شہیدین کے متعلق کچھ اردو زبان میں کتب مجھ تک لائبریری کے لیے پہنچادیں۔

نفلی روزے

حضرت صوفی عائش محمد صاحب شوگر کے مریض ہونے کے باوجود کثرت سے نفلی روزے رکھا کرتے تھے پیر اور جمعرات اور ایام بیض کے روزے آپ کے معمولات میں شامل تھے۔

مکہ و مدینہ سے محبت

آپ کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی گلیوں سے بےحد پیار تھا۔ ہمیں جب عیدالاضحی کی تعطیلات ہوتیں تو صوفی صاحب کو جامعہ میں دیکھتے لیکن ہفتے عشرے بعد جب دوبارہ جامعہ میں پہنچتے تو پتہ چلتا کہ آپ تو حج بیت اللہ کےلئے سعودی عرب گئے ہوئے ہیں۔

نکاح کی برکات

1993 کی بات ہے ہم جامعہ الاحسان الاسلامیہ کراچی میں آخری کلاس میں زیر تعلیم تھے۔ جمعہ کا دن تھا صبح کے وقت مولانا عائش محمد صاحب تشریف لائے اور ہمیں جمع کرکے پوچھنے لگے کہ تم نے نکاح کر لیے ہیں؟ اس وقت ہماری کلاس میں سے صرف میرا ہی نکاح ہوا تھا جبکہ باقی ساتھیوں نے شادیاں بعد میں کیں۔ جب انہیں پتہ چلا کہ ان کے نکاح نہیں ہوئے تو اپنے مخصوص انداز میں فرمانے لگے :’’بیٹو!!!

نکاح کرو اس سے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے اور انسان اپنی عصمت کی حفاظت کرتا ہے اور شیطانی حملوں سے محفوظ ہوجاتا ہے‘‘۔ پھر نکاح کی برکات کا ایک واقعہ سنایا کہ وہ پنجاب کے ایک گاؤں میں گئے وہ لوگ آپ کے عقیدت مند تھے اور آپ کو گھر لے گئے۔ آپ نے دیکھا کہ وہاں پر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں موجود ہیں اور جو گھر میں گھوم رہے ہیں۔ تو ان سے پوچھا کہ ان کی شادیاں ہوچکی ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم نے آپس میں رشتے طے کیے ہوئے ہیں لیکن ان کی شادیاں نہیں ہوئیں۔ تو آپ نے تاخیر کا سبب دریافت کیا تو کہنے لگے کہ فصل آجائے تو کپڑے بنائیں گے اور ان کی شادیاں کردیں گے۔ حضرت صوفی صاحب فرمانے لگے کہ جس بچی کے پاس چادر نہیں ہے اس کو میری یہ چادر دے دیں۔ اس طرح سے انہوں نے اس گھرانے کو تیار کیا اور تقریباً ایک درجن کے قریب بچے اور بچیوں کے نکاح پڑھادیے۔ کچھ عرصہ بعد دوبارہ آپ کا وہاں جانا ہوا تو اس گھرانے کے افراد نے بتایا کہ ان نکاحوں کی برکات سے ہمارے اتنے افراد اسی سال حج بیت اللہ کےلئے گئے تھے۔

آخری ملاقات

13 مارچ 2022 کو جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی کی تقریب تکمیل بخاری شریف تھی جس میں شرکت کے لیے بندہ ناچیز جامعہ میں حاضر ہوا تھا۔ بعد از دوپہر جامعہ کے مہمان خانے میں آپ سے ملاقات ہوئی، آپ کے بڑے فرزند مولانا ابوبکر صاحب بھی ساتھ تھے۔ آپ سے جب ملاقات کےلیے راقم الحروف اپنے دو ساتھیوں مولانا محمد شفیق عاجز اور مولانا عبد الروف ظہیر کے ہمراہ ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو حضرت صوفی صاحب باوجود علالت کے اُٹھ کر بیٹھ گئے اور باتیں شروع کردیں۔ دوران گفتگو آپ کے غلبہ اسلام اور نفاذ شریعت کے لیے وہی جذبات جو کبھی بچپن میں آپ سے سنا کرتے تھے۔ دیار کفر میں پرچم اسلام لہرانے کا عزم صمیم اور چہار سو چھا جانے کا جذبہ آپ کی باتوں میں، خلافت راشدہ اور مسلمانوں کے عروج کے دور کی مثالیں پیش کیں۔ دوران گفتگو تحریک سیدین شہیدین کا ذکر خیر بھی ہوتا رہا۔

رات کو تقریب تکمیل بخاری کے اختتام پر آپ نے خصوصی دعا کروائی اس طرح سے یہ بابرکت محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔

بالآخر وہ وقت آن پہنچا جس سے کسی بھی ذی شعور انسان کو انکار نہیں ہے۔ مولانا عائش محمد صاحب جو کہ 1941 کو بڈھیمال فیروزپور میں پیدا ہوئے تھے 81 برس کی عمر پا کر 7 جون 2022 کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ اور ہم طلاب علم آپ کی دعاؤں سے محروم ہوگئے۔

اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ
اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَأَوْسِعْ مُدْخَلَهُ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ الْفِرْدَوسِ الْأَعْلَى

By editor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے