انسان اس کے علاوہ اورکچھ نہیں جو وہ خود کو بناتا ہے، وہ اسی حد تک زندہ رہتا ہے جس حد تک وہ خود کو بروئے کار لاتا ہے وہ اپنے عمل کے مجموعے کا دوسرا نام ہے۔شعور کے تقاضوں سے انحراف سے ناجائز عمل اور بد اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔انسان کی بنیادی حالت لاعملی ہے اور اسی وجہ سے اسے زندگی مہمل نظر آتی ہے۔انسان کا مقدر یہ ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں رہ رہا ہے جس کی اسے ابتدا معلوم ہے نہ انتہا۔اس دنیا میں اسے اہم فیصلے کرنے پڑتے ہیں اس لیے لا علمی ذمہ داری سے بری ہونے کا جواز نہیں بلکہ یہ تو انسانی زندگی کی ناگزیر حقیقت ہے۔
عمل کی پختگی ذمہ داری سے آتی ہے اور ذمہ داری کا احساس شعور سے ہوتا ہے، وہ شعور جو آزادی پیدا کرتا ہے۔انسان اپنے عمل کے ذریعے سے اپنی زندگی کی تعمیر کرتا ہے۔اور زندگی وہی ہے جو اس کے عمل سے پیدا ہوتی ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں!یہ شعوری ادراک انسان کی انفردی اور اجتماعی زندگی میں یکساں اثر انداز ہوتا ہے۔جب کہ فکری اور مادی آزادی تو انسان کا بنیادی حق ہے۔نہ اس حق کو کوئی کسی سے چھین سکتا ہے اور نہ اسے پابند سلاسل کر نے کا اختیار رکھتا ہے۔
مسلمان اور غلامی …یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں۔مسلمان کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ غلامی کی فضا میں اپنے دین کے تقاضے پورے کر سکے۔اسلام پر اسی وقت پوری طرح عمل ہوسکتا ہے جب انسان ان ساری بندشوں کو توڑ کر صرف اللہ کا مطیع بن جائے۔اسلام غلبہ اور حکمرانی کے لیے آیا ہے۔دوسروں کی چاکری اور باطل نظاموں کے تحت جزوی اطاعت کے لیے نہیں آیا۔ارشاد ربانی ہے:
هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَؒ۰۰۹
’’وہی ہے(ذاتِ باری تعالیٰ) جس نے بھیجا اپنا رسول ﷺ ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ تاکہ اس دین کو دنیا کے تما م ادیان پر غالب کردے ،خواہ یہ مشرکوںکو کتنا ہی ناگوار گزرے۔‘‘(الصف: 9)
اسلام نے مسلمانوں کا یہ مزاج بنایا ہے ، کہ طاغوت کی حکومت ، خواہ وہ کسی رنگ میں ہو،کھل کر اس کی مخالفت کی جائے ،اسے کبھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہ کیا جائے اور اللہ کی حاکمیت کو سیاسی حیثیت سے عملاً قائم کرنے اور اس کے قانون کو زندگی کے ہر شعبے میں جاری و ساری کرنے کی کوشش کی جائے ،مسلمانوں کی پوری تاریخ میں یہی کشمکش اور کوشش نظر آتی ہے۔
بیسویں صدی کی سیاسی تاریخ میں پاکستان کا قیام ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے ،صرف اس لیے نہیں کہ یہ ایک نیا ملک دنیا کے سیاسی نقشہ پر نمودار ہوا تھا۔بلکہ اس لیے کہ دنیا میں یہ ملک نظریاتی بنیادوں پر قائم ہوا تھا اور اس کا وجود مغرب کی قوم پرستانہ فکر کے لیے ایک چیلنج تھا۔اس ملک نے نظریاتی سیاست کا علم بلند کیا اور تنگ نظر قومیت کی ستم زدہ دنیا کے سامنے ایک نئی راہ پیش کی تھی۔تحریک پاکستان کی اصل بنیاد یہ تھی کہ ’’کیوں کہ مسلمان اپنے مذہب اور عقیدہ کی وجہ سے ایک قوم اور ایک ملت ہیں ۔اور چوں کہ مسلمان اپنی آئیڈیا لوجی، اپنی تہذیب، اپنی معاشرت اور اپنا نظامِ قانون رکھتے ہیں جسے وہ اجتماعی زندگی میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔اس لیے جن علاقوں میں ان کی اکثریت ہے ان پر مشتمل ایک ریاست قائم کی جائے تاکہ وہ اپنی جداگانہ قومیت کی بنیاد پر اپنی تہذیب اور اپنی آئیڈیا لوجی کو قائم رکھ سکیں ۔‘‘
یہ وہ اختلافی اعلان تھا جس نے ایک طرف مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی اور دوسری طرف دنیا کے تمام باطل تصورات کو چیلنج کیا۔مسلمانوں نے بہت بڑی قربانی دے کر سات سال کی انتھک جدوجہد کے بعد اپنی الگ ریاست قائم کی اور اس طرح سیاست میں ایک نئی طرح ڈالی۔
پاکستان محض کچھ خاص جغرافیائی حدود ہی کا نام نہیں…یہ ایک خاص آئیڈیا لوجی کا مظہر ہے۔اور جب تک وہ آئیڈیا لوجی قائم نہیں ہوجاتی تحریک پاکستان کا اصل مشن نامکمل ہے۔قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ نے حصولِ آازادی کے فوراً بعد یہ یاد دہانی کرائی تھی کہ قیامِ پاکستان خود مقصد نہیںبلکہ اصل مقصد کے لیے ایک ذریعہ تھا۔انہوں نے فرمایا:
’’ پاکستان کا قیام جس کے لیے ہم دس سال سے کوشاں تھے۔بفضلہ تعالیٰ اب ایک زندہ حقیقت ہے، لیکن خود اپنی آزاد مملکت کا قیام ہمارے اصل مقصد کا صرف ایک ذریعہ تھا، اصل مقصد نہ تھا۔ہمارا اصل منشا و مقصود یہ تھا کہ ایک ایسی مملکت قائم ہو جس میں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہیں، جس کو ہم اپنے مخصوص مزاج اور اپنی ثقافت کے مطابق ترقی دیں اور جس میں اسلامی عدل اجتماعی کے اصول آزادی کے ساتھ برتے جائیں ۔‘‘ ( خطاب اکتوبر ۱۹۴۷ ء)
پاکستان ایک خاص نظریہ ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے قائد اعظم رحمہ اللہ نے فرمایا:
« Pakistan not only means freedom and indepiendence but the muslim idiology which has to be preserved, which has come to us as precious gift and treasure and which, we hope others share with us.»
پاکستان کا مقصد صرف آزادی نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے ۔ہمیں اس نظریے کی حفاظت کرنی ہے یہ نظریہ ہمیں ایک تحفے اور خزانے کے طور پر ملا ہے، ہمیں امید ہے کہ دوسرے لوگ اس چیز کو ہمارے ساتھ باٹیں گے۔(سرحدکے مسلم اسٹوڈنٹ کے نام ایک پیغام، جون ۱۸ ، ۱۹۴۵ء)
برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے سامنے یہ مسئلہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں بہت نمایاں ہو کر ابھرا۔سلطنت مغلیہ کے ختم ہونے تک صورتِ حال یہ تھی کہ مجموعی طور پر ملک کا نظام اسلام کے مطابق تھا، لیکن ایک طرف مسلم معاشرہ میں ہماری ثقافت کی ر وایات مضبوطی سے جاگزیں تھیں اور دوسری طرف ساری خرابیوں کے باوجود ملک کا قانون شریعت ِ اسلامی پر مبنی تھا۔اس لیے مسلمانوں کی کوششوں کا محور مزید اصلاح و تبدیلی اور نظامِ اجتماعی کے بگاڑ کو دور کرنا تھا ۔برطانوی سامراج کی آمد نے مسلمانوں کے سیاسی اقتدار کو ختم کردیا اور نئے حکمرانوں کی تمام قوت اسی کام میں صرف ہوئی کہ مسلمانوںکی ملی زندگی میں نظریاتی نقطۂ نظر سے جو بگاڑ آچکا تھا اس کو بڑھائیں اور اسے اس کی انتہا تک پہنچا دیں، تاکہ مسلمان سیاسی،معاشی ، مذہبی، اخلاقی، ثقافتی، غرض ہر حیثیت سے غلام بن کر رہ جائیں۔اور ان کا جداگانہ وجود باقی نہ رہے۔
مسلمانوں نے اس نئی حیثیت کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔وہ زندہ رہناچاہتے تھے ،لیکن مسلمانوںکی حیثیت سے، محض ہندوستان میں بسنے والی ایک مخلوق کی حیثیت سے نہیں۔ انہوں نے آزادی کی کوشش کی۔سیّد احمد شہیدرحمہ اللہ نے جہاد کا اعلان کیا اور تحریکِ مجایدین نے آخری دم تک اعداء اسلام کا مقابلہ کیا ۔فرائضی تحریک نے مشرقی ہند میں جہاد کا علم بلند کیا ۔۱۸۵۷ ء کی جنگ آزادی مسلمانوں ہی کے خون سے سینچی گئی کیوں کہ آزادی کی اس جنگ میں صرف منفی پہلو ہی نہیں ہیں۔اس جنگِ آزادی نے بر صغیر کی ملت اسلامیہ کو غلامی کی نفسیات کا اسیر ہونے سے بچالیا اور برصغیر کے مسلمان اس جنگ کے 80سال بعد اس قابل ہوگئے کہ وہ برصغیر میں ایک آزاد وطن کے قیام کے لیے ایک عظیم الشان تحریک برپا کر سکیں۔۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کا جس بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا اسے جذب کرنا آسان نہ تھا،مگر بر صغیر کی ملت اسلامیہ نے اس جذب کوکر کے دکھادیا اور ثابت کیا کہ وہ انتہائی منفی تجربوں سے بلند ہو کر سوچ اورعمل کے حامل ہے۔ایسا نہ ہوتا تو تحریک پاکستان بھی پر امن نہیں ہوسکتی تھی۔اور اس طرح اپنی تمام خرابیوں اور کمزوریوں کے باوجود مسلمانوں نے اسلام کے مزاج کا بار بار اظہار کیا، کہ وہ غیر اللہ کی غلامی کو قبول نہیں کر سکتا، اور طاغوت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔
تحریک پاکستان میں جس چیز نے مسلمانوں کو ایک نیا ولولہ اور قربانی کا جذبہ اور جدوجہد کا داعیہ دیا تھاوہ ہندوستان کی محض نئی جغرافیائی حد بندی کا تصور نہ تھا بلکہ نظریۂ پاکستان تھا۔اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ گزشتہ چودہ سو سال میں اسلام اور صرف اسلام ہی وہ قوت رہا ہے جس نے مسلمانوں کو متحد رکھا ہے۔ان کی وفاداریوں کواستوار کیا ہے انہیں بڑے بڑے کارنامے انجام دینے پر اکسایاہے۔انہیں اعلیٰ تعلیم اور قربانیوں کی ترغیب دی ہے اور ان سے تاریخی کام لیے ہیں۔خلافت راشدہ کو انسانیت کے لیے بہترین معیار اور نمونہ بنانے والی چیز اسلام ہی ہے۔عبد اللہ بن زبیررضی اللہ عنہ اور نفس ذکیہ رحمہ اللہ کی تحریکات اپنے اسلامی منہاج ہی کی وجہ سے امت کی توقعات کا مرکز بنی تھیں۔بنو امیہ کا تختہ الٹنے والی عباسی تحریک اصلاً اسلامی احیا ہی کے نام پر برپا ہوئی تھی اور اسی نعرہ پر اس نے مسلمانوں کا تعاون حاصل کیا تھا۔ تجدید و احیا کی تمام لہریں صرف اسلام ہی کے سہارے ابھریں اور ان کی کامیابی ان کی دینی نوعیت کی رہین منت ہے۔
مرابطون اور موحدون کی تحریکات اسلامی اپنے مقاصد کی وجہ سے ہی امت کو نئی زندگی دینے کا باعث بنیں ، دولت عثمانیہ کو قائم کرنے والی تحریک بھی ابتداً اسلامی نشاۃ ثانیہ ہی کی تحریک تھی(اخی تحریک) امت کا تعاون شہنشاہ جلال الدین اکبر کو نہیں مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کو حاصل تھا۔دور حاضر میں قوم میں نئی زندگی پیدا کرنے والی تحریکات محمد بن عبد الوہاب محمد ابن علی السنوسی ، سید احمد شہید اور جمال الدین افغانی کی تحریکات تھیں۔حتیٰ کہ مسلمانوں کی آزادی کی تحریک بھی تحریک خلافت اور تحریک پاکستان کے سہارے ابھری۔مسلمانوں کے ہیرو ہمیشہ ابو حنیفہ رحمہ اللہ ، احمد بن حنبل رحمہ اللہ ،مالک بن انس رحمہ اللہ ، ابن تیمیہ رحمہ اللہ ، صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ ،مجدد الف ثانی اور سید احمد شہید وغیرہم ہی رہے۔کیوں کہ اسلام کے علاوہ کوئی اور نصب العین ان کی وفاداریوں کا مرکز نہ بن سکا۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اپنے اور پرائے سب اعتراف کرتے ہیں۔حتیٰ کہ کینیڈین مستشرق ولفریڈ اسمتھ(Wilfred Cantwell Smith) اپنی تصنیف ’’اسلام اور تاریخ جدید‘‘ (Islam and Modern History) میں لکھتا ہے کہ ’’صرف اسلام ہی ان لوگوں کا (یعنی مسلمانوں کا) اجتماعی ضابطہ، اصل محرک اور کارفرما قوت رہا ہے؛ اور یہ کہ مسلمانوں کے کسی گروہ نے بھی اپنے میں ایسے قومی اور وطنی جذبات پیدا نہیں کیے جس کی وفاداری اور تعلق کا مرکز اسلام سے ہٹ کر کوئی اور شے یا مسلم ملت کے دائرے سے باہر کوئی اور چیز ہو۔‘‘
بلا شبہ یہ مسلمانوں کی قابل فخر قومی ا ور ملی خصوصیت ہے، نظریۂ پاکستان نے مسلمانوں کو اسی سے اپیل کیا تھا کہ یہ ان کی روح کی آواز ،ان کے ایمان کی پکار اور ان کے ملی تمناؤں کا آئینہ دار تھا۔اور پاکستان کے مستقبل کی تعمیر میں بھی مسلمانوں کا حقیقی تعاون اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب وہ یہ دیکھیں کہ یہ اسلامی نظریہ کے لیے وقف ہے۔کوئی اور محرک ایسا نہیں ہوسکتا جو ملت کو اس عظیم کارنامہ کی انجام دہی کے لیے تیار کرسکے، یہ صلاحیت اسلام اور صرف اسلام میں ہے۔
اسلامی نظریہ کے قیام کی ضرورت محض اس لیے ہی نہیں ہے کہ مسلمانوں میں اس کے بغیر جذبۂ عمل و قربانی پیدا نہیںکیا جاسکتا بلکہ اس لیے بھی ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کی ایک خاص انداز میں تربیت کی ہے۔اس نے لوگوں کے ذہنوں سے دین و دنیا اور مذہب و سیاست کی تفریق کے باطل نظریات کو کھرچ کھرچ کر نکال دیا ہے۔اور ان کو یہ تعلیم دی ہے کہ دین کو زندگی کے ہر شعبہ پر غالب کریں۔اس پس منظر میں جب وہ دیکھتے ہیں کہ ایک معاملہ میں دین کا تقاضا کچھ اور ہے اور مروجہ نظام کا انداز کار کچھ اور ، تو وہ اس تناقص کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ایک عیسائی کے لیے غالباً یہ ممکن ہے کہ وہ اس تناقص کو نظر انداز کر سکے۔ایک ہندو کے لیے شاید آسان ہو کہ وہ اس سے صرفِ نظر کرے۔ان کے مذاہب نے اجتماعی زندگی میں دین کو قائم کرنے کی کسی روایت کو نافذ نہیں کیا ہے ۔لیکن اسلام کی روایت ان مذاہب سے مختلف ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس تناقص کو برداشت نہیں کرسکتا۔اس لیے کہ اس سے مخاطب ہو کر خود قرآن کہتا ہے:
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ ، الظّٰلِمُوْنَ الْفٰسِقُوْنَ
’’اور جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے،وہی کافر، ظالم اور فاسق ہیں (المائدہ ۴۴،۴۵،۴۷)
مسلمانوں کی تاریخ میں جتنی اجتماعی بے اطمینانی پیدا ہوئی ہے اور انقلابی تحریکات اٹھی ہیں ان سب کا جذبۂ محرکہ اسی تناقص کو دور کرنا تھا۔اگر اس نظریہ کو ترک کیا گیا ،اس کو نظر انداز کیا گیا تو اس سے ایک طرف ملت میں اضطراب اور بے چینی پید ا ہوئی اور دوسری طرف مروجہ نظام سے مایوسی۔ اور دونوں چیزیں ایک قوم کے لیے بہت مہلک ہیں۔اسی لیے اپنی قومی صحت اور ملکی زندگی کے سکون کو قائم رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم جلد از جلد اسلامی نظریہ کو قائم کریں تاکہ قوم کی تمام قوتیں تعمیر نو کے لیے استعمال ہوں اور کوئی اندرونی کشمکش رونما نہ ہو۔
پاکستان محض ایک جغرافیائی وجود کا نام نہیں ۔یہ اسلامی نظریۂ حیات کا مظہر و مسکن ہے۔اس ملک کے قیام کا حقیقی محرک اسلامی نظریہ ہی تھا۔اور آج اس کے وجود کا محافظ اور اس کے استحکام و ترقی کا ضامن بھی یہی نظریہ ہے۔اسی سے ملک کی معنویت عبارت ہے اوریہی اس کامقصد و منتہا ہے ،لیکن سوال یہ ہے کہ اسلامی نظریۂ حیات ہے کیا؟
نظریہ(Ideology) کا لفظ انگریزی زبان میں غالباً اٹھارویں صدی کے آخر سے مستعمل رہا ہے۔شروع میں یہ لفظ علم التصورات (Science of Ideas) کے معنی میں استعمال ہوتا تھا اور خصوصیت سے اس سے مراد فلسفہ اور نفسیات کا وہ شعبہ تھا جو تصورات ، ان کی حقیقت و ماہیت اور ان کے آغاز و مآخذ کا مطالعہ کرے۔اس معنی میں اس اصطلاح کو ڈبلیوٹیلر(Dublew Tallor)نے اپنے اس مقالے میں استعمال کیا تھا جواس نے ۱۹۹۶ء میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فرانس میں پیش کیا تھا۔بعد میں اسے ایک ضابطۂ عمل اور اجتماعی پروگرام کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جو اپنی فلسفیانہ بنیادیں بھی رکھتا ہو اور سیاست و معاشرت کے لیے بھی ایک لائحہ عمل پیش کرتا ہو۔لغت فلسفہ میں ڈاکٹر جارج تو اس کی یہ تعریف کرتے ہیں:
’’عام نظریات کا کوئی ضابطہ یا کوئی ایسا پروگرام جس کی اساس فکر و فلسفہ پر ہو‘‘۔
اسی طرح مشہور ماہر لسانیات ویبسٹر(Webster) اس کی یہ تعریف کرتا ہے:
’’کسی تہذیبی ، سیاسی یا معاشرتی تحریک کے عام منصوبہ یا لائحہ عمل کا علمی بیان۔‘‘
ان تعریفات پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آئیڈیا لوجی(نظریہ)سے کسی بھی تحریک یا نظام ،تمدن کا تہذیبی ،سیاسی اور معاشرتی پروگرام و لائحہ عمل مراد ہے اور جب ہم ’’اسلامی آئیڈیالوجی‘‘ یا اسلامی نظریۂ حیات کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو اس سے وہ سیاسی اور تمدنی لائحہ عمل مراد ہوتا ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے۔آئیڈیالوجی یا نظریہ کی اصل خصوصیت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے خاص نظام فکر کی روشنی میں زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق رہنمائی کرتا ہے۔
اسلامی آئیڈیا لوجی( اسلامی نظریۂ حیات) کے متعلق سب سے اہم بنیادی بات یہ ہے کہ یہ الہامی ہدایت پر مبنی ہے۔اسے کسی انسان کے ذہن نے تخلیق نہیں کیا ۔یہ اسی خالق کی طرف سے ہے جس نے زمین و آسماں کو اور خود انسان کو پیدا کیا ہے۔یہ کائنات محض ایک اتفاقی حادثہ کا نتیجہ نہیں ہے اس کا ایک خالق و مالک ہے جو وحدہ لا شریک ہے۔اس خالق نے اپنی ز مین پر انسان کو اپناخلیفہ اور نائب بنا کر بھیجا ہے تاکہ یہ دیکھے کی انسان ا پنے فرائض منصبی کو کس خوبی سے انجام دیتا ہے۔ربّ العالمین نے ہر قسم کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا سامان بھی کر دیا ہے۔انسان کی مادی اور جسمانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اس سینہ کائنات میں بے شمار وسائل ودیعت کردیے ہیں۔اور اس انسان کو اس کی طاقت دی ہے کہ وہ اپنی محنت اور جستجو کے ذریعہ ان سے اپنی ضرورتوں کو پورا کرے اور انسان کی اخلاقی و روحانی اور تمدنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ربّ السمٰوات و الارض نے اپنے پیغمبر بھیجے۔جنہوں نے انسانوں کو الہامی ہدایت پہنچائی اور اس کے مطابق عملاً نظامِ زندگی کو قائم کیا۔نبیوں کی لائی ہوئی یہی ہدایت اسلام ہے۔تخلیق و رہنمائی کے لیے اس نظام کو قرآن ان الفاظ میں بیان کرتاہے:
قَالَ رَبُّنَا الَّذِيْۤ اَعْطٰى كُلَّ
شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى ۰۰۵۰
(حضرت موسیٰ نے کہا) ’’ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کواس کی شکل وصورت بخشی اور پھر راہ دکھائی۔‘‘(سورہ طہٰ ۵۰)
اور یہ بھی فرمایا:
اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۰۰۵۴
’’دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی (اسی کا ہے)اور اللہ ربّ العالمین بڑی برکت والاہے۔‘‘ (سورۃ الاعراف ۵۴)
اللہ نے انسان کی رہنمائی کے لیے پورا دین نازل کیا اور اسی دین کے تمدنی پروگرام کا نام اسلامی آئیڈیالوجی ہے۔اس کی یہ خصوصیت اسے باقی نظریات سے مختلف کردیتی ہے کہ اس نظام میں کسی کے لیے بھی خود اپنی طرف سے کسی بات کے بڑھانے کا امکان نہیں ہے۔انسان کا کام یہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی ہدایت پر عمل پیرا ہو، نہ کہ اس کے نام پر اپنی من مانی باتیں پیش کرے۔سیدناابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بارِ خلافت اٹھاتے وقت اس بات کا اظہار فرمایا تھا:
’’ اے لوگو! میں تمہارا امیر بنایا گیا ہوں،حالانکہ میں تم میںسب سے بہتر نہیں ہوں …اگر میں اللہ اور اس کے رسولﷺکی اطاعت کروں تو میری اطاعت کرنا،لیکن اگر میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کروںتو کوئی اطاعت تم پر نہیں۔‘‘
اسلامی آئیڈیا لوجی(اسلامی نظریۂ حیات) انسان کے شعور و آزادی کے اعتراف پر مبنی ہے اور وہ اس کے سامنے یہ بات رکھتا ہے کہ انسانوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ حیوانوں کی طرح بے سوچے سمجھے زندگی گزاریں۔انسان کے سامنے دوہی راستے ہیں ۔اللہ کی اطاعت کا راستہ اور اللہ سے انکار کا راستہ…ایمان کا راستہ اورکفر کا راستہ۔انسان کو اس میں سے کسی ایک کو پورے غور و فکر اور شعوری حالت میں قبول کرلینا چاہئے۔اگر وہ ایمان کا راستہ اختیار کرتا ہے تو وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب و کامران ہوگا اور اگر کفر کا راستہ قبول کرتا ہے تو ناکام ونامراد ! ارشاد الٰہی ہے:
اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَۚ۰۰۱۳اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۱۴
جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگا ر اللہ ہے پھر وہ اس پر قائم رہے،ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے،یہی اہل جنت ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے(یہ) اس کا بدلہ(ہے) جو وہ کیا کرتے تھے ۔‘‘(سورۃ الاحقاف ۱۳۔۱۴)
اسلام نہ ترک دنیا کی تعلیم دیتا ہے اور نہ غلو فی الدنیا کی۔وہ دین و دنیا کی تفریق کو ایک شیطانی نظریہ قرار دیتا ہے، خواہ یہ دنیا کے نام پر پیش کیا جائے اور خواہ مذہب کے نام پر ۔ اسلام میں سیکولر ازم کے لیے کوئی گنجائش ہے اور نہ رہبانیت کے لیے۔
مغربی فلسفہ فکر کی ایک اساسی کمزوری یہ ہے کہ وہ روح اور مادہ کی تقسیم اور ان کے باہم تضاد پر قائم ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ مذہب زندگی سے کٹ کر انفرادی عبادت میں محصور ہوگیا ہے۔اس طرز فکر سے ان کے اجتماعی اخلاق پر سب سے گہری ضرب پڑی ہے۔او ر ان کا پورا اجتماعی ماحول اخلاقی گراوٹ کا مرکز بن کر رہ گیا ہے۔علامہ اقبال نے اپنے خطباتِ الہ آباد میں صوفی اور نبی کے فرق کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
’’ایک نبی محض عرفانِ ذات کے لیے نہیں بلکہ تعمیر حیات کے لیے آتا ہے،وہ حق تعالیٰ کا عرفان حاصل کرنے کے بعد مطمئن نہیں ہوجاتا بلکہ نورِ نبوت کے ذریعہ سے زندگی کی تاریکیوں کو چھانٹتا ہے، اللہ کی معراج کے بعد دنیا کی طرف لوٹتا ہے اور تاریخ کو بدلنے کی جدو جہد میں مصروف ہوجاتا ہے ،جب کہ ایک صوفی معراجِ الٰہی کو ہی اپنی آخری منزل سمجھ کر اپنی ہی ذات میں کھو جاتا ہے۔اسلامی آئیڈیا لوجی زندگی کی نفی نہیں کرتی نہ اس دنیا سے کنارہ کشی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے ،بلکہ اس کی صحیح بنیادوں پر تشکیل کرتی ہے اور حیاتِ دنیوی کے کسی بھی شعبہ کو بھی دین کی رہنمائی سے آزاد نہیں ہونے دیتی۔قرآن انسان سے مطالبہ کرتا ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۰۰۲۰۸
’’مومنو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤاور شیطان کے پیچھے نہ چلووہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘(البقرہ ۲۰۸)
اسلامی نظریہ سیاست و دین میں کسی دوئی کا قائل نہیں۔وہ سیاست کے سدھار اور ریاست کے اسلامی بنیادوں پر قیام کو خود دین ہی کا بنیادی تقاضا سمجھتا ہے۔نظامِ امارت کے قیام کو اولین اہمیت دیتا ہے۔رسول کریمﷺ کا ارشاد ہے :
تین آدمی ہوں تو ایک کو امیر بنالیں۔اور اس کے بغیر زندگی گزارنا جائز نہیں۔‘‘ (ابی داؤد)
مملکت پاکستان اسی ا سلامی نظریۂ حیات کے تحت قائم کی گئی ہے۔قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ نے دسمبر ۱۹۳۸ء میں مسلم لیگ پٹنہ کے اجلاس میں علماء کرام کے سامنے خطاب کرتے ہوئے کہا:
’’دنیا کے کسی بھی مذہب میں سیاست مذہب سے الگ ہو نہ ہو،لیکن میں یہ بات اچھی طرح سمجھ چکا ہوں کہ اسلام میں سیاست مذہب سے الگ نہیں،بلکہ مذہب کا ہی حصہ ہے۔اسلام چند عقائد و عبادات کا نام نہیں بلکہ سیاسی امور،معاشرت اور اخلاقیات کا مجموعہ ہے، ہمیں ان سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔‘‘
اور سچائی بھی یہی ہے کہ دین اور سیاست کا الگ ہونے کا تصور اسلام میں سرے سے ہے ہی نہیں۔اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اس نے انسان کی فطری وحدت کو قائم اور مربوط رکھنے کے لیے دین اور سیاست کو ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ کر کے د ین اور دنیا کی دوئی کا تصور ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔بقول اقبال:
جلالِ بادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سے سیاست تو رہ جاتی ہے چنگیزی
لیکن ان تمام حقائق کے باوجود المیہ یہ ہے پاکستا ن کو مغربی استعمار سے آزاد ہوئے تقریباً ۷۵ برس ہوچکے ہیں مگر یہ وطن آج بھی اپنی اصل شناخت کی تلاش میں ہے۔پون صدی قبل آزادی کے حصول کے لیے دی ہوئی جان ومال اور عزتوں کی قربانیاں رائیگاں جاتی نظر آتی ہیں۔مفاد پرست،غدارِوطن اور فکر و عمل کی گمراہیوں میں ڈوبے لوگ آج اس نظریے سے ہی انکاری ہیں ،جس کے تحت اس خطہ ارض کا حصول ممکن ہوا تھا۔آج آزادی کی راہ میں شہیدوں کی قربانیوں پر پانی پھیر کر ،حصول پاکستان کی جاں گسل تحریک ِآزادی کو ہمارے اسلاف کی غلطی اور پچھتاوے کا رنگ دیا جارہا ہے۔اس سے بڑی نمک حرامی اور احسان فراموشی اور کیا ہوگی؟
۱۹۴۷ء کے خونی کھیل میں دس لاکھ مسلمان قتل و غارت گری کی نذر کر دیے گئے۔اور یہ خونی کھیل ابھی تک جاری ہے، مشکل ہی سے کوئی دن ایسا گزرتا ہوگا جب مسلمانوں کا قتل عام نہ ہوتا ہو۔اور اب تو نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ متعصب ہندو بنیا مسلمانوں کے گھروں مسمار بھی کر رہا ہے اور ان کو نذر آتش بھی کر رہاہے،مسلمان جو بھارت کی سب سے بڑی اقلیت ہیںاس کا وجود اس متعصب ہندو کی آنکھ کا کانٹا بنا ہوا ہے۔اس کی پوری کوشش ہے کہ مسلمانوں کی نسلوں کو ہی مٹا دیاجائے۔اور پورے ملک پر صرف ہندوؤں کا ہی راج ہو۔
لیکن ہمارے بے حس اور ضمیر فروش حکمراں اپنے دل میں ہندو کے لیے محبت کے جذبات رکھتے ہیں ،محض اپنے مفاد اور مالی فوائد کی بنا پر۔
فکر و عمل کا یہ بحران ہی اصل بحران ہے، اسی بحران کے شجرِ خبیثہ سے ہی وہ تمام شاخیں پھوٹی ہیں جن پر لگے کڑوے کسیلے پھل کھانے پر قوم مجبور ہے۔
پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا ،اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی۔لیکن بانی پاکستان کی رحلت کے بعد ہماری سول اور عسکری قیادت بشمول ہمارے ملک کے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے اسلام کو عملاً نافذ کرنے پر کوئی توجہ ہی نہیں دی۔اقتدار کے بھوکے لوگوں نے اسلام کو ووٹوں کے حصول کے وقت محض نعروں کی حد تک محدود رکھا، کیوں کہ اسلام کے عملی نفاذ میںانہیں اپنی چودھراہٹیں خطرے میں نظر آتی تھیں۔اسلام کا نظام عدل و قسط ان کی عیاشیوں پر پانی پھیر دیتا ۔ان کی ریاست کے اندر ان کی خود ساختہ ریاست کی جڑ کٹ جاتی۔
وطن عزیز میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیںجو پاکستان کے مستقبل کے بارے میں وقتاً فوقتاً شکوک و شبہات میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں ۔ان میں بہت کم عوام اور بہت زیادہ خواص کی تعدادہوتی ہے۔خواص میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کی ایک جیب میں پاکستانی پاسپورٹ اور دوسری جیب میں امریکن گرین کارڈ یا اقامت نامے موجود رہتے ہیں ۔ان کے مال و متاع کا بیشتر حصہ بھی بیرونی بینکوں کی تجوریاں گرماتا ہے۔اور پاکستان میں وہ صرف ایسے کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے پر قناعت کرتے ہیں جن پر زکوٰۃ کٹنے کا خطرہ نہ ہو ۔اس کے علاوہ انکم ٹیکس،ویلتھ ٹیکس اور زکوٰۃ سے بچ بچاکر اور غالباً منشیات کے کاروبار سے ہاتھ رنگ کر بھی کالے دھن کے انبار ایسی مہارت سے جمع کرتے ہیں کہ انجام کار حکومت ہی ان کے سامنے گھٹنے ٹیک کر دھوبی گھاٹ کھول دیتی ہے۔جہاں پر سرکاری افسر عجیب و غریب قوانین کا صابن مَل مَل کر کالی پونجی کو سفید کرنے میں ہمہ تن مصروف ہوجاتے ہیں یہ دیانت اور امانت کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہے۔
اپنی شناخت کا مسئلہ قوموں کی زندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور اس سے ترجیحات کا تعین ہوتا ہے۔ترجیحات طے ہوجاتی ہیںتو اہداف کا تصور واضح ہوتا ہے اور یہی تصور انسان کی ہر جدوجہد کی صحیح سمت مقرر کردیتا ہے۔اور جب سمت کا تعین ہوجائے تو اس کی عملی جدوجہد کے لیے قوت و استحکام انسان کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ۷۵ برسوں میں بھی اپنی منزل کا تعین نہیں کر پائے ہیں۔بحرانوں کے تسلسل کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔بحران خواہ اقتصادی ہوں،سیاسی ہوں، اخلاقی اور سماجی ہوں ان سب کا منبع و محور اپنی شناخت کا فقدان ہے۔جب ہمیں یہ علم ہی نہیں کہ ہم کون ہیں ،کس لیے ہمیں دنیا میں بھیجا گیاہے،ہمارا اصل تعارف کیا ہے؟ اور یہ ملک ہم نے کیوں حاصل کیا ہے؟ تو ہم کیوںکر زندگی کے تمام معاملات کو کسی سانچے میں ڈھال کر کوئی مثبت لائحہ عمل ترتیب دے سکیں گے۔
اللہ نے ہم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ ہمیں ایک علیحدہ سر زمین عطا کرے گا ،ہم وہاں اس کا نظام نافذ و قائم کرنے کی جدوجہد کریں گے اور اپنی شناخت کو کبھی ذہنوں سے مٹنے نہیں دیں گے۔ اللہ نے تو پاکستان کی شکل میں ایک الگ خطہ زمین عطا کر دیا تھا، مگر ہم نے ہی اللہ سے بغاوت اور سرکشی کی ، اس سرزمین پر اس کا دیا ہوا نظام عدل و قسط نافذ کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتے پون صدی گزر گئی مگر ہم آج بھی وہیں کھڑے مفاد پرستی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔اگر ہم نے اب بھی اپنی آنکھیں نہ کھولیں ، اپنی حیثیت کو نہ پہچانا، غیروں کی
کاسہ لیسی پر ہی زندگی کے مزے لوٹتے رہے تو ہمیں برباد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔وطن عزیز کا ایک بازو اپنی حماقتوں ، لالچ اور ہٹ دھرمی کی بنا پر کٹوا چکے ہیں۔اور اب بچا کچھا ملک بھی داؤپر لگا ہواہے۔جن سے ہم نے ۷۵ برس پہلے آزادی حاصل کی تھی آج ہم پھر انہیں کے غلام بن چکے ہیں، اُس وقت تو وہ ہمارے اوپر زبردستی مسلط ہوئے تھے اور آج ہم نے اپنی نالائقیوںاور عاقبت نا اندیشیوں سے خود ان کو اپنے اوپر مسلط کر لیا ہے۔پورا ملک ان کے قرض کے بوجھ تلے دبا سسکیاں لے رہا ہے۔کاش بحیثیت قوم ہمیں اپنی اس بھیانک غلطی کا شعور حاصل ہوجائے۔اور ہم ا پنے کھوئے ہوئے وقار اور اپنی عزت و توقیر کو واپس لانے کی کوئی فکر کریں۔اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیں، ورنہ مُردے تو مٹی کا ڈھیر ہی ہوتے ہیں۔ہمیں حب الوطنی کا جذبہ نہیں بلکہ جنون درکارہے۔جذبہ تو محض ایک حنوط شدہ لاش کی مانند دل کے تابوت میں منجمد رہ سکتا ہے۔جنون جوشِ جہاد اور شوق شہادت سے خون گرماتا ہے،اسی میں پاکستان کی سلامتی اور مستقبل کا راز پوشیدہ ہے۔
عطا اسلاف کا جذبۂ درُوں کر
شریک زمرۂ لا یحزنوں کر
خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں!
مرے مولا مجھے صاحب جنوں کر
مآخذ و مصادر
۱۔ شہاب نامہ … قدرت اللہ شہاب
۲۔تحریکِ آزادیٔ ہند اور مسلمان … (مقدمہ) پروفیسر خورشید احمد
۳۔تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ… علامہ اقبال
۴۔نظریہ ٔ پاکستان اور اسلامی آئیڈیالوجی… پروفیسر خورشید احمد
۵۔جنگ آزادی ۱۸۵۷ء اور تلخ حقائق… شاہنواز فاروقی
