Categories: مئی/جون 2023

جنبی کے سونے کا بیان

بَاب نَوْمِ الْجُنُبِ

جنبی کے سونے کا بیان

37-287- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا الليْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ قَالَ نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْقُدْ وَهُوَ جُنُبٌ .

قتیبہ بن سعید، لیث، نافع، سیدنا (عبد اللہ)ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، وضو کر کے بحالت جنابت سو سکتا ہے۔

Narrated: Umar bin Al-Khattab: I asked Allah›s Apostle  «Can any one of us sleep while he is Junub?»  He replied,  «Yes, if he performs ablution, he can sleep while he is Junub

وروي بسند آخر حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِاللهِ قَالَ اسْتَفْتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ قَالَ نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ (رقمه : 289 )
وروي بسند آخر حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ الليْلِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ (رقمه : 290 )

معانی الکلمات:

أَيَرْقُدُکیا وہ لیٹ سکتاہے، سو سکتاہے
أَحَدُنَاہم میں سے ایک
جُنُبٌجنبی، ناپاکی
فَلْيَرْقُدْاسے چاہیے کہ وہ لیٹ جائے/ سوجائے

تراجم الرواۃ:

1۔قتیبۃ بن سعید کا تعارف حدیث نمبر 10 میں ملاحظہ فرمائیں

2۔اللیث بن سعد کا تعارف حدیث نمبر 18 میں ملاحظہ فرمائیں

3۔نافع مولی ابن عمرکا تعارف حدیث نمبر 18 میں ملاحظہ فرمائیں

4۔سیدنا عبد اللہ بن عمر wکا تعارف حدیث نمبر 18 میں ملاحظہ فرمائیں

تشريح :

 سنن نسائی میں اس حدیث کا سبب کچھ اس طرح بیان ہوا ہے۔ سیدنا عبد اللہ ابن عمررضی اللہ عنہماکو جنابت (ناپاکی)لاحق ہوئی تو وہ اپنے والد محترم سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے سونے کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے یہی سوال رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’وضو کر لے اور سو جائے ۔‘‘ اس بنا پر یہ واقعہ سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہ سے متعلق ہو گا اور جواب میں صیغہ خطاب اس لیے استعمال فرمایا کہ سیدنا عبد اللہ ابن عمررضی اللہ عنہ مجلس سوال میں موجود تھے اور مسئلہ بھی ان سے متعلق تھا تو رسول اللہ ﷺ نے براہ راست ان سے خطاب فرمایا کہ وضو کر لو، شرم گاہ دھو لو، پھر سو جاؤ، جیسا کہ حدیث نمبر(290) میں اس کی وضاحت ہے۔ (فتح الباري:510/1)

وضو کرنے سے جنابت (ناپاکی)ختم تو نہیں ہوتی مگر ایک قسم کی پاکی حاصل ہو ہی جاتی ہے۔ خصوصاً جنبی کے اعضائے وضو تو پاک ہو ہی جاتے ہیں، لہٰذا جنبی کے لیے آئندہ نماز تک غسل میں رعایت ہے، البتہ وضو کرلے اور یہ افضل ہے جس طرح کہ دیگر احادیث میں آتا ہے۔ اگر شرم گاہ وغیرہ دھو کر بلاوضو بھی سو جائے تو کوئی حرج نہیں اور یہ بھی جائز ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺسو جایا کرتے تھے جبکہ آپ جنبی ہوتے اور پانی کو چھوتے تک نہیں تھے۔ یہ حدیث صحیح ہے، شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ نے انتہائی محققانہ دقیق علمی اسلوب میں تفصیلاً اس حدیث کی حجیت کا اثبات کیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (شرح الترمذي از أحمد شاکر: ۲۰۲/۱)

نیز آخر میں انھوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ انسان بااختیار ہے۔ وضو کر کے سونا افضل اور بلاوضو آپ ﷺکا سو جانا بیان جواز کی خاطر تھا۔ مذکورہ حدیث کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی صحیح قرار دیا ہے اور یہی بات حق ہے۔ واللہ أعلم۔

اس موقف کی مزید تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں سیدناعمر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺسے دریافت فرماتے ہیں: کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں (بلاوضو) سو سکتا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: ’’سو سکتا ہے، اگر چاہے تو وضو کرلے۔‘‘ گویا وضو کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے۔ دیکھیے: (صحیح ابن خزیمة، حدیث: ۲۲۱، و موارد الظمآن، حدیث: ۲۳۲)

ہرانسان کی خواہش ہوتی ہے کہ مجھے موت اچھی حالت میں آئے اسی طرح انسان کا جذبہ ہونا چاہیے کہ نیند بھی اچھی حالت میں (باوضو) آئے، وضو کرنا ضروری نہیں، افضل ہے اگرچہ بعض ظاہری حضرات اسے واجب قراردیتے ہیں۔

ڈاکٹر مقبول احمد مکی

Share
Published by
ڈاکٹر مقبول احمد مکی

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago