قتیبہ بن سعید، لیث، نافع، سیدنا (عبد اللہ)ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، وضو کر کے بحالت جنابت سو سکتا ہے۔
Narrated: Umar bin Al-Khattab: I asked Allah›s Apostle «Can any one of us sleep while he is Junub?» He replied, «Yes, if he performs ablution, he can sleep while he is Junub
| أَيَرْقُدُ | کیا وہ لیٹ سکتاہے، سو سکتاہے |
| أَحَدُنَا | ہم میں سے ایک |
| جُنُبٌ | جنبی، ناپاکی |
| فَلْيَرْقُدْ | اسے چاہیے کہ وہ لیٹ جائے/ سوجائے |
1۔قتیبۃ بن سعید کا تعارف حدیث نمبر 10 میں ملاحظہ فرمائیں
2۔اللیث بن سعد کا تعارف حدیث نمبر 18 میں ملاحظہ فرمائیں
3۔نافع مولی ابن عمرکا تعارف حدیث نمبر 18 میں ملاحظہ فرمائیں
4۔سیدنا عبد اللہ بن عمر wکا تعارف حدیث نمبر 18 میں ملاحظہ فرمائیں
سنن نسائی میں اس حدیث کا سبب کچھ اس طرح بیان ہوا ہے۔ سیدنا عبد اللہ ابن عمررضی اللہ عنہماکو جنابت (ناپاکی)لاحق ہوئی تو وہ اپنے والد محترم سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے سونے کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے یہی سوال رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’وضو کر لے اور سو جائے ۔‘‘ اس بنا پر یہ واقعہ سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہ سے متعلق ہو گا اور جواب میں صیغہ خطاب اس لیے استعمال فرمایا کہ سیدنا عبد اللہ ابن عمررضی اللہ عنہ مجلس سوال میں موجود تھے اور مسئلہ بھی ان سے متعلق تھا تو رسول اللہ ﷺ نے براہ راست ان سے خطاب فرمایا کہ وضو کر لو، شرم گاہ دھو لو، پھر سو جاؤ، جیسا کہ حدیث نمبر(290) میں اس کی وضاحت ہے۔ (فتح الباري:510/1)
وضو کرنے سے جنابت (ناپاکی)ختم تو نہیں ہوتی مگر ایک قسم کی پاکی حاصل ہو ہی جاتی ہے۔ خصوصاً جنبی کے اعضائے وضو تو پاک ہو ہی جاتے ہیں، لہٰذا جنبی کے لیے آئندہ نماز تک غسل میں رعایت ہے، البتہ وضو کرلے اور یہ افضل ہے جس طرح کہ دیگر احادیث میں آتا ہے۔ اگر شرم گاہ وغیرہ دھو کر بلاوضو بھی سو جائے تو کوئی حرج نہیں اور یہ بھی جائز ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺسو جایا کرتے تھے جبکہ آپ جنبی ہوتے اور پانی کو چھوتے تک نہیں تھے۔ یہ حدیث صحیح ہے، شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ نے انتہائی محققانہ دقیق علمی اسلوب میں تفصیلاً اس حدیث کی حجیت کا اثبات کیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (شرح الترمذي از أحمد شاکر: ۲۰۲/۱)
نیز آخر میں انھوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ انسان بااختیار ہے۔ وضو کر کے سونا افضل اور بلاوضو آپ ﷺکا سو جانا بیان جواز کی خاطر تھا۔ مذکورہ حدیث کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی صحیح قرار دیا ہے اور یہی بات حق ہے۔ واللہ أعلم۔
اس موقف کی مزید تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں سیدناعمر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺسے دریافت فرماتے ہیں: کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں (بلاوضو) سو سکتا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: ’’سو سکتا ہے، اگر چاہے تو وضو کرلے۔‘‘ گویا وضو کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے۔ دیکھیے: (صحیح ابن خزیمة، حدیث: ۲۲۱، و موارد الظمآن، حدیث: ۲۳۲)
ہرانسان کی خواہش ہوتی ہے کہ مجھے موت اچھی حالت میں آئے اسی طرح انسان کا جذبہ ہونا چاہیے کہ نیند بھی اچھی حالت میں (باوضو) آئے، وضو کرنا ضروری نہیں، افضل ہے اگرچہ بعض ظاہری حضرات اسے واجب قراردیتے ہیں۔
ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…
رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…
قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…
جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…
زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…
میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…