پاکستان کا قیام اور اس کی غرض و غایت یہ تھی کہ ہم ہندوؤں کے تسلط سے آزادی پا کر مدینہ منورہ کی طرز پر ایک آزاد اسلامی ریاست قائم کریں گے، جس میں قرآن و سنت سپریم آئین ہوگا۔ رسول اکرمﷺ کی تعلیمات کے مطابق ریاست کے نظام مملکت کو تشکیل دیں گے، لیکن بدقسمتی سے شریعتِ اسلامیہ اور بالخصوص رسول اﷲﷺکی ناموس و عقیدۂ ختم نبوت کے منکر ہر دور کی حکومت میں پروان چڑھتے رہے۔ قادیانیت وہ ناسور ہے، جس نے اپنے وجود سے تاحال اسلام اور پاکستان کے خلاف کئی ہتھکنڈے تیار کیے۔ بیرون ممالک زہر اُگلا، ان کی زہر اگلتی کتب و لٹریچر اور ٹی وی چینل کے ذریعے اسلام اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائیوں کا سلسلہ منحوس جاری ہے۔

خدمتِ خلق اور حقوقِ انسانی کے نام پر قادیانی این جی اوز بلوچستان اور سندھ کے پسماندہ علاقوں میں بے شمار لوگوں کو مرتد بنا چکی ہے۔ آج اس دورِ جدید میں بھی مسلمانوں کی اکثریت مسئلۂ ختمِ نبوت کی حقیقت اور مرزائیت کے عزائم و افکار سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہے۔ قادیانی ہتھکنڈوں کو آشکار کرنے کے لیے علماء سمیت حکمرانوں کو اپنی ذمے داریوںکا فوری احساس کرنا چاہیے۔

علمائے اسلام تو اﷲ کے فضل سے پہلے ہی اس ’’کفریہ گروہ‘‘ کا ہر سطح پر تعاقب کر رہے ہیں۔ مسلم امہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ مسلم حکمرانوں نے اپنی ذمہ داریاں کبھی پوری نہیں کیں۔ ختمِ نبوت کے تحفظ کا حلف اٹھانے والے قومی و ملی راہنما اور حکمران طبقہ عند اﷲ مجرم ہوں گے کہ ملک میں مرتد قادیانی زندیق اپنا مشن بلاخوف وخطر پھیلا رہے ہیں اور درپردہ ان کے سہولت کار حکمران طبقہ ہے یا چھپی ہوئی بیورو کریسی۔

قادیانیت کے کفر کو ننگا کرنا حکمران اور علمائے کرام دونوں کی برابر ذمہ داری ہے۔ منبرِ رسولﷺ کے وارثوں کو چاہیے کہ مسلمانوں کو قادیانیوں کے مکروہ عزائم اور گمراہ عقائد سے آگاہ کریں، فی زمانہ یہ علماء اور مشائخ کی بنیادی اور نمایاں ذمہ داری بنتی ہے۔ حکمران عالمی سطح پر آستین کے ان سانپوں کی ملک و ملت کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو طشت ازبام کریں۔

قانونِ پاکستان کے مطابق قادیانی، مرزائی اور لاہوری گروپ شعارِ اسلام کا استعمال قطعاً نہیں کر سکتے۔ لیکن یہ گروہ اپنے اندرونی سہولت کاروں اور بیرونی آقاؤں کی سرپرستی میں ایک آزاد ریاست کے قانون کو پاؤں تلے روندتے ہوئے شعارِ اسلام کا کھلم کھلا استعمال کر کے نوجوان نسل اور سادہ لوح لوگوں کو اپنے جال میں پھانستے ہیں۔

دنیا بھر کے مسلمان علماء، ماہر اسلامی قانون سب کا اتفاق ہے کہ قادیانی فرقہ خارج از اسلام ہے، بلکہ یہ اسلام کے غدار اور باغی ہیں، انھیں وجود میں ہی اس لیے لایا گیا ہے کہ ان کے ذریعے سے اسلام اور اسلامی مفادات کو کمزور کیا جائے۔

پروفیسر عبدالغفور مرحوم (سابق رکن قومی اسمبلی پاکستان) اپنے ایک مضمون میں ۱۹۷۴ء کی قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو کافر قرار دیے جانے کے موقع پر ان کے آشکار ہونے والے باطل عقائد کا حوالہ دیتے ہوئے رقم طراز ہیں:

’’دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے پہلے بہت سے ممبران کو قادیانیت کے سلسلے میں بہت کم معلومات تھیں۔ اس کا بھی اندازہ ہوا کہ کچھ ممبران قادیانی پروپیگنڈوں سے متاثر ہیں، لیکن جو مواد خود قادیانیوں نے پیش کیے ہیں، اس نے ان کی آنکھیں کھول دیں، پارلیمنٹ نے آخری یہ نتیجہ اخذ کیا کہ قادیانیوں اور لاہوریوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، جیسا کہ مرزا ناصر احمد نے بتایا کہ جو مسلمان مرزا غلام احمد پر ایمان نہیں لاتے، وہ ان کے عقیدے کے مطابق کافر ہیں۔ مسٹر صدر الدین نے یہ کہا کہ مرزا نے جہاد کو باطل قرار دیا ہے۔ ایسے ہی مرزا ناصر احمد نے بتلایا کہ اسرائیل میں ان کا ایک مرکز ہے اور جب میں غیر ممالک کا سفر کرتا ہوں تو اسرائیل سفراء مجھ سے انٹرویو لینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ قادیانی راہنماؤں کے بیانات سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ وہ اپنے علاوہ تمام مسلمانانِ عالم کو غیر مسلم سمجھتے ہیں۔‘‘

رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام ۶؍ اپریل ۱۹۷۴ء کو مکہ مکرمہ میں اسلامی تنظیموں کی ایک عالمی کانفرنس منعقد ہوئی تھی، جس میں دنیا کے کونہ کونہ سے اسلامی تنظیموں کے ۱۴۴ وفود نے شرکت کی، انھوں نے متفقہ یہ قرار داد پاس کی: ’’قادیانیت ایک تخریب پسند فرقہ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کی تباہی چاہتا ہے۔‘‘

ان تاریخی حوالوں سے آپ کو قادیانی مذہب کا تعارف ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ ملک میں سرگرم قادیانیوں کی مذہبی تبلیغ پر پابندی لگائی جائے۔ ملکی اداروں کو انھیں ہر آن واچ لسٹ میں رکھنا چاہیے، تاکہ سازشی عناصر اسلام اور ریاستِ پاکستان کے خلاف جاری اپنے کسی منفی مقاصد میں کامیاب نہ ہو جائیں۔

آئین اور قانون انھیں شعارِ اسلام استعمال کرنے سے سختی سے منع کرتا ہے، لیکن یہ ڈھیٹ فرقہ کب کسی کی مانتا ہے، ان شعار کا بے دریغ استعمال جاری ہے۔ سطورِ ذیل میں اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو:

6قادیانیوں کے خلاف خود کو مسلمان ظاہر کرنے کا مقدمہ درج:

کراچی (رپورٹ: سید علی حسن) تھانہ سٹی کورٹ پولیس کی جانب سے قادیانیوں کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں شعائرِ اسلام استعمال کرنے کے خلاف مقدمہ اندراج سے انکار پر وکلاء سراپا احتجاج بن گئے۔ پولیس کی ٹال مٹول پر وکلاء نے تھانے کا گھیراؤ کر کے ایک گھنٹے کا الٹی میٹم دیا۔ اعلیٰ پولیس افسران سے مذاکرات کے بعد تھانہ سٹی کورٹ میں 6 قادیانیوں کے خلاف دستاویزات میں شعائر اسلام اور خود کو مسلمان ظاہر کرنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں تھانہ جمشید کوارٹرزمیں قادیانیوں کے خلاف شعائر اسلام استعمال کرنے سے متعلق مقدمہ کی سماعت ہوئی۔ سماعت پر ملزمان، ظہیر، ناصر، یاسر، شہزاد، ظفر اور نعم اﷲ اپنے وکیل کے ساتھ پیش ہوئے۔

ملزمان کے وکیل کی جانب سے زیر دفعہ 249 سی آر پی سی کی درخواست جمع کرائی گئی۔ دورانِ سماعت درخواست کی کاپی مدعی مقدمہ کو فراہم کی گئی۔ عدالت نے ملزمان کے وکیل کی درخواست پر سرکاری وکیل کو نوٹس جاری کر دیے۔ عدالت نے مذکورہ مقدمہ کی سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

آئندہ سماعت پر ملزمان کو مقدمہ کی نقول فراہم کی جائیں گی اور ملزمان کی درخواست پر دلائل سنے جائیں گے، بعد ازاں ملزمان کی درخواست مدعی مقدمہ اور ان کے وکلاء نے پڑھی تو اس میں قادیانی ملزمان کی جانب سے شعائر اسلام کا استعمال کیا گیا تھا اور خود کو احمدی مسلم لکھ رکھا تھا، جس پر وکلا منظور احمد راجپوت ایڈووکیٹ، خالد نواز مروت، غلام اکبر جتوئی، اعجاز سومرو اور مدعی مقدمہ ملزمان کے خلاف ایک اور مقدمہ اندراج کرانے کے لیے تھانہ سٹی کورٹ پہنچے۔

معلوم ہوا کہ وکلاء اور دیگر افراد کی جانب سے ایس ایچ او تھانہ سٹی کورٹ کو مقدمہ اندراج کی درخواست دی گئی تو انھوں نے فوری طور پر انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایس پی سے اجازت کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا اور دو گھنٹے کا وقت مانگا گیا، جس پر وکلاء سراپا احتجاج بن گئے۔ وکلاء کی جانب سے پہلے تھانے کے اندر احتجاج کیا گیا اور پھر پولیس کو دوپہر ایک بجے تک کا الٹی میٹم دینے کے بعد تھانہ سٹی کورٹ کے باہر احتجاج کیا گیا۔

اس دوران سٹی کورٹ میں موجود وکلاء کی بڑی تعداد احتجاج میں شامل ہوگئی۔ وکلاء کی جانب سے فوری طور پر مقدمہ اندراج کا مطالبہ کیا گیا۔ وکلاء کے احتجاج پر ڈی ایس پی وہاں پہنچے اور بات چیت کے بعد مدعی احمد عبدالخالق کی مدعیت میں قادیانیوں کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 172/2022 درج کر لیا گیا۔ مقدمہ کے متن کے مطابق مدعی نے شکایت درج کراتے ہوئے بیان دیا کہ شعائر اسلام استعمال کرنے پر قادیانیوں کے خلاف تھانہ جمشید کوارٹر میں درج مقدمہ الزام نمبر 527/2022 کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں ہوئی۔ ملزمان ظہیر، ناصر، یاسر، شہزاد، ظفراور نعم اﷲ اپنے وکیل کے ساتھ پیش ہوئے، جو خود قادیانی ہے۔ انھوں نے زیر دفعہ 249 سی آر پی سی کے تحت درخواست جمع کرائی جو میں نے موصول کرنے کے بعد دیکھا کہ ’’بسم اﷲ الرحمن الرحیم‘‘ اور ’’ھو الناصر‘‘ لکھا ہوا ہے۔ جب کہ دوسرے کاغذ پر بھی شعائر اسلام لکھے ہوئے تھے۔ آئین پاکستان کی دفعہ آرٹیکل (3) 260 تعزیرات پاکستان کی دفعہ B/298اور C/298 کے تحت قادیانی شعائر اسلام استعمال نہیں کر سکتے۔ علی احمد طارق نے اپنے نام کے ساتھ سید کا لفظ استعمال کیا ہے۔

میرا دعویٰ ملزمان کے خلاف شعائر اسلام اور اپنے نام کے ساتھ سید کا لفظ استعمال کرنے پر مقدمہ کا اندراج کیا جائے۔ اس سے متعلق مدعی مقدمہ کے وکیل خالد نواز مروت ایڈووکیٹ نے امت کو بتایا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں شعائر اسلام استعمال کرنے پر درج مقدمہ کی سماعت پر قادیانیوں کی جانب سے جو دستاویزات جمع کرائی گئیں، اس میں انھوں نے اسلامی کلمات استعمال کیے۔ جیسے: بسم اﷲ، سلام، صلوٰۃ وغیرہم، تاہم آئین و قوانین کے مطابق قادیانی اسلامی کلمات استعمال نہیں کر سکتے۔ جب کہ انھوں نے دستاویزات میں خود کو ’’احمدی مسلم‘‘ لکھ رکھا ہے۔

قادیانی خود کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتے۔ اس سے متعلق سپریم کورٹ کا بھی حکم ہے کہ غیر مسلم خود کو غیرمسلم ڈکلیئر کریں گے۔ قادیانیوں کے مذکورہ عمل پر ہم تھانہ سٹی کورٹ گئے اور ایس ایچ او کو مقدمہ اندراج کی درخواست دی۔ اس کے علاوہ ایس ایچ او کو تمام دستاویزی ثبوت بھی فراہم کیے، مگر ایس ایچ او نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ایس پی سے اجازت کے بعد مقدمہ درج کریں گے۔ جس پر ہم نے کہا کہ مقدمہ درج کرنے کا اختیار ایس ایچ او کا ہوتا ہے، مگر پھر بھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا، جس پر ہم وکلاء اور دیگر لوگوں نے تھانہ میں احتجاج کیا اور دوپہر ایک بجے تک کا الٹی میٹم دیا۔ ہمارے احتجاج پر علاقے کے ڈی ایس پی تھانہ میں آئے اور انھوں نے ایس پی سے بات کی اور اجازت لی۔ جس کے بعد تھانہ سٹی کورٹ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایس ایچ او تھانہ سٹی کورٹ اختر سموں نے امت کو بتایا کہ قادیانیوں کے خلاف تھانہ جمشید کوارٹر میں درج مقدمہ میں ملزمان نے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نمبر 17 میں درخواستیں جمع کرائیں اور درخواستوں میں شعائر اسلام استعمال کر رکھے تھے جس پر مدعی اور ان کے وکیل نے مقدمہ اندراج کی درخواست دی کہ قادیانی کافر ہیں، وہ شعائر اسلام استعمال نہیں کر سکتے جس پر میں نے درخواست وصول کی اور ایس پی سے اجازت لے کر مقدمہ اندراج کا کہا، کیوںکہ معاملہ حساس تھا اور اس پر اعلیٰ حکام کو آگاہ کرنا ضروری سمجھا، مگر وہ لوگ بضد تھے کہ فوری مقدمہ درج ہو، بعد میں ایس پی کی اجازت سے مقدمہ کا اندراج کر لیا ہے۔ قادیانیوں کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 172/2022 درج کیا گیا ہے اورمزید کارروائی کی جا رہی ہے۔ (روزنامہ ’’امت‘‘ کراچی، ۲۲؍ نومبر ۲۰۲۲ء)

چند فتاوے:

قادیانیوں کے لیے شعائر اسلام کے استعمال کی شرعی حیثیت پر امت مسلمہ کے مفتیانِ کرام کا ایک اہم فتاویٰ سطورِ ذیل میں پڑھیے:

سوال یہ ہے کہ مندرجہ ذیل کلمات شعائر اسلام میں آتے ہیں یا نہیں اور لقب ’’سید‘‘ اور مندرجہ ذیل کلمات کیا قادیانی استعمال کر سکتے ہیں؟

1. بسم اﷲ الرحمن الرحیم، 2. نحمدہ ونصلی علیٰ رسوله الکریم، 3. ھو الناصر۔ (سائل: محمد سلیم، کراچی)

سوال کے جواب سے قبل دو امور معلوم ہونے چاهئیں:

۱۔’’شعائرِ اسلام‘‘ ان علامات، اصطلاحات اور اعلانات کو کہا جاتا ہے جو اسلام اور اہلِ اسلام کی شناخت اور پہچان شمار ہوتے ہیں، جیسے: ارکانِ اسلام، اذان، نبوت، صحابیت، مسجد، مینار اور درود و سلام وغیرہ۔

۲۔اسلامی ممالک میں مسلم اور غیر مسلم کمیونٹیز کے درمیان امتیاز قائم رکھنے کے لیے غیر مسلموں کو مسلمانوں والی شخصی، سماجی اور مذہبی شناختیں اختیار کرنا، قانون، انتظام اور شریعت کی رُو سے جائز نہیں ہے۔

بنا بریں واضح رہے کہ: ’’بسم اﷲ الرحمن الرحیم‘‘، ’’نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم‘‘ اور ’’ھو الناصر‘‘ یہ کلمات خالصتاً اسلامی کلمات بلکہ اسلام کی پہچان کے طور پر مستعمل ہیں، اس لیے ان اصطلاحات اور کلمات کا اسلامی ملک کے غیر مسلم شہریوں کے لیے استعمال کرنا شریعت اور قانون کی رُو سے قطعی ممنوع ہے۔

نیز ہمارے ہاں ’’سید‘‘ اور ’’سادات‘‘ کا لفظ نبی اکرمﷺ کے ان خاندانی اور خونی رشتہ داروں (بالخصوص اولادِ فاطمہy) کے لیے استعمال ہوتا ہے جو خاتم النبیین ﷺ کے دین کو دین، بلکہ آخری دین کے طور پر دل و جان سے مانتے ہوں، آپﷺ کی وجہ سے آپ کے خاندان کا یہ اعزاز ہے، یہ اعزاز دینی بھی ہے اور نسبی بھی ہے، دین سے عاری یا نبی کے نسب سے تعلق نہ رکھنے والوں کے لیے ’’سید‘‘ کا لفظ استعمال کرنا ناجائز ہے۔

نیز ’’ھو الناصر‘‘ کا لفظ قادیانی گروہ کی طرف سے براعت استہلال (پسِ منظر میں مخفی رکھے گئے مقصد موہم کی ترجمانی) کے طور پر استعمال کرنے کا ابہام پایا جاتا ہے، جب کہ ’’الناصر‘‘ اﷲ تعالیٰ کی صفت ہے اور کسی صحیح بات کو غلط مقصد کے لیے استعمال کرنا بھی حرام ہوتا ہے، چنانچہ امر واقعہ یہ ہے کہ برصغیر میں نبوت کے ایک جھوٹے دعوے دار مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار اس کے مختلف دعوؤں کی وجہ سے اسے نبی مانتے ہیں اور اسے مسلمانوں کے آخری پیغمبر محمد مصطفیe کے درجہ میں باور کرانے کے لیے اسلامی شناختوں کو استعمال کرتے ہیں، جب کہ قادیانی گروہ (لاہوری و مرزائی) کا کافر ہونا شریعتِ اسلامیہ اور آئینِ پاکستان میں واضح ہو چکا ہے، اس لیے قادیانیوں کا مذکورہ شرعی کلمات و اصطلاحات یا اس قسم کی دیگر اسلامی شناختوں کو استعمال کرنا اسلامی شریعت اور ملکی قانون کی رو سے جرم ہے، ایسے لوگ عام کفار کے مقابلے میں زیادہ سخت تادیب، سرزنش اور قرار واقعی سزا کے مستحق ہیں۔

مزید یہ کہ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکار خواہ ان کا تعلق قادیانی جماعت سے ہو یا لاہوری جماعت سے، غیر مسلم اور کافر ہیں۔ ان کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے یہ لوگ کسی صورت میں بھی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ کیوںکہ قادیانی دفعہ ۲۹۸ سی تعزیراتِ پاکستان کی روشنی میں بالواسطہ یا بلاواسطہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کے حق دار نہیں ہیں۔ خود مرزا قادیانی کی تعلیمات کے مطابق صرف اس کے پیروکار (قادیانی اور لاہوری جماعت) مسلمان ہیں اور دوسرے تمام مسلمان جو مرزا قادیانی کو نبی تسلیم نہیں کرتے کافر اور غیر مسلم ہیں، جیسا کہ قادیانی کتاب ’’تذکرہ‘‘ میں ہے: ’’خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘ (ص: ۵۱۹، طبع چہارم)

۲۔مزید یہ کہ ایک قادیانی کے نزدیک مرزا قادیانی اسی مقام و منصب پر فائز ہے جو مسلمانوں کے نزدیک محمد رسول اﷲﷺ کا ہے، جیسا کہ مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے: ’’ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیوںکہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریمﷺسے کوئی الگ چیز نہیں ہے، جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: ’’صار وجودی وجودہ‘‘ (میرا وجود اسی کا وجود ہوگیا)۔ نیز ’’من فرق بیني وبین المصطفی فما عرفنی وما رأی‘‘ (جس نے میرے اور محمد مصطفیﷺ کے درمیان فرق کیا، اس نے نہ مجھے پہچانا اور نہ دیکھا)۔ اور یہ اس لیے ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا، جیسا کہ آیت {آخَرِیْنَ مِنْهُمْْ} سے ظاہر ہے، پس مسیح موعود خود محمد رسول اﷲ ہے جو اشاعتِ اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں، ہاں! اگر محمد رسول اﷲﷺ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔ فتدبروا! (کلمۃ الفصل، ص: ۱۵۸، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)

اور اسی طرح سے نبی اکرم ﷺ کے مبارک و مقدس نام اور مقام کی تحقیر کر کے زیرِ دفعہ ۲۹۵ سی (پی پی سی) کے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں اور اپنا تعلق محمد عربیﷺ اور اہلِ اسلام سے قطع کرتے ہیں۔

۳۔قادیانی یا مرزا قادیانی کے دوسرے پیروکار زیرِ دفعہ ۲۹۸ بی تعزیرات پاکستان کے تحت کچھ مخصوص کلمات مثلاً: ’’امیر المومنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی یا اہلِ بیت‘‘ وغیرہ کا استعمال نہیں کر سکتے۔ تاہم یہ مذکورہ ممنوعہ کلمات قادیانیوں کو اس بات کا لائسنس نہیں دے دیتے کہ وہ اس قسم کے دیگر مشابہ کلمات یا شعائرِ اسلام استعمال کرتے پھریں، جیسا کہ ’’بسم اﷲ الرحمن الرحیم‘‘، قرآن کریم کی ایک آیت ہے۔ ’’نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم‘‘، یہ آپﷺ پر درود شریف ہے۔ ’’سید‘‘ جناب رسول اﷲﷺ کی اولاد کے لیے عموماً بولا جاتا ہے، جس کا تعلق سید خاندان سے ہو۔

اگر کوئی قادیانی واقعتا سید ہو تو بھی وہ مرزا قادیانی کو نبی ماننے کی وجہ سے مرتد اور غیر مسلم ہوگا اور اس کا تعلق آنحضرتﷺ کے خاندان سے منقطع ہو جائے گا، جیسا کہ حضرت نوحu کے اس بیٹے کے بارے میں جو حضرت نوحu پر ایمان نہیں لایا تھا، اﷲ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اسے حضرت نوح علیہ السلام کے اہل سے خارج کر دیا اور فرمایا:

يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ(ھود: ۴۶)

’’اے نوح! وہ نہیں تیرے گھر والوں میں، اس کے کام ہیں خراب۔‘‘

اسی طرح ’’ھو الناصر‘‘ وغیرہ عام طور پر مسلمان استعمال کرتے ہیں۔ قادیانیوں کے یہ شعائرِ اسلام استعمال کرنے سے یہ (قادیانی) اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہے ہوں گے جو شریعتِ اسلامی اور پاکستانی قانون کے مطابق ممنوع ہے اور شریعت اسلامی و قانون کی خلاف ورزی کرنا جرم ہے۔

۴۔مسلمانوں کے نزدیک قرآنِ مجید کی درج ذیل آیت:

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ١ؕ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (الأحزاب: ۵۶)

’’بیشک اﷲ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں نبی (ﷺ) پر، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔‘‘

 کے مطابق درود و سلام صرف نبی مکرم محمد ﷺ کے لیے مختص ہے۔

۵۔مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ درود و سلام کا مستحق ہے۔ بقول مرزا: اﷲ تعالیٰ اس پر درود بھیجتا ہے۔ مرزا قادیانی کے الہامات اور وحیوں پر مشتمل کتاب ’’تذکرہ‘‘ کے صفحہ ۷۷۷ طبع سوم پر ایک وحی درج ہے: «صلی اﷲ عليك وعلیٰ محمد»

’’اﷲ نے تجھ پر درود بھیجا اور محمد پر۔‘‘

مرزا قادیانی نے اپنی کتاب اربعین نمبر ۲ میں یہ دعویٰ کیا ہے:

’’بعض بے خبر یہ اعتراض بھی میرے پر کرتے ہیں کہ اس شخص کی جماعت اس پر فقرہ ’’علیہ الصلاۃ والسلام‘‘ کا اطلاق کرتے ہیں اور ایسا کرنا حرام ہے۔ اس کا جواز یہ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور دوسرے کو صلاۃ یا سلام کہنا تو ایک طرف خود آپ ﷺنے فرمایا کہ جو شخص اس کو پاوے میرا سلام اس کو کہے اور احادیث اور تمام شرح احادیث میں مسیح موعود کی نسبت صدہا جگہ صلاۃ و سلام کا لفظ لکھا ہوا موجود ہے۔ پھر جب کہ میری نسبت نبی نے یہ لفظ کہا، صحابہ کرام نے کہا، بلکہ خدا نے کہا تو میری جماعت کا میری نسبت یہ فقرہ بولنا کیوں حرام ہوگیا۔‘‘(اربعین نمبر ۲، صفحہ نمبر ۳، مندرجہ روحانی خزائن، ج: ۱۷، ص: ۳۴۹، مرزا قادیانی)

(نعوذ باﷲ) مطلب یہ ہے کہ قادیانی مرزا قادیانی کے لیے درود و سلام پڑھتے ہیںاور ساتھ ہی مرزا قادیانی کو نبی اکرمﷺ کے برابر یا آپ سے افضل گردانتے ہیں۔ قادیانیوں کی اس قبیح حرکت اور فعل سے واضح طور پر محمد مصطفیﷺ کے مقدس اور مبارک نام و مقام کی تحقیر اور بے حرمتی ثابت ہوتی ہے۔

چنانچہ قادیانیوں کا اپنی تحریر میں ’’نحمدہ ونصلی علیٰ رسوله الکریم‘‘ جو درود و سلام پر مشتمل کلمہ ہے، استعمال کرنا، مرزا قادیانی کی تصریحات کے مطابق اس پر درود و سلام بھیجنا ہے، نہ کہ آنحضرت ﷺپر اور ایسا کرنا سنگین جرم ہے۔ نیز تعزیرات پاکستان کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اسی طرح ’’بسم اﷲ الرحمن الرحیم‘‘، ’’ھو الناصر‘‘، ’’سید‘‘ جیسے الفاظ و جملے جو کہ مسلمانوں کے ہاں استعمال ہونا شائع و ذائع ہے اور کہیں یہ الفاظ کندہ دیکھ کر ذہن مسلمانوں ہی کی جانب منتقل ہوتا ہے، لہٰذا قادیانیوں کے لیے ان کا استعمال قطعاً درست نہیں ہے اور ان کے لیے شعائر اسلام کا استعمال کرنا شرعی لحاظ سے حرام اور تعزیراتِ پاکستان کی رو سے جرم ہے۔ فقط واﷲ أعلم بالصواب۔

کتبہ: (مفتی) محمد زکریا۔۱۳/ ۲/ ۲۰۲۳ء

اﷲ تبارک و تعالیٰ قادیانیوں کو سوچنے، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ اﷲ تبارک وتعالیٰ بھولے بھٹکے قادیانیوں کو حضور خاتم الانبیاء محمد رسول اﷲﷺ کے دامن رحمت سے وابستہ ہونے کی توفیق عطا فرما کر دنیا و آخرت میں ان کو سرخرو ہونے اور کامیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور اگر ان کے مقدر میں ہدایت نہیں تو اﷲ تعالیٰ اہلِ اسلام کو ان کے فتنوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

وصلی اﷲ تعالى على خير خلقه  سیدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔( ہفت روزہ ’’ختمِ نبوت‘‘ کراچی۔ ۸؍ مارچ ۲۰۲۳ء)

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *