نئے سال کی حقیقت

بسم الله والصلاة والسلام علی رسول الله، أما بعد فأعوذ بالله من الشیطان الرجیم بسم الله الرحمن الرحیم قال تعالی:وَ الَّذِيْنَ لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ لِأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَانِ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمـَدِينَةَ، قَالَ: « كَانَ لَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا وَقَدْ أَبْدَلَكُمُ اللهُ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا: يَوْمَ الْفِطْرِ، وَيَوْمَ الْأَضْحَى»(النسائي:1556)

تمام تعریفات،توصیفات، تسبیحات، طیبات اوراچھے کلمات اللہ تبارک و تعالی کے لیے ہیں درود و سلام نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی کے لیے جو ہمارے آقا، رہبر،رہنما اوراسوہ ہے قدوه مثال ہیں اور نبی اکرم ﷺ کی پیروی میں ہماری نجات ہے نبی اکرم ﷺ کی ایک حدیث کے مطابق:

قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا(ابن ماجه:43)

کریم ﷺ نے جو ہے ہمیں اکرم ﷺ نے ہمیں ایک بڑا جو ہے وہ روشن دلیل والا دین دے کر وہ نبی اکرم ﷺ بھیجے گئے ہیں اور اس دین کی راتیں ہیں وہ بھی دن کی طرح روشن ہیں اور نبی اکرم ﷺ نے ہماری جو خوشیوں میں طرز عمل ہونا چاہیے اور جو غمی کے موقع پر عمل ہونا چاہیے نبی اکرم ﷺ نے اپنے احسن طریقے سے بیان کر دیا ہے نبی اکرم ﷺ نے مومن کے لیے دو ہی راستے بتائے ہیں یا تو وہ خوشیوں پر شکر کرنے والا ہے یا اگر کوئی غم آ جائے تو صبر کرنے والا ہے۔ اور نبی اکرم ﷺ نے شرعی طور پر ہمارے عقائد کابھی تعین فرما دیا ہے بڑی مشہور حدیث ہے۔ نبی اکرم ﷺ جس وقت مدینہ تشریف لائے تو وہاں پر اہل مدینہ تھے وہ دو دن کھیل کود اور خوشیاں منایا کرتے تھے نبی اکرم ﷺ نے استفسار کیا یہ جو دو دن ہیں اس کی کیا حقیقت ہے تو بتایا گیا کہ یہ دو دن جاہلیت سے ہی ہم میں کھیلا کرتے ہیں اور اس میںخوشی منایا کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالی نے اس سے بہتر تمہیں دو دن دے دیے اور وہ دو دن عید الاضحی اور عید الفطر کی صورت میں ہے ۔نبی اکرم ﷺ نے جو جاہلیت کی عیدیں تھی اسے برقرار نہیں رکھا بلکہ اس کا ایک نعم البدل ہمیں دیا جوکہ عید الاضحی اور عید الفطر ہے اور نبی اکرم ﷺ ہی کے زمانے سے یہ ہوتا تھا کہ ہر سال نیا چڑھتا تھا نبی اکرم ﷺ سے اور صحابہ کرام سے کہیں سے یہ ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے سال چڑھنے کے اوپر کوئی خوشیاں بنائی ہوں اور یہ جو طرز عمل ہے جو اج کل نظر ارہا ہے نہ آپ کو نبی اکرم ﷺ کی زندگی میں ملے گا نہ خلفائے راشدین کی زندگی میں ملے گا جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا آپ کے اوپر لازم ہے کہ میرے طریقے کار کو اپناؤ اور خلفائے راشدین کے طریقہ کار کو اپنایا جائے جو آیت میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس کی تفسیر میں( امام مجاہد a فرماتے ہیں یہاں پر زور سے مراد مشرکین اور اہل اسلام کے علاوہ عیدیں ہیں ان عیدوں میں شرکت کرنا اس سے مراد ہے یعنی زور جھوٹ کو کہا جاتا ہے) اور یہ جو ہے وہ جھوٹ اور شریعت کے مطابق نہیں ہے اور جو بھی شریعت کے مطابق نہ ہو اس کو زور یا جس کی کوئی حقیقت نہ ہو ا اس سے بیان کیا گیا ہے تو اہل ایمان جو ہے ایسی مناسبتوں میں وہ شرکت نہیں کرتے بلکہ جو نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے طریقہ کار متعین کیا ہے اس کے اوپر چلتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ جو بھی ان خرافات میں پڑھتا ہے پھر خرافات کا راستہ کھلتا چلا جاتا ہے اور شریعت کی مخالفت اس کے اندر اور زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جاتا ہے اور دین کی مخالفت کی جاتی ہے جیسے ہی 12 بجتے ہیں تو آپ کو معلوم ہے کس طرح ہلڑ بازی ہوتی ہے فائرنگ کی جاتی ہے اور آتش بازی کی جاتی ہے رقص و سر ور کی محفلیں برپا کی جاتی ہیں شراب اور کباب کا اہتمام کیا جاتا ہے مخلوط ڈانس کیا جاتا ہے مسلمان تو اس طرح خوشیاں نہیں منا تا مسلمان تو شکر کرتا ہے آپ دیکھ لیں کہ عیدین کے موقع پر ہمیں تکبیرات بلند کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور بلند آواز میں تکبیرات کہی جاتی ہیں اللہ تبارک و تعالی کا نام لیا جاتا ہے پھر نماز پڑھی جاتی ہے اور عید الاضحی میں اللہ تبارک و تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے قربانی کی جاتی ہے تو مسلمان خوشی اور غم میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو نہیں بھولتا،کس بات کی خوشی اس بات کی ہے کہ آپ کا ایک سال چلا گیا ہے اور اس کے اوپر تو حسرت ہونی چاہیے غم ہونا چاہیے کہ ہمیں اللہ تبارک و تعالی نے اس دنیا میں بھیجا ہے کہ ہم نے وہ سال بھرپور طریقے سے گزارا ہے کہ نہیں گزارا زیادہ سے زیادہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے اگر مہینے کا استقبال کیا ہے جس وقت وہ کوئی چاند طلوع ہوتا تو نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا کرنے کا وہ حکم دیا ہے۔

«اللَّهُمَّ أَهْلِلْهُ عَلَيْنَا بِاليُمْنِ وَالإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالإِسْلَامِ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ»(الترمذي:3451)

ان الفاظ کے اوپر ہی غور کر لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ یہ وقت جو ہے کس قدر قیمتی ہے اور اس وقت کا استعمال جو ہے کس طرح ہونا چاہیے ہاں نبی اکرم ﷺ جب چاند نکلتا تھا تو یہ دعا مانگا کرتے تھے اللہ تبارک و تعالی یہ جو چاند چڑھا وطلوع ہوا ہے اس کا طلوع ہونا ہمارے لیے باعث امن بنا اور ایمان میں اضافے کا باعث بنا اور سلامتی اور اسلام کے مطابق ہم یہ وقت گزار سکیں اور پھر نبی اکرم ﷺ چاند کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ میرا رب بھی اللہ تبارک و تعالی ہے اور چاند کا بھی رب اللہ تبارک و تعالی تو یہ زمانہ جو ہے وہ اللہ تبارک و تعالی ہی کا ترتیب دیا ہوا ہے تو اس زمانے کو اللہ تبارک و تعالی کی منشا ومرضی اور شریعت کے مطابق گزارنا یہ مطلوب ہے نہ کہ اس کے اندر اللہ تبارک و تعالی کی مخالفت کی جائے اگر ادنی سے ادنی ہم یہ لے لیں تو یہ کہا جا سکتا ہے نبی اکرم ﷺ کی حدیث کے مطابق اگر کسی قوم کے ساتھ مشابہت کی جاتی ہے تو وہ ان میں سے ہے نبی اکرم ﷺ نے تو یہود و نصاری کی مخالفت اس حد تک کرنے کا حکم دیا ہے کہ وہ جوتیوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے آپ جوتیوں میں نماز پڑھیں نبی اکرم ﷺ نے ہر ہر موقع پر یہود و نصاری کی مخالفت کی نبی اکرم ﷺ نے اس سے خبردار کیا ہے کہ یہود و نصاری کے پیچھے چلا جائے اگر یہ کام تشبہ بالکفار ہے تشبہ بالنصاری ہے تشبہ بالیہود ہے تو یہ بہت بڑا جرم ہے اگر یہ تشبہ بالکفار نہ بھی کہا جائے یہ کہا جائے جی ایسے ہی ایک عید ہے ایسے ہی مناسبت ہے تو اس لحاظ سے بھی نبی اکرم ﷺ کی حدیث ہے کہ شبہات والی چیزوں سے بچنا چاہیے اور شبہات والی چیزوں سے جب انسان بچتا ہے تو اس کا دین بھی محفوظ ہو جاتا ہے اور اس کی عزت بھی محفوظ ہو جاتی ہے اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں ہر مسئلے کے اندر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے رہنمائی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما اور شبہات سے بچائے۔ وآخر دعوانا أَن الحمدللہ رب العالمین

شرعی دم آداب وأحکام

بسم الله والصلاة والسلام على رسول الله أما بعد: قال الله سبحانه وتعالى: وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا (الأعراف:56)
وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ (سنن أبي داود:1479)

اللہ تبارک و تعالی کی حمد و ثنا اور رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام کے بعد جو میں نے آپ کے سامنے آیت تلاوت کی ہے اور نبی اکرم ﷺ کی حدیث آپ کے سامنے پڑھی ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ عبادت نام ہی دعا کا ہے بندے اور رب کے درمیان میں جو رشتہ ہے بندہ محتاج ہے بندہ ضرورت مند ہے بندہ مانگنے والا ہے بندہ فقیر ہے اور اللہ تبارک و تعالی دینے والے ہیں عطا کرنے والے ہیں اور اللہ تبارک و تعالی ہی انسان کی تمام ضرورتیں پوری کرتے ہیں یہ رشتہ ہے رب اور بندے کے درمیان میں۔ اور تمام عبادتیں دراصل دعا ہی کا ایک مظہر ہے تو اصل بات یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالی سے خیر بھی طلب کی جائے اور شر سے بھی پناہ مانگی جائے۔ دعا دراصل خیر کو طلب کرنا اور شر سے پناہ مانگنے کو دعا کہا جاتا ہے لیکن استعاذہ جو ہے وہ خاص ہے اس بات سے کہ اللہ تبارک و تعالی سے پناہ طلب کی جائے یعنی دعا کے اندر دونوں باتیں ہیں لیکن جب دعا اور استعاذہ ایک جگہ پر جمع ہو جاتے ہیں تو دعا سے مراد طلب الخیر ہوتا ہے یعنی خیر طلب کرنا اور استعاذہ سے مراد اللہ تبارک و تعالی سے تمام شرور سے پناہ مانگنا ہے۔اب دیکھیے کہ سورہ فاتحہ کو دعا کہا گیا ہے اس سورہ فاتحہ کے اندر ہمیں خیر بھی مانگنے کا حکم دیا گیا ہے :

صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ

اور ساتھ ساتھ میں شر سے پناہ مانگنے کے بارے میں بھی کہا گیا ہے۔

غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ

تو اللہ تبارک و تعالی سے خیر مانگنا اور اللہ تبارک و تعالی سے شر سے پناہ مانگنا یہ دونوں مطلوب ہیں رقیہ دراصل اگر عربی میں اس کا ترجمہ کیا جائے طبعی طور پر تو کہا جاتا ہے یعنی اللہ تبارک و تعالی کی پناہ میں تو رقیہ سے مراد وہ دم ہے یا وہ دعائیں ہیں جو کتاب اللہ کے اندر پائی جاتی ہیں یعنی قران مجید کے اندر یا سنت رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے یا وہ دعائیں جو جائز ہیں ہم اس کی وضاحت جو ہے وہ کریں گے کہ جائز سے کیا مراد ہے اور مسنون سے کیا مراد ہے تو تمام دعائیں جو کتاب اللہ کے اندر اس مفہوم کی پائی جاتی ہیں کہ کسی بھی شر سے جیساکہ جادو اور نظر بد ہو گیا اور اس طرح کی جو سازشیں وغیرہ ہوتی ہیں،حسد ہو گیا اور دیگرتمام قسم کے جو منفی بندش ہو گئی،منفی جو بھی معاملات ہیں اس سے اللہ تبارک و تعالی کی پناہ میں آنے کو استعاذہ یا عوذہ کہا جاتا ہے یا اس کے لیے دم کیا جاتا ہے اور یہ دم وہ آپ کو کتاب اللہ کے اندر بھی بہت سارے مل جائیں گے جو میں نے آپ کو بطور مثال یہ کہا ہے کہ سورہ فاتحہ کے اندر یہ دونوں مفہوم پائے جاتے ہیں لیکن اگر ہم آخری سورتیں جو نبی اکرم ﷺ نے بتائی ہیں جس کو سورہ فلق کہا جاتا ہے یا سورہ ناس کہا جاتا ہے اس میں استعاذہ ہی پر زور دیا گیا ہے بلکہ یہ دونوں سورتیں اس قدر جامع ہیں کہ اگر انہی دو سورتوں کا اہتمام کر لیا جائے تو بہت سارے بلکہ تقریبا تمام قسم کے جو شرور ہیں اللہ تبارک وتعالی ان سے پناہ میں لے آتے ہیں نبی اکرم ﷺ ان دو سورتوں کے نازل ہونے سے پہلے بہت سارے دم کیا کرتے تھے لیکن جب یہ دو سورتیں نازل ہو گئیں تو نبی اکرم ﷺ نے اسی پر اکتفا کیا ہے تو عرض یہ کر رہا تھا کہ یہ جو رقیہ شرعیہ ہے دیکھیں رقیہ کا مطلب استعاذہ ہو گیا شرعیہ جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے تو جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں ان کے جائز ہونے میں تو کوئی شک و شبہ نہیں ہے لیکن بعض دم ایسے ہیں جن کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے اجازت دی ہے اور کہا ہے کہ اگر اس کے اندر شرک نہ ہو تو وہ دم کیے جا سکتے ہیں،مثال کے طور پر نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو منع کر دیا کہ وہ بچھو کے کاٹنے کا دم نہ کیا کریں تو وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا نبی ﷺ میں دم جو کرتا ہوں اور لوگوں کو اس سے فائدہ ہوتا ہے آپﷺ نے کہا کہ اگر آپ اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں تو آپ اپنے بھائی کو ضرور از ضرور فائدہ پہنچائیے اور اس کی وضاحت دوسری حدیث اس طرح کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :آپ اپنے دم میرے سامنے پیش کرو،کسی بھی دم میں کوئی مسئلہ نہیں ہے یعنی اس کو کرنا جائز ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس کے اندر شرک نہ ہو یعنی اگر کوئی اپنی طرف سے دم کرتا ہے اپنی طرف سے کوئی کلمات ادا کرتا ہے اس کے اندر شرک نہیں ہے اور کوئی اور مخالفت نہیں ہے تو یہ جائز ہے میں نے حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ تعالی سے یہ پوچھا کہ یہ جو بسا اوقات لوگ کہتے ہیں کہ فلان آیت پڑھی جائے اور پھر اس کے بعد اتنی تعداد میں پڑھی جائے تو اس کا کیا کتاب اللہ سنت رسول اللہ ﷺ سے اس اجتہاد کا ثبوت ملتا ہے تو حافظ مسعود عالم صاحب نے جو حدیث ہے نبی اکرم ﷺ کی مشہور صحابی نے ایک بستی کے سردار کو جب کسی موذی جانور نے کاٹ لیا تو انہوں نے آپ کےصحابہ سے پوچھا تم میں سے کوئی راقی ہے تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے تو اس صحابی نے سات مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھی تو اللہ تبارک و تعالی نے اسے شفا دی جس طرح انسان کو کسی جس طرح اونٹ کو ایک مخصوص گرہ سے باندھا جاتا ہے ازار بند والی اگر اس کو کھینچ لیا جائے ایک طرف سے رسی کو تو بالکل کھڑا ہو جاتا ہے تو وہ اس طرح اللہ تبارک و تعالی نے اسے شفا دے دی اور پھر معاوضے کے طور پر اسےبکریاں دی گئیں ۔اور اس پورے واقعے کو نبی اکرم ﷺ کے سامنے ذکر کیا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے کہا تمہیں کس نے بتایا کہ یہ سورہ فاتحہ دم بھی ہے تو حافظ مسعود عالم صاحب نے کہا دیکھیں یہاں پر یہ پتہ چلتا ہے کہ اس صحابی نے اپنی طرف سے اجتہاد کیا اور پھر یہ اجتہاد بھی اپنی طرف سے تھا کہ فاتحہ کو دم کے طور پر انہوں نے پڑھااور ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اجتہاد کیا کہ اس کو سات مرتبہ پڑھیں اگر یہ دونوں اجتہاد جائز نہ ہوتے تو نبی اکرم ﷺ فورا اس صحابی کو یہ تنبیہ کرتے کیونکہ نبی اکرم ﷺ کسی باطل پر خاموش نہیں رہتے نبی اکرم ﷺ کسی بھی غلط بات پر خاموشی اختیار نہیں کرتے اس سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ اس میں کوئی عددہے لیکن یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ وہ بندہ کہےکہ یہ میرا اپنا تجربہ ہے تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ جو رقیہ شرعیہ ہے اس میں تین قسم کی چیزیں آ جاتی ہیں نمبر ایک پر جو دعائے قرآن سے ثابت ہے ۔دوسری جو نبی اکرم ﷺ کی سنت سے ثابت ہے اور یہ سب سے بہترین ہے اور میں یہاں آپ کو بتاؤں کہ اگر ان دونوں کے اوپر اکتفا کرلیا جائے آپ کو اگے جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے جیسے صبح وشام کی دعائیں ہیں ۔اس کے اندر آپ کو معلوم ہے طلب الخیر بھی ہے اور اس کے علاوہ یہ جو میں نے آپ کو بتایا ہے کہ یہ سورتیں نبی اکرم ﷺ نے بھی دم کے طور پر اختیار کی ہیں۔یہ نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے تو اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جو قران مجید میں ہیں یا سنت سے ثابت ہیں اس کے علاوہ اگر انسان اپنی طرف سے کوئی اجتہاد کرتا ہے لیکن اس کے اندر شرط یہ ہے کہ انسان کو اس بات کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ اس کے اندر شرک نہ ہو یا پھر کوئی بدعت کی طرف جانا یا کوئی مخالفت شرعی نہ ہو اگر کوئی معاوضہ لے رہا ہے۔ شرعی ضوابط کو ضرور بالضرور مد نظر رکھنا چاہیے اور دم کے سلسلے میں میں ایک بات ضروری کہنا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ یہ بات کو پتہ چل گئی کہ دم کون سے کیے جا سکتے ہیں آپ لیکن ساتھ ساتھ میں بسا اوقات انسان جو دم کرنے والا ہے اور دم توکل کر کے بیٹھ جاتا ہے،دم کے اوپر توکل کرنا یا راقی کے اوپر توکل کرنا یہ بسااوقات انسان کو شک کی طرف لے جاتا ہے جب بھی آپ دم کریں یقین یہ ہونا چاہیے کہ یہ میں نے ان کو سیدھا جو اللہ تبارک و تعالی نے چاہے سن کے بتایا ہے وہ اسے اختیار کر رہا ہوں لیکن اصل شفا دینے والی ذات اللہ کی ہےاس میں نا راقی کا کردار ہے نہ جو مسنون کلمات ہیں یہ اللہ تبارک و تعالی کی طرف ایک طرح سے رجوع کرنا اللہ تبارک و تعالی کی طرف راغب ہونا ہے جیسے کہ قرآن میں ہے ۔امید ہے کہ جو بات کی گئی ہے وہ سمجھ میں آگئی ہوگی ۔اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں ہر عیب سے حفاظت عطا فرما دے اور ہر شر سے پناہ عطا کر دے۔

آمین یا رب العالمین

مال، نعمت اور اس کا استعمال

بسم الله والصلاة والسلام على سيد الأنبياء أما بعد أعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ

اللہ تبارک و تعالي کی حمد و ثنا اور رسول اکرم ﷺ پر درود و سلام کے بعد آج کا موضوع مال کے متعلق ہے مال اللہ تبارک و تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے اسلام کے اندر مال کا تعلق اللہ تبارک و تعالی سے ہے اسلام کے اندر یہ تصور نہیں ہے جس طرح سرمایہ دارانہ نظام میں تصور ہے کہ یہ شخصی ملکیت ہے اور نہ ہی اس کے اندر کوئی سوشلزم والی بات ہے جس کی انتہا پہ ہم منظم پر ہوتی ہے کہ لادینیت پر اس کی انتہا ہوتی ہے اور مال کہا جاتا ہے کہ حکومت کا ہے۔ اسلام میں مال اللہ تبارک و تعالی کا ہے اس میں شخصی ملکیت کا بھی تصور اور حکومت کا بھی حق رکھا ہے لیکن ساتھ ساتھ اللہ تبارک و تعالی نے پابند کیا ہے کہ آپ کو کمانے اور خرچ کرنے میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کو مدنظر رکھنا پڑے گا ۔اور یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے یہ اس قدر اہم بات ہے کہ جو قیامت والے دن اللہ تبارک و تعالی نے سوال پوچھنے ہیں ان میں سے ایک سوال یہ ہوگا کہ آپ نے مال کہاں سے کمایا ہے اور کہاں پر خرچ کیا تو ہمیں جس طرح کماتے ہوئے خیال رکھنا چاہیے اس طرح خرچ کرتے ہوئے بھی خیال رکھنا چاہیے کہ اس کے اندر اللہ تبارک و تعالی کی نافرمانی نہ ہو اور رسول اللہ ﷺ کی جو ہدایات ہیں ان کو مدنظر رکھا جائے اور اسے نظر انداز نہ کیا جائے اب دیکھیے کہ قران مجید میں ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے مال کو قیام قرار دیا ہے اور جو اس کے اندر سوء تصرف کرتا ہے اللہ تبارک و تعالی نے اسے بے وقوف قرار دیا ہے یعنی عقلمندی یہ ہے کہ خرچ کرنے میں بھی شریعت کو نظر انداز نہ کیا جائے اور کمانے میں بھی شریعت کو نظر انداز نہ کیا جائے قرآن مجید میں واضح ہدایات ہیں:

يَسْـَٔلُوْنَكَ مَاذَايُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ

خرچ کرتے ہوئے سب سے پہلے آپ کے مال کے مستحق آپ کے والدین ہیں یعنی آپ کو سب سے پہلے خرچ کرتے ہوئے واجبات کا خیال رکھنا چاہیے کہ آپ کے اوپر اللہ تبارک و تعالی نے کہاں پر خرچ کرنا فرض کیا ہے اور اسی میں اللہ تبارک و تعالی نے سب سے زیادہ ثواب رکھا ہے اور اس کے بعد مستحبات کا خیال رکھنا چاہیے اور اللہ تبارک و تعالی نے مباح چیزوں پر بھی خرچ کرنے کی اجازت دی ہے لیکن اس کے علاوہ جہاں پر بھی خرچ کریں گے وہ فضول خرچی ہوگی۔ قرآن مجید میں یہ مضمون موجود ہے۔

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِيْنَ وَ ابْنَ السَّبِيْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ۠ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ

کہ آپ رشتہ داروں کے اوپر خرچ کیجیے اور مسکینوں کے اوپر خرچ کیجیے مسافروں کے اوپر خرچ کیجیے لیکن فضول خرچی نہ کیجیے کیونکہ فضول خرچی کرنا یہ دراصل شیطان کا ساتھی بن جانے کی صورتحال ہے اور قرآن مجید میں یہ بھی مضمون موجود ہے کہ

وَالَّذِيْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَ لَمْ يَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا

کہ مومنین جب خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی نہیں کرتے اور نہ ہی وہ بخیلی سے کام لیتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں اور میانہ روی یہ ہے کہ ہر ہر لمحے میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کو مدنظر رکھتی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کیجیے۔اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں کمانے اور خرچ کرنے میں نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *