کوئی بن گیا رونق پکھیاں دی
کوئی چھوڑ کے شیش محل چلیا
کوئی پلیا ناز نخریاں وچ
کوئی ریت گرم تے تھل چلیا
کوئی بھل گیا مقصد آون دا
کوئی کرکے مقصد حل چلیا
ایتھے ہر کوئی فرید مسافر اے
کوئی اج چلیا کوئی کل چلیا
انسانی زندگی بڑی تیز رفتاری سے گذر رہی ہے۔ درحقیقت صحیح معنوں میں وہی شخص زندگی گذار رہا ہے جو مقصد حیات کو پالیتا ہے اور اپنی چند روزہ زندگی میں اسلام کی خدمت کر جاتا ہے۔ موت تو ہر انسان کو آ جانی ہے لیکن ایک عالم دین کی موت کو خاتم النبیین رحمۃ اللعالمین محمد کریم ﷺ نے دنیا کی موت قرار دیا ہے۔ ( موت العالِم موت العالَم) کیونکہ وہ اکیلا نہیں ہوتا بلکہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہوتا ہے اور دنیا کا ایک بہت بڑا طبقہ اس کے ساتھ چل رہا ہوتا ہے۔
کامیاب انسان تھوڑی سی زندگی میں زیادہ کام کرتا ہے اور اجر بھی زیادہ پاتا ہے۔ جیسا کہ سیدنابراء بن عازب tسے روایت ہے کہ:
أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ بِالحَدِيدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أُقَاتِلُ أَوْ أُسْلِمُ؟ قَالَ: «أَسْلِمْ، ثُمَّ قَاتِلْ»، فَأَسْلَمَ، ثُمَّ قَاتَلَ، فَقُتِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا» (متفق عليه)
ایک شخص رسول اکرم ﷺکے پاس آیا اور اس نے جنگی لباس پہنا ہوا تھا کہنے لگا کہ یارسول اللہ ﷺمیں پہلے اسلام قبول کروں یا جنگ کروں؟ تو آپ نے فرمایا: پہلے اسلام قبول کرو پھر لڑائی کرو۔ اس نے پہلے اسلام قبول کیا پھر لڑائی میں شریک ہوا اور پھر وہ شہیدوں ہوگیا تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اس شخص نے عمل تھوڑا کیا ہے لیکن اجر بہت زیادہ پا لیا ہے۔
تاریخ کے اوراق میں ایسی بہت سی شخصیات ملتی ہیں جن کی عمریں کم تھیں لیکن انہوں نے اپنی حیات مستعار میں کام بہت زیادہ کیے بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے خدمت اسلام کا کام زیادہ لیا۔
اگر ماضی قریب میں دیکھا جائے تو شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ ( شہادت مارچ 1987) کی عبقری شخصیت نظر آئے گی۔ جنہوں نے تصنیف و تالیف، تنظیم، صحافت اور خطابت کے میدان میں وہ کارنامے انجام دیے جنہوں نے آپ کو ہمعصروں میں ممتاز کر دیا۔ اسی طرح سے ہمارے مربی و محسن بانی جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی پروفیسر شیخ محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ ( متوفی 30 جون 1997) کا اسم گرامی بھی نمایاں ہے۔ جنہوں نے اپنی زندگی کو متلاشیان علوم نبوت کی خدمت کے لیے وقف کردیا تھا۔ اور اس عظیم مقصد کے لیے روشنیوں کے شہر کراچی میں ایک عالمی درسگاہ کی بنیاد رکھی اور پھر اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کو عالمی جامعات کی صف میں لاکھڑا کیا۔ اور اکناف عالم سے طالبان علوم نبوت جوق در جوق کھنچے چلے آئے اور اپنے دامن کو توحید و سنت کے نور سے منور کرکے اپنے اپنے وطن کی طرف لوٹے۔ شیخ محمد ظفر اللہ صاحب نے اگرچہ زیادہ لمبی عمر نہیں پائی لیکن جتنی بھی عمر تھی اس میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے ساتھ کئی ایک ادارے اور مدارس قائم کیے تاکہ نور نبوت چہار دانگ عالم پھیلتا رہے۔
ہمارے بھائی شیخ ضیاء الرحمن مدنی شہید نے اپنے والد گرامی قدر کی حادثاتی وفات کے بعد تحصیل علم کی تکمیل کے بعد جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں تدریس کے ساتھ ادارتی ذمہ داریاں بھی سنبھال لیں۔ آپ نے نہ صرف ادارتی ذمہ داریاں سنبھالیں بلکہ جامعہ کو پہلے سے زیادہ ترقی دینے کے لیے دن رات کوشش کی اور اپنی 46 سالہ زندگی میں ملک بھر میں ایک اچھا نام پیدا کیا جس کا اظہار آپ کی شہادت کے بعد ہوتا ہے۔ ملک کے چپہ چپہ، ہر شہر اور بستی سے آپ کی ناگہانی شہادت پر دکھ کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ دکھ اور صدمہ صرف اہل کراچی یا جامعہ ابی بکر الاسلامیہ یا پھر شیخ ضیاء الرحمن مدنی شہید کے گھر والوں کا ہی نہیں بلکہ ہمارا ذاتی دکھ ہے۔
جب شیخ ضیاء الرحمن مدنی شہید کی نعش سفید کفن میں دیکھی تو محسوس ہو رہا تھا کہ وہ زبان حال سے کہہ رہے ہیں:
فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
’’رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا ہوں۔‘‘
محسوس ہوتا ہے کہ جب خونی درندوں نے شیخ ضیاء الرحمن مدنی شہید پر حملہ کیا ہوگا تو شیخ ضیاء شہید نے بھی سیدنا انس tکے خالو حرام بن ملحان کی طرح سے گولی لگتے ہی زبان سے کہہ دیا ہوگا: اللہ اکبر
فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
اے جنت راہی شیخ ضیاء!
آپ کے تقویٰ، للہیت، اخلاص، جذبہ، لگن، ذوق و شوق اور دین کی تڑپ دیکھ کر ہم خود کو کہنے پر مجبور ہیں کہ: سبقنا شیخ ضیاء الرحمن
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
