‌‌شك الزنادقة في قوله: {خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ}

شبه رقم (6)

وأما قوله عز وجل:{خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ} [فاطر: 11] .ثم قال: {مِنْ طِينٍ لازِبٍ} [الصافات: 11] .ثم قال: {مِنْ سُلالَةٍ} [المؤمنون: 12] ثم قال: {مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ} [الحجر: 26]ثم قال: {مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ} [الرحمن: 14] فشكوا في القرآن، وقالوا: هذا تلبيس ينقض بعضها بعضًا

اور اللہ عزوجل کا یہ فر مان کہ : “ تمھیں مٹی سے پیدا کیا” ) سورۃ فاطر،آیت نمبر 11) پھر ارشاد فر مایا کہ : “چپکتی مٹی سے”(سورۃ الصافات، آیت نمبر 11) پھر ارشاد فر مایا کہ : “ چُنی ہو ئی مٹی سے” (سورۃ مومنون، آیت نمبر 12)پھر ارشاد فر مایا کہ : سڑے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے ” (سورۃ الحجر، آیت نمبر 26) پھر ارشاد فر مایا کہ : ٹھیکرے جیسی کھنکتھی مٹی سے” (سورۃ الرحمن، آیت نمبر14) اس سےزنادقة نے قرآن کے بارے شک کیا اور کہا کہ یہ آپس میں ٹکراتا ہے۔

جواب:

نقول: هذا بدء خلق آدم، خلقه الله أول بدء من تراب، ثم من طينة حمراء وسوداء وبيضاء، ومن طينة طيبة وسبخة، فكذلك ذريته طيب، وخبيث، أسود وأحمر وأبيض2. ثم بلَّ ذلك التراب فصار طينًا، فذلك قوله: «من طين» فلما لصق الطين بعضه ببعض، فصار طينًا لازبًا، بمعنى لاصقًا، ثم قال: {مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طِينٍ} .
يقول: مثل الطين إذا عصر انسل من بين الأصابع، ثم نتن فصار حمأ مسنونًا، فخلق من الحمأ، فلما جفَّ صار صلصالاً كالفخار، يقول: صار له صلصلة كصلصلة الفخار، له دوي كدوي الفخار.فهذا بيان خلق آدم، وأما قوله: {مِنْ سُلالَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ} [السجدة: 8] فهذا بدء خلق ذريته، من سلالة يعني النطفة إذا انسلت من الرجل، فذلك قوله: {مِنْ مَاءٍ} ، يعني النطفة، {مَهِينٍ} يعني ضعيف. فهذا ما شَكَّت فيه الزنادقة.

 ہم کہتے ہیں کہ یہ آدم علیہ السلام کی پیدائش کا ابتدائی مر حلہ ہے ۔ جس میں اللہ عزوجل نے پہلے مٹی سے ابتداء کی پھر سرخ ، سفید اور کالے رنگ کی مٹی سے ، پھر اچھی مٹی سے اور بنجر مٹی سے ، اسی لئے اس کی اولاد میں اچھے اور بُرے ، کالے ، سرخ اور سفید ہیں۔ پھر اس مٹی کو گیلا کیا۔ تو وہ چپکنے والی ہو گئی۔ اسی لئے اس کا یہ ارشادہے کہ: “ چپکتی مٹی سے ” پس جب مٹی آپس میں چپکنے لگی تو وہ لیس دار مٹی بن گئی۔پھر فر مایا کہ :“مٹی کے جو ہر سے پیدا کیا” اس سے مراد ایسی مٹی کہ جب اس کو پکڑ کر نچوڑیں تو وہ انگلیوں کے درمیان سے پھسلتی ہے ۔ پھر جب اس سے بُو آنا شروع ہوا تو وہ سڑے ہو ئے سیاہ گارے کی طرح ہو گئی ۔تو اس سے (آدم  علیہ السلام) بنائے گئے سیاہ گارے سے ۔ پس جب وہ (گارہ) خشک ہوا تو کھنکھنا نے لگا جیسےٹھیکری کھنکھناتی ہے ۔جیسے کہا جاتا ہے کہ «وہ ایسے کھنکھناتا ہے جیسے ٹھیکری کا آواز کر نا ہو»۔تو یہ سیدناآدم  علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر تھا۔ اور اسی کا یہ فر مان کہ :“ حقیر پانی کے جو ہر سے (سورۃ السجدہ، آیت نمبر 8)تو یہ اس کی او لاد کی پیدا ئش کی ابتدا ہے۔ “ جوہر”سے یعنی نطفہ سے۔ جب وہ آدمی سے نکلے ۔

اسی لئے اس کا یہ فر مان ہے کہ : “ پانی سے ” یعنی نطفہ سے ۔“ حقیر ” مادے سے۔پس یہ وضاحت تھی اسکی جس کے بارے زنادقة نے شک کیا۔

‌‌شك الزنادقة في قوله: {رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ}

شبه رقم (۷)

وأما قوله:{رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ} [الشعراء: 28]  {رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ} [الرحمن: 17] {رَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ} [المعارج: 40] فشكوا في القرآن، وقالوا: كيف يكون هذا من الكلام المحكم؟

اور اس کا یہ فر مان کہ : “ مشرق و مغرب کا رب” (سورۃ الشعراء، آیت نمبر 28)“ دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا رب” (سورۃالرحمن، آیت نمبر 16) ، “ تمام مشرقوں اور تمام مغربوں کا رب” (سورۃ المعارج، آیت نمبر 40)پس زنادقة نے قرآن میں شک کیا ، اور کہا یہ کیسے سچا کلام ہے۔

جواب:

أما قوله: {رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ} فهذا اليوم الذي يستوي فيه الليل والنهار، أقسم الله بمشرقه ومغربه، وأما قوله: {رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ} فهذا أطول يوم في السنة، وأقصر يوم في السنة، أقسم الله بمشرقهما ومغربهما، وأما قوله: «رب المشارق ورب المغارب» فهو مشارق السنة ومغاربها، فهذا ما شكت فيه الزنادقة

اور اس کا یہ فر مان کہ: “ مشرق ومغرب کا رب” تو ان سے مراد وہ دن ہیں جس میں رات اور دن برابر ہو تے ہیں۔ اللہ نے اس کے مشرق اور مغرب کی قسم اٹھائی ہے۔ اور اس کا یہ فر مان کہ: “ دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا رب” تو یہ سب سے لمبے دن ہیں سال کے۔ اللہ نے ان کے مشرق اور مغرب کی قسم اٹھائی ہے۔ اور اس کا یہ فر مان کہ : “ تمام مشرقوں اور تمام مغربوں کا رب” تو اس سے سال کے تمام مشرق اور مغرب ہیں۔ یہاں سردی اور گرمی میں سورج طلوع اور غروب ہو نے کی جگہیں مراد ہیں۔پس یہ تفسیر ہے اس کی جس کے بارے زنادقة نے شک کیا۔

‌‌شك الزنادقة في قوله: {وَإِنَّ يَوْماً عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ}

شبه رقم (۸)

أما قوله:{وَإِنَّ يَوْماً عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ} [الحج: 47] وقال في آية أخرى: {يُدَبِّرُ الأَمْرَ مِنْ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ} [السجدة: 5] وقال في آية أخرى: {تَعْرُجُ الْمَلائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيلاً} [المعارج: 4، 5] فقالوا: كيف يكون هذا من الكلام المحكم، وهو ينقض بعضه بعضًا؟

 اس کا یہ فر مان کہ: “ اور بلا شبہ آپ کے رب کے ہاں ایک دن تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس کی طرح ہے” (سورۃ الحج ،آیت نمبر 47) اور دوسری آیت میں فر مایا کہ: وہی آسمان سے زمین تک (سارے) معا ملات کی تد بیر کر تا ہے۔پھر ایک دن میں جس کی مقدار تمھارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال ہے۔ وہ معا ملہ اس کی طرف چڑھتا ہے” (سورۃ السجدۃ ،آیت نمبر 5)اور ایک آیت میں یہ فر مایا کہ: فرشتے اور روح (جبریل) اس کی طرف جڑھیں گے۔ ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے تو(اے نبی) آپ صبر جمیل سے کام لیجئے(سورۃ المعارج، آیت نمبر 4-5)اس پر زنادقة نے کہا کہ یہ کیسے محکم کلام ہو سکتا ہے۔ حالانکہ اس کی بعض آیات بعض سے ٹکراتی ہیں۔

جواب:

قال: أما قوله: {وَإِنَّ يَوْماً عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ} [الحج: 47] فهذا من الأيام التي خلق الله فيها السموات والأرض، كل يوم كألف سنة، وأما قوله: {يُدَبِّرُ الأَمْرَ مِنْ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ} [السجدة: 5] وذلك أن جبرائيل كان ينزل على النبي -صلى الله عليه وسلم- ويصعد إلى السماء في يوم كان مقداره ألف سنة، ذلك أنه من السماء إلى الأرض مسيرة خمسمائة عام، فهبوط خمسمائة، وصعود خمسمائة عام، فذلك ألف عام۔ وأما قوله: {فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ} [المعارج: 4] يقول: لو ولي حساب الخلائق غير الله، ما فرغ منه في يوم مقداره خمسون ألف سنة، ويفرغ الله منه مقدار نصف يوم من أيام الدنيا1، إذا أخذ في حساب الخلائق فذلك قوله: {وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ} [الأنبياء: 47] يعني سرعة الحساب۔

امام احمد بن حنبل  رحمہ اللہ نے جواب دیا: جہاں تک اس کا یہ فر مان کہ “ اور بلا شبہ آپ کے رب کے ہاں ایک دن تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس کی طرح ہے” تو اس سے وہ دن مراد ہیں جس میں اللہ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا۔ ایک دن گو یا کہ ایک ہزار سال کی ما نند ہے۔ اور اس کا یہ فر مان “ وہی آسمان سے زمین تک (سارے) کی تدبیر کر تا ہے۔ پھر ایک دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال ہے۔ وہ معا ملہ اس کی طرف چڑھتا ہے” تو اس سے مراد جبریل علیہ السلام کا نبی کریمﷺ پر (وحی) لیکر اترنا ہے۔اور واپس آسمان پر چڑھنا ہے۔ ایک ہی دن میں جس کی مقدار ہزار سال ہے۔وہ اس طرح کے آسمان سے زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کی مسا فت ہے۔ تو اترنا پانچ سو سال اور دوبارہ چڑھنا پانچ سو سال تو یہ پورے ہزار سال ہو ئے۔اور جہاں تک اس کے اس فر مان کا تعلق ہے کہ: ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے”اس سے مراد یہ ہے کہ اگر مخلو قات کا حساب اللہ کے علاوہ کسی اور کے سپرد کیا جا ئے تو وہ اس سے پچاس ہزار سال کی مقدار میں بھی پورا نہ کر سکے جبکہ اللہ دنیا کے ایک دن کے حساب سے آدھے دن میں ہی پو را کر لے گا یعنی جب اللہ مخلوقات کا حساب لے گا۔ اسی لئے اس کا یہ فر مان ہے کہ:“ اور ہم حساب کر نے والے کا فی ہیں” (سورۃالانبیاء، آیت نمبر 47) یعنی جلدی حساب کر نے والے ہیں۔

‌‌شك الزنادقة في قوله: {وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا}

شبه رقم (۹)

وأما قوله: {وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا أَيْنَ شُرَكَاؤُكُمُ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ} إلى قوله: {وَاللهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ} [الأنعام: 22، 23] .فأنكروا: أن كانوا مشركين. وقال في آية أخرى: {وَلا يَكْتُمُونَ اللهَ حَدِيثًا} [النساء: 42] فشكوا في القرآن، وزعموا أنه متناقض.

اور اس کا یہ فرمان کہ : “اور جس دن ہم سب کو اکھٹا کریں گے پھر جو لوگ(اللہ کے ساتھ) شریک ٹھہراتے تھے ان سے ہم کہیں گے تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جنہیں تم (اللہ کے ساتھ) خیال کر تے تھے” اس فر مان تک کہ: “ ہمارے رب ہم مشرک نہ تھے” (سورۃ الانعام، آیت نمبر 22-23)پس وہ مشرک ہو نے کا انکار کریں گے۔اور جبکہ دوسری آیت میں فر ما یا کہ: “ اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے” (سورۃ النساء، آیت نمبر 42) پس زنادقة نے قرآن کے بارے شک کیا اور گمان کیا کہ اس میں ٹکراؤ ہے۔

 جواب:

 أما قوله:{وَاللهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ} [الأنعام: 23] وذلك أن هؤلاء المشركين إذا رأوا ما يتجاوز الله عن أهل التوحيد يقول بعضهم لبعض: إذا سألنا نقول: لم نكن مشركين2، فلما جمعهم الله، وجمع أصنامهم وقال: {أَيْنَ شُرَكَائِي الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ} [القصص: 62] .قال الله: {ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلَاّ أَنْ قَالُوا وَاللهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ} [الأنعام: 23] .
فلما كتموا الشرك، ختم الله على أفواههم، وأنطق الجوارح، فنطقت بذلك، فذلك قوله: {الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} [يس: 65] . فأخبر الله عز وجل عن الجوارح حين شهدت، فهذا تفسير ما شكت فيه الزنادقة.

جہاں تک اس فر مان کا تعلق ہے کہ ہمارے رب کی قسم ہم مشرک نہ تھے ”یہ وہ وقت ہے کہ جب مشرکین دیکھے گے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل توحید کو معاف کر دیا ہے، تو یہ آپس میں کہیں گے کہ جب ہم سے پوچھا جائے گا تو ہم جواب دیں گے کہ ہم نے تو شرک نہیں کیا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ ان سب کو اور ان کے بتوں کو جمع کر ے گا اور فرمائے گا “ میرے وہ شریک کہا ں ہیں جنہیں تم میرا شریک سمجھتے تھے(سورۃ القصص، آیت نمبر 62)(پھر اللہ نے فر مایا کہ : “ پھر اس (جواب طلبی) پر ان کی معذرت یہی ہو گی کہ وہ کہیں گے: اللہ ہمارے رب کی قسم ہم مشرک نہ تھے۔بس جب وہ اپنے شرک کو چھپائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگا دے گا اور ان کے اعضاء بات کریں گے۔ پس اسطرح وہ بات کریں گے۔ اس لئے اس کا فر مان کہ“ آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پیر گواہی دیں گے اس کی جو کچھ وہ کر تے تھے(سورۃیس ،آیت نمبر 65) چنانچہ یہ اللہ نے ان کے اعضاء کے بارے میں بیان کیا ہے جب وہ گواہی دیں گے پس یہ اس کی وضاحت ہے جسکے بارے زنادقة نے شک کیا۔

‌‌شك الزنادقة في قوله: {وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ}

شبه رقم (۱۰)

أما قوله عز وجل:{وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ} [الروم: 55]  وقال: {يَتَخَافَتُونَ بَيْنَهُمْ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَاّ عَشْرًا} [طه: 103] .وقال: {إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَاّ يَوْمًا} [طه: 104] وقال: {إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَاّ قَلِيلاً} [الإسراء: 52] ومن أجل ذلك شكت الزنادقة

اور اللہ عزوجل کا یہ فر مان کہ: “ اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم قسمیں کھائیں گے کہ وہ دنیا میں گھڑی بھر کے سوا نہیں ٹھہرے(سورۃ الروم، آیت نمبر55)اور فرمایا: وہ باہم چپکے چپکے کہتے ہونگے تم دنیا میں نہیں ٹھہرے مگر صرف دس دن(سورۃ طہ، آیت نمبر103) اور فر مایا کہ: “ تم تو صرف ایک دن ٹھہرے تھے” (سورۃطہ، آیت نمبر104) اور فر مایا کہ: “بس تھوڑا عر صہ ٹھہرے ہو” (سورۃ الاسراء، آیت نمبر52) پس اس وجہ سے زنادقة نے شک کیا۔

جواب:

أما قوله: {إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَاّ عَشْرًا} وذلك إذا خرجوا من قبورهم، فنظروا إلى ما كانوا يكذبون به من أمر البعث، قال بعضهم لبعض: إن لبثتم في القبور إلا عشر ليال، واستكثروا العشر، فقالوا: {إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَاّ يَوْمًا} في القبور، ثم استكثروا اليوم فقالوا: {إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَاّ قَلِيلاً} ثم استكثروا القليل فقالوا: إن لبثتم إلا ساعة من نهار. فهذا تفسير ما شكت فيه الزنادقة.

جہاں تک اس کا یہ فر مان ہے کہ:“ تم صرف دس دن رہے” تو یہ وہ وقت ہے جب وہ قبروں سے نکلیں گے تو وہ جس چیز کو جھٹلا تے تھے یعنی دوبارہ جی اٹھنا۔ اس کو دیکھیں گے۔ تو وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ تم صرف قبروں میں دس دن رہے ہو۔پھر وہ دس دنوں کو زیادہ سمجھیں گے تو وہ کہیں گے کہ: “ تم صرف ایک دن رہے ہو”قبروں میں پھر ایک دن کو بھی زیادہ سمجھیں گے اور کہیں گے کہ: “ تم تو صرف تھوڑی دیر رہے ہو۔پھر تھوڑی دیر کو بھی زیادہ سمجھیں گے اور کہیں گے کہ تم صرف دن کا ایک لمحہ رہے ہو۔ پس یہ ان آیات کی وضاحت ہے جسکے بارے زنادقة نے شک کیا۔

‌‌شك الزنادقة في قوله: {يَوْمَ يَجْمَعُ اللهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا}

شبه رقم (۱۱)

وأما قوله:{يَوْمَ يَجْمَعُ اللهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا} [المائدة: 109] وقال في آية أخرى: {وَيَقُولُ الأَشْهَادُ هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ} [هود: 18] .فقالوا: وكيف يكون هذا فيقولون: لا علم لنا. وأخبر عنهم أنهم يقولون: هؤلاء الذين كذبوا على ربهم، فزعموا أن القرآن ينقض بعضه بعضًا۔

اور اس کا یہ فر مان کہ:“ اس دن کو (یاد کرو) جب اللہ رسولوں کو جمع کر ے گا، پھر (ان ) سے کہے گے کہ تمھیں کیا جواب دیا تو وہ کہیں گے ہمیں کو ئی علم نہیں” (سورۃ المائدۃ، آیت نمبر109) اور دوسری آیات میں فرمایا کہ : “اور سارے گواہ کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہے جنہوں نےاپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا۔” (سورۃ ھود،آیت نمبر 18)اس پر زنادقة نے اعتراض کیا کہ یہ کیا بات ہو ئی کہ کہیں گے ہمیں تو کچھ علم نہیں اور پھر بیان کیا کہ وہ کہیں گے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پر وردگار پرجھوٹ بولا۔ تو انہوں نے گمان کیا کہ قرآن کا بعض حصہ بعض سے ٹکراتا ہے۔

جواب:

أما قوله:{يَوْمَ يَجْمَعُ اللهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ} [المائدة: 109] فإنه يسألهم عند زفرة جهنم، فيقول: ماذا أجبتم في التوحيد؟ فتذهب عقولهم عند زفرة جهنم، فيقولون: {لا عِلْمَ لَنَا} [المائدة: 109] ثم ترجع لهم عقولهم من بعد، فيقولون: {هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ} [هود: 18] فهذا تفسير ما شكت فيه الزنادقة

جہاں تک اس کا یہ فر مان کہ : “اس دن (کو یاد کرو) جب اللہ رسولوں کو جمع کر ے گا ، پھر ان سے کہے گا کہ تمھیں کیا جواب دیا۔تو یہ ان سے جہنم کے بھڑکنے کے قریب پو چھا جائے گا۔بس وہ فر مائے گا کہ تم تو حید کے بارے کیا جواب دیتے ہو۔ تو جہنم کے بھڑکنے کی وجہ سے ان کے ہو ش جاتے رہیں گے۔ اور وہ کہیں گے کہ: “ ہمیں کوئی علم نہیں”پھر کچھ دیر بعد جب ان کی سمجھ بوجھ لوٹے گی تو وہ کہیں گے کہ: “ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا” پس یہ ان آیات کی تفسیر ہے جسکے بارے زنادقة نے شک کیا۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *