اسلام میں امیر،غریب ، چھوٹے بڑے میں وہ فرق نہیں ، جو دوسری اقوام اور تہذیبوں میں پایا جاتاہے ۔اسلام کے نزدیک سب انسان برابرہیں۔ غریب سے غریب آدمی بھی اپنی اہلیت کی بنیاد پر بڑے سے بڑا مقام حاصل کرسکتاہے۔ قرآن مجید کی سورۃ الحجرات کی آیت نمبر ۱۳ میں ارشاد ربانی ہے:’’اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘
اسلامی قانون کی نگاہ میں بھی سب امیر اور غریب ایک ہی درجے پر ہیں۔ اگر حکمران وقت کوئی ایسا جرم کرتاہے ، جس کی شریعت میں کوئی سزا مقرر ہے تو اسے بھی سزا ملے گی۔
اکرام انسانیت کے باعث ہی اسلام نے حسب ونسب کے فخر کو سخت ناپسند قرار دیاہے۔ حضور ﷺ نے اس سلسلے میں اپنی ناپسندیدگی کااظہارکرتے ہوئے فرمایا:’’جولوگ اپنے ان آباؤ اجداد پر فخر کرتے ہیں ،جو مرچکے ہیں ، وہ اپنی اس حرکت سے باز آجائیں، وہ جہنم کاحصہ بن چکے ہیں۔‘‘ کسی شخص کے آباؤ اجداد اور بڑے لوگ تھے یا چھوٹے ، اس سے قطع نظر اس کی اپنی عزت اس کے اپنے اعمال پر منحصر ہے، نہ کہ آباؤ اجداد کے بڑے ہونے پر۔
رحمت دوجہاں حضرت محمد ﷺ نے اعلیٰ حسب ونسب کی نفی کرتے ہوئے خود کو کمزور لوگوں کا سرپرست قرار دیا۔ حضرت ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے اپنے کمزور لوگوں میں تلاش کیا کرو، کیونکہ کمزور اور غریب لوگوں ہی کی وجہ سے تمہیں روزی دی جاتی ہے اور دشمنوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ اس حدیث سے یہ سبق ملتاہے کہ معاشرے کے غریب اور کمزور لوگوں کے ساتھ تعلق رکھنا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے تاکہ اللہ اوراس کے رسول ﷺ ہم سے خوش ہوں۔
اکرام انسانیت کے حوالے سے یہ واقعہ آب زرسے لکھنے کے لائق ہے کہ ایک مسکین عورت بیمار ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کو اس کی بیماری کی خبر دی گئی۔ آپ ﷺ کی عادت تھی کہ مسکینوں کی عیادت کیا کرتے تھے اور ان کا حال احوال پوچھتے تھے۔ آپ ﷺ اس مسکین ونادار عورت کی عیادت کیلئے بھی تشریف لے گئے اور اسے عالم نزع میں دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا:’’جب یہ وفات پاجائے تو مجھے اطلاع دی جائے۔‘‘
کچھ زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ اس عورت کا انتقال ہوگیا، اس کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا لوگوں نے آپ ﷺ کو اس وقت جگانا مناسب نہ سمجھا ، اس لیے آپ کو اطلاع دیے بغیر عورت کو دفن کردیا۔ صبح ہوئی تو آپ ﷺ کو اس عورت کے بارے میں بتایا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’مجھے اس عورت کے انتقال کی اطلاع کیوں نہیں دی گئی؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا :’’یارسول اللہﷺ ! ہمیں یہ بات پسندنہ آئی کہ آپ کو رات کے وقت جگائیں۔‘‘ یہ سن کر نبی رحمت ﷺ اس عورت کی قبر پر تشریف لے گئے وہاں لوگوں کی صف قائم کی اور نماز جنازہ ادا کی۔ اس و اقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ آپ ﷺ اکرام انسانیت کے حوالے سے امیر وغریب میں کوئی فرق روا نہیں رکھتے تھے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں۔
۱۔جب وہ تم سے ملے تو سلام کرو
۲۔جب وہ تمہاری دعوت کرے تو اسے قبول کرو۔
۳۔جب وہ نصیحت اور خیر خواہی کا طلبگار ہوتو اس کے ساتھ خیر خواہی کرو۔
۴۔جب وہ چھینکے اور’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ‘‘کہے تو تم اسے ’’یَرْحَمُکَ اللّٰہِ‘‘ کہہ کرجواب دو۔
۵۔ جب وہ بیمار ہوتو اس کی عیادت کرو۔
۶۔جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوجائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جاؤ۔
دین اسلام نے اکرام انسانیت کے حوالے سے جو اصول وضع کیے ہیں ، ان کے مطابق ایک مسلمان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ:
٭اپنے مسلمان بھائی کی غلطی کو معاف کرے۔
٭اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرے۔
٭اس کے عذر کو قبول کرے۔
٭ اس کی تکلیف کو دور کرے۔
٭ہمیشہ اس کی خیر خواہی کرے۔
٭مشکل وقت میں اس کا ساتھی بنے۔
٭وہ بیمار ہوتو اس کی عیادت کرے۔
٭اس کا ہدیہ قبول کرے۔
٭اس کے احسان کا بدلہ دے۔
٭اس کے تحفے کا شکریہ اداکرے۔
٭مصیبت کے وقت اس کی مددکرے۔
٭اس کے اہل وعیال کی حفاظت کرے۔
٭اس کی درخواست کو سنے۔
٭اسے ناامید نہ کرے۔
٭اس کی گمشدہ چیز اس تک پہنچائے۔
٭اس کے ساتھ نرمی سے گفتگو کرے۔
٭اس کے ساتھ احسان کرے۔
٭ اگر وہ اس کے بھروسے پر قسم کھائے تو اسے پورا کرے۔
٭اگر کوئی اس پر ظلم کرے ، تو اس کی مددکرے۔
٭اس کے ساتھ محبت کرے ، دشمنی نہ کرے۔
٭اس کو رسوا نہ کرے۔
٭ جوبات اپنے لیے پسند کرے ، اپنے بھائی کیلئے بھی وہی بات پسند کرے۔
اسلامی تعلیمات پر مبنی یہ وہ اصول ہیں جن پر نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ نے عمل پیرا ہو کر بنی نوع انسان کو یہ درس دیا کہ وہ اکرام انسانیت کیلئے ان اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ وہ ہمیں اکرام انسانیت کے حوالے سے ان اصولوں پر دل وجان سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
