ماہ محرم الحرام عظیم الشان اور مبارک مہینہ ہے یہ سن ھجری کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ کا واقعہ ہجرت ہے ، لیکن اس سن کا آغاز ۱۷ ھ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت سے ہوا۔

محرم الحرام کو دین اسلام میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے اور یہ حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے محترم قرار دیا ہے ۔یہ مہینہ نہ صرف خود حرمت والا ہے بلکہ اس کا ایک دن جسے (یوم عاشوراء) کہاجاتاہے انتہائی فضیلت والا دن ہے۔

قریش ایام جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک کے علاوہ باقی دنوں میں سے یوم عاشوراء کے روزے کا بہت زیادہ اہتمام کیا کرتے تھے۔

 عن عائشۃ رضی اللہ عنہا کَانَتْ قُرَیْشُ تَصُوْمُ عَاشُوْرَائَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَصُوْمُہُ فَلَمَّا ہَاجَرَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ صاَمَہُ وَأَمَرَ بِصِیَامِہِ فَلَمَّا فُرِضَ شَہْرُ رَمَضَانَ قَالَ مَنْ شَائَ صَامَہُ وَمَنْ شَائَ تَرَکَہُ ‘‘ (البخاری ، باب صوم عاشوراء:۲۰۰۱=۲۰۰۳، ومسلم، الصیام باب فضل صوم یوم عاشوراء :۱۱۲۵)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جاہلیت کے دور میں قریش عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہﷺ بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے پھر جب آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو بھی آپ اس دن کا روزہ رکھتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کا حکم دیتے تھے اس کے بعد جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو آپ نے اختیار دے دیا اور فرمایا جس کا جی چاہے اس دن کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔

حضرت ربیع بنت عوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے اردگرد بستیوں والوں میں یہ حکم بھیجا کہ بستیوں والے یوم عاشوراء کا روزہ رکھیں چنانچہ ہم خود بھی روزہ رکھتے اور اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے اور جب کھانے کیلئے بچے روتے تو ہم انہیں کھلونے دے دیا کرتے تھے تاکہ وہ ان کے ساتھ افطار تک دل بہلاتے رہیں ۔(مسلم ،رقم الحدیث :۱۱۳۶)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ منورہ میں آئے تو آپ نے دیکھا کہ یہودی یوم عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں ۔ آپ نے ان سے پوچھا تم اس دن کاروزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا : یہ ایک عظیم دن ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام نے اس دن کا روزہ شکرانے کے طور پر رکھا اس لئے ہم بھی اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا:’’فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلیٰ بِمُوْسیٰ مِنْکُمْ‘‘ تب تو ہم زیادہ حق رکھتے ہیں اور تمہاری نسبت ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب ہیں پھر آپ نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا حکم دیا۔(البخاری ، کتاب الصوم ، باب صیام یوم عاشوراء :۲۰۰۴)

جب آپ ﷺ کو یہ بتلایا گیا کہ یہود بھی دس محرم کی تعظیم کرتے ہیں تو آپ نے ان کی مخالفت کرنے کا عزم کرلیا۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ جب آپ نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کا حکم دیا تو انہوں نے آپ ﷺ کو بتلایا کہ اس دن کی تویہود بھی تعظیم کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:

’’فَإِذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ صُمْنَا یَوْمَ التَّاسِع‘‘

جب آئندہ سال آئے گا تو ان شاء اللہ ہم نو(۹) محرم کا روزہ بھی رکھیں گے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اگلا سال آنے سے پہلے ہی رسول اکرم ﷺ وفات پاگئے۔ (مسلم، کتاب الصیام ، باب أی یوم یصام فی عاشوراء :۱۱۳۴)

صوم عاشوراء میں یہود کی مخالفت کرنے کیلئے دس محرم کے روزے کے ساتھ نو (۹) محرم کا روزہ بھی رکھنا چاہیے اور اسی چیزکے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما قائل تھے۔ جیسا کہ ان کا قول ہے۔

’’خَالِفُوْا الْیَہُوْدَ وَصُوْمُوْا التَّاسِعَ وَالْعَاشِرَ‘‘(مصنف عبد الرزاق :۷۸۳۹ ، البیہقی ، جلد :۴، صفحہ:۲۸۷)

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’صُوْمُوْا یَوْمَ عَاشُوْرَائَ وَخَالِفُوْا فِیْہِ الْیَہُودَ وصُوْمُوْا قَبْلَہُ یَوْماً أَوْ بَعْدَہُ یَوْماً‘‘(مسند أحمد، مجمع الزوائد۳/۴۳۴، جلد أول، صفحہ:۲۴۱۔ قال أحمد شاکر اسنادہ صحیح)

 تم یوم عاشوراء کا روزہ رکھو اور اس میں یہود کی مخالفت کرو اور اس کے ایک دن پہلے یا اس کے ایک دن بعد کا روزہ رکھو۔

یوم عاشوراء کے روزہ کی فضیلت:

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے یوم عاشوراء کے روزے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:

’’یُکَفِّرُ السَّنَۃَ الْمَاضِیَۃ‘‘(مسلم، رقم الحدیث:۱۱۶۲)

’’یعنی پچھلے ایک سال کے گناہوں کو مٹادیتاہے۔‘‘

اس حدیث کومدنظر رکھتے ہوئے ہر مسلمان کو یوم عاشوراء کے روزے کا اہتمام کرنا چاہیے اور اتنی بڑی فضیلت حاصل کرنے کا موقعہ ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے بقول محرم میں صوم عاشوراء کے سوا کوئی بھی عمل صحیح سند سے ثابت نہیں ۔ (منہاج السنۃ ۴/۱۱، طبع مصر)

لہذا ہمیں بدعات ورسومات سے بچتے ہوئے صرف مسنون عمل ہی کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینوں کے متعلق قرآن میں ذکر کیا۔فرمان الٰہی ہے:

{إِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْراً فِی کِتَابِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْہَا أَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ فَلاَ تَظْلِمُوْا فِیْہِنَّ أَنْفُسَکُمْ}(التوبة:۳۶)

’’جس دن اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان پیدا کیا ، اسی دن سے اللہ کے نزدیک اس کی کتاب میں مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔ ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں یہی صحیح دین ہے پس تم ان میں اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے ابتداسے ہی سال کے مہینوں کی تعداد بارہ رکھی ہے ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ، حرمت والے مہینوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے۔

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’السَّنَۃُ اثْنَا عَشَرَ شَہْراً مِنْہَا اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ : ثَلاَثَۃٌ مُتَوَالِیَاتٌ : ذُوْالْقَعْدَۃِ، ذُوْالْحَجَّۃِ، الْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضرُ الَّذِیْ بَیْنَ جُمَادِیْ وَشَعْبَان‘‘(البخاری ، تفسیر سورۃ التوبة)

سال بارہ مہنیوں کا ہے جن میں چار حرمت والے ہیں تین پے درپے ہیں اور وہ ذوالقعدہ ، ذوالحجہ ومحرم ہیں اور چوتھا مہینہ رجب مضر ہے جوکہ جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتاہے۔‘‘

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ ان حرمت والے مہینوں کی حکمت اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ذوالقعدہ جو حج والے مہینے سے پہلے آتاہے وہ لوگ قتال بند کردیا کرتے تھے اور ذوالحجہ کے مہنیہ میں وہ حج ادا کیا کرتے تھے پھر اس کے بعد ایک مہینہ محرم کا بھی حرمت والا قرار کردیا تاکہ وہ امن وسکون سے اپنے وطنوں کو واپس لوٹ سکیں پھر سال کے درمیان ایک مہینہ رجب کا بھی حرمت والا قرار دے دیا تاکہ لوگ اس میں عمرہ اور زیارت بیت اللہ کیلئے امن سے آجاسکیں۔ (تفسیر ابن کثیر ۲/۴۶۸)

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حرمت والے مہینوں کا ذکر کرنے کے بعدفرمایا{فَلاَ تَظْلِمُوْا فِیْہِنَّ أَنْفُسَکُمْ}ان میں (خصوصی طور) پر تم اپنی جانوں پر ظلم مت کرو۔

ظلم تو سال کے بارہ مہینوں میں منع ہے لیکن ان چار مہینوں کی حرمت وتعظیم اور ان کے تقدس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے منع فرمایا، ان مہینوں میں ظلم سے مراد جنگ وجدال اور قتال ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ} (البقرۃ:۲۱۸)

’’لوگ آپ سے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی بابت سوال کرتے ہیں آپ فرمادیجیے کہ اس میں لڑائی کرنا بڑا گناہ ہے۔‘‘

زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ ان مہینوں کی حرمت وتعظیم کا خیال رکھتے تھے اور آپس کی جنگ اور لڑائی کو ان میں روک دیا کرتے تھے پھر اسلام نے بھی ان کے احترام وتقدس کو برقرار رکھا اور ان میں لڑائی کو کبیرہ گناہ قرار دیا۔

اور ظلم سے مراد یہ بھی ہے کہ تم ان چار مہینوں میں خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچو کیونکہ ان میں نافرمانی کرنے کا گناہ کئی گنا بڑھ جاتاہے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم کو سال کے بارہ مہینوں میں حرام قرار دیا ہے پھر ان میں سے چار مہینوں کو خاص کردیا ہے کیونکہ ان میں لڑائی اور نافرمانی کا گناہ زیادہ ہوجاتاہے ،نیکی او ر عمل صالح کا اجر وثواب بڑھ جاتاہے۔

امام قتادہ رحمہ اللہ تعالیٰ{فَلاَ تَظْلِمُوْا فِیْہِنَّ أَنْفُسَکُمْ}اس آیت کے بارے میں لکھتے ہیں :

حرمت والے مہینوں میں ظلم کا گناہ اور بوجھ دوسرے مہینوں کی نسبت بڑھ جاتاہے اور ظلم کا گناہ اگرچہ ہر وقت بڑا ہوتاہے لیکن اللہ جس مہینے کو چاہے اس میں ظلم کا گناہ اور بڑا کردے۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں میں سے پیغام دینے والے فرشتوں کو چن لیا کلام میں سے قرآن مجید کو چن لیا اور پوری سرزمین میں سے مساجد کو چن لیا اسی طرح مہینوں میں سے ماہ رمضان اور حرمت والے چار مہینوں کو چن لیا ، دنوں میں یوم جمعہ کو چن لیا اور راتوں میں سے لیلۃ القدر کو چن لیاتو اللہ تعالیٰ جسے چاہے عظمت دے  لہذا تم بھی اسے عظیم سمجھو جسے اللہ تعالیٰ عظیم سمجھتاہے۔(تفسیر ابن کثیر ۲/۴۶۸)

ہم سب کو سال بھر میں عموماً، اوران مہینوں میں خصوصاً اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ سے اجتناب کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ان مہینوں کی عظمت وتوقیر کرنے اور عمل صالح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 آمین ثم آمین ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *