رحمت مجسم ھادی اعظم محسن کائناتﷺ کی تشریف آوری اور بعثت سے بڑا احسان اور نعمتِ عظیم کیا ہو سکتی ہے کہ جس نے انسانیت کے تخت خوابیدہ کو بیدار کردیا اور اولاد آدم کو بگڑے ہوئے اخلاق کوسنوار دیا یقینا رسول اللہﷺ کا طرز حیات انسانیت کیلئے مکمل اور احسن ترین ہے آج دین ودنیا کے درمیان ایسا آہنگ درکار ہے جو دنیا کو دین کی رہنمائی میں زندگی گزارنے کے اسلوب  سکھائے ضرورت اس امر کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ سیرت طیبہ کے گوشوں کو صفحہِ قرطاس پر بکھیراجائے تاکہ انسان استحصالی گورھ دھندہ کاشکار ہوئے بغیر عدل و انصاف کے نظام کی فیوض وبرکات اور انعامات سے کما حقہ بہرہ مند ہوسکے، اسی لیے درج ذیل سطور میں سیرت نبویﷺ کے چند گوشے پیش کئے جارہے ہیں تاکہ ہم بھی اپنی زندگیوں کو اسوئہ حسنہ کے تابع کرسکیں۔

ہمارا دعویٰ ہے کہ جناب رسول اکرم ﷺ ہی دنیا میں وہ فرد کامل اور انسان اکمل ہوئے ہیں کہ ان کی نظیر نہ آج تک کوئی پیدا ہوئی اور نہ آئندہ پیدا ہوگی۔

بے شک خدا نے دنیا کی ہدایت کیلئے بڑے بڑے پیغمبر رسول اور نبی مبعوث فرمائے ،بعض قوموں میں رشی اور منی بھی ہوئے گورو اور مہاتما بھی آئے مگر کسی قوم کا ھادی کسی قوم کا پیشوا اور راہنما ایسانہیں ہوا جو انسانی زندگی کا ایک مکمل لائحہ عمل ان کے سامنے رکھ سکے اور اپنی زندگی کو اپنی امت اور اپنی قوم کے تمام افراد کیلئے بطور نمونہ پیش کرسکے۔ یہ فخر صرف اسی قدسی صفات ذات گرامی کو حاصل ہے جوتمام دنیا کے لیے یکساں راہبر اور مرشد وہادی ﷺبن کرآئے اور جس کے متعلق خود مالک الملک نے فرمایا کہ :

{وَمَا اَرْسَلْنَاکَ إِلاَّ کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْراً وَّ نَذِیْراً}(سبا:۲۸)

’’اے حبیب ! ہم نے تجھے تمام دنیا کیلئے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔‘‘

 اسی لیے یہ ارشادبھی فرمایا کہ : { لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ } (الاحزاب :۲۱)

’’یہ رسول ﷺ تمہارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔‘‘

اس کی سیرت سے تم ہر قسم کے سبق حاصل کرسکتے ہو۔ اور دین کے سوا دنیا میں بھی فائز المرام اور کامیاب ہوسکتے ہو۔

رسول اللہﷺ ایک بیٹے کی حیثیت میں

بے عیب بچپن

حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ بچپن میں آپ ﷺ دوسرے بچوں کی طرح شریر نہ تھے نہ بچوں کی طرح گالیاں دیتے تھے نہ فضول کھیل کود میں رہتے تھے نہ لڑتے جھگڑتے تھے ، نہ گاتے تھے نہ گانا سنتے تھے اور نہ ہی کبھی ایسی مجلس میں جانا پسند کرتے تھے ، حالانکہ اس وقت  یہ چیزیںعرب کے بچوں کی گھٹی میں داخل تھیں۔

والدین کا ادب واحترم

آپ ﷺ چونکہ دنیا کے تمام سعید بیٹوں میں سے سب سے بڑھ کر سعید بیٹے تھے۔ اس لیے آپ ﷺ کا دستور العمل یہ تھا کہ :

{فَلاَ تَقُلْ لَّہُمَا اُفٍّ وَّلاَ تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلاَ کَرِیْماً} (بنی اسرائیل :۳۲)

’’ماں باپ جو کچھ بھی چاہیں کہہ لیں مگر تم ان کو جواب دینا یا گستاخی سے پیش آنا تو رہا درکنار انہیں اُف تک نہ کہو۔‘‘

چنانچہ آپ نے اپنی زندگی میں یہ کرکے دکھایا۔

فرمایا کہ تمہیں ماں کی عزت اور خدمت ،باپ سے تین گنا زیادہ کرنی چاہیے۔‘‘

اس لیے کہ اس نے تمہاری تربیت اور پرورش میں باپ سے بہت زیادہ تکالیف برداشت کی ہیں پس اس کا حق خدمت بھی تم پر زیادہ ہے۔

باپ تو بحیثیت صاحب اقتدار ہونے کے حکماً آپ سے خدمت لے سکتاہے مگر وہ بے چاری جو منہ میں زبان بھی نہیں رکھتی اور دنیا میں حقیر وذلیل سمجھی جاتی ہے ، کس طرح تم سے خدمت لے سکتی ہے؟ پس عقلاً واخلاقاً تمہارا فرض ہے کہ ماں کی خاطر داری باپ سے زیادہ ملحوظ رکھواور اس معنی میں فرمایا کہ انسان کی جنت یا جہنم ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔

رضاعی ماں کا احترام

ابو طفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم حضور ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک عورت آئی حضور ﷺ نے ان کے لیے اپنی چادر بچھا دی وہ اس پر بیٹھ گئی جب وہ چلی گئی تو ہم نے آپ ﷺ سے پوچھا : ’’حضور ﷺ یہ کون تھیں۔‘‘؟

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ یہ میری رضاعی ماں تھیں۔‘‘

سُبْحَانَ اللّٰہِ ! یہ احترام رضاعی ماں کا ہے حقیقی ماں ہوتی تو نہیں معلوم کس قدر احترام ہوتا اور کتنی عزت افزائی ہوتی۔

رسول معظمﷺ ایک شوہر کی حیثیت میں

ازواج رضی اللہ عنہن سے حسن سلوک

دنیا کہا کرتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو ایک ’’خوبصورت سانپ‘‘ بنا کر پیدا کیا ہے اور انسان کو ہشیار کیا ہے کہ اس کی خوبصورتی کی طرف نہ دیکھے بلکہ اس کے زہر سے بچے مگر حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں بیویوں سے محبت کروں اور انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھوں اور جو رحمتیں اس نے مجھ پر کی ہیں ان میں سے ایک رحمت یہ ہے کہ میرے دل میں اپنی بیویوں سے محبت پیدا کردی ہے۔

بیویوں سے طرز عمل

نبی ﷺ ہر ایک شوہر کے لیے ضروری بتایا کرتے تھے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ خوش مذاق ہو۔ اس کا مزاج شناس ہو ۔ اس کے جذبات واحساسات کا احترام کرتا ہو، اس سے محبت ودل داری کا طریقہ جانتاہو ۔ حضور ﷺ اپنی گوناگوں مصروفیتوں اور بھاری ذمہ داریوں کے باوجود روزانہ بعد عصر ہر ایک بیوی کے پاس اس کے مکان پر تشریف لے جاتے۔ ان کی ضروریات معلوم فرماتے اور بعد از مغرب سب سے ایک مختصر ملاقات فرماتے اور شب کو مساویانہ طور پر نوبت بہ نوبت ہر ایک گھر میں استراحت فرمایا کرتے تھے۔(ابو داؤد ، کتاب النکاح ، باب فی القسم بین النساء )

ہر ایک بیوی کی رہائش کا مکان الگ الگ تھا اور سب مکان جن کو اللہ پاک نے{حَجُرَات} اور {بُیُوْتُ النَّبِیِّ} اور {بُیُوْتَکُنَّ} فرمایا ہے باہم پیوستہ تھے۔ مکان نہایت مختصر تھے اور اثاثۃ البیت (فرنیچر) اس سے بھی زیادہ مختصر ہوتا تھا اور تکلف نام کی کوئی چیز نہ تھی۔

عورتوں کی اصلاح

گھروں میں کبھی نہ کبھی چپقلش کاہوجانا بھی لازمی امر ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ جن میاں بیوی میں محبت حد سے بڑھی ہوئی ہوتی ہے وہ بھی کسی نہ کسی وقت باہم روٹھ ہی بیٹھتے ہیں ۔ بقول حالی مرحوم :

بگڑیں نہ بات بات پہ کیوں جانتے ہیں وہ

ہم وہ نہیں کہ ہم کو منایا نہ جائے گا

بھلا پھر حضور ﷺ اس کلیہ سے کس طرح مستثنیٰ رہ سکتے تھے؟ آپ ﷺ کی زندگی میں بھی جس نے دوسروں کے لیے نمونہ بنتا تھا اس چیز کا پایا جانا نہایت ضروری تھا چنانچہ کتب تواریخ سے ہمیں صرف دو تین ہی ایسے واقعات مل سکتے ہیں جن سے حضور ﷺ کی ناراضگی کا پتہ چلتاہے اور لطف یہ کہ اس ناراضگی میں بھی سبق پایا جاتاتھا۔آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ناراض ہوتو اپنا بستر اس سے الگ کرلے اور اسی پر اکتفا کرے نہ خود گھر سے نکلے نہ اسے گھر سے نکالے۔ہاں کبھی اتنی ہی ناراضگی ہو کہ مارنے تک نوبت آجائے تو منہ پر نہ مارے یعنی وحشیوں کی طرح نہ مارے گویا مارنے میں بھی احتیاط اور اعتدال کو پیش نظر رکھاجائے۔مگر بہتر یہی ہے کہ بغیر مارنے کے ہی اس کی اصلاح کردے۔ کیونکہ یہ ’’پسلی کی ہڈی کی طرح ہے ، اگر سیدھا کروگے تو ٹوٹ جائے گی۔ اس کو اس کی اصلی حالت پر چھوڑ دوگے تو تنگ کرے گی۔‘‘

آپ ﷺ کا کامل نمونہ

آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کے ساتھ محبت والفت میں تلطف اور دل داری میں ادائے حقوق ووفاداری میں، تعلیم وتربیت میں ، تادیب واصلاح میں اور پھر مختلف بیویوں سے عدل وانصاف میں جوکامل نمونہ پیش کیا ہے وہ جب تک نسل انسانی کا وجود قائم ہے دنیا کے لیے ایک شمع ہدایت کاکام دے گا۔

رسول کریم ﷺ ایک باپ کی حیثیت میں

حضور ﷺ کی اولاد سے محبت

حضور اکرم ﷺ کو اپنی اولاد سے بہت محبت تھی اس لئے شادی کے موقعہ پر خوشی کاسامان فراہم نہ کیا اور چونکہ ہم پر اولاد کی محبت غالب ہے اور ہم شادی ہی کے موقعہ پر اس کی ساری خوشی دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے تکلفات سے کام لیتے ہیں۔

حضورﷺ کو اپنی اولاد سے اتنی محبت تھی کہ شاید ہم میں سے کسی کو بھی اتنی محبت نہ ہو ہاں فرق اتنا ہے کہ حضور ﷺ کی محبت کا معیار بلند تھا۔ حضور ﷺ محبت کا اسلوب جداگانہ تھا ہماری محبت کا معیار پست ہے ، ہماری محبت کا طریق غلط ہے ۔

حضور ﷺ کو بے شک اولاد سے محبت تھی مگر یہ محبت رب کی محبت سے غالب نہ تھی ۔آپﷺ آیہ مبارکہ

{یَاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَ تُلْہِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَلاَ اَوْلاَدُکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ} (المنافقون :۹)

’’اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں۔‘‘ کی حقیقت سے آگاہ تھے اور اس محبت میں بھی خالق کی محبت نمایاں رہتی تھی۔

اولاد کی تعلیم وتربیت

اگرچہ اصول تو یہی ہے کہ جسے جتنی اپنی اولاد زیادہ پیاری ہوتی ہے اسے اتنا ہی اس کی تعلیم وتربیت کا زیادہ خیال ہونا چاہیے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ فی زمانہ جسے اپنی اولاد سے زیادہ پیار ہوتاہے اتنی ہی اس کی اولاد نالائق اور جاہل رہتی ہے کیونکہ وہ حدسے زیادہ پیار اور لگاؤ کی وجہ سے اس کی تعلیم کا اتنا خیال نہیں کرتے جوکرنا چاہیے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ آہستہ آہستہ اولاد کے اخلاق تباہ ہوجاتے ہیں ۔ مگر حضور ﷺ ہیں کہ پیدائش سے ہی اولاد کی اصلاح کے درپے ہوجاتے ہیں اور آہستہ آہستہ اسے وہ تعلیم دیتے ہیں کہ بچہ سن شعور کو پہنچتے ہی بڑوں کی طرح دانا ہوجاتاہے اور جوبات کرتاہے ایسی جچی تلی کرتاہے کہ بڑے بڑے مدبر بھی حیران رہ جاتے ہیں۔اس میں کوئی کلام نہیں کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں اس زمانہ کی طرح اسکول اور مدرسے نہ تھے اور نہ ہی کتابیں ہوتی تھیں کہ بچوں کو پڑھا دی جاتیں۔ حضورﷺ توباتوں ہی باتوں میں توحید وسنت اور عقل ودانش کی(جسے آج منطق وفلسفہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے نام سے تعبیر کیا جاتاہے) تاریخ وسیر کی ، اخلاق ومعیشت کی اور نامعلوم کن کن علوم وفنون کی تعلیم فرمادیا کرتے تھے ۔

صحیح تعلیم وتربیت کے دوررس اثرات

آپ ﷺ کی تعلیم صرف دین اور مذہب ہی تک محدود نہ رہتی بلکہ آپ ﷺ اپنی اولاد کو میاں بیوی کے حقوق ، اصلاح معاشرت کے متعلق بھی بتاتے تاکہ ان کی گھریلوزندگی بھی شیریں ثمرات پیدا کرسکے۔

حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح قبل از نبوت ابو العاص سے ہوا تھا مگر آپ ﷺ نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اور ابو العاص کو باہمی محبت کے وہ سبق دیئے تھے جو فریقین اخیر عمر تک بھی نہ بھولے۔ حالانکہ مدت تک ان میں مذہبی تفریق بھی رہی یعنی حضرت زینب رضی اللہ عنہا اسلام میں داخل ہوگئیں مگر ابو العاص اسلام نہ لائے مخالفین نے ہرچند اسے طلاق پر مجبور کیا مگر اس کے جو تعلقات بیوی سے استوار ہوچکے تھے وہ نہ ٹوٹے اور نہ ہی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی طرف سے ان میں کوئی خلل آیا آخر یہ تعلیم نبوی ﷺ ہی کا اثر تھا۔

حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے تعلقات جو خاوند سے تھے وہ تو عرب میں ضرب المثل ہی بن گئے تھے۔آپ ﷺ خاوند کو حکم دیتے ہیں کہ زوجہ سے اچھا برتاؤ کرے جوخود کھائے اسے کھلائے جو خود پہنے اسے پہنائے اور ہر حال میں اس کے حقوق کی نگہداشت رکھے مگر اس کے ساتھ ہی عورت کو حکم ہوتاہے کہ وہ اپنے شوہر کی فرمان برداری اپنا فرض سمجھے اور اس کی اطاعت میں سرموفرق نہ آنے دے تاکہ د ونوں کے تعلقات خوش گوار رہیں۔ لیکن پھر بھی زن وشوہر کے تعلقات معاشرت ایسے اہم اور نازک ہوتے ہیں کہ کبھی نہ کبھی رنج وملال کا اظہار ہوہی جاتاہے۔

رسول رحمت ﷺ ایک جرنیل کی حیثیت میں

غزوات نبوی کی شاندار کامیابی

الغرض تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں جس قدر جنگیں ہوئیں ان میں مسلمانوں کے کل ۲۵۹ آدمی شہید ہوئے ایک اسیر اور صرف ۲۷ زخمی ہوئے مگر بخلاف اس کے دشمن ۷۵۹ آدمی مقتول اور ۶۵۶۴ اسیر ہوئے۔ جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمان بے سروسامان ہونے کے باوجود محض حضور ﷺ ایسے کمانڈر انچیف کی وجہ سے کس قدر محفوظ ومصئون اور کامیاب ہوتے رہے اور ہر مرحلے پر کامرانی ان کے قدم چومتی رہی۔

حضور ﷺ کی جنگی قابلیت

یہ صرف چند واقعات ہیں جو حضور ﷺ کی شجاعت کے متعلق نقل کیے گئے ہیں ورنہ اگر صحیح طور پر حضور ﷺ کے جنگی حالات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ شاید آپ دنیا میں ایک قابل جرنیل کی حیثیت میں مبعوث ہوئے تھے۔ اور دنیا کو صرف فنونِ حرب کی تعلیم وتلقین ہی کی غرض سے تشریف لائے تھے کیونکہ ان کے جنگی کارنامے پتہ دے رہے ہیں کہ آپ ﷺ فوجوں کی ترتیب اور جنگ کا نقشہ تیار کرنے میں وہ مہارت رکھتے تھے جو بہت ہی کم کسی کے حصے میں آئی ہے۔

نپولین اور واٹرلو

نپولین کانام آج مغربی دنیا کے بچہ بچہ کی زبان پر ہے اور ہر شخص اس کی عجیب وغریب جنگی قابلیتوں کا معترف ہے ۔ واٹرلو کی مشہور ومعروف لڑائی میں جب اسے شکست ہوئی تو اس کا باعث صرف یہ تھا کہ جنگ کا جو نقشہ اس نے تیار کیا تھا اس کے مطابق اس کے دو افسروں کا ایک خاص مقام پر ایک وقت مقررہ میں پہنچ جانا چاہیے تھا ان دونوں میں سے ایک تو جرنل بلوشے، اپنے ٹھیک وقت پر پہنچ گیا مگر دوسرا نہ پہنچ سکا اور نپولین کی فتح شکست میں تبدیل ہوگئی کیونکہ اس کی جنگی چالیں اور نقشے اس درجہ صحیح ہوتے تھے کہ ایک افسر کے صرف چند منٹ دیر میں پہنچنے سے تمام نقشہ بدل جاتا اور فتح شکست کی صورت اختیار کرلیتی بعینہ اسی طرح واقعہ غزوئہ احد میں نبی ﷺ کو پیش آیا۔

غزوہ  احد کا نقشہ

آپ ﷺ نے اپنی مختصر سی فوج کا ایک حصہ پہاڑ کے درہ کی حفاظت کے لیے چھوڑ دیا تھا اور انہیں تاکید کردی کہ خواہ حالات کچھ ہی کیوں نہ ہوں وہ اس درہ کو نہ چھوڑیں اور اگر دشمن اس طرف آنے کا قصد کرے تو ان پر تیر برسا کر انہیں روکیں چنانچہ لڑائی شروع ہوئی اور مسلمان اگرچہ تعداد میں بہت کم تھے لیکن آپﷺ نے انہیں اس خوبی سے لڑایا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں مخالفین کے بہت سے سردار مارے گئے اور ان کے پاؤں اکھڑ گئے ۔ مسلمانوں نے بھاگتے ہوئے دشمن کو لوٹنا شروع کردیااور گویا کامل فتح حاصل کرلی چنانچہ دشمنوں کو بھاگتے اور مسلمانوں کو ان کا تعاقب کرتے ہوئے دیکھ کر وہ تیر انداز جو درہ پر متعین تھے مطمئن ہوگئے اور اپنی جگہ سے ہٹ کر باقی فوج کے ہمراہ مالِ غنیمت اکھٹا کرنے میں مصروف ہوگئے مخالفین نے جب یہ دیکھا کہ درہ خالی پڑا ہے تو وہ آگے جاکر پھر جمع ہوگئے اور درہ کی جانب سے جوکہ مسلمانوں کی پشت پر تھا یکایک حملہ کردیا جس سے مسلمانوں کی فتح شکست میں تبدیل ہوگئی ۔ (بخاری ، کتاب الجہاد ، باب ما یکرہ من التنازع ، حدیث نمبر ۳۰۳۹)

اگرچہ وہ شکست تھوڑی سی دیر کے لیے تھی مگر تاہم شکست توہوئی اور محض اس لیے ہوئی کہ حضور ﷺ جیسے ماہر فن جرنیل کے حکم کی خلاف ورزی کی گئی یہ الگ بات ہے کہ ان کی یہ غلطی ارادی نہ تھی اجتہادی تھی۔

رسول عربی ﷺ ایک حکمران کی حیثیت میں

جب ہم حضور سرور عالم ﷺ کو ایک حکمران کی حیثیت میں دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتاہے حضور ﷺ نے عنانِ سلطنت کو ہاتھ میں لیتے ہی جو جو کام کیے وہ جملہ ملوک عالم میں سے کوئی حکمران بھی سرانجام نہیں دے سکا ۔ آپ ﷺ نے عرب کی حکومت ہاتھ میں کیالی؟ کہ عرب کی کایا ہی پلٹ دی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ انقلاب برپا ہوا کہ دنیا حیران رہ گئی۔

پیغمبر انقلاب

آپ ﷺ نے تھوڑے ہی عرصہ میں عرب کو کچھ سے کچھ بنا دیا اس کی تاریکی وجہالت کو نوروعلم سے بدل دیا ، باطل پرستی کو حق پرستی سے ، نفس پروری اور خود غرضی کو ہمدردی سے ، ظلم وتکبر وتغطرس کو عدل وانکساری سے، گستاخی وسرکشی کو ادب واطاعت سے اور فاقہ کشی کو آسائش وخوش حالی سے تبدیل کردیا۔ جہاں انسان انسان سے محفوظ نہ تھا وہاں شیر بکری ایک گھاٹ میں پانی پینے لگے جہاں خونِ انسانی کی کوئی قدرنہ تھی وہاں چرند پرند کی حفاظت فرض ہو گئی جہاں غلام کوڑی کوڑی کو بِک کرنشانہ ظلم بنتاتھا وہاں غلاموں کو درجہ سرداری ملا جہاں عورت باعث عار تھی وہاں باعث رحمت اور محبوب ترین چیز ہوکر مقام ناز پر کھڑی کی گئی جہاں مسافر لوٹے جاتے تھے وہاں مسافر ومہمان کیلئے اپنے پیٹ کی روٹی وقف ہوگئی۔

رسول اللہ ﷺ ایک جج کی حیثیت میں

حق تعالیٰ نے جہاں حضور ﷺ کو اور بہت سی خصوصیتوں سے سرفراز فرمایا تھا وہاں آپ ﷺ کے عدل وانصاف اور قوت فیصلہ کا وہ بے نظیر ملکہ بھی عطا کردیا تھا کہ جس کی مثال کسی دوسری جگہ ملنا دشوار ہے۔جومسائل بڑے بڑے دماغ حل نہ کرسکتے تھے آپ ﷺ نے معمولی توجہ سے باتوں ہی باتوں میں طے کر دیئے الجھے ہوئے معاملات اور باہمی اختلافات کا تصفیہ اس خوب صورتی سے فرماتے کہ ہر فریق مطمئن اور مسرور ہوکر واپس جاتا۔

ایک جج کیلئے ضروری باتیں

ہر عادل اور منصف جج کیلئے ضروری ہے کہ وہ ’’ذاتی اغراض سے بے نیاز ہوکر فریقین سے حسن سلوک کا برتاؤ کرے، کسی کی ناجائز جانب داری نہ کرے، اہل معاملہ بلاامتیاز مذہب وملت قوم ونسل اس پر اعتماد کریں، واقعات کو کھوج کھوج کر نکالے، گواہوں اور قسموں سے مقدمات کی صورت متعین کرے اور ان میں وضاحت پیدا کرے، اپنی محنت اور کوشش سے بینات بہم پہنچائے، اپنی معاملہ شناس طبیعت سے مقدمات حل کرے ، فیصلہ کے وقت اپنی طبیعت کو جوش اور غصہ سے الگ رکھے۔‘‘

اگر یہ جملہ اوصاف کسی جج میں موجود ہوں تو یقینا وہ جج کہلانے کا مستحق ہے ورنہ بصورت دیگر وہ صحیح معنوں میں جسٹس ،جج ، حاکم یا قاضی نہیں کہلا سکتا۔

کفارومشرکین کا اعتراف

حضرت نبی کریم ﷺ نبوت سے پیشتر ہی مکہ میں جج تسلیم کیے جاچکے تھے ، آپ ﷺ کو امین وصادق کا خطاب مل چکا تھا ، عرب کا بچہ بچہ جانتا تھا کہ محمد ﷺ جوکچھ کہتا ہے اور جو کچھ کرتاہے وہ بالکل صحیح ہوتاہے ، یہاں تک کہ ابو جہل جیسا مخالف بھی نبوت سے قبل آپ ﷺ کی ان خوبیوں کا معترف رہا اور نبوت کے بعد بھی وہ آپ ﷺ کی ذات سے پرخاش نہ رکھتا تھا بلکہ اس چیز سے دشمنی رکھتا تھا جو حضور ﷺ پیش کرتے تھے چنانچہ یہ آیت مبارکہ اسی شان میں نازل ہوئی :

{اِنَّہُمْ لاَ یُکَذِّبُوْنَکَ وَلٰکِنَّ الظَّالِمِیْنَ بِاٰیَاتِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ} (الانعام :۳۳)

’’وہ تجھ کو تو نہیں جھٹلاتے لیکن ظالم آیات الٰہی سے انکار کرتے ہیں۔‘‘

رسول کریم ﷺ ایک شہری کی حیثیت میں

بیماروں کی بیمار پرسی

آپ ﷺ جب سن لیتے کہ فلاں محلہ میں فلاں مسلمان بیمار پڑا ہے تو اس کی عیادت کیلئے تشریف لے جاتے اور بیمار پرسی میں کسی امیر یا غریب میں کوئی تفریق نہ کرتے بلکہ چھوٹے چھوٹے آدمیوں کی بھی عیادت کرتے اور جن بیماروں کی حالت نازک دیکھتے انہیں اپنے مکان کے قریب لے آتے تاکہ باربار ان کی عیادت کرسکیں ، چنانچہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ جب غزوئہ احزاب میں زخمی ہوئے تو ان کا خیمہ مسجد میں لگوادیا تاکہ آپ ﷺ ہر وقت ان کی خبر گیری کر سکیں۔

قبائل کی مصالحت

 حضور ﷺ نے ایک شہری ہونے کی حیثیت سے اس چیز کو بھی اپنے فرائض میں داخل کررکھا تھا کہ اگر کہیں دو شخص یا دو قبیلے لڑپڑتے ، تو آپ ﷺ ان کی صلح کیلئے تشریف لے جاتے اور ہر ممکن کوشش سے ان میں صلح کرادیتے۔

صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ بنی عمرو اور بنی عوف میں باہم نزاع ہوگیا حضور ﷺ ان کی صلح کیلئے تشریف لے گئے اور ان کی صلح کرانے میں حضور ﷺ کو اتنی دیر ہوئی کہ نماز کاوقت بھی تنگ ہوگیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔

قارئین کرام! حضور اکرم ﷺ کی زیست تمام ہمارے لیے مشعل راہ ہدایت ہے ۔ اس لیے عہد کریں کہ ہر قول وفعل میں حضور اکرم ﷺ کے قول وفعل کو مقدم رکھیں ، اسی میں دنیا وآخرت کی کامیابی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *