قسط نمبر: 11

أس ر

 باب ضرب یضرب اس پر غلبہ حاصل کرلیا اور پکڑ لیا أسیر جس کو جنگ کے دوران غلبہ کے بعد پکڑ لیا جائے خواہ اسے باندھا نہ جائے۔ (القاموس القدیم)

أسر ، الاسار

وہ تسمہ یارسی جس سے کسی چیز کو باندھ لیا جائے۔

الأَسِیْرُ : کسی چیز کو رسی وغیرہ سے باندھ لینا بلکہ بندش وغیرہ کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتاہے۔ اور اس کے معنی انسانی جسم یا ہیت کے بھی ہوتے ہیں۔

الأسیر : قیدی باندھا ہو آدمی جس کی جمع أساری اور أسری آتی ہے۔ (تاج العروس ) (مفردات فی الفاظ القرآن / راغب)

ابن فارس بیان کرتے ہیں کہ اس کے بنیادی معنی روک دینے اور قید کردینے کے ہیں۔ باندھنے کے مفہوم سے ایک اور معنی بھی سامنے آتاہے جو مضبوطی اور استحکام پر بھی دلالت کرتاہے۔ بندش پیشاب کی بیماری کو بھی ’’أسر‘‘ کہتے ہیں۔ (تاج العروس)

سورہ الدھر میں ہے :

{ نَحْنُ خَلَقْنَاہُمْ وَشَدَدْنَا أَسْرَہُمْ }  (الدہر:۲۸)

’’ہم نے انہیں پیدا کیا اور ان کے جوڑوں کو مضبوطی سے باندھ دیا۔‘‘

یہاں انسانی جوڑوں کی بندش مراد ہے جو قدرت الٰہی سے آپس میں مضبوطی سے بندھے ہوتے ہیں۔ نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں : کہ جن الفاظ میں ھمزۃ کے ساتھ سین آئے ان میں قوت اور شدت کا مفہوم مضمر ہوتاہے اس سے اس کا مفہوم واضح ہوتا ہے۔  (العلم الخفاق فی علم الاشتقاق)

٭ قرآن مجید میں اس کے درج ذیل مشتقات استعمال ہوئے ہیں۔

أسْرَہُمْ ، تَأْسِرُوْنَ ، أَسِیْراً ، أَسْرَی ، أُسَارَی

٭ قرآن مجید میں یہ لفظ درج ذیل مفاہیم میں استعمال ہواہے۔

۱۔ قید / قیدی

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

{وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِیْناً وَّیَتِیْماً وَّ أَسِیْراً} (الدھر : ۸)

’’اور وہ اس کی محبت میں مساکین ، یتامی ، اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔‘‘

{مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَّکُوْنَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الْأَرْضِ} (الانفال :۶۷)

’’کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔‘‘

{وَاِنْ یَأْتُوْکُمْ أُسَارَی تُفَادُوْہُمْ }(البقرۃ: ۸۵)

’’اور اگر تمہارے پاس قیدی بن کر آئیں تو تم ان کی رہائی کیلئے فدیہ کا لین دین کرتے ہو۔‘‘

۲۔بندش :

جوڑوں میں مضبوطی واستحکام

 { نَحْنُ خَلَقْنَاہُمْ وَشَدَدْنَا أَسْرَہُمْ } (الدہر)

’’ہم نے انہیں پیدا کیا اور ان کے جوڑوں کو مضبوطی سے باندھ دیا۔‘‘

أس ف

٭ الأسف

باب فَرِحَ یَفْرَحُ سے أَسِفَ یَأْسَفُ ایسا غصہ جس میں غم اور حزن بھی پایا جائے یا ایسا حزن جس کاتعلق غضب اور غصہ سے ہو۔اور کبھی اکیلے بھی استعمال ہوتے ہیں لیکن ایسا استعمال بہت کم پایا جاتاہے۔

صاحب تاج العروس اس کے معنی بیان کرتے ہیں کہ کسی چیز کے کھوجانے پر شدید ترین حزن کو کہتے ہیں ۔ (تاج العروس)

جیسا کہ نواب صدیق خان کا قول گزر چکا ہے کہ جن الفاظ میں ھمزۃ اور سین ساتھ آئیں ان میں شدت اور قوت کا مفہوم مضمر ہوتاہے ۔(العلم الخفاق فی علم الاشتقاق)

جیسا کہ سورۃ الأعراف میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی طرف آئے۔

{غَضْبَانَ أَسِفاً } (الأعراف :۱۵۰)

’’غصہ میں بھرے ہوئے افسوس کرتے ہوئے۔‘‘

جبکہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ : أَسِفٌ سے مراد انتقام کے جذبہ کے تحت خون دل کا جوش کھاناہے اگر یہ کیفیت اپنے سے کمتر کے لئے پیش آئے تو غضب کہلاتی ہے اور اگر اپنے سے برتر کیلئے پیش آئے تو حزن کہلاتی ہے ۔ (راغب اصفہانی)  (ماخوذ از قول ابن عباس )

اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے خود اپنے متعلق فرمایا :

{فَلَمَّا آسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْہُمْ }(الزخرف :۵۵)

’’جب انہوں نے ہمیں ناراض کیا تو ہم نے انہیں ان کے جرموں کی سزا دی۔‘‘

اور سورۃ یوسف میں حضرت یعقوب علیہ السلام کا قول ہے :

{یٰأَسَفَیٰ عَلیَ یُوْسُفَ} (یوسف :۸۶)

’’وائے افسوس یوسف۔‘‘

لہذا عام حالات میں اس کے معنی حزن و تاسف کے ہوں گے۔ اور ابن فارس نے بھی اس کے بنیادی معنی فوت( یعنی ہاتھ سے نکل جانا) اور حسرت تأسف بتائے ہیں۔ (مقابین اللغۃ )

اور ایسے غلام کو بھی أسیف کہتے ہیں جو اپنی کھوئی ہوئی آزادی پر ہمیشہ محزون رہتاہو اور ایسے آدمی کو بھی جو بہت جلد غمگین ہوجاتاہو۔ (تاج العروس)

٭ قرآن مجید میں اس لفظ کے درج ذیل مشتقات استعمال ہوئے ہیں۔

آسفونا ، أسفاً ، أسِفاً ، أَسَفی ٰ

٭ قرآن مجید میں یہ لفظ درج ذیل مفاہیم میں استعمال ہوا ہے۔

۱۔ الحزن : غم ، حزن ، افسوس

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے 

{ وَتَوَلَّی عَنْہُمْ وَقَالَ یَا أَسَفیٰ عَلَی یُوْسُفَ } (یوسف :۸۴)

’’پھر ان سے منہ پھیر لیا اور کہا ہائے یوسف۔‘‘

{غَضْبَانَ أَسِفاً } (الأعراف :۱۵۰)

’’غصہ میں بھرے ہوئے افسوس کرتے ہوئے۔‘‘

فائدہ : أسفاً کے ساتھ غضبان کا استعمال اس امر پر دلالت کررہاہے کہ بسا اوقات غم یا افسوس غصہ کے بغیر بھی ہوسکتاہے۔

۲۔غضب : غصّہ ، ناراضی

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

{فَلَمَّا آسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْہُمْ } (الزخرف :۵۵)

’’جب انہوں نے ہمیں ناراض کیا ۔‘‘

مقاتل بن سلیمان لکھتے ہیں کہ پورے قرآن میں جہاں بھی یا أسفا استعمال ہواہے اس کا تعلق حزن یعنی غم اور افسوس سے ہے سوائے ایک مقام کے جو سورہ الزخرف میں ہے ۔

{فَلَمَّا آسَفُوْنَا}

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *