آج وطن پاکستان میں بجلی اور پانی کا بحران ہے اور مہنگائی کا شکنجہ ہے جو دن بدن سخت ہوتا جا رہا ہے، اس سے پوری قوم پریشان ہے ۔اور حکومتی سطح پر جو علاج کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس کے نتائج بھی کوئی زیادہ مثبت نظر نہیں آئے ، بلکہ آئی ایم ایف کے قرضوں کی صور ت میں ایک نیا عذاب سامنے ہے۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔۔

بحیثیت مسلمان اور حامل قرآن ہونے کے ہمیں اپنی ان مشکلات کے اسباب قرآن کریم میں نظر آتے ہیں ۔ اور پھر ازلی وابدی کتاب میں ان کا علاج بھی بتایا گیا ہے ۔

قرآن کریم افراد اور قوموں کو متنبہ کرتا ہے کہ

{وَمَا أَصَابَکُم مِّن مُّصِیبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیکُمْ }(الشوریٰ: ۳۰)

’’تمہیں جو بھی آفت اور مصیبت آتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں ہی کی کمائی ہوتی ہے ‘‘

یہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ظلم نہیں ہوتا، یہ مکافات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ بلکہ وہ تو تمہارے بہت سے گناہوں اور نافرمانیوںکو ویسے ہی معاف فرماتا رہتا ہے ، اللہ سے بغاوت اوراس کے نظام و قانون سے انحراف کوئی معمولی بات نہیں ۔ اس کے پیغمبر سے بے اعتنائی کو ئی معمولی جرم نہیں (ان چیزوں کو قرآن کریم میں کفر وشرک اور پیغمبر کی سنت سے اعراض کو بدعت سے تعبیر کیا جاتا ہے )

انفرادی گناہ : اللہ تعالیٰ نے فرماتا : ہر شخص اپنے طور پر ان سے آگاہ ہوتاہے۔ مگر قومی وملّی طور پر جس ملک میں زنا ، بدکاری اور فحاشی کو قانونی تحفظ دیا جائے بلکہ اسے فروغ دینے کے اسباب وذرائع عام کیے جائیں۔ ریڈیو، ٹی وی ، وی سی آر اور سی ڈیز کے ذریعے نت نئے انداز سے نسل نو کو ان سے آگاہ کیا جائے اور ان گناہوں کی وقاحت اور برائی ذہنوں سے دور کرنے کی پوری کوشش ہو تو وہاں سے اگر رزق نہ اٹہا لیا جائے تو اور کیاہو؟

سُود اور جُوئے کو جس قانون میں ھنیئاً مریئاً (خوش گوار) بنا لیا جائے۔ جسے اللہ نے اپنے ساتھ جنگ کے مترادف قرار دیا ہے ۔(البقرۃ : ۲۷۹)

وہاں رحمتیں کیسے آئیں؟ صدیوں سے بہنے والے دریا اگر خشک نہ کردئیے جائیں یا ان کا رخ نہ موڑ دیا جائے تو اور کیا ہو؟ اور ظلم کے متعلق امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ وغیرہ لکھتے ہیں کہ : ’’اللہ تعالیٰ حکومتوں میں شرک تو برداشت فرمالیتاہے مگر مخلوق پر ظلم برداشت نہیں فرماتا ( فرعون کی مثال پیش نظر رہے)۔

ہمارے اندر اس پہلو سے قومی سطح پر ’’شرک اکبر‘‘ درآیاہے کہ نعوذ باللہ پانی اور بجلی ہمیں یہ دریا دیتے ہیں ، اگر یہ دریا نہ ہوتے تو ہم پانی کہاں سے پئیں گئے اور بجلی کیسے حاصل ہوگی ؟ کھیت کس طرح سیراب ہوں گے؟ حالانکہ اس مالکِ کون ومکان کے پاس اپنی مخلوق کو پانی ، بجلی اور رزق دینے کے دسیوں کیا بے شمار ذرائع ہیں ۔ وہ ان ذرائع کا محتاج نہیں ہے بلکہ یہ ذرائع اس کے محتاج ہیں کہ وہ ان سے کوئی خدمت لے لے ۔ سورئہ الطلاق میں فرمایا :

{مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہُ مَخْرَجاً وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبْ } (الطلاق : ۲۔۳)

’’یعنی جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے ، اللہ اس کیلئے مشکلات سے نکلنے کی راہ بنادیتاہے ۔ اور وہاں وہاں سے رزق دیتاہے جہاں سے بندے کو گمان بھی نہیںہوتا۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ ملّی سطح پر ہم اس شرک میں مبتلا ہیں اس لیے ضروری ہے کہ اپنے عقیدے اور عمل کی اصلاح کی جائے۔

سورہ نوح میں اس حقیقت کو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ :’’یہ لوگوں کے اپنے گناہ ہی ہوتے ہیں جو انہیں لے ڈوبتے ہیں ۔‘‘ (نوح :۲۵)

ابتداء سورہ میںسیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو متنبہ کیا کہ تمہیں اپنی زندگی کیلئے پانی چاہیے ۔ کھیتیاں اور باغات سرسبز چاہییں ، دریا اور نہریں رواں چاہییںاور ان کے ساتھ ساتھ مال واولاد کی ضرورت ہے تواپنے خالق ومالک کے حضور استغفار کرو، معافیاں مانگو ، وہ تمہاری ضرورت کی چھوٹی بڑی ہر ہر ضرورت پورے فرما دے گا۔

سورہ الذاریات میں فرمایا :

{وَفِی السَّمَاء رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ} (۲۲)

’’تمہارا رزق آسمان میں ہے ، اور وہ سب چیزیں بھی جن کا تم سے وعدہ کیا جارہاہے۔‘‘

قرآن کریم کی اپنی امت سے یہی پکار ہے کہ اجتماعی طور پر اپنے عقیدے کی اصلاح کریں ۔ اللہ کے علاوہ اور کوئی روزی رساں نہیں ہے ہرچیز کے خزانوں کا وہی مالک ہے ، اور جو اس کے درپر آجائیں وہ ان کو کسی طرح سے محروم نہیں چھوڑتا ہے ۔ شرک اکبر ہو یا اصغر جلی ہو یا خفی ۔ یہ اللہ سے بغاوت ہے اور بغاوت تو دنیا کا کوئی معمولی بادشاہ بھی قبول نہیں کرتا۔ اللہ عزوجل کیسے قبول کرلے۔؟

ان گناہوں کا عقاب آخرت میں تو یقینا ہوگا ، اس دنیا میں بھی ان کے اثرات سے لوگ محفوظ نہیں رہ سکتے ، مگر اللہ نے اپنا نام ’’صبور‘‘ اور ’’حلیم‘‘ بھی رکھا ہے کہ وہ لوگوں کی بغاوت اور نافرمانی کو حتی الامکان برداشت اور مؤخر کرتا رہتاہے اور اس کا قانون اِمھال (مہلت دینا) اپنے اندر بڑی حکمتیں رکھتاہے  یہی وجہ ہے کہ قومیں فوراً ہلاک نہیں کردی جاتیں بلکہ انہیں موقعہ بموقعہ ومسلسل متنبہ کیا جاتاہے جیسا کہ سورت الم السجدۃ میں فرمایا :

{وَلَنُذِیقَنَّہُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَی دُونَ الْعَذَابِ الْأَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ} (آیت نمبر :۲۱)

’’ہم ان لوگوں کو بڑے عذاب سے پہلے دنیا میں چھوٹے چھوٹے عذابوں اور سزاؤں سے دوچار کرتے رہتے ہیں تاکہ یہ باز آجائیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ ہماری قوم کو قرآن کی یہ تنبیہ سننے سمجھنے کی توفیق دے ۔ ہمارا مزاج یہ بنا دیا گیا ہے کہ اپنی اصلاح کی بجائے دوسروں کو الزام دیا جائے اور ہمارے سیاست کاروں کی سیاست بھی اسی بات کے گرد گھومتی ہے کہ موقعہ بموقعہ منصب داروں پر جابے جاتنقیدی کی جائے اور اپنی عوام کو ان کے خلاف ہر طرح سے بھڑکائے رکھیں۔ حالانکہ عربی مقولہ ہے : ’’اَعْمَالُکُمْ عُمَّالُکُمْ ‘‘ یعنی تمہارے اعمال میں تمہارے حاکم ہوتے ہیں ۔ جیسے تم ہوگے ویسے ہی تمہارے حکام ہوں گے۔

مہنگائی کاعذاب ایک بہت بڑی آفت ہے ، اس میں بھی اللہ عزوجل سے معافی مانگنی چاہیے ۔ حدیث میں ہے کہ :’’إنّ اللہ ہو المسعر …‘‘ کہ ریٹ تو اللہ ہی مقرر کرتاہے ۔یعنی جب کسی چیز کی فراوانی ہوتی ہے تو اس کے ریٹ ارزاں ہوجاتے اور جب وہ کم ہوتی ہے تو اس کے ریٹ بڑھ جاتے ہیں اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ، اور اللہ تعالیٰ کا نظام بڑا عجیب ہے ، انسان کو سمجھ ہی نہیں آئی یا آتی ہے تو بڑی دیر کے بعد ۔ میں نے اپنے ایک دوست سے پوچھا کہ خلاف توقع آج کل کیلے بہت سستے ہیں ۔ اس نے بتایا کہ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ پھل کولڈ سٹورز میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ دیر رکھا نہیں جاسکتا اس لیے یہ لوگ اسے زیادہ دیر ذخیرہ نہیں کرپارہے اور وہ اسے مارکیٹ میں لانے پر مجبور ہیں اس سے میں بے ساختہ سبحان اللہ پکار اٹھا کہ اللہ اپنی مخلوق کو کس عجیب ذریعے سے رزق پہنچا رہا ہے ورنہ ہمارے یہ لوگ اس عام عمل کو سوسو روپے درجن تک پہنچا دیتے ہیں ۔  ونسأل اللہ العافیۃ

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہرطرح سے عافیت میں رکھے۔ (آمین)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *