سیدنا زید بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ہر دین کی ایک صفت ہوتی ہے ( جو کہ اس میں عمدہ اور غالب ہوتی ہے)وہ حیا ہے ‘‘  (مؤطا امام مالک رحمہ اللہ )

’’حیا‘‘ جسے ہادیٔ برحق  ﷺ نے اسلام کی خاص  الخاص  صفت قرار دیا ہے ، اس کے لغوی معنی شرم اور لحاظ کے ہیں ان میں سے ہر لفظ بڑاوسیع المفہوم ہے ۔ مختصراً یوں سمجھئے کہ کوئی بھی برا کام (جس سے اللہ اور اس کے رسول   ﷺ نے منع فرمایا ہے ) کرنے میں اللہ کا خوف نہ کرنااور اسے بلا جھجک درپردہ یا دھوم دھام سے کرنا بے حیائی ہے جواللہ کے غضب کو دعوت دیتی ہے۔ حیا فی الحقیقت اخلاق حسنہ کی عمدہ ترین صفت ہے اسے ہم ایک پاکیزہ جذبہ بھی کہہ سکتے ہیں جو انسان کو برائیوں سے روکتاہے اگر یہ نہ ہوتو پھرانسان بے حیا ہوکر جوچاہے کرسکتاہے۔ مرد ہویاعورت اگر اس میں حیا نہیں ہے تو وہ سخت بدنصیب اور ایمان کی دولت سے محروم ہے ۔ قرآن حکیم میں ارشادہے۔

{وَلاَ تَقْرَبُوْ ا الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ}(الأنعام :۱۵۱)

’’اور بے حیائی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی۔‘‘

ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے۔

{قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِیَّ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْیَ بغَیْرِ الْحَقِّ } (الاعراف:۳۳)

’’اے نبی  ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں ، بے حیائی کے کام خواہ کھلے ہوں یا درپردہ اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی۔‘‘

اب حیا کے بارے میں رحمتِ عالم  ﷺ کے کچھ ارشادات ملاحظہ فرمائیں۔

سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا کہ انبیاء سابقین کی باتوں میں جوبات لوگوں نے پائی ہے وہ یہ ہے کہ جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جوچاہے کر یعنی بے حیا باش وہرچہ خواہی کن ۔ (صحیح بخاری ،کتاب احادیث الأنبیاء ، حدیث نمبر:۳۲۲۴)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا کہ حیا ایمان کی ایک شاخ ہے اور اہلِ ایمان بہشت میں ہیں اور بے حیائی اکھڑپن ہے اور اکھڑوں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ (سنن الترمذی، کتاب البرو الصلۃ ، حدیث نمبر :۱۹۳۲)

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا کہ حیا سے صرف بھلائی ہی حاصل ہوتی ہے۔ (صحیح بخاری ، کتاب الأدب ، حدیث نمبر:۵۶۵۲)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا کہ جس چیز میں فحش ہوتاہے اس کو عیب دار بنا دیتاہے اور جس چیز میں حیا ہوتی ہے اس کی زینت بڑھ جاتی ہے۔ (سنن الترمذی ، کتاب البروالصلۃ  حدیث نمبر:۱۸۹۷)

رسول اکرم  ﷺ اور آپ  ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے حیا داری کا جونمونہ امت کے سامنے پیش کیا ، اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ اس کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیادار تھے جو پردہ میں بیٹھی رہتی ہو اگر آپ  ﷺ کسی ایسی چیز کو دیکھتے جو آپ  ﷺ کوناگوار ہوتی تو آپ  ﷺ شرم کی وجہ سے ناگواری کا اظہار (زبان مبارک سے )نہ کرتے ہم اس کو آپ  ﷺ کے چہرئہ مبارک سے معلوم کرلیتے تھے۔ (رواہ البخاری ومسلم)

رسول اللہ  ﷺ کبھی کوئی فحش بات زبان سے نہ نکالتے تھے۔ (صحیح بخاری )

رسول اللہ  ﷺ عورتوں سے زبانی بیعت لیتے تھے کسی (غیر) عورت کے ہاتھ کو آپ  ﷺ نے کبھی ہاتھ نہیں لگایا۔ (صحیح بخاری)

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ کو کبھی کسی شخص کے بارے میں کسی برائی کی اطلاع ملتی تو آپ  ﷺ اس کانام لے کر یہ نہ فرماتے کہ اس نے ایسا کیوں کیا ۔ آپ  ﷺ یوں فرماتے کہ لوگوں کو کیا ہوگیا کہ وہ ایسا کہتے ہیں یا ایسا کرتے ہیں ۔ شرم وحیا کی وجہ سے ناپسندیدہ کام کرنے والے کانام نہ لیتے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الأدب ، حدیث نمبر:۴۱۵۶)

اگر کوئی خطا کار حضور  ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر پشیمانی کااظہار کرتا اور عفوِ تقصیر کی درخواست کرتا تو آپ  ﷺ شرم وحیا سے گردن مبارک جھکالیتے تھے۔(شمائل کبریٰ بحوالہ ترمذی وشفا)

رسول اکرم  ﷺ میں شرم وحیا کی صفت بدرجہ کمال پائی جاتی تھی فی الحقیقت آ پ  ﷺ شرم وحیا کا پیکر جمیل تھے۔ کبھی کسی پر طعن وتشنیع نہ فرماتے کیونکہ اسے بھی شرم وحیا کے خلاف سمجھتے تھے۔ بازاروں سے گزرتے تو خاموشی سے نظریں نیچے جھکائے چلتے۔ قہقہہ لگا کر کبھی نہ ہنستے ۔ ہنسی کے موقع پر بھی اکثر زیرِ لب تبّسم پر اکتفا فرماتے۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شرم وحیا کا یہ عالم تھا کہ دروازہ بند ہونے پر بھی غسل خانے میں ازارنہ اتارتے اور فرماتے مجھے ایسی حالت میں جھک کر پانی لیتے بھی شرم آتی ہے۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تاریکی میں غسل فرمایا کرتے تھے اس پر بھی فرطِ حیا سے سیدھے کھڑے نہ ہوتے تھے۔

رسول اکرم  ﷺ کی ایک صحابیہ حضرت امِّ خلاد رضی اللہ عنہا کے بیٹے حضرت خلاد رضی اللہ عنہ غزوئہ بنی قریظہ میں رسول اکرم  ﷺ کے ہم رکاب تھے۔ ایک یہودی عورت نے اپنے مکان کی چھت سے ان پر بھاری پتھر گرادیا جس کی چوٹ سے شہید ہوگئے۔ والدہ کوخبر ملی تو اس سانحہ کی تفصیل جاننے کیلئے رسول اکرم  ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں۔ عقل وخرد پر بجلی گرادینے والے اس صدمے کے باوجود انہوں نے اپنے چہرے پر نقاب ڈال رکھی تھی۔ بارگاہِ نبوی  ﷺ میں جولوگ حاضر تھے، ان میں سے کسی صاحب نے کہا ، بی بی تمہارا بیٹا قتل ہوگیا ہے حیرت ہے کہ ایسی مصیبت کے وقت بھی تم نے چہرے پر نقاب ڈال رکھی ہے؟

حضرت امِّ خلاد رضی اللہ عنہ نے نہایت اطمینان سے جواب دیا۔’’اگر میں نے اپنا بیٹا کھویا ہے تو کیا شرم وحیا بھی کھودوں۔؟

اس قسم کے بے شمار واقعات سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ ملت اسلامیہ میں شرم وحیا اور تحفظ عزت وناموس کی قرنِ اوّل ہی سے کس قدر اہمیت رہی ہے لیکن افسوس آج جب ہم اپنے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ پر نظر ڈالتے ہیں تو یوں معلوم ہوتاہے کہ وہ اللہ اور رسول  ﷺ کے احکام کامذاق اڑارہے ہیں اور ساری قوم بالخصوص نژادِ نو کو شرم وحیا سے عاری بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اس معاملے میں سرکاری سرپرستی میں چلنے والاسب سے مؤثر ادارہ پاکستان ٹیلی ویژن پیش پیش ہے اگرچہ ہمارے اکثر قومی اخبار بھی اس کارِخیر میں سرگرم نظر آتے ہیں لیکن حیرت ان قومی اخباروں پر ہے جو ایک طرف تو اسلامی نظام کے حامی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور پی ٹی وی کے اخلاق باختہ پروگراموں کی مذمت کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنے صفحات پر شرم وحیا سے عاری دوشیزاؤں کی مختلف پوزوں میں رنگین تصاویر دھڑا دھڑ چھاپ رہے ہیں اور یوں گلیمر کلچر کو فروغ دینے میں پی ٹی وی سے بھر پور تعاون کررہے ہیں صرف یہی نہیں بلکہ اپنے قارئین کو بے ہودہ اخلاق سوزفلموں کی طرف راغب کرنے اور ان فلموں میں بے حیائی کا مظاہرہ کرنے والے ایکٹروں اور ایکٹرسوں کو عظمت کی مسندوں پر بٹھانے میں بھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کررہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ٹیلی ویژن جسے تبلیغ اسلام ، تعمیر ملت اور اصلاح معاشرہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہونا چاہیے تھا(اس کی چند دینی اور معلوماتی پروگراموں کو چھوڑ کر) مردوزن کے آزادانہ اختلاط،بے حیائی ، فحاشی اور تہذیب مغرب کی آشوب سامانیاں اور برائیاں پھیلانے کا سب سے بڑا آلہ یا ذریعہ بن گیا ہے ۔اس پر رقص وسرود ، لہو ولعب ، بے ہنگم اچھل کود اور فن کے نام پر رقاصاؤں اور شرم وحیا سے عاری مغرب زدہ نوجوانوں اور دوشیزاؤں کا قبضہ ہوچکاہے۔ پی ٹی وی کو ان کے ناچ گانوں سے فرصت ملتی ہے تو ان کے انٹرویوز چلا دیے جاتے ہیں۔ پاکستان کی نژادِ نو کو اسلام کے پاکیزہ اخلاق کا حامل بنانے کے بجائے پاپ میوزک حیا سوز رقص وسرود اور ہیجڑہ پن کا رسیا بنایا جارہاہے۔ پی ٹی وی میں کام کرنے والی ناکتخدا لڑکیوں کی حیا کا جو عالم ہے اس کو ایک ایکٹر کی زبانی سنیے:

ہوئیں بے تکلّف وہ ٹی وی پہ مجھ سے

بنیں میری بیوی ڈراموں میں اکثر

جو پوچھا کسی نے مراان سے رشتہ

توبولیں یہ ہیں میرے منہ بولے شوہر

ہدایت علی خان ناظر

پاکستان ٹیلی ویژن کے کرتا دھرتا پڑھے لکھے لوگ ہیں اس لیے یہ تو کوئی بھی تسلیم نہیں کرسکتا کہ وہ ہمارے قومی نظریہ یا ہماری معاشرتی اور دینی اقدار وروایات سے نابلدہیں اس لیے لا محالہ یہی رائے قائم کی جاسکتی ہے کہ ان اقدار وروایات کا ایک خاص مشن کے تحت جان بوجھ کر مذاق اڑایا جارہا ہے۔ یہ مشن کیا ہے ؟ بظاہر یہی معلوم ہوتاہے کہ ’’ملت پاکستان کے بدن سے روحِ محمد  ﷺ نکال دو۔‘‘

پی ٹی وی کے تفریحی پروگراموں کو دیکھ کر کسی بھی محب وطن اور دردمند پاکستانی کے ذہن میں یہ سوالات پیدا ہوسکتے ہیں۔

۱۔ کیا کنواری نوجوان لڑکیوں کا غیر محرم نوجوانوں کی محبوبہ یا بیوی بننا اور زچگی کی کیفیت سے گزر کر بچوں کی ماں بننا اسلامی روایات کے مطابق ہے؟ جن گھرانوں کی یہ لڑکیاں ہیں وہ کس تہذیب کے علم بردار ہیں؟

۲۔ کیا ہماری معاشرتی روایات یہی ہیں کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آپس میں معاشقے لڑاتے پھریں اور ایک دوسرے سے تنہائی میں خفیہ ملاقاتیں کریں ؟ آخر پی ٹی وی اپنے ڈراموں میں نثرادِنو کو کس چیز کی تربیت دے رہا ہے؟

۳۔ کیا پاپ سنگر نوجوانوں کو مٹک مٹک کر اچھلتے کودتے (اپنی ٹانگوں کو شرمناک انداز میں حرکت دیتے) یا بھنگڑا ڈالتے ارضِ پاک کی کسی (حیا سے عاری) بیٹی کو مخاطب کرکے انتہائی فحش اور لچر گیت گاتے ہوئے دکھانا اسلامی معاشرت کی عکاسی ہے؟

کیا ان نوجوانوں اور ان کے سامنے آنے والی دوشیزاؤں کو شرم وحیا سے کوئی نسبت ہے؟

۴۔ کیا اسلام کی بیٹیوں کو بن ٹھن کر اسٹیج پرآنا ، گانا ، ناچنا ، تھرکنا ، بھاؤبتانا اور فحش گیت گا گا کر لوگوں کے سفلی جذبات کو بھڑکانا اسلامی روایات کی عکاسی کرتاہے یا تبرجِ جاہلیہ کی؟

۵۔ کیا راگ رنگ کے مخلوط اجتماعات دکھانا اور ان میں شوقین مزاج نوجوانوں عورتوں کا فحش گیتوں پر بے تحاشا تالیاں بجانا اور ’’اسلام کے نوجوان لاابالی فرزندوں‘‘ کاناچ ناچ کرایسے گیتوں کی داددینا، اسلامی معاشرت کی عکاسی ہے؟

۶۔ کیا بچوںکے پروگراموں میں وطنِ عزیز کی کم سن بچیوں کو ناچ گانے کی تعلیم دینا ہمارے قومی نظریہ کے مطابق ہے ؟

۷۔کیا پاکستان کے نوے فی صد گھرانوں کو اس گلیمر کلچر سے کوئی نسبت ہے جو پی ٹی وی پر تسلسل کے ساتھ پیش کیا جارہاہے؟

۸۔کیا بلودے گھر، پتنگ باز بجنا، اج گڈی گڈے دی ملاقات اے وغیرہ جیسے شرمناک اور کنوارے دو، اومائی گاڈ وغیرہ جیسے لغو ڈرامے پاکستانی معاشرت کے عکاس ہیں؟

کاش ہمارا ٹی وی اپنے نوجوانوں کو گانے ناچنے کا رسیا بنانے کے بجائے حمزہ وخالد رضی اللہ عنہما کا جانشین بننے اور اپنی نوجوان بہنوں اور بیٹیوں کو نورجہاں اورشازیہ منظور بننے کے بجائے عائشہ صدیقہ اور زہرا بتول رضی اللہ عنہن کے نقوشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *