بہت دیر تک کھڑا رہنے کے بعد تھکاوٹ کے احساس نے میرے اندر بیٹھنے کی خواہش پیدا کردی اور نہ چاہتے ہوئے بھی میں پولیس وردی میں پھنسے موٹے تازے انسان کو سکڑنے کا اشارہ کیا جو اپنی رائفل تھامے ایک چھوٹے سے اسٹول پر براجمان تھا یہ بھاری …کم جسامت والا اہلکار مجھے تو نہیں البتہ میں اسے اچھی طرح جانتا تھا ۔بے تکلف انداز اختیار کرتے ہوئے میں اس سے مخاطب ہوا اور اسے ایک طرف دھکیلتے ہوئے اس کے برابر جا بیٹھا، ’’کیا تم بھی پولیس کے محکمہ سے وابستہ ہو ۔‘‘ میرے انداز کو دیکھتے ہوئے اس نے مجھ سے سوال کیا ۔ ’’میں تم میں سے نہیں۔‘‘ میرا جواب سنتے ہی اس کی بھنویں چڑھ گئیں اور ماتھے پر شکن نمودار ہوئے یہ تفصیل طلب انداز تھا۔ جسے بھانپتے ہی میں نے اسے مطمئن کرنے کیلئے اپنے بارے میں تفصیلات اور اس علاقے میں آنے کی وجہ بتادی ، ابھی میری بات جاری تھی کہ گلی کی نکر پر واقع علی آرکیڈ سے عبد الرحمن مسکراتا ہوا نمودار ہوا ۔چھوٹے سے اسٹول پر ……پولیس اہلکار کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوتی چلی گئی۔ دھان پان جسامت والے بار…عبد الرحمن کی چال ڈھال اسے مجاہد ظاہر کررہی تھی ۔قریب آتے ہی اس نے بآواز بلند سلام کیا اور چلنے کو کہا ۔جس کے جواب میں میں نے اسے چند لمحے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ قریب ہی کھڑی موٹر سائیکل پر بیٹھ گیا۔ لمحہ بھر خاموش رہنے کے بعد پولیس والے نے عبد الرحمن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا ’’کیا تمہارا دوست ہے ؟ ‘‘ جی ہاں۔ میرا جواب سنتے ہی وہ بولا :’’ شکل وصورت سے تو یہ کسی مجاہد تنظیم کا کارکن معلوم ہوتاہے ۔ہاں بچے…! اپنا جملہ مکمل کرتے ہوئے پولیس والے نے عبد الرحمن کو بغور دیکھا جو خاموش تصویر بنے بیٹھا تھا۔ پولیس اہلکار سے ان چند لمحوں کی دوستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے بے تکلفانہ اندا ز میں جواب دیا۔’’نہیں یار ! یہ تو نہیں البتہ اسکا بھائی زبردست مجاہد تھا۔

کشمیر میں اس کی شہادت عبد الرحمن کو بھی دینی رنگ وروپ کا تحفہ دے گئی اور دنیا کے رنگوں میں ان کا یہ پیو بھائی آج اسلامی رنگ دھارے حقیقی عبد الرحمن ثابت ہورہا ہے۔ اپنے بھائی کی طرح اسے بھی اب اپنے اللہ سے بہت لگاؤ ہے۔ اب تو کافی عرصہ ہوگیا میں نے بھائی کی شہادت کے بعد سے اسے کسی سے بھی الجھتے نہیں دیکھا ہر ایک سے شفقت اور انکساری سے بات کرنا اس کا طرز مخاطب بن چکا ہے۔ ’’میری باتیں اب پولیس مین کو بیزار کررہی تھیں۔ او بھائی صاحب !یہ مجاہد وجہاد کی باتیں مت کرو حالات تو ویسے ہی خراب ہیں اور آج کل ہمارے پاس بیٹھ کر حکومت ان مجاہدوں کو پکڑ رہی ہے۔ حکومتی اہلکار ہونے کے ناطے ہم ان مجاہدوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے حکومتی احکامات کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ حکومت ہمیں تنخواہ دیتی ہے۔ اور یہ وردی وغیرہ بھی سرکار ہی کی دی ہوئی ہے۔ کیوں ہماری نوکری بند کرواؤگے۔ اس لئے اب آپ کچھ اور بات کریں یا چپ کرکے یہاں سے اٹھ جائیں ۔ پولیس والے کی اچانک بے رخی دیکھ کر مجھے بہت کوفت ہوئی ۔میری کیفیت کو بھانپتے ہی کمزور دکھائی دینے والے مضبوط اعصاب کے مالک عبد الرحمن نے پولیس اہلکار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’بھائی صاحب ایک بات پوچھ سکتاہوں ۔ پوچھیں۔ عبد الرحمن کے انداز کو دیکھ کر ایک لمحہ کیلئے تو یوں لگا جیسے وہی پرانا پیوہے جوسامنے والے کے کسی بھی ممکنہ (عمل سے بے خوف بولنا شروع کردیتاتھا اور نان اسٹاپ بولے چلاجاتا تھا کیا پولیس میںلولے لنگڑے افراد بھی بھرتی کئے جاتے ہیں ؟ نہیں تو۔ عبد الرحمن کا سوال سنتے ہی پولیس والے نے دو لفظی جواب دیا۔ جس پر عبد الرحمن نے ایک تقریری انداز میں گفتگو کو طول دینا شروع کردیا۔ بھائی صاحب ! پھر تو آپ کو سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس رب کی بات کو ہر ایک کی بات پر ترجیح دینی چاہیے کیونکہ اسی نے آپ کو اس قابل بنایا کہ آج آپ اس محکمہ کے قابل ٹھہرے ہیں۔اگر آپ معذور ہوتے تو پولیس میں بھرتی ہونا تو درکنار اس بارے میں سوچتے ہی نہیں۔ جبکہ دوران ملازمت اگر آپ کسی حادثے کے نتیجے میں معذوری کا شکار ہوجائیں تو آپ سمیت گھر والوں کو بھی پیٹ کے لالے پڑجائیں ۔سرکار تو مدد کا اعلان کرکے بھول جاتی ہے جبکہ میرا رب تو وہ ہے جس نے بصارت سے محروم عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بھی جہادی اعزاز سے محروم نہ رکھا اور ایک ٹانگ سے معذور شہید مجاہد کے اہل خانہ کو بھی کسی طور پر تنہا نہیں چھوڑا۔ عبد الرحمن تو جیسے مباحثے کیلئے تیار بیٹھا تھا۔ بولتے بولتے لمحہ بھر کیلئے رکا اور شفیق لہجے میں اپنی بات کو مکمل کرنے کیلئے دوبارہ ’’بول اٹھا‘‘

جناب ! یہ سب بتانے کا مقصد یہ یاددلانا ہے کہ حکومتی اہلکار ہونے سے پہلے آپ اللہ کے بندے ہو۔ اس کی مخلوق میں سے ہو اس رب کے بھی کچھ احکامات ہیں حکومت کی اطاعت وفرمانبرداری میں مگن ہوکر آپ نے ان احکامات کو نظر انداز کردیا ہے ۔یقینا حکومتی احکامات کی پاسداری بھی ایک لازمی امر ہے لیکن اتنا خیال تو رکھیں کہ مخلوق کے پیچھے چل کر خالق کے احکامات پامال نہ ہوں آپ کہتے ہیں کہ اسلامی نظام کی بات مت کریں مجاہدین کا نام بھی مت لیں لیکن قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر جہاد اور مجاہدین کا ذکر کیا ہے اور ان کی فضیلت بیان کی ہے اور انہی کو دنیا میں عدل وانصاف کے قیام کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے ہم تو اس نبی  ﷺ کے امتی ہیں جن کی زندگی کے آخری لمحات بھی مجاہدین کی کمانڈری کرتے ہوئے گزرے ۔انہی کے تیار کردہ مجاہدین نے مصروفارس اور روم وشام سمیت دنیا کے بہت سے علاقوں میں ظلم وستم کے ادوار کا خاتمہ کرکے عدل جہانگیری قائم کی سب سے بڑھ کر اللہ رب العزت نے ان مجاہدین کے مدد ونصرت کیلئے فرشتوں کی ایک فوج روانہ کی ۔میں آپ کو ان مجاہدین کی مدد کیلئے نہیں کہتا مگر اتناتو ضرور کہوںگا کہ ان میںاور دہشت گردوں میں فرق کریں۔ ان کی مخالفت اور اہانت سے کم از کم گریز تو کریں یہ کسی ملک یا شخص کے اقتدار کیلئے خطرہ نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر چلتے ہوئے مملکتوں اور حکومتوں کے لئے دنیا وآخرت کی کامیابی کی نوید لئے آگے بڑھ رہے ہیں ۔یہ دنیا میں کسی عہد کے متمنی نہیں ہیں نہ ہی دنیا کی چمک دمک نے ان کی آنکھوں کو خیرہ کررکھا ہے۔

عبد الرحمن کی باتیں سن کر پولیس اہلکار گم سم ہوگیا کہ دیر قبل سخت گیر انور پٹھان اب پولیس کی وردی میں بیٹھا ایک کمانڈر معلوم ہورہاتھا۔ جس کے چہرے کی سرخی میں اک عجیب سی چمک تھی۔ چند لمحوں میں ہی اس کی عقل پر پڑا پردہ ہٹ چکا تھا۔ وہ چہرے پر مسکراہٹ بکھیرے مصافحہ کرکے آگے بڑھ گیا ۔شاید عبد الرحمن کے لہجے سے چھلکنے والا خلوص انور پـٹھان کے اندر ایک طلاطم برپاکر گیا تھا جس کے اظہار کو چھپانے کیلئے وہ فوراً اٹھا اور چل دیا۔ لیکن عبد الرحمن کی باتیں مجھے ماضی میں کھینچ لے گئیں جہاں امیر کے احکامات کی بجا آوری میں اللہ کی رضا وناراضگی کا خوب خیال رکھا جاتا تھا ۔ اور جس کے عوض اللہ نے دنیا میں انہیں غلبہ اور آخرت میں فلاح عطا فرمائی اور انہیںاللہ نے عباد الرحمن کہہ کر مخاطب کیا۔  

٭…٭…٭

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *