اِک کلمہ تشکُّر اپنے مالک ، اپنے کریم کے لئے !
اِک حرف دعا ، اپنے لئے ، اپنوں کے لئے !
یا اللہ ! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے ایک مسلمان گھر میں پیدا کیا ۔ ورنہ میں مٹی کی مورتوں سے خوف زدہ رہتا ، شاید وہ ہنومان اور گنیش کی مورتیں ہوتیں یا عیسیٰ اور مقدسہ مریم کے مجسمے یا کسی اور حقیقی یا فرضی شخصیات کے بُت ، اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ایک توحید پرست گھرانے میں پیدا کیا ۔ ورنہ میں کسی سچے جھوٹے مزار کو پوج رہا ہوتا ،یا کسی ‘‘پیرو مرشد ’’کے پاؤں چوم کر ذلیل ہو رہا ہوتا ۔
اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے ایک اہلحدیث گھر میں پیدا کیا ، ورنہ میں چھ نکات کو علم کی معراج سمجھ کر درد رگھوم رہا ہوتا۔
یا الله! بے شمار رحمت و مغفرت اور جنت الفردوس کے اعلیٰ درجات سے نواز دے میری نانی جان کو ، جنہوں نے نرمی شفقت اور محبت سے مجھے الف ب کی پہچان کروائی اور قرآن مجید پڑھنا سکھایاکہ اس کے بعد مجھے حاصل ہونے والے تمام تر علوم کی بنیاد یہی حرف شناسی ہے۔
یا اللہ !بے شمار جزائے خیر دے میرے نانا جان مرحوم کو ، جن کے ذوقِ مطالعہ کی وجہ سے مجھے مسلک اہلحدیث کی پہچان ہوئی ، اور حق پر ان کی استقامت سےمجھے سچ کہنے اور قبول کرنے کا حوصلہ ملا ۔
یا اللہ !ہر روحانی اور اُخروی نعمت سے نواز دے میرے چچا جان عبد اللطیف اثری مرحوم کو ، جن کی توجہ سے مجھے زبان عربی سے محبت اور اس کا ذوق نصیب ہوا، جو بعد میں میرے لئے علم کی راہیں کشادہ کرنے کا باعث بنا ۔
یا اللہ! جنت کی ہر راحت و وسعت اور بلند درجات عطا فرما میرے محترم والدین کو ،جنہوں نے مجھ سے جدائی برداشت کی تاکہ میں حصول ِعلم کی راہ میں رک نہ جاؤں، یا پیچھے نہ رہ جاؤں۔
یا اللہ !جنت کی ہر راحت اور نعمت عطا فرما، میری خالہ جان رقیہ مرحومہ کو، جو اخلاقی تربیت میں میری راہ نما،اور ذوق مطالعہ میں میری رفیق رہیں۔
یا اللہ !اپنی بے پایاں رحمتوں سے نواز دے،میرے ان تمام اساتذہ کرام کو ، جن سے میں نے پرائمری سے یونیورسٹی تک کچھ نہ کچھ سیکھا۔ان میں سے جو حضرات اپنے ماحول اور خاندانی اثرات کی وجہ سے عقیدۂ توحید پر نہ تھے ، یا امت مسلمہ کے فرد نہ تھے۔ انھیں بھی ابو طالب کی طرح اپنی رحمت کا حصہ نصیب فرما دے۔ ان سب حضرات کی تربیت اور نوازشوں کی وجہ سے میں اس قابل ہوا کہ خدمت دین کی راہ پر قدم اٹھا سکوں۔
یا اللہ !اپنی خوشنودی اور عافیت سے نواز دے ،اس نیک بخت خاتون کو جو زندگی کی رہگزر پر نصف صدی میری ہم سفر ہے۔ جس نے میری بے رخی اور میری کوتاہیوں کو برداشت کیا، لیکن میرے بچوں کی بہترین تربیت کے قرض سے غفلت نہ برتی ۔ جس نے راہِ حیات کے اس طویل سفر میں میرے حصے کا بوجھ بھی اُٹھایا ،اور کبھی شکوہ نہ کیا۔
یا اللہ ! میرے بہن بھائی، میرے عزیز، میرے دوست ، میرے رفیق ، جنھوں نے زندگی کے کسی بھی موڑ پر میرا ساتھ دیا ، کسی بھی موقع پر میرا ہاتھ تھاما، کسی بھی وقت میرے ساتھ چلے ، میں اُن سب کے احسانات کو تسلیم کرتا ہوں ، اور تیری رحمت کے واسطہ سے التجا کرتا ہوں کہ ان سب کو ہمیشہ اپنی عفو و رحمت کے سائے میں رکھنا،
یا اللہ !میں ان کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکتا، تو اپنے بے پایاں خزانۂ رحمت سے انہیں نواز دے !
یا اللہ! میرے تمام بیٹوں اور بیٹیوں کو اور ان کے شرکائے حیات کو خیرو برکت سے،نعمت و عافیت سے ،اور علم و عمل کی دولت سے نواز دے ۔
یا اللہ !انہیں دوسروں میں آسانیاں بانٹنے والے بنا۔ انھیں دعا کروانے والے نہیں، دعائیں لینے والے بنا۔
یا اللہ !انہیں ،اور ان کے بچوں کو قرآن اور نماز کی محبت عطا فرما۔
یا اللہ !انہیں عزت ،راحت اور وسعت سے نواز دے۔
دنیا اور آخرت کی ہر تنگی ، ذلت اور رسوائی سے محفوظ فرما ۔
یا اللہ !انہیں ماحول کے شر اور گمراہیوں سے محفوظ فرما۔
یا اللہ !اپنی اور ان کی آئندہ نسلوں کو نیکی کا پرچار کرنے والے ،اور باطل کی راہ روکنے والے بنادے۔
یا اللہ ! میرے شاگردوں کو علم نافع اور عمل صالح سے نواز دے ۔
یاالله ! انہیں طرح طرح کی ضلالت کے اندھیروں میں ہدایت کے چراغ بنا۔انہیں نیکی کی چابیاں اور برائی کے تالے بنادے !
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
آمين يارب العالمين !
یکم رمضان المبارک 1442ھ
14 اپریل 2021ء
