پاک وہند کی اسلامی ودینی تاریخ میں شیخ احمد المعروف مجدد الف ثانی رحمہ اللہ (ولادت ۱۴ /شوال ۹۷۱ھ؁ بمطابق ۱۵۶۳ء ۔ وفات ۲۸صفر ۱۰۳۴ھ؁ بمطابق ۱۶۲۴ء؁) ایک بلند وبالا اور وجیہہ حیثیت کے حامل ہیں۔ تاریخ دعوت وعزیمت جلد چہارم میں مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے اس دور کا اور اس میں شیخ صاحب کی جہود کا بہت عمدہ تعارف کرایا ہے۔ بالخصوص کتاب کا باب پنجم ’’حضرت مجدد کے دائرہ تجدید کا مرکزی نقطہ‘‘ بہت ہی اہم ہے۔ اس کے اہم اہم عنوانات کچھ اس طرح ہیں۔ نبوت محمدی اور اس کی ابدیت اور ضرورت پر اعتماد کی بحالی ۔ عقل وکشف کا غیبی اورما بعد الطبیعاتی حقائق کے ادراک میں عاجز وناکام رہنا۔ معرفت الٰہی میں عقلائے یونان کی بے عقلیاں۔ عقل حقائق دین کے ادراک میں ناکافی ہے۔ نبوت کا طور عقل وفکر کے طور سے ماوراء ہے ۔ عقل کا خالص اور بے آمیز ہونا ممکن نہیں۔ عقل وکشف دونوں ایک کشتی کے سوار ہیں۔ فلاسفہ اورانبیاء کی تعلیم کا تضاد۔بعثت کے بغیر حقیقی تزکیہ ممکن نہیں۔ انبیاء کی بعثت کی ضرورت اور عقل کا ناکافی ہونا۔ اللہ کی معرفت انبیاء کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ انبیاء کی اطلاعات کو اپنی عقل کا پابند بنانا طریق نبوت کا انکار ہے۔ مخالفِ عقل اور ماوراء عقل میں بڑا فرق ہے۔ انشراح صدر کی وجہ سے انبیاء کی توجہِ خلق ، توجہِ حق سے مانع نہیں ہوتی ۔ نبوت کی پیروی میں قرب بالفرائض حاصل ہوتاہے۔ کمالاتِ ولایت کمالاتِ نبوت کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔

سنت کی ترویج اور بدعت حسنہ کی تردید

یہ موضوعات آج بھی اسی طرح زندہ ہیں جیسے کہ پہلے تھے اور ہمارے اہل علم بالخصوص تاریخ اسلام کے معلمین، تفسیر ، حدیث اور توحید وسنت کے مدرسین ، مبلّغین وطلبہ کے علم میں ضرور ہونے چاہیں۔ ضروری ہے کہ انہیں فلسفہ واِشراق کی حقیقت سے آگاہی ہو اور یہ کہ ہندو جو گیوں اور یہودی وعیسائی راہبوں کی ریاضتوں کی حقیقت اور نتائج کیا ہیں اور مسلمان صوفیا ان سے کس طرح متأثر ہوئے۔ یہ ساری کتاب بڑی اہمیت کی حامل ہے اور درج ذیل مضمون راقم کی نظر میں بہت زیادہ قابل توجہ ہے:اس لئے اس مضمون کو ارسال کررہا ہوں تاکہ قارئین ماہنامہ اسوئہ حسنہ بھی اس کے بارے میں مستفید ہوسکیں ۔ع۔ف۔س۔

کسی ایسی چیز کو جس کو اللہ ورسول انے دین میں شامل نہیں کیا اور اس کا حکم نہیں دیا ، دین میں شامل کرلینا، اس کا ایک جزء بنا دینا، اس کو ثواب اور تقرب الی اللہ کیلئے کرنا، اور اس کے خودساختہ شرائط وآداب کی اِسی طرح پابندی کرنا جس طرح ایک شرعی حکم کی پابندی کی جاتی ہے ۔ بدعت ہے ، بدعت درحقیقت دین الٰہی کے اندر شریعت انسانی کی تشکیل ہے، اس شریعت کی الگ فقہ ہے ، اور مستقل فرائض وواجبات اور سنن ومستحبات ، جو بعض اوقات شریعت الٰہی کے متوازی اور بعض اوقات تعداد اور اہمیت میں اس سے بڑھ جاتے ہیں ، بدعت اس حقیقت کو نظر انداز کرتی ہے کہ شریعت مکمل ہوچکی، جس کا تعین ہونا تھا ، اس کا تعین ہوگیا اور جس کو فرض وواجب بننا تھا ، وہ فرض وواجب بنایاجاچکا، دین کی ٹکسال بند کردی گئی ، اب جو نیا سکّہ اس کی طرف منسوب کیا جائے گا وہ جعلی ہوگا ، امام مالک رحمہ اللہ نے خوب فرمایا :من ابتدع فی الإسلام بدعۃ یراہا حسنۃ فقد زعم ان محمداً صلی اللہ علیہ وسلم خان الرسالۃ ، فان اللہ سبحانہ یقول :

الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِینًا۔(المائدۃ : ۳)

’’جس نے اسلام میں کوئی بدعت پیدا کردی اور اس کو وہ اچھا سمجھتاہے وہ اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ محمد  ﷺ نے (نعوذ باللہ) پیغام پہنچانے میں خیانت کی اس لئے کہ اللہ فرماتاہے کہ میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا، پس جو بات عہدِ رسالت میں دین نہیں تھی ، وہ آج بھی دین نہیں ہوسکتی۔‘‘

شریعت منزّل من اللہ کی خصوصیت اس کی سہولت اور اس کا ہر ایک کیلئے ہر زمانہ میں قابل ہونا ہے ، اس لئے کہ جو دین کا شارع ہے ، وہ انسان کا خالق بھی ہے ، وہ انسان کی ضروریات اس کی فطرت اور اس کی طاقت وکمزوری سے واقف ہے۔

{أَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیفُ الْخَبِیرُ}(الملک :۱۴)

’’(اور بھلا) کیا وہ نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے ، اور وہ باریک بین( اور )پورا باخبرہے۔‘‘

اس لئے تشریع الٰہی اور شریعت سماوی میں ان سب چیزوں کی رعایت ہے، مگر جب انسان خود شارع بن جائے گا تو اس کا لحاظ نہیں رکھ سکتا، بدعات کی آمیزشوں اور وقتاً فوقتاً اضافوں کے بعد دین اس قدردشوار، پیچدار اور طویل ہوجاتاہے کہ لوگ مجبور ہوکر ایسے مذہب کا قلادہ اپنی گردن سے اتاردیتے ہیں اور ’’مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ ‘‘ خدا نے تمہارے لئے تمہارے دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ کی نعمت سلب کر لی جاتی ہے ، اس کا نمونہ عبادات ورسوم اور فرائض وواجبات کی اس طویل فہرست میں دیکھا جاسکتاہے ، جس میں بدعت کو آزادی کے ساتھ اپنا عمل کرنے کا موقع ملاہے۔

دین وشریعت کی ایک خصوصیت ان کی عالمگیر یکسانی ہے وہ ہر زمانہ اور ہر دور میں ایک ہی رہتے ہیں ، دنیا کے کسی حصہ کا کوئی مسلمان باشندہ دنیا کے کسی دوسرے حصہ میں چلاجائے تو اس کو دین وشریعت پر عمل کرنے میں نہ کوئی دقت پیش آئیگی ، نہ کسی مقامی ہدایت نامہ اور رہبر کی ضرورت ہوگی اس کے برخلاف بدعات میں یکسانی اور وحدت نہیں پائی جاتی ، وہ ہر جگہ کے مقامی سانچہ اور ملکی یا شہری ٹکسال سے ڈھل کر نکلتی ہیں وہ خاص تاریخی اور مقامی اسباب اور شخصی وانفرادی مصالح واغراض کا نتیجہ ہوتی ہیں ، اس لئے ہرملک بلکہ اس سے آگے بڑھ کر بعض اوقات ایک ایک صوبہ اور ایک ایک شہر کی بدعات اور پھر محلوں اور گھروں کی دینی ایجادیں انہیں کے ساتھ مخصوص ہوتی ہیں اور اس طرح شہر شہر اور گھر گھر کا دین مختلف ہوسکتاہے۔

انہیں ابدی وعالمی مصالح کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بدعت سے بچنے اور سنت کی حفاظت کی تاکید بلیغ فرمائی۔ آپ نے فرمایا :

 مَنْ أَحْدَثَ فِی اَمْرِنَا ہَذَا مَالَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ ۔( صحیح بخاری ، کتاب الصلح )

جو ہمارے دین میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کرے جو اس میں داخل نہیں تھی تو وہ بات مسترد ہے۔

اِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ فَإِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ فَإِنَّ کُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ وَکُلَّ ضَلاَلَۃٍ فِی النَّارِ ۔ (ابوداؤد والترمذی)

(دین میں)نئے نئے کاموں کے اضافیبدعت سے ہمیشہ بچو! اس لئے کہ ہر ایجادبدعت ہے اورہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں ہوگی۔

اور یہ حکیمانہ پیش گوئی بھی فرمائی:

مَا اَحْدَثَ قَوْمٌ بِدْعَۃً اِلاَّ رَفَعَ بِہَا مِثْلَہَا مِنَ السُّنَّۃِ۔ (رواہ أحمد)

جب کچھ لوگ دین میں کوئی نئی بات پیدا کرتے ہیں تو اس کے بقدر کوئی سنت ضرور اٹھ جاتی ہے۔

صحابہِ کرام اور ان کے بعد ائمہ وفقہائے اسلام اور اپنے اپنے وقت کے مجددین ومصلحین اور علمائِ ربانی نے ہمیشہ اپنے اپنے زمانہ کی بدعات کی سختی سے مخالفت کی اور اسلام کے معاشرہ اور دینی حلقوں میں ان بدعات کومقبول ورواج پزیر ہونے سے روکنے کی اپنے مقدور بھر کوشش کی ، ان بدعات میں عوام وخوش عقیدہ لوگوں کیلئے جو مقناطیسی کشش ہر زمانہ میں رہی ہے ، اور ان سے ان پیشہ وردنیا دار مذہبی گروہوں اور افراد کے جو ذاتی مفادات وابستہ رہے ہیں جن کی تصویر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی اس معجزانہ آیت میں کھینچی ہے۔

{یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُواْ إِنَّ کَثِیرًا مِّنَ الأَحْبَارِ وَالرُّہْبَانِ لَیَأْکُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُّونَ عَن سَبِیلِ اللّہِ}(التوبۃ:۳۴)

’’اے ایمان والو! اکثر احبار اور رہبان لوگوں کے مال نامشروع طریقہ سے کھاتے ہیں ، اور اللہ کی راہ سے باز رکھتے ہیں۔‘‘

اس کی بنا پر ان کو سخت مخالفتوں اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی ، اور اس کو اپنے وقت کا جہاد اور شریعت کی حفاظت کا اور دین کو تحریف سے بچانے کا مقدس کام سمجھا ، ان مخالفین بدعت اور حاملین لوائِ سنت کو اپنے زمانہ کے عوام یا خواص کا لعوام سے ’’جامد‘‘ روایت پرست‘‘ مذہب دشمن وغیرہ کے خطابات ملے ، لیکن انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی ان کے اس لسانی وقلمی جہاد ، احقاقِ حق اور ابطال باطل سے بہت سی بدعا ت کا اس طرح خاتمہ ہوا کہ ان کا تمدن کی بعض تاریخوں ہی میں ذکر رہ گیا ہے اور جو باقی ہیں ان کے خلاف علمائے حقانی اب بھی صف آراہیں۔

{مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیْہِ فَمِنْہُم مَّن قَضَی نَحْبَہُ وَمِنْہُم مَّن یَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِیلًا}(الأحزاب :۲۳)

ان مومنین میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے جس بات کا اللہ سے عہد کیا تھا اس میں سچے نکلے ، پھر بعض تو ان میں وہ ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے ، اور بعض ان میں مشتاق ہیں ، اور انہوں نے ذرا تغیر وتبدل نہیں کیا۔‘‘

اس سلسلہ میں سب سے بڑا مغالطہ بدعت حسنہ کا مغالطہ تھا، لوگوں نے بدعت کی دو قسمیں بنا رکھی تھی ، بدعت سیئہ ، اور بدعت حسنہ۔ وہ کہتے تھے کہ ہر بدعت سیئہ نہیں ہوتی بہت سی بدعات ،بدعات حسنہ ہیں جو حدیث کے اطلاق ’’کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ‘‘ سے مستثنیٰ ہیں۔

ان لوگوں کی سب سے بڑی دلیل سیدناعمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے جو انہوںنے جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنے والوں کو دیکھ کر فرمایا تھا ’’نعمت البدعۃ ہذہ‘‘ یہ بڑی اچھی بدعت ہے حالانکہ اس پر اتفاق ہے کہ یہاں محض لغوی حیثیت سے اس کو بدعت کہا گیا ہے ورنہ تراویح کا پڑھنا احادیث صحیحہ سے ثابت اور متواتر ہے ، بدعت کی تعریف کیلئے امام شاطبی کی کتاب ’’الاعتصام بالسنۃ ‘‘ اور مولانا اسماعیل شہید رحمہ اللہ کی کتاب ’’ایضاح الحق الصریح فی احکام المیت والضریح‘‘ جو اس موضوع پر بہترین کتاب ہے کامطالعہ کرنا چاہیے۔

حضرت مجدد صاحب نے اس تقسیم اور بدعت حسنہ کے خلاف جس زور سے علم جہاد بلند کیا اور جس اعتماد وقوت اور علمی استدلال کے ساتھ اس کا انکار کیا اس کی نظیر دورتک اور دیر تک نہیں ملتی ، اس سلسلہ میں مکتوبات کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں۔

سنن نبویہ کی ترویج واشاعت کی تحریض اور بدعات کے انسداد کی ترغیب دیتے ہوئے اپنے مخدوم زادہ خواجہ محمد عبد اللہ کو ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں:

یہ وہ وقت ہے کہ حضرت خیر البشر علیہ وعلی آلہ الصلوۃ والسلام کی بعثت پر ہزار سال گزرچکے ہیں ، اور علامات قیامت ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں عہد نبوت کے بُعد کی وجہ سے سنت مستور اور چونکہ زمانہ کذب ودروغ کا ہے بدعت رائج ومقبول ہورہی ہے ، کسی شہباز کی ضرورت ہے جو سنت کی نصرت وحمایت کرے اور بدعت کو پسپا اور مغلوب کرے بدعت کی ترویج ، دین کی تخریب کے مرادف ہے ، اور مبتدع کی تعظیم قصر اسلام کو منہدم کرنے کے ہم معنی حدیث میں آتا ہے :

من وقّر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ہدم الاسلام۔( رواہ اللالکلائی فی شرح أصول السنۃ ۱/۳۵/۱ ، وحسنہ الألبانی)

جو کسی بدعت والے کی توقیر کرے گا اس نے اسلام کے منہدم کرنے کے کام میں حصہ لیا۔

پورے عزم وہمت کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ سنتوں میں سے کسی سنت کو رواج دیا جائے اور بدعتوں میں سے کسی بدعت کا ازالہ کیا جائے یہ کام ہر وقت ضروری تھا لیکن ضعف اسلام کے اس زمانہ میں مراسم اسلام کا قیام ، سنت کی ترویج اور بدعت کی تخریب کے ساتھ وابستہ ہوگیا ہے اور بھی ضروری ہے ۔

اس کے بعد اسی مکتوب میں بدعت میں کسی قسم کے حُسن وجمال ہونے اور بدعتِ حسنہ کی تعبیر واصطلاح کی مخالفت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :

’’گزشتہ لوگوں میں سے بعض نے بدعت میں کچھ حسن دیکھا کہ بدعت کی بعض قسموں کوانہوںنے مستحسن قرار دیا، لیکن اس فقیر کو اس مسئلہ میں ان سے اتفاق نہیں وہ کسی بھی بدعت کو حسنہ نہیں سمجھتا اور اس میں اس کو سوائے ظلمت وکدورت کے کچھ اور محسوس نہیں ہوتا ، رسول اکرم  ﷺ فرماتے ہیں :

کل بدعۃ ضلالۃ ۔ ( مکتوب نمبر ۲/۲۳، بنام مخدوم زادہ خواجہ محمد عبد اللہ )

ہر بدعت گمراہی ہے۔

ایک دوسرے مکتوب میں جو عربی میں میرمحب اللہ کے نام ہے تحریر فرماتے ہیں : ’’سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگوں نے کہاں سے کسی ایسے کام میں حُسن ہونے کا فیصلہ کیا جو اسلام کے دین کامل اور اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ ومقبول مذہب میں اتمام نعمت کے بعد ایجاد کیا گیا ہو کیا ان کو یہ موٹی بات معلوم نہیں کہ اتمام واکمال اور قبولیت کے بعد کسی دین میں کوئی نئی بات ایجاد کی جائے تو اس میں حُسن نہیں ہوسکتا’’فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلاَّ الضَّلاَلَ‘‘ (حق کے بعد صرف ضلال ہی کا درجہ رہ جاتاہے)

اگر ان کو یہ معلوم ہوتا کہ دین کامل میں کسی نو پیدا شدہ چیز کے حسن کا فیصلہ کرنا اس کے عدم کمال کو مستلزم  ہے اور اس بات کا اعلان کہ نعمت ابھی تام نہیں ہوئی تو وہ کبھی اس کی جرأت نہ کرتے۔ (مکتوب نمبر ۲/۱۹بنام میر محب اللہ )

ایک دوسرے مکتوب میں اسی استثنا پر کلام کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں : ’’جب (دین میں) ہر نو ایجاد بدعت ہوگی اور ہر بدعت ضلالت تو کسی بدعت میں حسن پائے جانے کا کیا مطلب ؟ اور جب احادیث سے صاف طریقہ پر یہ مفہوم ہوتاہے کہ ہر بدعت رافع سنت ہوتی ہے اور اس میں کوئی تخصیص نہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہر بدعت سیئہ ہے ۔ حدیث میں آتاہے:

’’مَا اَحْدَثَ قَوْمٌ بِدْعَۃً اِلاَّ رَفَعَ بِہَا مِثْلَہَا مِنَ السُّنَّۃِ، فَتَمَسَّکُ بِسُنَّۃٍ خَیْرٌ مِنَ اَحْدَاثِ بِدْعَۃٍ۔‘‘(مسند احمد ، مسند شاہین )

جب کوئی قوم کوئی بدعت نکالتی ہے اسی کے بقدر سنت اٹھالی جاتی ہے پس سنت سے وابستگی بدعت کی ایجاد کرنے سے بہتر ہے۔‘‘

حضرت حسان بن عطیۃ رحمہ اللہ سے منقول:

مَا ابْتَدَعَ قَوْمٌ بِدْعَۃٌ فِیْ دِیْنِہِمْ اِلَّا نَزَعَ اللّٰہُ مِنْ سُنَّتِہِمْ مِثْلَہَا ، ثُمَّ لاَ یُعِیْدُہَا اِلَیْھِمْ اِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔(سنن الدارمی ، کتاب المقدمۃ ، حدیث نمبر ۹۸ ، سندہ صحیح )

جب بھی کوئی قوم اپنے دین میں کوئی بدعت پیداکرے گی تو ضرور اللہ تعالیٰ ان سنتوں میں سے جن پر وہ عمل پیرا ہیں کوئی سنت ضرور سلب کرلے گا پھر قیامت تک وہ ان کو واپس نہ دے گا۔

جاننا چاہیے کہ بعض بدعتیں جن کو علماء ومشائخ نے حسنہ سمجھا ہے ، جب ان پر اچھی طرح سے غور کیا جاتاہے تو معلوم ہوتاہے کہ وہ بھی رافع سنت ہیں۔ (مکتوب نمبر ۱/۱۸۶، بنام خواجہ عبد الرحمن مفتی کابلی)

اسی مکتوب میں بدعت حسنہ کے وجود کا بالکل انکارکرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں : ’’لوگوں نے کہا ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں ، بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ اس نیک عمل کو بدعت حسنہ کہتے ہیں جو عہدرسالت اور خلفائے راشدین کے زمانہ کے بعد پیدا ہوا ہو اور اس سے کوئی سنت نہ اٹھتی ہو اور بدعت سیئہ وہ ہے جو رافع سنت ہو اس فقیر کو ان بدعات میں سے کسی بدعت میں حسن ونورانیت نظر نہیں آتی ، اور اس میں سوائے ظلمت وکدورت کے کچھ محسوس نہیں ہوتا فرض بھی کر لیا جائے کہ آج کسی عمل مبتدع میں ضعف بصارت کی وجہ سے تازگی اور صفائی نظر آتی ہے توکل جب نظر تیزاور دوربیں ہوگی تو خسارہ کے احساس اور ندامت کے سوا کوئی نتیجہ نہ نکلے گا۔

بوقت صبح شود ہم چوروز معلومت

کہ باکہ باختئہ عشق درشب دیجور

سید البشر  ﷺ فرماتے ہیں :

مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ہَذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ۔(صحیح بخاری ، کتاب الصلح )

جو ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز پیدا کرے گا جو اس کے اصل میں نہیں ہے تو وہ ردہے۔ (مقبول نہیں)۔

ان بدعات حسنہ میں جو اس زمانہ میں رواج پذیر ہورہی تھیں ایک محفل میلاد بھی تھی ، اس کے مقصد اور عالی انتساب کی وجہ سے اس کو بدعت کہنا اور اس کی مخالفت بڑا نازک اور دشوار کام تھا اور اس سے عوام میں غلط فہمی پیدا ہونے اور اس کو بے ادبی اور محبت کی کمی پر محمول کرنے کا خطرہ تھا لیکن حضرت مجدد نے جن کو اس بارے میں کامل شرحِ صدر حاصل تھا کہ جس چیز کا ثبوت خیر القرون میں نہیں ہے اس میں دین کی ترقی اور امت کی فلاح نہیں ہے ، اور اس میں مرور زمانہ کے ساتھ مختلف مفاسد کا اندیشہ ہے ، آپ سے استفسار کیا گیا کہ اگر محفل میلاد محظورات سے خالی ہوتو اس میں کیا حرج ہے؟ جواب میں ارشاد ہوا:

مخدوما! اس فقیر کے ذہن میں یہ آتاہے کہ جب تک کہ اس کا دروازہ مطلقاً نہ بند کردیا جائے گا اہل ہوس اس سے باز نہیں رہیں گے اگر ذرا بھی اس کے جواز کا فتویٰ دیا جائے گا تو رفتہ رفتہ بات کہیں سے کہیں پہنچ جائے گی۔ قلیلہ یُفْضِی إِلَی کثیرہ ‘‘(مکتوب نمبر ۳/۷۲،بنام خواجہ حسام الدین)

اس طرح حضرت مجدد کے اس مبصرانہ و جرأتمندانہ اقدام (بدعات کی عمومی مخالفت اور بدعت حسنہ کے وجودسے اختلاف) سے ایک بڑے خطرہ کا انسداد اور ایک بڑے دینی انتشار کا سدّ باب ہوگیا، جو غیر محقق علماء کی تائید ، خانقاہوں کی سرپرستی اور خوش اعتقاد امراء ورؤساء کی دلچسپی اور حمایت کی وجہ سے اسلامی معاشرہ میں پھیلتا جارہاتھا۔ فجزاہ اللہ عن الاسلام والمسلمین خیر الجزاء

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *