29-اللہ کے لئے کسی مریض سے ملاقات کرنا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَنْ عَادَ مَرِيضًا أَوْ زَارَ أَخًا لَهُ فِي اللهِ نَادَاهُ مُنَادٍ أَنْ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّأْتَ مِنْ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی بیمار کی عیادت کرنے یا اپنے (دینی) بھائی سے ملاقات کرنے جاتا ہے تو آسمان سے ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ تم بھی پاک ہو اور تمہارا چلنا بھی پاک ہے اور تم نے جنت میں گھر بنا لیا۔(سنن الترمزی:2008)
30-مسلمان کا اچھائی پر زندگی گزارنا
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ فَقُلْنَا وَثَلَاثَةٌ قَالَ وَثَلَاثَةٌ فَقُلْنَا وَاثْنَانِ قَالَ وَاثْنَانِ [صحيح البخاري:1368]
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: جس مسلمان کی اچھائی پر چار شخص گواہی دے دیں اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ تو ہم نے کہا: اور اگر تین گواہی دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اور تین پر بھی، پھر ہم نے پوچھا: اگر دو مسلمان گواہی دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دو پر بھی۔‘‘
31-صلہ رحمی کی فضیلت
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَره فَليصل رَحمَه»(مُتَّفق عَلَيْهِ)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا رزق فراخ کر دیا جائے اور اس کی عمر دراز کر دی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے۔‘‘
32-تکبر کے ساتھ کپڑا گھسیٹنے والا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا :’’اللہ روزِ قیامت اس شخص کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا جو تکبر کے طور پر اپنا کپڑا گھسیٹتا ہے۔ (متفق علیه)
33-شراب نوش کرنے والے کا انجام بد
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُدْمِنُ الْخَمْرِ إِنْ مَاتَ لقيَ اللهَ كعابِدِ وثن( رَوَاهُ أَحْمد)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شراب نوشی پر دوام اختیار کرنے والا اگر (اسی حالت میں) فوت ہو جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے بت کے پجاری کی طرح ملاقات کرے گا۔‘‘
34-یتیم بچوں کی کفالت کا اجر
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ أَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ إِذَا اتَّقَى اللهَ وَأَشَارَ مَالِكٌ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى [مسند احمد:8881]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اپنے یا کسی دوسرے کے یتیم بچے کی پرورش کرنے والا، میں اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے بشرطیکہ وہ اللہ کا تقوی رکھتا ہو.»
امام مالک نے شہادت والی اور درمیان والی انگلی کا اشارہ کیا۔
35-جنت کو واجب کرنے والی چیزیں
عَنْ هَانِئِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ شَيءٍ يُوجِبُ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ: عَلَيْكَ بِحُسْنِ الكَلاَمِ وَبَذْلِ الطَّعَامِ. [السلسلة الصحيحة :1939]
سیدنا ہانی بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ ! کونسی چیز جنت کو واجب کرتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمايا: تم عمدہ کلام کو اور کھانا کھلانے کو لازم پکڑو۔»
36-والدین کے ساتھ نیکی کا صلہ
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ نِمْتُ فَرَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَسَمِعْتُ صَوْتَ قَارِئٍ يَقْرَأُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ ﷺ كَذَاكَ الْبِرُّ كَذَاكَ الْبِرُّ وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ [مسند احمد: 25182]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: میں سویا ہوا تھا پس میں نے (خواب میں) اپنے آپ کو جنت میں دیکھا تو میں نے ایک قاری کی آواز سنی جو تلاوت کر رہا تھا، میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ہیں، رسول اللہ ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: یہی نیکی ہے، یہی نیکی ہے۔
(حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ) لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوك کرنے والے تھے۔
37-اللہ کے نزدیک بدترین شخص
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اللهِ ذَا الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ.
سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم قیامت کے دن اللہ کے ہاں اس شخص کو سب سے بدتر پاؤ گے جو کچھ لوگوں کے سامنے ایک رخ سے آتا ہے اور دوسروں کے سامنے دوسرے رخ سے جاتا ہے۔»(صحیح بخاری:6058)
38-چھ چیزوں کی ضمانت کے بدلے جنت کی خوشخبری
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اضْمَنُوا لِي سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنْ لَكُمْ الْجَنَّةَ اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُمْ وَأَدُّوا إِذَا اؤْتُمِنْتُمْ وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ [مسند احمد:22757]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مجھے اپنے نفسوں کے بارے میں چھے چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں، جب تم بات کرو تو سچ بولو، اور جب تم وعدہ کرو تو پورا کرو، جب تمہیں امین بنایا جائے تو امانت کا حق ادا کرو، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو، اور اپنی نظروں کو جھکا کر رکھو، اور اپنے ہاتھوں کو (دوسروں کو تکلیف دینے سے) روک لو۔»
39-زبان کی ایذا رسانیوں سے دوسروں کو محفوظ رکھنا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ۔۔۔ يَا رَسُولَ اللهِ فَإِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ قِلَّةِ صِيَامِهَا وَصَدَقَتِهَا وَصَلَاتِهَا وَإِنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنْ الْأَقِطِ وَلَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا قَالَ هِيَ فِي الْجَنَّةِ [مسند احمد:9675]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا۔۔۔یا رسول اللہﷺ! فلاں عورت اپنے (نفلی) روزے، اپنے (نفلی) صدقے، اور اپنی (نفلی) نماز کی کمی میں مشہور ہے، اور وہ صرف پنیر کے چند ٹکڑے صدقہ کرتی ہے۔ لیکن اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو نہیں ستاتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جنتی ہے۔»
40-جنت کے قریب اور جہنم سے دور کرنے والا عمل
عَنْ أَبِى أَيُّوبَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ دُلَّنِى عَلَى عَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْنِينِى مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِى مِنَ النَّارِ. قَالَ تَعْبُدُ اللهَ لاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِى الزَّكَاةَ وَتَصِلُ ذَا رَحِمِكَ [صحيح مسلم:115]
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: مجھے ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کر دے۔تو آپ ﷺنے فرمایا: اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوة ادا کرو اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔
41-صدقہ جنت میں لے جائے گا
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ أَسْنَدْتُ النَّبِيَّ ﷺ إِلَى صَدْرِي فَقَالَ . . . مَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ [مسند احمد:23324]
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں نے اپنا سینہ نبی کریم ﷺ کے لئے تکیہ بنا رکھا تھا تو آپ ﷺنے فرمایا: . . . جو شخص اللہ کا چہرہ چاہنے کے لیے صدقہ کرے
اور اسی پر اس کا اختتام ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
42-حج مبرور کا بدلہ جنت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ [صحیح البخاری:1773]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں ہے۔
43-صبح وشام مسجد میں حاضر ہونے والے کو بشارت:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَاحَ أَعَدَّ اللهُ لَهُ نُزُلَهُ مِنْ الْجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ [صحيح البخاري:662]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا: جو شخص مسجد کی طرف صبح و شام بار بار آتا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی مہمانی تیار کرتا ہے، جب بھی وہ صبح اور شام (مسجد میں) آتا اور جاتا ہے۔
(جاری ہے)
