قسم کے الفاظ اور مفہوم بالکل واضح ہونا چاہیے حدیث نمبر42
عَنْ أَبِیْ ہریرۃ رضی اللہ عنہ قَالَ : قَالَ رسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’یَمِیْنُکَ عَلَی مَا یُصَدِّقُکَ عَلَیْہِ صَاحِبُکَ‘‘
تخریج : صحیح مسلم شریف، کتاب الایمان ، حدیث نمبر:4283
روای کا تعارف : حدیث نمبر ۱۵ کی تشریح میں ملاحظہ فرمائیں۔
معانی الکلمات :
یَمِیْنُکَ : تمہاری قسم your swear عَلَی مَا : جس پر upon whatever یُصَدِّقُکَ : تمہاری تصدیق کرتاہے
عَلَیْہِ : اس پر Upon That صَاحِبُکَ : تمہارا دوست your friend
ترجمہ: حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہا نے فرمایا : تمہاری قسم اسی چیز( معنی) پر معتبر ہوگی جس پر تمہائے ساتھی تصدیق کرے۔
تشریح: شریعت اسلامیہ ہمیشہ راست بازی ، درست روی ، صاف دِلی کا حکم دیتی ہے، ہر طرح کے دھوکے ، فریب سے منع کرتی ہے اسی طرح کسی معاملہ میں اپنے بیانات ، قسم یا گواہی دیتے وقت صرف ایسے الفاظ استعمال کرنے کا حکم ہے جن کا مفہوم بالکل واضح اور صرف ایک مطلب پر دلالت کرتے ہوں ورنہ ثالث (فیصلہ کرنے والا) غلطی کا شکار ہوسکتاہے اگر قصداً ذو معنی جملے استعمال کیے جائیں تاکہ فریقین کو راضی رکھا جاسکے تو اللہ تعالیٰ علیم بذات الصدور ہے ۔ مزیدبرآں کہ ایسے الفاظ سے فیصلہ برعکس ہوسکتاہے نا انصافی کرنا جرم ہے تو کروانا بھی اسی قدر جرم ہے۔ذو معنی الفاظ سے قسم کھا کر اپنا جرم چھپانے کی کوشش کرنا انتہائی مذموم حرکت ،دھوکہ اور جھوٹ ہے لہذا بالکل واضح اور ایک ہی مفہوم پر دلالت کرنے والے الفاظ استعمال کرنا ضروری ہے آپ کے الفاظ جو مفہوم عام فہم اورسننے والا سمجھ رہا ہوگا اسی مطلب میں آپ کی قسم کا اعتبار ہوگا بعد میں نہ کہنا پڑے کہ میری مراد تو یہ تھی ۔
واللہ أعلم بالصواب
