قارئین کرام! رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی کسی شرعی عذر کے بغیر نماز تہجد کو ترک نہیں کیا۔ سیدہ کائنات عائشہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی کوئی نیکی کا عمل کرتے تو اس پرثابت قدمی کے ساتھ عمل پیرا رہتے اگر رات میں آنکھ لگ جاتی یا بیمار ہوجاتے تو نماز تہجد کے عوض دن میں بارہ رکعت نماز ادا کرتے ۔(صحیح ابن حبان ، حدیث نمبر:۲۶۴۲، کتاب الصلاۃ ، فصل فی قیام اللیل ، جلد نمبر /۶ ، بحقیق الشیخ شعیب الارنؤوط)
٭رسول اللہ ﷺ کا اکثر معمول یہ تھا کہ آپ نماز تہجد کے بعد آرام فرماتے جب مؤذن آذان فجر دیتا تو آپ ﷺ اپنے بستر سے اٹھتے اور حسب حاجت غسل کرتے وگرنہ وضو (وضواور نماز میں معمولات محمدیہ کا تذکرہ بعد میں کیا جائے گا۔ انشاء اللہ)کرنے کے بعد سنتِ فجر اداکرتے۔
سنتِ فجر کی فضیلت
احادیث نبویہ میں سنتِ فجر کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے معمولات ومأمورات پوری شرح وبسط کیساتھ محفوظ ہیں جن سے ان دو رکعتوں کی فضیلت واضح ہوتی ہے۔ جیساکہ صحیح مسلم میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کسی چیز (نوافل میں سے)کی اتنی حفاظت نہیں فرماتے تھے جتنا کہ فجر کی دو رکعتوں کی حفاظت فرماتے تھے۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر:۷۲۴، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا ، باب استحباب رکعتی سنۃ الفجر والحث علیہما وتخفیفہما والمحافظۃ علیہما وبیان ما یستحب أن یقرأ فیہما )
اور دوسری حدیث میں فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فجر کی سنتوں سے زیادہ کسی اور نوافل کی طرف جلدی کرتے ہوئے نہیں دیکھایعنی رسول مکرم ﷺ ان سنتوں کو ادا کرنے کیلئے بے چین رہتے تھے۔(عن عائشہ رضی اللہ عنہا ، صحیح مسلم، حدیث نمبر:۷۲۴، أیضاً)
اور ایک حدیث میں فرمایا کہ فجر کی دوسنتیں دنیا اور ما فیہا سے بہتر اور افضل ہیں۔(صحیح مسلم،حدیث نمبر ۷۲۵، أیضاً)
ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا کہ فجر کی دو رکعتیں مجھے دنیا کی ساری نعمتوں سے زیادہ محبوب ہیں۔(صحیح مسلم،حدیث نمبر ۷۲۵، أیضاً)
اور مسند احمد میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :صبح کی دو رکعتیں نہ چھوڑوچاہے(دشمن کے )گھوڑے تمہارے مقابلے میںہوں۔ ( مسند احمد ، حدیث نمبر ۹۲۴۲)
سنتِ فجر میں قرأت
صبح کی دو رکعتیں ہلکی پڑھنی چاہیے یہی رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا۔ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ فجر کی سنتوں میں پہلی رکعت میں سورئہ بقرہ کی آیت نمبر (۱۳۶)اور دوسری رکعت میں سورئہ آل عمران کی آیت نمبر (۵۲) تلاوت کیا کرتے تھے۔(صحیح مسلم ، حدیث نمبر :۷۲۷، أیضاً )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی معظم ﷺ سنت فجر کی پہلی رکعت میں سورئہ الکافرون اور دوسری رکعت میں سورئہ الإخلاص پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر :۷۲۸، أیضاً )
٭رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ آپ فجر کے نوافل ادا کرنے کے بعد دائیں پہلوپہ تھوڑی دیر کیلئے لیٹ جاتے تھے۔(عن عائشہ رضی اللہ عنہا ، صحیح بخاری ، کتاب التہجد، باب الاضطجاع علی شق الأیمن بعد رکعۃ الفجر)
مسجد کی طرف
گھر سے باہر نکلتے وقت درج ذیل دعائیں پڑھنی چاہیے۔
۱۔بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ لاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ۔ (عن أنس رضی اللہ عنہ ، سنن أبی داؤد ، حدیث نمبر :۵۰۹۵، کتاب الأدب ، باب ما یقول الرجل إذا خرج میں بیتہ ، صححہ الشیخ الألبانی رحمہ اللہ)
’’اللہ کے نام سے میں نے اسی پر بھروسہ کیا گناہ سے بچنے کی طاقت اورنیکی کرنے کی توفیق اللہ ہی طرف سے ممکن ہے۔‘‘
فضیلت : رسو ل اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص یہ دعا پڑھ کر گھر سے نکلتاہے تو اس کو کہا جاتاہے کہ تو ہدایت یافتہ ہے تجھے کفایت کیا گیا ہے اور تجھے ہر قسم کے شر سے محفوظ کیا گیاہے۔(عن أنس رضی اللہ عنہ ، سنن أبی داؤد ، حدیث نمبر :۵۰۹۵، کتاب الأدب )
۲۔ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ جب میرے گھرے سے نکلتے تو آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر یہ دعا پڑھتے تھے۔
اللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ أَنْ اَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ أَوْأَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْہَلَ أَوْ یُجْہَلَ عَلَیَّ۔(عن ام سلمۃ رضی اللہ عنہا،سنن أبی داؤد، حدیث نمبر ۵۰۹۴، صححہ الألبانی أیضاً )
’’اے اللہ میں تیری پناہ چاہتاہوں اس بات سے کہ گمراہ ہوجاؤ یا گمراہ کیا جاؤ ں، پھسل جاؤ یا پھسلا دیا جاؤ ں، ظلم کروں یا ظلم کیا جاؤں ، جہالت کروں یا مجھ پر جہالت کی جائے۔
۳۔اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْراً ، وَفِیْ لِسَانِیْ نُوْراً ، وَاجْعَلْ فِیْ سَمْعِیْ نُوْراً ، وَاجْعَلْ فِیْ بَصَرِیْ نُوْراً ، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِیْ نُوْراً وَمِنْ اَمَامِیْ نُوْراً ، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِیْ نُوْراً وَمِنْ تَحْتِیْ نُوْراً ، اَللّٰہُمَّ اَعْطِنِیْ نُوْراً ۔‘‘ (صحیح مسلم، حدیث نمبر :۷۶۳، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا ، باب الدعاء فی صلاۃ اللیل وقیامہ )
’’اے اللہ ! میرے دل میں ، میری زبان میں ، میرے کانوں میں ، میری نظر میں، میرے پیچھے ، میرے آگے ، میرے اوپر اور میرے نیچے نور کر دے اور مجھے نور عطا فرما۔‘‘
مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا
رسول عربی ﷺ جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے ۔
اَللّٰہُمَّ افْتَحْ لِیْ أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔ (صحیح مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا ، باب ما یقول إذا دخل المسجد ، حدیث نمبر :۷۱۳)
’’اے اللہ ! میری لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔‘‘
نمازِ فجر میں قرأت
فجر کی نماز میں رسول مکرم ﷺ مختلف دنوں میں درج ذیل سورتیں پڑھتے تھے۔
۱۔ عموماً نماز فجر میں ساٹھ سے سو آیتوں کے درمیان پڑھتے۔(عن أبی برزۃ رضی اللہ عنہ ، صحیح ابن خزیمہ ، حدیث نمبر ۵۳۰ ، ص/۲۶۵، ج/۱، کتاب الصلاۃ ، باب القرأۃ فی صلاۃ الصبح، بحقیق الدکتور مصطفی الأعظمی)
۲۔ بعض دفعہ نماز فجر میں سورئہ ق پڑھتے تھے۔ (عن جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ ، حدیث نمبر: ۵۲۷، المرجع السابق)
۳۔کبھی کبھی سورئہ واقعہ بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔(حدیث نمبر: ۵۳۱، المرجع السابق)
۴۔جمعہ والے دن نماز فجر میں پہلی رکعت میں سورئہ السجدہ اور دوسری رکعت میں سورئہ الدہر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ (عن ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حدیث نمبر۵۳۳ کتاب الصلاۃ ، باب القرأۃ فی الفجر یوم الجمعۃ ، صحیح ابن خزیمۃ ، ص/۲۶۶، ج/۱ )
فرضِ نماز کے بعد کے اذکار
فرض نمازوں کے بعد درج ذیل اذکار پڑھنا رسول اللہ ﷺ کے معمولات اور مامورات سے ثابت ہے ۔
۱۔اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔ (عن ابن عباس رضی اللہ عنہما ، صحیح مسلم ، کتاب المساجد ،باب الذکر بعد الصلاۃ )
۲۔ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ ( تین دفعہ) ۔(عن ثوبان رضی اللہ عنہ ، صحیح مسلم ،کتاب المساجد ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفتہ ، حدیث نمبر :۵۹۱)
۳۔اَللّٰہُمَّ اَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَا ذَا الْجَلاَلِ وَالْإِکْرَامِ۔ (عن ثوبان رضی اللہ عنہ ، صحیح مسلم ،کتاب المساجد ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفتہ ، حدیث نمبر :۵۹۱)
اے اللہ ! تو سلامتی والا ہے اور تجھ ہی سے سلامتی ہے ، تو بابرکت ہے اے بزرگی اور عزت والے۔‘‘
۴۔ لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَئٍ قَدِیْرٌ، اَللّٰہُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ ،وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ ۔ (عن مغیرۃ بن شعبۃ رضی اللہ عنہ ، صحیح مسلم ،کتاب المساجد ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفتہ ، حدیث نمبر :۵۹۳)
اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کیلئے ساری بادشاہت ہے اور اسی کیلئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے تو اسے کوئی روکنے والا نہیں ، اور جو تو روک لے تو اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی بزرگی والے کی بزرگی تجھ کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔‘‘
۵۔ لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَئٍ قَدِیْرٌ، لاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ ، لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَلاَ نَعْبُدُ اِلاَّ اِیَّاہُ ، لَہُ النِّعْمَۃُ وَلَہُ الْفَضْلُ وَلَہُ الثَّنَائُ الْحَسَنُ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔‘‘ (عن ابن الزبیر رضی اللہ عنہ ، صحیح مسلم ،کتاب المساجد ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفتہ ، حدیث نمبر :۵۹۴)
اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کیلئے ساری بادشاہت ہے اور اسی کیلئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔اللہ کی توفیق کے بغیر نہ کسی برائی سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی توفیق۔ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ، اور ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے۔ ساری نعمتیں اسی کیلئے ہیں اور سارا فضل اسی کیلئے ہے اور اچھی ثناء اسی کیلئے ہے ۔اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ، ہم اسی کیلئے دین کو خالص کرتے ہیں ، اگرچہ کافروں کویہ بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
۶۔ ۳۳ مرتبہ (سُبْحَانَ اللّٰہ) ، ۳۳ مرتبہ (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ) اور ۳۳ مرتبہ ( اللّٰہُ اَکْبَرُ) کہنا ، پھر ایک مرتبہ ۔ لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَئٍ قَدِیْرٌ۔کا پڑھنا۔(عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ، صحیح مسلم ،کتاب المساجد ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفتہ ، حدیث نمبر :۵۹۷)
٭ جو شخص ان تسبیحات کو پڑھتاہے اس کی غلطیاں چاہیے سمندر کی جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں معاف کردی جاتی ہیں۔‘‘(عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ صحیح مسلم ،کتاب الذکر والدعاء ، باب فضل التہلیل والتسبیح والدعاء ، حدیث نمبر :۲۶۹۱)
٭ہمیشہ یہ تسبیحات پڑھنے والا شخص دنیا وآخرت کی ذلت ورسوائی سے محفوظ رہتاہے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب المساجد بعد استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفتہ/۵۹۶)
ان تسبیحات کے فوائد
دن اور رات کی ہر نماز کے بعد ان تسبیحات کو پڑھا جائے تو پڑھنے والے کیلئے ۵۰۰ صدقوں کا ثواب لکھ دیا جاتاہے ، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے ’’ہر تسبیح (سبحان اللہ) صدقہ ہے اور ہر تکبیر (اللہ اکبر ) صدقہ ہے اور ہرتحمید (الحمد اللہ) صدقہ ہے اور ہرتحلیل (لا الہ الا اللہ) صدقہ ہے۔ (عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ، صحیح مسلم ،کتاب المساجد ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفتہ ، حدیث نمبر :۷۰۲)
٭ اسی طرح اس شخص کے لیے جنت میں ۵۰۰ درخت لگا دیے جاتے ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ شجر کاری کررہے تھے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ! کیامیں تمہیں اس سے بہتر شجر کاری نہ بتاؤں؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ ! تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلاَ اِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ۔ کہا کرو ، ہر ایک کے بدلے تمہارے لئے جنت میں ایک درخت لگا دیا جائے گا۔‘‘( عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ، سنن ابن ماجہ ، کتاب الأدب ، باب فضل التسبیح ، حدیث نمبر :۳۸۰۷)
۷۔ رَبِّ اَعِنِّیْ عَلَی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ۔ (عن معاذ رضی اللہ عنہ ، أبو داؤد ، کتاب الصلاۃ ، باب فی الإستغفار ، حدیث نمبر :۱۵۲۲)
اے اللہ! اپنے ذکر ، اپنے شکر اور اپنی عبادت میں اچھے طریقے پر عبادت کرنے کی توفیق (پیدا کرنے ) پر میری مدد فرما۔‘‘
۸۔ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ ، وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ اَنْ اُرَدَّ اِلَی اَرْزَلِ الْعُمُرِ ، وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔( عن سعد رضی اللہ عنہ ، حدیث نمبر: ۲۸۲۲، صحیح بخاری ، کتاب الجہاد والسیر ، باب ما یتعوذ من الجبن )
اے اللہَ میں بزدلی سے آپ کی پناہ چاہتاہوں ، اور بے غرض عمر کی طرف لوٹائے جانے سے آپ کی پناہ میں آتاہوں ، اور دنیا کے فتنے سے آپ کی پناہ میں آتاہوں اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتاہوں۔‘‘
۹۔آخری تین سورتوں کو پڑھنا یعنی (سورئہ الاخلاص ، الفلق ، الناس) ( عن عقبۃ بن عامر رضی اللہ عنہ ، ابو داؤد ، کتاب الصلاۃ ،باب الإستغفار ، حدیث نمبر :۱۵۲۳)
۱۰۔ آیت الکرسی کا پڑھنا
ارشاد نبوی ﷺ ہے : ’’جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی کو پڑھے ، اس کے اور جنت کے درمیان صرف اس کی موت کا فاصلہ رہ جاتاہے۔‘‘( عن ابی امامۃ رضی اللہ عنہ ، النسائی فی عمل الیوم واللیلۃ ، وذکرہ شیخ الالبانی فی الصحیحۃ ، حدیث نمبر :۹۷۲، صفحہ:۶۶۱، جلد /۲)
۱۱۔ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا اَسْرَفْتُ وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِہِ مِنِّیْ ، اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ ۔(صحیح مسلم ، حدیث نمبر :۷۷۱، باب نمبر :۲۰۲ ، الدعاء فی صلاۃ اللیل وقیامہ ، کتاب الصلاۃ )
اے اللہ! پس تو مجھے وہ سب کچھ بخش دے جو میں نے پہلے کیا اور جو کچھ بعد میں کیا اور کچھ میں نے پوشیدہ کیا اور جو کچھ علی الاعلان کیا تو ہی آگے کرنے والا ہے (نیک کاموں میں) اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے ، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے ۔ ‘‘
نوٹ : درج بالا مضمون کی تیاری کیلئے 24 گھنٹوں میں ہزار سنتیں مترجم : حافظ محمد اسحاق زاہد (جزا اللہ مؤلفہ ) سے استفادہ کیا گیاہے۔
صبح وشام کی دعائیں اور نمازِ چاشت کی فضیلت، رکعات کے بارے میں معمولات محمدیہ اور مأمورات نبویہ ا آئندہ ذکر کئے جائیں گے۔ ان شاء اللہ
(جاری ہے )
