قسط نمبر:7
وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا} [النساء: 94] ، {لا تَقُولُوا رَاعِنَا} [البقرة: 104] ، {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتٌ} [البقرة: 154]، {وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا، إِلَاّ أَنْ يَشَاءَ اللهُ} [الكهف: 23، 24] ، {فَلا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُمَا}[الإسراء: 23] ، {وَلا تَدْعُ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ}[القصص: 88] ، {وَلا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ مِنْ إِمْلاقٍ} [الأنعام: 151] ، {وَلا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ} [الإسراء: 29] ، {وَلا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَاّ بِالْحَقِّ} [الأنعام: 151] ، {وَلا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَاّ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ} [الأنعام: 152] ، {وَلا تَمْشِ فِي الأَرْضِ مَرَحًا} [لقمان: 18] ومثله في القرآن كثير. فهذا ما نهى الله عنه، ولم يقل لنا: لا تقولوا: إن القرآن كلامي.
اور فر مایا : اور نہ کہو اللہ تین ہیں”اور فر مایا: ’’اور جو تم سے سلام کرے تو اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان والا نہیں۔‘‘اور فر مایا: ’’راعنا نہ کہاکرو” ۔“ اور اللہ تعالیٰ کی راہ کے شہیدوں کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں۔لیکن تم نہیں سمجھتے” اور ہر گز ہر گز کسی کام پر یوں نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا، مگر ساتھ ہی ان شا ء اللہ کہہ لینا”تو ان کے آگے اُف تک نہ کہنا”جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو ان کے پیچھے مت پڑ۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارنا۔اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔اپنا ہاتھ اپنی گر دن سے بندھا ہوا نہ رکھ۔“ اور کسی جان ناحق کو ما رنا” اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ” اور زمین پر اکڑ کر مت چل” اس کی مثالیں قرآن میں بہت زیادہ ہیں۔تو وہ یہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا قرآن میں اور ہم کو یہ نہیں کہا: ایسا نہ کہو کہ قرآن میرا کلام ہے”
وقد سَمَّت الملائكة كلام الله كلامًا ولم تسمه خلقًا، قوله: {حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ} [سبأ: 23]. وذلك أن الملائكة لم يسمعوا صوت الوحي ما بين عيسى ومحمد ﷺ، وبينهما كذا وكذا سنة. فلما أوحى الله إلى محمد -ﷺ- سمع الملائكة صوت الوحي كوقع الحديد على الصفا فظنوا أنه أمر من الساعة، ففزعوا وخروا لوجوههم سجدًا، فذلك قوله: {حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ} [سبأ: 23] يقول: حتى إذا انجلى الفزع عن قلوبهم رفع الملائكة رءوسهم فسأل بعضهم بعضًا فقالوا: ماذا قال ربكم. ولم يقولوا، ماذا خلق ربكم. فهذا بيان لما أراد الله هداه.
اور یقیناً ملائکہ نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو کلام کہا ہے ۔ اور اس کومخلوق کا نام نہیں دیا۔اور اللہ تعالی ٰ کا فر مان ہے : یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے تو وہ پو چھتے ہیں تمھارے پر ور دگار نے کیا فر مایا ؟ جواب دیتے ہیں حق فر ما یا: اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے”اس طرح ملائکہ نے عیسیٰ علیہ السلام اور محمد ﷺ کے درمیان وحی نہیں سنی۔اور ان دونوں کے درمیان بہت سالوں کا وقفہ تھا۔لیکن جب محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے وحی کی تو فر شتوں نے وحی کی آواز ایسی سنی جیسا کہ لو ہے کی آواز سر دان پر ہو تی ہے۔ تو ملائکہ نے یہ گمان کیا کہ یہ قیامت کی گھڑی ہے۔ تو وہ ڈر گئے۔ اور ان کے چہرے سجدے میں ہو گئے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے: یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے دلوں سے خوف جاتا ہے تو ملائکہ اپنے سر اٹھا تے ہیں تو ایک دوسرے سے پو چھتے ہیں تو کہتے ہیں “آپ کے رب نے کیا کہا؟اور یہ نہیں کہا کہ آپ کے رب نے کیا پیدا کیا۔ پس یہ بیان اس کے لئے ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ ہدا یت کا فیصلہ کرے۔
ثم إن الجهم ادعى أمرًا آخر فقال: أنا أجد آية في كتاب الله تبارك وتعالى تدل على أن القرآن مخلوق. فقلنا في أي آية؟.. فقال: {مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ} [الأنبياء: 2] . فزعم أن الله قال: القرآن محدث. وكل محدث مخلوق فلعمري، لقد شبه على الناس بهذا. وهي آية من المتشابه فقلنا في ذلك قولاً واستعنا بالله، ونظرنا في كتاب الله، ولا حول ولا قوة إلا بالله
امام احمد رحمہ اللہ نے فر مایا: اس کے بعد جہمی نے ایک اور دعویٰ کیا۔ جہمی نے کہا: میں قرآن میں ایک آیت پا تا ہوں جو اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مخلوق ہے ۔ ہم نے کہا: کو ن سی آیت؟ جہمی نے کہا: اللہ تعالی ٰ کا یہ فر مان “ ان کے پا س ان کے رب کی طر ف سے جو بھی نئی نئی نصیحت آتی ہے”تو جہمیہ نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا ہے: قرآن محدث ہے اور ہر محدث مخلوق ہو تی ہے ۔ پس مجھے اپنی عمر کی قسم لو گوں کو شبہہ میں ڈالا اور مذکورہ آیت متشابہہ آیت ہے ۔ہم نے کہا: ہم اس میں ایک بات کرتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے ہیں۔اور کتاب اللہ میں دیکھتے ہیں۔ (ولا حول ولا قوۃ الا باللہ)
اجتماع الشيئين في اسم واحد يجري عليه المدح أو الذم
قال أحمد رضي الله عنه: اعلم أن الشيئين إذا اجتمعا في اسم يجمعهما فكان أحدهما أعلى من الآخر، ثم جرى عليهما اسم مدح، فكان أعلاهما أولى بالمدح وأغلب عليه، وإن جرى عليه اسم ذم فأدناهما أولى به، ومن ذلك قول الله تعالى في كتابه: {إِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحج: 65]{عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللهِ} [الإنسان: 6] يعني الأبرار دون الفجار، فإذا اجتمعوا في اسم الإنسان، واسم العباد، فالمعنى في قوله الله جل ثناؤه: {عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللهِ} [الإنسان: 6] يعني الأبرار دون الفجار، لقوله إذا انفرد الأبرار: {إِنَّ الأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ} [الانفطار: 13] . وإذا انفرد الفجار: {وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ} [الانفطار: 14] .وقوله: {إِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحج: 65] فالمؤمن أولى به وإن اجتمعا في اسم الناس، لأن المؤمن إذا انفرد أعطى المدحة لقوله: {إِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحج: 65] . {وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا} [الأحزاب: 43] . وإذا انفرد الكفار جرى عليهم الذم في قوله: {أَلا لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الظَّالِمِينَ} [هود: 18] ، وقال: {أَنْ سَخِطَ اللهُ عَلَيْهِمْ وَفِي الْعَذَابِ هُمْ خَالِدُونَ} [المائدة: 5] . فهؤلاء لا يدخلون في الرحمة. وفي قوله: {وَلَوْ بَسَطَ اللهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الأَرْضِ} [الشورى: 27] .فاجتمع الكافر والمؤمن في اسم العبد، والكافر أولى بالبغي من المؤمنين؛ لأن المؤمنين انفردوا ومدحوا فيما بسط لهم من الرزق، وهو وقوله: {وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا} [الفرقان: 67] . وقوله: {وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ} [البقرة: 3] .وقد بُسط الرزق لسليمان بن داود، ولذي القرنين، وأبي بكر، وعمر، ومن كان على مثالهم ممن بسط له فلم يبغِ. وإذا انفرد الكافر وقع عليه اسم البغي في قوله لقارون: {فَبَغَى عَلَيْهِمْ} [القصص: 76] . ونمرود بن كنعان حين آتاه الله الملك فحاج في ربه، وفرعون حين قال موسى: {رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} [يونس: 88] .فلما اجتمعوا في الاسم الواحد فجرى عليهم اسم البغي كان الكفار أولى به، كما أن المؤمن أولى بالمدح.
امام احمدرحمہ اللہ نے فرما یا : جان لو جب دو چیزیں ایک نام میں جمع ہو جائیں اور ان میں سے ایک (چیز)دوسرے سے اعلیٰ ہو ۔ پھر ان دونوں کی تعریف کی جائے تو اعلیٰ تعریف کا زیادہ اولیٰ ہو گا۔اور اگر دونوں کے لئے اسم ذم (مذمت والا نام) بو لا جاتا ہے تو دونوں میں سے ادنیٰ لفظ مذ مت کے اعتبار سے اعلیٰ سے زیادہ اولیٰ ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے : ’’بے شک اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کر نے والا ہے۔ ” اور جو ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے” سے نیک لو گ مراد ہے بد کار نہیں۔ پس جب اسم الانسان اور اسم العباد میں جمع کیا تو اللہ کے اس قول کا معنی “ یعنی صرف نیک لوگ پیئے گے گنہگار نہیں پئیںگے۔اور جب انفرادی طور پر نیک لوگوں کا ذکر اللہ تعالیٰ کے فر مان میں ہو تا ہے ۔ تو یوں ارشاد ہو تا ہے۔ “ یقیناً نیک لوگ نعمتوں میں ہو ں گے”اور جب کفار کا انفرادی ذکر ہو تا ہے تو یہ فر مان ارشاد ہو تا ہے ۔ ’’اور یقیناً بد کار لوگ دوزخ میں ہوں گے۔”اور اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے :“ اللہ تعالیٰ لوگوں کیساتھ شفقت اور مہر بانی کر نے والا ہے” پس مومن زیادہ حقدار ہے۔اگر چہ کافر اور مومن(الناس ) میں جمع ہیں۔ اس لئے جب مومن کا انفرادی ذکر ہو تا ہے تو اس کی تعریف ہو تی ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فر مان کے مطابق“یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نر می کر نے والا رحم کر نے والا ہے” اور جب کفار کا انفرادی ذکر کیا تو اس کے لئے مذمت کا لفظ کہا گیا۔ اس فر مان کے مطابق: ’’خبردار ہو کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر”اور اللہ تعالیٰ کا کا فر مان: کہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے”تو وہ یہ لوگ ہیں جو اس کی رحمت میں داخل نہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فر مان ہیں : اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لئے رزق فراخی کر دیتا تو وہ زمین میں ضرور سر کشی کر تے”تو یہاں عباد کے اسم میں کفار اور مو من کو جمع کیا گیا۔ پس کفار مو منین کی نسبت لفظ سر کشی کے زیادہ حقدار ہیں۔ لیکن جب مو من کا انفرادی ذکر ہو تا ہے تو رزق کی فراخی میں اسکی تعریف ہو تی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے: ’’اور جو خرچ کر تے وقت بھی نہ تو اسراف کر تے ہیں نہ بخیلی” اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: ’’اور ہمارے دیئے ہو ئے (مال) سے خر چ کرتے ہیں”اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے داؤد ،سلیمان ،ذوالقر نین اور سیدناابو بکر ، عمر ، عثمان ، علی رضی اللہ عنہم کے لئے رزق فراہم کیا تھا۔لیکن انہوں نے سر کشی نہیں کی۔ اور جب انفرادی طور پر کافر کا ذکر ہو تا ہے ، تو سرکشی کا لفظ اس پر واقع ہو تا ہے۔جیسا کہ قرآن میں قارون کا ذکر ہے۔قارون تھا تو قوم موسیٰ علیہ السلام سے لیکن ان پر ظلم کر نے لگا تھا”اور جب نمرود کو اللہ نے بادشاہی دی تو اللہ تعالیٰ سے لڑنے لگا اور فر عون بھی جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اے ہمارے رب! تو نے فر عون کو اور اس کے سرداروں کو سا مان زینت اور طرح طرح کے مال دنیاوی زندگی میں دیئے”۔ پس جب ایک اسم میں کافر اور مو من اکھٹے ہو جائیں اور اس کے لئے مذمتی لفظ بو لا جائے تو مذمت کے لئے کافر مومن سے اولیٰ ہو گا۔(جاری ہے)
