اولیاء کرام اور اولیاء الشیطان میں فرق

ولی کی جمع اولیاء ہے ۔ قرآن مجید میں یہ لفظ معمولی فرق کے ساتھ تقریباً ۸۱ مرتبہ پانچ معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس کا مادہ ایک ہی ہے ، اس لیے اس کے استعمال میں معمولی سا فرق پایا جاتا ہے۔ لیکن مفہوم اور نتیجہ کے اعتبار سے ان میں بعد المشرقین ہے اور اس کا استعمال اچھا بھی ہو سکتا ہے اور بُرا بھی۔ قرآن مجید نے اسے اللہ، اس کے رسولﷺ اور مومنوں کے باہمی تعلقات کے لیے بھی استعمال فرمایا ہے اور یہی لفظ شیطان کے ساتھیوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اس لیے اس کے معنی کا تعین اس کے سیاق و سباق سے کیا جاتا ہے۔

﴿اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا يَتَّقُوْنَ﴾ (یونس: ۶۲، ۶۳)

’’سن لو! یقیناً اللہ کے دوستوں کو، نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے، جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔ ‘‘

قرآن مجید نے حقیقی اولیاء کرام کو اولیاء الرحمٰن کا اعزاز بخشا ہے ان کی ان الفاظ میں اور تعریف فرمائی ہے:

﴿وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا وَ الَّذِيْنَ يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِيَامًا وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًااِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا﴾ (الفرقان: ۶۳ تا ۶۵)

’’رحمان کے بندے وہ ہیں جوزمین پرآہستگی سے چلتے ہیں اگر جاہل ان سے جھگڑیں تووہ ان کوسلام کہہ کر چل دیتے ہیں اور رحمان کے بندے اپنے رب کے حضورسجدوں اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں اور وہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں جہنم کے عذاب سے بلاشبہ بچالے جہنم کاعذاب چمٹ جانے والاہے، اور وہ رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔‘‘

ان کے مقابلے میں کفار، یہود و نصاریٰ اور حد سے تجاوز کرنے والوں کو شیطان کے ساتھی قرار دیا اور بتلایا کہ ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے اور یہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور اس کے باوجود اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ ہدایت یافتہ نہیں ہوتے، اس وجہ سے ان سے بچنے کا حکم دیا ہے:

﴿وَ مَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ وَ اِنَّهُمْ لَيَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِيْلِ وَ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ ﴾ (الزخرف: ۳۶، ۳۷)

’’جو شخص رحمان کے ذکر سے غفلت اختیارکرتا ہے ہم اس پر شیطان مسلط کر دیتے ہیں اور وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ یقیناً وہ لوگوں کو سیدھے راستے سے روکتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک راستے پر ہیں۔‘‘

﴿لَقَدْ اَضَلَّنِيْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِيْ١ؕ وَ كَانَ الشَّيْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا ﴾ (الفرقان: ۲۹)

’’یقیناً قیامت کے دن وہ کہے گا کہ میں نے اس کے بہکاوے میں آکر نصیحت نہ مانی جومیرے پاس آئی تھی شیطان انسان کا بڑاہی بے وفا ہے۔ ‘‘

﴿اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ۠ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا ﴾ (بنی اسرائیل: ۲۷)

’’بے شک فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ ‘‘

﴿اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِيْنَ يَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ﴾  (النحل: ۱۰۰)

’’شیطان کا غلبہ صرف ان لوگوں پرہوتا ہے جو اس سے دوستی رکھتے ہیں اورجو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ۔‘‘

1۔ ولی کا معنیٰ دوست، ساتھی

﴿اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا١ۙ يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِيٰٓـُٔهُمُ۠ الطَّاغُوْتُ١ۙ يُخْرِجُوْنَهُمْ۠ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ﴾ (البقرہ: ۲۵۷)

 اللہ ‘‘ایمان والوں کا دوست ہے اور وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور کفّارکے دوست شیاطین ہیں وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں، یہ لوگ جہنمی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

﴿اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِيَآءَ الشَّيْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَيْدَ الشَّيْطٰنِ كَانَ ضَعِيْفًا﴾ (النساء: ۷۶)

 ’’جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ ’’اللہ ‘‘کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں۔ سو تم شیطان کے دوستوں سے جنگ کرو، بلاشبہ شیطان کا حربہ نہایت ہی کمزور ہوا کرتا ہے۔ ‘‘

﴿يٰۤاَبَتِ اِنِّيْۤ اَخَافُ اَنْ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّيْطٰنِ وَلِيًّا﴾ (مریم: ۴۵)

سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو سمجھایا: ’’میرے ابا جان ہو سکتا ہے کہ رحمٰن کا عذاب آپ کو آ لے اور آپ ہمیشہ کے لیے شیطان کے ساتھی بن جائیں۔‘‘

سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو سمجھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا تعارف جبار، قہار اور ذوالانتقام کے نام سے کروانے کی بجائے الرحمٰن کے نام سے کروایا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ہمیشہ مہربانی کرتا ہے اور کرنا چاہتا ہے لیکن بندے اس کی مہربانی کو عملاً ٹھکرا کر اس کے غضب کے سزا وار بن جاتے ہیں۔اس لیے کہ شیطان کے ساتھی ہمیشہ شیطان کے لیے ہی لڑا کرتے ہیں۔ حالانکہ حکم یہ ہے کہ شیطان اور اس کے ساتھیوں سے لڑنا چاہیے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ شیطان کے ہتھکنڈے کمزور ہوا کرتے ہیں۔

2۔ ولی کا معنٰی حمایتی اور خیر خواہ

جیسا کہ ابتدا میں عرض کیا ہے کہ ولی کے لفظ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ اور مسلمانوں کے باہمی تعلقات اور ایک دوسرے کی حمایت کرنے والوں کے لیے بھی استعمال فرمایا ہے۔

﴿وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ١ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَيُطِيْعُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ﴾ (التوبة: ۷۱، ۷۲)

’’مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے خیر خواہ ہیں وہ نیکی کاحکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور وہ نماز قائم کرتے اور زکوۃ ادا کرتے ہیں ،اللہ اور اس کے رسول کاحکم مانتے ہیں یہی لوگ ہیں کہ جن پر اللہ تعالیٰ یقیناً رحم فرمائے گا، بے شک ’’اللہ‘‘سب پرغالب اور بڑی حکمت والاہے ۔’’اللہ‘‘ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے اُن باغات کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور ان کے رہنے کے لیے پاک، صاف مکانات ہیںاور یہ ہمیشہ کے باغات میں رہیں گے۔ ’’اللہ‘‘کی رضامندی سب سے بڑی بات ہے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘

﴿وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا﴾ (النساء: ۷۵)

 ’’تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان ناتواں مردوں‘ عورتوں اور بچوں کی آزادی کے لیے جہاد نہیں کرتے جو دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ان ظالموں کی بستی سے ہمیں نجات دے اور اپنی طرف سے ہمارے لیے ہمارا حمایتی کھڑا کر دے اور ہمارے لیے خاص اپنے پاس سے مددگار بنا۔ ‘‘

﴿اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا نَصِيْرٍ﴾ (البقرہ: ۱۰۷)

’’کیا آپ نہیں جانتے کہ بلاشک زمین و آسمانوں پر اللہ ہی کی بادشاہی ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حمایتی اور مددگار نہیں ہو گا۔‘‘

﴿اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَوَهُمْ رٰكِعُوْنَ وَ مَنْ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ ﴾ (المائدہ: ۵۵، ۵۶)

’’تمہارے دوست توصرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور وہ نماز قائم کرتے اور وہ زکوۃ دیتے ہیں اور وہ رکوع کرنے والے ہیں اورجوکوئی اللہ اوراس کے رسول اور ایمانداروں کو دوست سمجھے تو یقیناً اللہ کی جماعت ہی غالب آنے والی ہے۔‘‘

3۔ ولی کا معنٰی مالک

﴿رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِيْ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِيّٖ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ﴾

سیدنا یوسف علیہ السلام کی دعا: ’’اے میرے ر ب !بے شک تو نے مجھے حکومت عنایت فرمائی اور باتو ں کی حقیقت سمجھائی ،اے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والے تو ہی میرا دنیا اور آخرت میں مدد گار ہے، مجھے مسلمان ہونے کی حالت میںفوت کرنااور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملانا۔‘‘ (یوسف: ۱۰۱)

4۔ مددگار

﴿وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا﴾ (بنی اسرائیل: ۱۱۱)

’’اورفرما دیجیے تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں جس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ ہی اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے اور نہ کسی قسم کی کمزوری کی وجہ سے اس کا کوئی حمایتی ہے اس لیے اس کی خوب بڑائی بیان کرتے رہو۔ ‘‘

5۔ ذمہ دار، وارث

﴿فَهَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا﴾ (مریم: ۵)

’’سیدنا زکریا علیہ السلام نے رب کریم کے حضور دعا کی: ’’اے میرے رب اپنے کرم سے تو مجھے ایک وارث عطا فرما۔‘‘

6۔ متولّی

﴿وَ مَا لَهُمْ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ يَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِيَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ﴾ (الانفال: ۳۴)

’’اورانہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے جب کہ وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ اس کے متولی نہیں اس کے متولی تومتقی لوگوں کے سواکوئی نہیں لیکن ان میں سے اکثر نہیںجانتے۔‘‘

7۔ اولیاء اللہ سے دلی محبت کرنی چاہیے

﴿اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ١ؕ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ﴾ (الاعراف: ۳)

’’اس پرچلو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیاگیا ہے اور اس کے سوا اولیاء کے پیچھے مت چلو بہت تھوڑے ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہو۔‘‘

قارئین کرام! بلاشبہ یہ حقیقت ہے کہ تمام مسلمان درجہ بدرجہ اللہ کے دوست اور ولی ہیں اور انہیں آپس میں محبت کرنی چاہیے ، لیکن اتباع اور پیروی کتاب اللہ کی کرنا چاہیے۔

اولیاء کی محبت کا یہ معنی نہیں کہ شریعت کو چھوڑ کر طریقت کے نام پر ان کی پیروی شروع کر دی جائے، بے شک ان کا عقیدہ اور طریقہ شریعت کے خلاف کیوں نہ ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کا ولی وہی ہوتا ہے جو جان بوجھ کر اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی نہیں کرتا لیکن اس کے باوجود وہ بھی انسان ہی ہوتے ہیں اور ان سے بھی فکری اور عملی غلطی کا امکان موجود رہتا ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

’’سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

کُلُّ بَنِی آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَیْرُ الْخَطَّائِیْنَ التَّوَّابُوْنَ

آدم کا ہر بیٹا خطا کار ہے اور ان میں سے بہتر وہ ہے جو خطا کرنے کے بعد توبہ کرنے والا ہے ۔ ‘‘(رواہ ابن ماجۃ: باب ذِکْرِ التَّوْبَۃِ[حسن ] )

بے شک اللہ کے ہاں اولیاء کا ایک مرتبہ اور مقام ہے اور ہمارے لیے ان کا احترام ومقام لازم ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے دین اپنے رسول محمدعربیﷺ پر نازل کیا ہے نہ کہ اولیاء پر۔اس لیے اتباع صرف اورصرف نبی محترمﷺ کی کرنا ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب نازل فرمائی اور آپ کو ہادی اور نمونہ بنایا ہے۔ یہاں اکثر انسانوں کے رویے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بہت قلیل لوگ ہیں جو اس اصول کا خیال رکھتے ہوئے صرف وحی الٰہی کی پیروی کرتے رہیں۔ اس اصول کو چھوڑنے اور محبت میں غلو کا نتیجہ تھا اور ہے کہ امت پہلے ائمہ کرام کے نام پرچار فرقوں میں تقسیم ہوئی اور پھر ہر فرقے سے کئی کئی گروہ وجود میں آئے اور آتے جا رہے ہیں اور نہ معلوم یہ سلسلہ کہاں تک پہنچے گا۔ایسے بھائیوں کو قرآن وحدیث کا حوالہ پیش کیاجائے تو فوراً کہتے ہیں کہ کیا امام صاحب کو یہ حدیث یاد نہ تھی ۔ کیا بزرگوں سے تم قرآن وحدیث کو زیادہ سمجھنے والے ہو کچھ لوگ اس سے آگے بڑھ کر بات کرتے ہیں کہ کیا پہلے بزرگ گمراہ تھے؟ نعوذ بالله من ذلك۔حالانکہ یہ حضرات غور کریں تو ان کا اپنا رویہ بزرگوں اور ائمہ کرام کی توہین کے مترادف ہوتا ہے وہ اس لیے کہ اگر واقعتا امام موصوف کو مسئلہ کا علم تھا تو ، پھر انہوں نے اس پر عمل کیوں نہ کیا۔ کیا اس میں امام صاحب کی توہین ہے یا تکریم؟ لہٰذا اولیاء کا مقام اور احترام اپنی جگہ پر لیکن دین اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کا نام ہے اس لیے مسلمان کو صرف قرآن و سنت کی پیروی کا حکم دیا گیاہے ۔

﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ﴾  (الممتحنة: ۱)

’’اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، تم ان کے ساتھ دوستی چاہتے ہو حالانکہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے وہ اس کو ماننے سے انکار کر چکے ہیں ۔‘‘

ان کو اس لیے بھی قلبی دوست نہیں بنانا کہ تمہاری بجائے آپس میں قلبی تعلق اور دوستی رکھتے ہیں اور شیطان ایسے لوگوں کی خیر خواہی اور راہنمائی کرتا ہے۔ شیطان نہ صرف ان کی راہنمائی کرتا ہے بلکہ وہ مسلمانوں کو ان سے ڈراتا ہے جو شیطان سے ڈر گیا وہ نقصان پانے والا ہے۔

﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِيَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ﴾ (المائدہ: ۵۱)

’’اے لوگو !جو ایمان لائے ہو ! یہود ونصاریٰ کو دلی دوست نہ بنائو، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو انھیں دوست بنائے گا یقیناً وہ انہی میں سے ہوگا۔ بے شک ’’اللہ‘‘ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں د یتا۔‘‘

﴿وَ اِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِيٰٓـِٕهِمْ۠ لِيُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ۠ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ﴾ (الانعام: ۱۲۱)

’’اور بے شک شیاطین اپنے دوستوں کو القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو یقیناً تم مشرک ہو جائو گے۔‘‘

﴿اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيْطٰنُ يُخَوِّفُ اَوْلِيَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ﴾ (آل عمران:۱۷۵)

’’یقیناً شیطان تمہیں اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، ان سے نہ ڈرو اور اگر تم مومن ہوتو مجھ سے ہی ڈرو ۔‘‘

﴿وَ مَنْ يَّتَّخِذِ الشَّيْطٰنَ وَلِيًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِيْنًا﴾ (النساء: ۱۱۹)

’’جو اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بنائے گا بلاشبہ وہ کھلم کھلا نقصان میں پڑ جائے گا۔‘‘

شیطان اور اس کے ساتھیوں کے مقابلے میں جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرے گا وہ قیامت کے دن انعام یافتہ لوگوں کے ساتھ ہو گا۔

﴿وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيْقًا﴾ (النساء: ۶۹)

 ’’اور جو بھی اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا ہے۔ یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور نیک لوگ یہ بہترین ساتھی ہیں۔ ‘‘

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

قَالَ اللہُ تَعَالٰی: أَنَا مَعَ عَبْدِيْ حَیْثُمَا ذَکَرَنِيْ وَتَحَرَّکَتْ بِيْ شَفَتَاہُ (رواہ البخاری:باب قول اﷲ تعالیٰ لا تحرك به لسانك… الخ)

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرا بندہ جہاں بھی مجھے یاد کرتا اور جب بھی اس کے ہونٹ میری یاد میں حرکت کرتے ہیں تو میں اپنے بندے کے ساتھ ہو جاتا ہوں۔‘‘

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ: كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ المُؤْمِنِ، يَكْرَهُ المَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ» (رواہ البخاری:باب التواضع )

 ’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے دوست سے دشمنی کی میں اس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ میںنے جو چیزبندے پر فرض کی مجھے اس سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں جس سے وہ میراقرب حاصل کرے۔ بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت کر تا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پائوں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ وہ سوال کرے تو میں اسے ضرور عطا کرتاہوں‘ اگر مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے پناہ دیتاہوں۔ میںاپنے کسی کام میں اتنا تردُّد نہیں کرتاجتنا ایک مومن کی جان قبض کرنے میں کرتا ہوں کیونکہ بندہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور مجھے اپنے بندے کی تکلیف اچھی نہیں لگتی ۔‘‘

((عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ، قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْخِلُنِي اللهُ بِهِ الْجَنَّةَ؟ أَوْ قَالَ قُلْتُ: بِأَحَبِّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ، فَسَكَتَ. ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَسَكَتَ. ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلهِ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلهِ سَجْدَةً، إِلَّا رَفَعَكَ اللهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً» قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لِي: مِثْلَ مَا قَالَ لِي: ثَوْبَانُ (رواہ مسلم :باب فَضْلِ السُّجُودِ وَالْحَثِّ عَلَیْهِ)

’’سیدنا معدان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی رسول الله ﷺ کے غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے ایسا عمل بتلائیں کہ اللہ تعالیٰ جس سے مجھے جنت میں داخل فرمادیں، وہ خاموش ہوگئے ،میں نے پھر سوال کیا پھر بھی انہوں نے خاموشی اختیار فرمائی۔ تیسری دفعہ میرے عرض کرنے پر فرمایا تجھے کثرت کے ساتھ اللہ کے حضورسجدے کرنے چاہئیں۔ جب تو صرف اللہ کی رضاکے لیے سجدے کرے گا، تو اللہ تعالیٰ تیرے درجات کو بلند کرے گا اور تیرے گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ معدان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اوران سے یہی عرض کی اورانہوں نے بھی مجھے وہی جواب عنایت فرمایا جو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے دیاتھا۔ ‘‘

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: احْتُبِسَ عَنَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ …… وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُ إِلَى حُبِّكَ (رواه الترمذي باب ومن سورة ص «صحيح»)

’’سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نماز کے بعد یہ دعا کیا کریں! اے اللہ میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اس کی محبت کا بھی جو تجھ سے محبت رکھتا ہے اور ایسے عمل کی محبت جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے ۔ ‘‘

معجزہ اور کرامت

جو چیز اپنی فطرت کے مطابق چل رہی ہو تو اسے معمول اور طبعی عمل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جب کوئی چیز اپنے معمول سے ہٹ کر چلے یا ظہور پذیر ہو تو اس کام کو خرقِ عادت کہا جاتا ہے۔ یعنی معمول اور عادت کے خلاف۔ اگر اس کام کا تعلق انبیاء کرام علیہم السلام سے ہو تو وہ معجزہ کہلاتا ہے، معجزہ کا معنی دوسرے کو عاجز کر دینے والا، معجزہ صرف انبیاء کرام علیہم السلام سے ظاہر ہوتا ہے۔ اگر ایسے کام کا تعلق کسی صالح آدمی کے ساتھ ہو تو اسے کرامت کہا جائے گا، بصورت دیگر وہ کام شیطانی، جناتی اور بناوٹی ہو گا۔ لہٰذا ان کاموں سے منع کیا گیا ہے:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ، فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا: أَبُو إِسْرَائِيلَ، نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلاَ يَقْعُدَ، وَلاَ يَسْتَظِلَّ، وَلاَ يَتَكَلَّمَ، وَيَصُومَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرْهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ، وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ» (رواه البخاري :باب النذر فيما لا يملك وفي معصية)

’’سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ ہمیں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ نے دیکھا کہ ایک آدمی کھڑا ہوا تھا آپ نے لوگوں سے اُس کے متعلق پوچھا تو اُنہوں نے کہا کہ یہ ابو اسرائیل ہے۔ اِس نے نذر مانی ہے کہ وہ ہمیشہ کھڑا رہے گا، بیٹھے گا نہیں نہ سائے کے نیچے جائے گا ، اور نہ کسی سے کلام کرے گا اور ہمیشہ روزے کی حالت میں رہے گا، آپﷺ نے فرمایا: اِسے کہو کہ بات چیت کیا کرے، سایہ میں بیٹھے اور اپنے روزے کو پورا کرے ۔‘‘

کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ کرامت اور کرتب بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ لہٰذا کرتب وغیرہ سے دھوکہ کھانے کی بجائے اس کی حقیقت جاننے کے لیے قرآن و سنت کو معیار اور پیمانہ بنانا چاہیے۔ اس کے ساتھ جس سے وہ کام ظاہر ہو اس کا عقیدہ اور کردار بھی دیکھنا ہو گا۔ اگر وہ صحیح العقیدہ اور صاحبِ کردار نہیں اور اس کی کرامت قرآن و سنت کے معیار پر پوری نہیں اترتی تو اسے کرامت نہیں، بلکہ کرتب سمجھنا چاہیے۔

تصرف اور تسخیر بھی ولایت کی دلیل نہیں۔ بعض عامل لوگ عملیات کے ذریعے لوگوں کو مسخر کر کے اپنے پیچھے لگا لیتے ہیں، جو عامل ذاتی انتقام کے لیے تصرف کو استعمال کرتا ہے وہ اپنے مقام سے گر جاتا ہے اور جو لوگوں کے دل میں اپنی محبت ڈالتا ہے وہ حبِ جاہ میں مبتلا ہو جاتا ہے اور تصرف اور تسخیر سے انانیت پیدا ہوتی ہے اور یہ ولایت کی راہ میں سب سے بڑا حجاب اور رکاوٹ ہوتی ہے۔

انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد نیک لوگوں سے کرامت کا ظاہر ہونا ، قرآن و حدیث اور حقائق کی روشنی سے ثابت ہے، تاہم یہ کسی کے ولی اللہ ہونے کا معیار اور پیمانہ نہیں کیونکہ بسا اوقات عام مسلمان سے بھی ایسے کام کا ظہور ہو جاتا ہے۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں جو شخص ذکر و فکر میں زیادہ مشغول اور اللہ اوراس کے رسول سے دلی محبت کرنے والا ہو، جو اس سے کرامت کے ظہور کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

لیکن یاد رہے کہ از خود کرامت ظاہر کرنا کسی نیک سے نیک آدمی کے بس کی بات نہیں یہ صرف ربِ کریم کے فضل سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں ہوتا کہ جب چاہے کوئی کرامت ظاہر کر دے اور یہ بھی یاد رہے کہ کرامت ایسی چیز نہیں ہے کہ اسے منبر و محراب پر بیان کیا جائے اور اسے کوئی اپنے بزرگوں کی تشہیر کا ذریعہ بنا کر لوگوں میں اپنی اور ان کی عقیدت پیدا کرنے کی کوشش کرے۔

اللہ کے رسولﷺ کے معجزات اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کرامات:

اب ایمان کی تازگی اور یقین کی پختگی کے لیے نبی معظمﷺ کے کثیر معجزات میں سے چند اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بے شمار کرامات میں سے دو چار پیش کی جاتی ہیں ۔

’’سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںکہ حدیبیہ کے دن لوگوں نےپیاس کی شدت محسوس کی اور اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے ایک برتن لایا گیا۔ آپ نے اس سے وضو کیا۔اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کی کہ ہمارے پاس آپ کے اس برتن میں موجود پانی کے سوا کوئی پانی نہیں کہ جس سے ہم وضو کر سکیں یا پی سکیں۔ نبی ِمکرمﷺ نے اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں ڈالا تو پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے چشمے کی مانند ابلنے لگا۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سب نے سیر ہو کر پیا اور وضو کیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اس وقت آپ کتنے لوگ تھے ؟ انہوں نے بتایا ‘ ہم پندرہ سو تھے اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو پھر بھی پانی ہمیں کافی تھا۔ ‘‘ (رواه البخاري: باب علامات النبوة في الإسلام)

عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ أُمَّ مَالِكٍ، كَانَتْ تُهْدِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا، فَيَأْتِيهَا بَنُوهَا فَيَسْأَلُونَ الْأُدْمَ، وَلَيْسَ عِنْدَهُمْ شَيْءٌ، فَتَعْمِدُ إِلَى الَّذِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَجِدُ فِيهِ سَمْنًا، فَمَا زَالَ يُقِيمُ لَهَا أُدْمَ بَيْتِهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «عَصَرْتِيهَا؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ «لَوْ تَرَكْتِيهَا مَا زَالَ قَائِمًا»(رواہ مسلم: باب فی معجزات النبیﷺ )

’’سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مالک کی والدہ نے گھی سے بھری ہوئی چمڑے کی کپی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کی۔ آپﷺ نے اس سے تھوڑا سا گھی لیا اور باقی گھی اور کپی اسے واپس کر دی۔ ام مالکrکے بچے جب اس سے سالن مانگتے تو ان کے پاس سالن نہ ہوتا تو وہ اس کپی سے جس میں نبیﷺ کو تحفہ بھیجا تھا ام مالک کپی کو دیکھتی تو اس میں گھی موجود ہوتا۔ ان کے گھر میں کپی ہمیشہ سالن کا کام دیتی رہی یہاں تک کہ اس نے کپّی کو نچوڑ کر خالی کر دیا۔ اس کے بعد نبی رحمت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور واقعہ عرض کیا، آپﷺ نے پوچھا کیا تو نے اس کو نچوڑ لیا ہے ۔ اس نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایاتو اسے نہ نچوڑتی تو اس میں ہمیشہ گھی رہتا ۔ ‘‘

عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ، فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ، فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا، حَتَّى كَالَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ، وَلَقَامَ لَكُمْ» (رواہ مسلم: باب فی معجزات النبیﷺ )

’’سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی اللہ کے رسولﷺ سے غلہ مانگتا ہے۔ آپ نے اسے آدھا وسق جود یے اور اس سے اس کی بیوی اور ان کے مہمان کھاتے رہے۔ جب اس شخص نے جو ماپ لیے تو وہ ختم ہو گئے۔ وہ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آیا۔ آپﷺ نے فرمایا: اگر تم انہیں نہ ماپتے تو تم اس سے کھاتے اور وہ تمہارے لیے ہمیشہ رہتے ۔‘‘

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کےرسولﷺ کے عہد میں لوگ ایک بڑے قحط سے دوچار ہوئے ۔ آپ جمعہ کے دن ہمیں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اللہ کے رسولﷺ ! ہمارے مال مویشی ہلاک ہو گئے اور بال بچے بھوکے مررہے ہیں ۔ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ جب آپ نے ہاتھ اٹھائے تو ہمیں آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! آپ نے ابھی ہاتھ نیچے نہیں کیے تھے کہ پہاڑوں کی طرح گہرے بادل امڈ آئے اور آپ ابھی منبر سے نیچے نہیں اترے تھے کہ بارش آپ کی ریش مبارک پر پڑنے لگی اور اس دن بارش اس سے اگلے دن اور اس سے اگلے دن یہاں تک کہ آئندہ جمعہ تک برستی رہی ۔ وہ دیہاتی یا کوئی دوسرا کھڑا ہو کر کہنے لگا ، اللہ کے رسول! اب تو ہمارے مکانات گرنے ، مال مویشی غرق ہونے لگے ہیں ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے۔ آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھا کر پہلے کی طرح دعا مانگی۔ ہمارے اللہ! ہمارے آس ، پاس بارش برسا اور ہمیں اس سے بچا۔ آپ جس طرف اشارہ کرتے تو بادل چھٹ جاتے ، مدینہ منورہ حوض کی طرح بھرا ہوا تھا ، قناۃ کی وادی ایک ماہ تک بہتی رہی اور اطراف و جوانب سے آنے والے بارش کی خبر دیتے۔ دوسری روایت میں ہے ’’اے اللہ! اب ہماری بجائے ہمارے ارد گرد برسا، ٹیلوں، پہاڑوں، وادیوں اور جنگلوں میں بارش برسا۔‘‘ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کی دعا سے آسمان اس طرح صاف ہو ا اور ہم باہر نکلے تو دھوپ میں چل رہے تھے ۔ ‘‘(متفق علیہ)

’’سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اللہ کے رسول ﷺ کی معیت میں نکلے اور ایک کھلی وادی میں پہنچ گئے۔ رسول اکرم ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ تو آپ کے پردہ کے لیے کوئی چیز نہیں تھی ‘البتہ وادی کے کنارے پر دو درخت تھے۔ اللہ کے رسولﷺ ان میں سے ایک درخت کے قریب گئے اور اس کی شاخ پکڑ کر فرمایا : اللہ کے حکم سے میرے ساتھ آؤ ، درخت اس طرح آپ کے ساتھ چلا جس طرح نکیل والا اونٹ اپنے سوار کے ساتھ چلتا ہے ۔ پھر آپ دوسرے درخت کے قریب گئے اور اس کی شاخ پکڑ کر فرمایا، اللہ کے حکم سے میرے پیچھے آئو وہ بھی پہلے درخت کی طرح حکم بجالایا ۔آپ ان دونوں کے درمیان ہوگئے فرمایا: اللہ کے حکم سے دونوں آپس میں میرے لیے مل جاؤ۔دونوںدرخت آپس میں مل گئے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے خیالوں میں گم تھا کہ میں نے دیکھا کہ رسول کریم ﷺ میرے پاس تشریف لے آئے اور دونوں درخت جدا ہو گئے ہیں اور ہر درخت اپنے تنے پر جا کر کھڑا ہو گیا۔‘‘(رواه مسلم: باب حدیث جابر الطویل و قصة أبي اليسر)

’’سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ کے دوران کھجور کے اس تنے کے ساتھ ٹیک لگایا کرتے تھے، جو مسجد نبوی کے ستونوں میں سے ایک تھا۔ جب آپ کے لیے منبر بنایا گیا اور آپ اس پر تشریف فرما ہوئے تو وہ کھجور کا تنا، جس کے ساتھ کھڑے ہو کر آپ خطبہ دیا کرتے تھے، وہ اس طرح بلک بلک کر رونے لگا کہ جیسے وہ پھٹ جائے گا۔ نبی رحمت ﷺ منبر سے اترے اور آپ نے اس تنے کو پکڑ کر اپنے ساتھ لگایا اور وہ اس رونے والے بچے کی طرح ہچکیاں لینے لگا یہاں تک کہ وہ چپ ہوگیا ۔آپﷺ نے فرمایا : یہ اس لیےرو رہا تھا کہ اب وہ اللہ کا ذکر سننے سے محروم ہو گیا۔ ‘‘(رواه البخاری: باب النجار)

’’سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے والد وفات پاگئے اور ان کے ذمے قرض تھا ۔ میں نے قرض خواہوں سے کہا کہ میرے باپ کے قرض کے بدلے میری تمام کھجوریں لے لیں‘ لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ میں نبی رحمت ﷺ کی خدمت میں گیا اور عرض کی آپ جانتے ہیںکہ میرے والد غزوئہ احد میں شہادت پاگئے ہیں اوروہ کافی قرض چھوڑ گئے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے قرض خواہوں سے بات کریں۔ آپ نے فرمایا: جاؤ اور ہر قسم کی کھجور کی علیحدہ علیحدہ ڈھیری لگاؤ۔ میں نے آپ کے حسب ارشاد عمل کیا۔ پھر آپ کو بلا بھیجا۔ جونہی قرض خواہوں کی رسولِ اکرم ﷺ پر نظر پڑی تو وہ میرے خلاف غصہ سے بھر گئے ۔ جب آپ نے ان کی یہ حالت دیکھی تو آپ نے سب سے بڑے ڈھیر کے گرد تین چکر لگائے۔ پھر آپ اس پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: اپنے قرض خواہوں کو میرے پاس لائو۔ وہ آئے تو انہیں آپ پیمانہ بھر بھر کر دیتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کا قرض چکادیا ۔ جب کہ میں اس پر بھی راضی تھا کہ مجھے اللہ میرے باپ کے قرض سے سبکدوش فرما دے اگرچہ میں اپنی بہنوں کے لیے ایک کھجور بھی نہ پا سکوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تمام ڈھیر سلامت رکھے،حتیٰ کہ جس ڈھیر پر نبی رحمت ﷺ تشریف فرما تھے ‘ میں نے دیکھا کہ اس سے ایک کھجور بھی کم نہ ہوئی۔ ‘‘(رواه البخاری: باب قضاء الوصی دیون المیت بغیر)

’’سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں کہ اُسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما دونوں اللہ کے رسولﷺ سے کسی معاملے کے بارے میںگفتگو کر تے رہے۔ یہا ں تک کہ کافی رات گزر گئی اور وہ رات بہت اندھیری تھی ۔ جب وہ آپﷺ سے اٹھ کر اپنے گھروں کی طرف چلنے لگے اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں لاٹھی تھی ان میں سے ایک کی لاٹھی دونو ں کے لیے روشنی دینے لگی، اور وہ اس کی روشنی میں چلنے لگے ۔ یہا ں تک کہ جب ان کے راستے جداجدا ہوئے، تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی ۔ دونوں اپنے گھر پہنچنے تک اپنی اپنی لا ٹھی کی رو شنی میں چلتے رہے۔ ‘‘(رواه البخاری: باب منقبة أسيد بن حضیر……)

سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ نبیﷺ کے غلام تھے، ان کا نام مہران تھا اور وہ ایران کے رہنے والے تھے، نبیﷺ کی زوجہ مکرمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسے خرید کر اس شرط کے ساتھ آزاد کیا تھا کہ وہ نبی کریمﷺ کی خدمت کیا کرے گا۔ (اسد الغابہ)

ایک دفعہ وہ کشتی میں سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے، کہ کشتی شدید طوفان کی وجہ سے ٹوٹ گئی۔ سفینہ رضی اللہ عنہ کشتی کے تختے پر بیٹھ کر ایک جزیرے میں پہنچے تو اچانک ان کے سامنے ایک شیر آ کھڑا ہوا، انہوں نے شیر سے کہا: میں سفینہ اللہ کے رسولﷺ کا غلام ہوں، یہ سنتے ہی شیر ان کے آگے چلنے لگا اور ان کو راستے پر لگا کر دُم ہلاتے ہوئے واپس پلٹ گیا۔ (دلائل النبوة لأبي نعيم، أسد الغابة لابن الأثير)

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایک قلعہ کا محاصرہ کرتے ہوئے کفار کو اسلام کی دعوت دی، انہوں نے کہا: ہم آپ کا دین اس وقت تک قبول نہیں کریں گے جب تک آپ یہ زہر نہیں پئیں گے۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ پڑھ کر زہر پی لیا اور انہیں کوئی تکلیف نہ ہوئی۔ (مجمع الزوائد)

میاں محمد جمیل

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago