بَاب مَا يُذْكَرُ فِي الْفَخِذِ
ران کے متعلق روایتوں کا بیان
44-371- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ غَزَا خَيْبَرَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ فَرَكِبَ نَبِيُّ اللهِ ﷺ وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَجْرَى نَبِيُّ اللهِ ﷺ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللهِ ﷺ ثُمَّ حَسَرَ الْإِزَارَ عَنْ فَخِذِهِ حَتَّى إِنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ فَخِذِ نَبِيِّ اللهِ ﷺ فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ اللهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ {فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ} قَالَهَا ثَلَاثًا قَالَ وَخَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ قَالَ عَبْدُالْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا وَالْخَمِيسُ يَعْنِي الْجَيْشَ قَالَ فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً فَجُمِعَ السَّبْيُ فَجَاءَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ رَضِي الله عَنْه فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللهِ أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ قَالَ اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ قَالَ ادْعُوهُ بِهَا فَجَاءَ بِهَا فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ ﷺ قَالَ خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ غَيْرَهَا قَالَ فَأَعْتَقَهَا النَّبِيُّ ﷺ وَتَزَوَّجَهَا فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا قَالَ نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ ﷺ عَرُوسًا فَقَالَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَلْيَجِئْ بِهِ وَبَسَطَ نِطَعًا فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَدْ ذَكَرَ السَّوِيقَ قَالَ فَحَاسُوا حَيْسًا فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللهِ ﷺ .
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے کہ کہا ہمیں عبدالعزیز بن صہیب نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کر کے کہ نبی کریم ﷺغزوہ خبیر میں تشریف لے گئے۔ ہم نے وہاں فجر کی نماز اندھیرے ہی میں پڑھی۔ پھر نبی ﷺسوار ہوئے۔ اور ابوطلحہ بھی سوار ہوئے۔ میں ابوطلحہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ نبی ﷺنے اپنی سواری کا رخ خیبر کی گلیوں کی طرف کر دیا۔ میرا گھٹنا نبی کریم ﷺکی ران سے چھو جاتا تھا۔ پھر نبی کریم ﷺنے اپنی ران سے تہبند کو ہٹایا۔ یہاں تک کہ میں نبی کریم ﷺکی شفاف اور سفید رانوں کی سفیدی اور چمک دیکھنے لگا۔ جب آپ خیبر کی بستی میں داخل ہوئے، تو آپ ﷺنے فرمایا کہ اللہ اکبر اللہ سب سے بڑا ہے، خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے آنگن میں اتر جائیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح منحوس ہو جاتی ہے۔ آپ نے یہ تین مرتبہ فرمایا، اس نے کہا کہ خیبر کے یہودی لوگ اپنے کاموں کے لیے باہر نکلے ہی تھے کہ وہ چلا اٹھے محمد ( ﷺ) آن پہنچے۔ اور عبدالعزیز راوی نے کہا کہ بعض سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے ہمارے ساتھیوں نے والخمیس کا لفظ بھی نقل کیا ہے ( یعنی وہ چلا اٹھے کہ محمد ﷺلشکر لے کر پہنچ گئے ) پس ہم نے خیبر لڑ کر فتح کر لیا اور قیدی جمع کئے گئے۔ پھر دحیہ رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! قیدیوں میں سے کوئی باندی مجھے عنایت کیجیئے، آپ ﷺنے فرمایا کہ جاؤ کوئی باندی لے لو۔ انھوں نے صفیہ بنت حیی کو لے لیا۔ پھر ایک شخص نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ! صفیہ جو قریظہ اور نضیر کے سردار کی بیٹی ہیں، انھیں آپ نے دحیہ کو دے دیا۔ وہ تو صرف آپ ہی کے لیے مناسب تھیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ دحیہ کو صفیہ کے ساتھ بلاؤ، وہ لائے گئے۔ جب نبی کریم ﷺنے انھیں دیکھا تو فرمایا کہ قیدیوں میں سے کوئی اور باندی لے لو۔ راوی نے کہا کہ پھر نبی کریم ﷺنے صفیہ کو آزاد کر دیا اور انھیں اپنے نکاح میں لے لیا۔ ثابت بنانی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ابوحمزہ! ان کا مہر رسول اکرم ﷺنے کیا رکھا تھا؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خود انھیں کی آزادی ان کا مہر تھا اور اسی پر آپ نے نکاح کیا۔ پھر راستے ہی میں ام سلیم ( رضی اللہ عنہا سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ) نے انھیں دلہن بنایا اور نبی کریم ﷺکے پاس رات کے وقت بھیجا۔ اب نبی کریم ﷺدولہا تھے، اس لیے آپ نے فرمایا کہ جس کے پاس بھی کچھ کھانے کی چیز ہو تو یہاں لائے۔ آپ نے ایک چمڑے کا دستر خوان بچھایا۔ بعض صحابہ کھجور لائے، بعض گھی، عبدالعزیز نے کہا کہ میرا خیال ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ستو کا بھی ذکر کیا۔ پھر لوگوں نے ان کا حلوہ بنا لیا۔ یہ رسول اللہ ﷺکا ولیمہ تھا۔
Narrated `Abdul `Aziz: Anas said, ‘When Allah›s Messenger (ﷺ) invaded Khaibar, we offered the Fajr prayer there (early in the morning) when it was still dark. The Prophet (ﷺ) rode and Abu Talha rode too and I was riding behind Abu Talha. The Prophet (ﷺ) passed through the lane of Khaibar quickly and my knee was touching the thigh of the Prophet (ﷺ) . He uncovered his thigh and I saw the whiteness of the thigh of the Prophet. When he entered the town, he said, ‘Allahu Akbar! Khaibar is ruined. Whenever we approach near a (hostile) nation (to fight) then evil will be the morning of those who have been warned.› He repeated this thrice. The people came out for their jobs and some of them said, ‘Muhammad (has come).› (Some of our companions added, «With his army.») We conquered Khaibar, took the captives, and the booty was collected. Dihya came and said, ‘O Allah›s Prophet! Give me a slave girl from the captives.› The Prophet said, ‘Go and take any slave girl.› He took Safiya bint Huyai. A man came to the Prophet (ﷺ) and said, ‘O Allah›s Messenger (ﷺ)s! You gave Safiya bint Huyai to Dihya and she is the chief mistress of the tribes of Quraidha and An-Nadir and she befits none but you.› So the Prophet (ﷺ) said, ‘Bring him along with her.› So Dihya came with her and when the Prophet (ﷺ) saw her, he said to Dihya, ‘Take any slave girl other than her from the captives.› Anas added: The Prophet (ﷺ) then manumitted her and married her.» Thabit asked Anas, «O Abu Hamza! What did the Prophet (ﷺ) pay her (as Mahr)?» He said, «Her self was her Mahr for he manumitted her and then married her.» Anas added, «While on the way, Um Sulaim dressed her for marriage (ceremony) and at night she sent her as a bride to the Prophet (ﷺ) . So the Prophet was a bridegroom and he said, ‘Whoever has anything (food) should bring it.› He spread out a leather sheet (for the food) and some brought dates and others cooking butter. (I think he (Anas) mentioned As-Sawaq). So they prepared a dish of Hais (a kind of meal). And that was Walima (the marriage banquet) of Allah›s Messenger (ﷺ) .»
معانی الکلمات:
| صَلاَةَ الْغَدَاةِ | صبح کی نماز |
| بِغَلَسٍ | اندھیرے میں |
| فَرَكِبَ | پس وہ سوار ہوا |
| رَدِيفُ | سواری پر کسی کے پیچھے بیٹھا |
| زُقَاقِ | تنگ گلی |
| فَخِذَ | ران |
| حَسَرَ | کھولنا/ظاہر کرنا |
| الإِزَارَ | تہبند، لنگی |
| خَرِبَتْ | برباد ہوا |
| بِسَاحَةِ | آنگن میں |
| فَسَاءَ | بری |
| عَنْوَةً | بزور طاقت |
| السَّبْىِ | قیدی بنانا |
| جَارِيَةً | باندی |
| أَصْدَقَهَا | اس کا حق مہر |
| فَأَعْتَقَهَا | پس اس کو آزاد کر دیا |
| عَرُوسًا | دلہا |
| بَسَطَ | بچھایا |
| نِطَعًا | دسترخوان |
| حَيْسًا | ملانا، گوندھنا، خلط ملط کرنا |
تراجم الرواۃ:
تمام رواۃ بعینہ اسی سند کے ساتھ حدیث میں نمبر 2 میں ذکر ہوئے ہیں۔
تشریح
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ نے ران کا ستر واجب ہے یا نہیں؟ کے متعلق دونوں طرح کے دلائل ذکر کر دیے ہیں، لیکن کوئی فیصلہ نہیں فرمایا، کیونکہ ران کے واجب الستر نہ ہونے کے متعلق جو مضبوط دلیل ہے وہ حدیث انس ہے جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے تفصیل سے نقل فرمایا ہے۔ اس میں چند ایک احتمالات ہیں جن کی بنا پر ران کے عورة نہ ہونے کے متعلق استدلال محل نظر بن جاتا ہے۔ شاید اسی بنا پر امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کے متعلق دو ٹوک فیصلہ نہیں کیا، وہ احتمالات حسب ذیل ہیں: صحیح مسلم کی روایت میں (انحسر الإزار) کے الفاظ ہیں جس کے معنی ہیں کہ چادر خود بخود اوپر اٹھ گئی، رسول اللہ ﷺ نے اسے از خود اوپر نہیں اٹھایا۔ (صحیح مسلم، الجهاد، حدیث:4665) اس کے علاوہ مسند امام احمد اور طبرانی میں بھی روایت انھیں الفاظ سے نقل ہوئی ہے، اس روایت کو جب محدث اسماعیلی رحمہ اللہ نے بیان کیا تو اس کے الفاظ ویسے ہی ہیں(خرالإزار) ’’آپ کی چادر گر پڑی ۔‘‘عربی زبان میں لفظ خر بمعنی وقوع بھی انحسر کی طرح لازم استعمال ہوتا ہے، اگر یہ صحیح ہے تو معنی یہ ہوئے کہ رسول اللہ ﷺ نے از خود اپنی ران سے چادر نہیں ہٹائی، بلکہ بھیڑیا سواری کو تیز دوڑانے کی وجہ سے ران کا حصہ کھل گیا۔ رسول اللہ ﷺ کی قدر ومنزلت کے شایان شان بھی یہی ہے کہ آپ کی طرف جان بوجھ کر ران کے کھولنے کا انتساب نہ کیا جائے، خصوصاً جبکہ آپ کے ارشادات سے اس کا قابل سترہونا ثابت بھی ہو چکا ہو۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے جو اس فعل کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کی ہے وہ شاید اس لیے کہ انھوں نے حالت مذکورہ میں ران مبارک کو کھلا دیکھا تو یہی گمان کر لیا کہ آپ ﷺنے قصداًایسا کیا ہے، حالانکہ واقع میں ایسا نہ تھا۔ صحیح بخاری میں چونکہ لفظ (حَسَرَ) ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ جان بوجھ کر چادر ران سے ہٹائی ۔اس کا جواب یہ ہے کہ حسر لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے، اس لیے ضروری نہیں کہ اسے متعدی ہی استعمال کیا جائے، بلکہ یہاں لازم کے معنی میں استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے، اس صورت میں معنی ہوں گے کہ ازار از خود کسی وجہ سے ہٹ گیا۔ پھر صحیح مسلم میں مروی الفاظ سے اس معنی کی مزید تائید ہوتی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ حسر الإزار کے یہ معنی ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ازار (تہ بند ) کو ران کے مقام پر ڈھیلا کیا ہوتا کہ ران سے چمٹا ہوا نہ رہے اور ایسا کرنے میں اتفاقاً ران کا کچھ حصہ کھل گیا ہو۔ یہ احتمال اس روایت کے زیادہ مناسب ہے، جو علامہ کرمانی رحمہ اللہ نے بعض نسخوں کے حوالے سے بیان کی ہےکہ (عن فخذه) کے بجائے (على فخذه) ہے، یعنی ازارکا جو حصہ ران پر تھا آپ نے اسے کھولا اور ڈھیلا کیا۔ (شرح الکرماني:31/2) رسول اللہ ﷺ کی سواری ایک تنگ گلی میں جا رہی تھی اور ہوا بھی چل رہی تھی، اس لیے ممکن ہے کہ گھٹنا باربارتہ بند سے الجھتا ہواور ہوا نے اس تہ بند کا رخ پلٹ دیا ہو۔ اگر آپ نے خود ہٹا یا تو اس کی معقول وجہ یہ ہے کہ تہ بند کے بار بار الٹنے سے آپ نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ کہیں اس الجھاؤ میں ایسا نہ ہو کہ اس حصے کی بے پردگی ہو جائے جس کی کسی صورت میں نوبت نہیں آنی چاہیے، اس خطرے کے پیش نظر ممکن ہے کہ آپ نے اپنا ازار گھٹنے سے ہٹا کر ران کے نیچے دبا لیا ہو۔ خود صحیح بخاری میں ایک روایت موجود ہے جس میں فخذ کے بجائے قدم کے الفاظ ہیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا قدم آپ کے قدم سے مس کر رہا تھا۔ (صحیح البخاري، الأذان، حدیث:610) علامہ قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: حدیث انس پر حدیث جرہد کو ترجیح حاصل ہے، کیونکہ اس کے مخالف جو بھی احادیث ہیں وہ خاص واقعات و حالات سے متعلق ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اور اس امرکا بھی احتمال ہے کہ ران کے متعلق پہلے نرمی چلی آرہی تھی، اس کے بعد اس کے پردہ ہونے کا حکم ہوا لیکن حدیث جرہد میں اس قسم کا کوئی احتمال نہیں، بلکہ اس میں ایک کلی حکم بیان ہوا ہے۔ (فتح الباري:623/1) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے انھی احتمالات کی بنا پر کہا ہے کہ جرہد رضی اللہ عنہ کی حدیث پر عمل کرنا احتیاط کا تقاضا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے ذہن میں اس کے متعلق کچھ تفصیل متوسط اور معتدل موقف رکھتے ہیں وہ اس طرح کہ ران کے اوپر والے حصے کو (سَوْأَتَيْن) (قبل دبر)کے ساتھ ملحق خیال کرتے ہیں لیکن وہ حصہ جو گھٹنے کی جانب ہے اس کے متعلق کچھ نرم گوشہ اس طرح ہے کہ بے تکلف احباب اور وہ حضرات جو بکثرت آنے جانے والے ہیں ان کے سامنے کشف کا مضائقہ نہیں، لیکن اجانب اور وہ حضرات جو كبھی کبھار آنے جانے والے ہوں یا ایسے لوگ جن سے بے تکلفی نہ ہو ان کے سامنے امام بخاری رحمہ اللہ بھی ران کھولنے کی اجازت نہیں دیتے۔ واللہ أعلم
