محرم الحرام عبرت، عبادت اور اعتدال کا مہینہ

الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علی سید الأنبیاء والمرسلین، وعلی آله وأصحابه أجمعین، ۔۔۔ أما بعد:

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ اور حرمت والے مہینوں میں سے ایک نہایت بابرکت اور عظمت والا مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کو خصوصی شرف عطا فرمایا ہے اور نبی کریم ﷺ نے اسے شہر اللہ یعنی اللہ کا مہینہ قرار دے کر اس کی فضیلت کو مزید واضح فرمایا ہے۔

یہ مہینہ ہمیں عبادت، تقویٰ، توبہ، صبر اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا پیغام دیتا ہے۔ اسی مہینے میں یومِ عاشوراء آتا ہے جس میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات ملی، اور اسی مہینے میں امتِ مسلمہ کو صبر، شکر اور استقامت کے عظیم اسباق ملتے ہیں۔

افسوس کہ اس مبارک مہینے میں بعض جگہوں پر ایسی رسومات اور بدعات بھی رواج پا گئی ہیں جن کی شریعت میں کوئی اصل نہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ محرم الحرام کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھا جائے، اس کے فضائل و احکام کو اپنایا جائے اور ہر قسم کی خرافات سے اجتناب کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک مہینے کی صحیح قدر کرنے، اس کے پیغام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

محرم الحرام کی وجہِ تسمیہ

محرم عربی زبان کے لفظ «حَرَّمَ»سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں: حرمت والا، ممنوع قرار دیا گیا، یا قابلِ احترام۔ اس مہینے کو محرم اس لیے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرمت و عظمت والا مہینہ قرار دیا ہے، اور زمانہ جاہلیت سے لے کر اسلام تک اس مہینے میں قتال و جنگ کو ممنوع سمجھا جاتا رہا ہے۔

علامہ ابنِ کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

«وَإِنَّمَا سُمِّيَ الْمُحَرَّمُ لِكَوْنِهِ شَهْرًا مُحَرَّمًا، وَتَأْكِيدًا لِتَحْرِيمِهِ»

«اس مہینے کا نام محرم اس لیے رکھا گیا کہ یہ حرمت والا مہینہ ہے، اور اس کی حرمت کی تاکید کے لیے اسے محرم کہا جاتا ہے۔(تفسیر ابن کثیر، تفسیر سورۃ التوبۃ: 36)

محرم الحرام کے فضائل و مسائل

1۔ جنگ و قتال کی حرمت

زمانۂ جاہلیت سے ہی عرب اس مہینے میں لڑائی اور خون ریزی کو حرام سمجھتے تھے۔ اسلام نے بھی اس حرمت کو برقرار رکھا۔

قرآنِ کریم:

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ(التوبة: 36)

 بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں، جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔

2۔چار حرمت والے مہینوں میں شامل

نبی کریم ﷺکا فرمان ہے:

«إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ»(صحیح بخاری: 4662، صحیح مسلم: 1679)

بے شک زمانہ گھوم کر اسی حال پر آ گیا جیسا اللہ نے آسمان و زمین بناتے وقت مقرر کیا تھا۔ سال بارہ مہینوں کا ہے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ تین پے در پے ہیں: ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم، اور (چوتھا) رجبِ مضر جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔

ان مہینوں میں نیکیوں کا اجر بڑھ جاتا ہے اور گناہوں کی قباحت بھی زیادہ ہوتی ہے

3۔ اللہ کا مہینہ — ’’شہر اللہ المحرم‘‘

رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے :

«أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ»(صحیح مسلم: 1163 )

رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ اللہ کے مہینے محرم کا ہے، اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز (تہجد) ہے ۔

کتنی عظیم سعادت ہے کہ جس مہینے کو اللہ کے رسول ﷺ نے شہر اللہ فرمایا، وہ مہینہ ایمان والوں کے لیے رحمتوں، برکتوں اور نیکیوں کے خزانے لے کر آتا ہے۔

4۔محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب اسلامی تقویم مرتب کی گئی تو محرم الحرام کو سال کا پہلا مہینہ قرار دیا گیا۔

اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَكَانَ ابْتِدَاءُ السَّنَةِ بِالْمُحَرَّمِ لِأَنَّ الْعَزْمَ عَلَى الْهِجْرَةِ كَانَ فِيهِ، إِذِ الْبَيْعَةُ وَقَعَتْ فِي ذِي الْحِجَّةِ، وَهِيَ الْمُقَدِّمَةُ لِلْهِجْرَةِ، فَكَانَ أَوَّلُ هِلَالٍ اسْتَهَلَّ بَعْدَ الْبَيْعَةِ وَالْعَزْمِ عَلَى الْهِجْرَةِ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ، فَنَاسَبَ أَنْ يُجْعَلَ مُبْتَدَأَ» (فتح الباری، 7/268)

سال کی ابتداء محرم سے اس لیے کی گئی کہ ہجرت کا پختہ ارادہ اسی عرصے میں ہوا تھا، کیونکہ بیعتِ عقبہ ذوالحجہ میں واقع ہوئی اور وہ ہجرت کا مقدمہ تھی۔ چنانچہ بیعت اور ہجرت کے عزم کے بعد جو پہلا چاند طلوع ہوا وہ محرم کا تھا، اس لیے مناسب سمجھا گیا کہ اسے سال کا آغاز بنایا جائے۔

5۔گناہوں سے پرہیز — تقویٰ کا مہینہ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ  (التوبة: 36)

’’ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔‘‘

مفسرین نے لکھا ہے کہ ان مہینوں میں گناہ کی سزا عام دنوں سے زیادہ ہوتی ہے، جیسے حرمِ مکہ میں گناہ کا وزن دوسری جگہوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ لہٰذا ان مہینوں میں خاص طور پر گناہوں سے بچنا فرض ہے۔

فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ  (التوبة: 36)

پس ان (چار مہینوں) میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔

تفسیر: امام قرطبی رحمہ اللہ نے لکھا: ان مہینوں میں معصیت (گناہ) کی سزا اور ثواب دونوں کا وزن عام مہینوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ (الجامع لأحکام القرآن: 8/133)

محرم الحرام اللہ کی رحمت کا خزانہ ہے — روزوں سے گناہ دھل جاتے ہیں، توبہ سے دل صاف ہو جاتا ہے، اور شہر اللہ کی نسبت سے ہر نیکی کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

6۔محرم الحرام میں کثرت سے روزے رکھنا

محرم الحرام کی ایک عظیم فضیلت یہ ہے کہ اس مہینے کے روزے رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل روزے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اس مہینے میں نفلی روزوں کی ترغیب دی اور اسے شہر اللہ یعنی اللہ کا مہینہ قرار دیا۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ»

’’رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔‘‘(صحیح مسلم: 1163)

امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

«فِيهِ تَصْرِيحٌ بِأَنَّ أَفْضَلَ الشُّهُورِ لِلصَّوْمِ بَعْدَ رَمَضَانَ الْمُحَرَّمُ»

’’اس حدیث میں صراحت ہے کہ رمضان کے بعد روزوں کے لیے سب سے افضل مہینہ محرم ہے۔‘‘(شرح النووی علی مسلم، 8/55)

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وَتَسْمِيَتُهُ شَهْرَ اللهِ تُشْعِرُ بِشَرَفِهِ وَفَضْلِهِ»

’’محرم کو ‘اللہ کا مہینہ› کہنا اس کے شرف اور فضیلت پر دلالت کرتا ہے۔‘‘(لطائف المعارف، ص: 79)

7۔ یومِ عاشوراء اور اس کا روزہ

عاشوراء محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو کہا جاتا ہے۔ یہ اسلام کے عظیم اور بابرکت دنوں میں سے ایک ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے اپنے جلیل القدر نبی سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات عطا فرمائی، جس کی شکرگزاری میں موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا، اور نبی کریم ﷺ نے بھی اس دن کا روزہ رکھا اور امت کو اس کی ترغیب دی۔

عاشوراء کی وجہِ فضیلت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

قَدِمَ النَّبِيُّ ﷺ الْمَدِينَةَ فَرَأَى الْيَهُودَ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ، فَصَامَهُ مُوسَى، فَقَالَ ﷺ: فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ، فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ.

’’نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہود عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ بہت عظمت والا دن ہے، اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تھی، اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کے قریب ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم دیا۔‘‘(صحیح البخاری: 2004، صحیح مسلم: 1130)

عاشوراء کے روزے کی فضیلت میں سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ»

’’مجھے اللہ سے امید ہے کہ عاشوراء کا روزہ گزشتہ ایک سال کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔‘‘(صحیح مسلم: 1162)

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اس سے مراد صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہے، جبکہ کبیرہ گناہوں کے لیے توبہ ضروری ہے۔‘‘(شرح النووی علی مسلم)

عاشوراء کے روزے کا حکم

ابتدائے اسلام میں عاشوراء کا روزہ واجب تھا، لیکن جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کا روزہ نفلی اور مستحب رہ گیا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ قَالَ: مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ (صحیح البخاری: 2001، صحیح مسلم: 1125)

’’جب رمضان فرض ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔‘‘

عاشوراء کا روزہ کس طرح رکھا جائے؟

یہود کی مخالفت اور سنت کی پیروی میں صرف دسویں تاریخ کا روزہ رکھنے کے بجائے اس کے ساتھ ایک اور دن ملانا بہتر ہے۔

سب سے افضل صورت:  9 اور 10 محرم کا روزہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ»

’’اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں محرم کا روزہ بھی رکھوں گا۔‘‘(صحیح مسلم: 1134)

دوسری صورت: 10 اور 11 محرم کا روزہ:

بعض اہلِ علم نے دیگر روایات کی بنا پر اسے بھی مستحب قرار دیا ہے۔

تیسری صورت: 9، 10 اور 11 تینوں دنوں کے روزے

بعض فقہاء نے احتیاطاً اور زیادہ فضیلت کے لیے اسے پسند کیا ہے۔

8۔محرم الحرام میں اہلِ بیت سے محبت کا اظہار

اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت اہلِ سنت والجماعت کے عقیدہ کا بنیادی حصہ ہے۔ محرم الحرام خصوصاً اس محبت کی یاد تازہ کرتا ہے، کیونکہ اسی مہینے میں نواسۂ رسول ﷺ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کا عظیم سانحہ پیش آیا۔ تاہم اہلِ بیت سے محبت کا صحیح طریقہ وہی ہے جو قرآن و سنت اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے سکھایا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى

’’آپ کہہ دیجیے! میں تم سے اس (تبلیغِ دین) پر کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے قرابت داروں کی محبت کے۔‘‘(الشوریٰ: 23)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

«إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ»

’’یعنی میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت ہے اس کا لحاظ رکھو۔‘‘(صحیح البخاری، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ الشوریٰ)

نبی کریم ﷺ کی اہلِ بیت کے بارے میں وصیت کے متعلق

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي»

’’میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ سے ڈراتا ہوں (یعنی ان کا حق پہچانو)، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔‘‘(صحیح مسلم: 2408)

یہ حدیث اہلِ بیت کے حقوق اور ان سے محبت کی عظیم دلیل ہے۔

اہلِ بیت سے محبت ایمان کا تقاضا

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ امْرِئٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلهِ وَلِقَرَابَتِي»

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی شخص کے دل میں کامل ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ تم سے اللہ کے لیے اور میری قرابت کی وجہ سے محبت نہ کرے۔‘‘(مسند أحمد: 1777، حسن)

سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی محبت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا»

’’اے اللہ! میں ان دونوں (حسن اور حسین) سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما۔‘‘(صحیح البخاری: 3747)

اور فرمایا:

«الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ»

’’حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔‘‘(سنن الترمذی: 3768، صحیح)

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا اہلِ بیت سے محبت کا طرزِ عمل :

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:

«ارْقُبُوا مُحَمَّدًا ﷺ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ»

’’محمد ﷺ کا لحاظ ان کے اہلِ بیت کے بارے میں رکھو۔‘‘(صحیح البخاری: 3751)

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اہلِ بیت کا بے حد احترام کرتے تھے اور ان کے حقوق کا خصوصی خیال رکھتے تھے۔

اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک اہلِ بیت سے محبت کا اظہار درج ذیل طریقوں سے ہونا چاہیے:

ان کے فضائل و مناقب کا بیان

لوگوں کو اہلِ بیت کے مقام و مرتبہ سے آگاہ کیا جائے۔

ان کے لیے دعا کرنا

خصوصاً نماز میں درودِ ابراہیمی کے اندر:

«اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ»

ان کی سیرت کو اپنانا

اہلِ بیت کی عبادت، تقویٰ، صبر، علم اور اخلاص کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی سے سبق لینا

حق پر ثابت قدمی، ظلم کے سامنے ڈٹ جانا اور دین کی خاطر قربانی دینا۔

محبت اور غلو میں فرق :

اہلِ سنت اہلِ بیت سے محبت کرتے ہیں لیکن غلو نہیں کرتے۔

نہ انہیں معصوم مانتے ہیں، نہ حاجت روا و مشکل کشا، اور نہ ان کی محبت میں شریعت کے خلاف نوحہ، ماتم اور خود آزاری کو جائز سمجھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ

«اپنے دین میں غلو نہ کرو۔» (النساء: 171)

9۔ محرم الحرام میں ناموسِ صحابہ رضی اللہ عنہ کا دفاع

محرم الحرام کا مہینہ جہاں اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی محبت اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے، وہیں یہ حقیقت بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اہلِ سنت والجماعت اہلِ بیت اور تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے یکساں محبت اور احترام رکھتے ہیں۔ اہلِ بیت کی محبت کے نام پر کسی صحابی کی تنقیص، سبّ و شتم یا گستاخی کو جائز نہیں سمجھتے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ

’’اور مہاجرین و انصار میں سے سبقت لے جانے والے اولین اور وہ لوگ جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔‘‘(التوبۃ: 100)

نیز فرمایا:

لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ

’’یقیناً اللہ مؤمنوں سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے۔‘‘(الفتح: 18)

صحابہ رضی اللہ عنہ کی گستاخی سے ممانعت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ» (صحیح البخاری: 3673، صحیح مسلم: 2541)

’’میرے صحابہ کو برا نہ کہو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی ان کے ایک مُد بلکہ آدھے مُد کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔‘‘

اہلِ بیت اور صحابہ ایک دوسرے کے مخالف نہیں تھے بلکہ باہم محبت و احترام رکھتے تھے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:

«خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ»

’’اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے افضل ابوبکر اور عمر ہیں۔‘‘(مسند أحمد: 833، وصححه الألباني)

اسی طرح سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما بھی اکابر صحابہ کا احترام کرتے تھے۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ایک عظیم مصیبت اور امت کا المناک سانحہ ہے۔ ہم ان سے محبت کرتے ہیں، ان کے قاتلوں سے براءت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، لیکن اس واقعے کو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن و تشنیع کا ذریعہ نہیں بناتے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

«وَمِنْ أُصُولِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ: سَلَامَةُ قُلُوبِهِمْ وَأَلْسِنَتِهِمْ لِأَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ ﷺ، كَمَا وَصَفَهُمُ اللهُ بِهِ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا﴾، وَطَاعَةُ النَّبِيِّ ﷺ فِي قَوْلِهِ: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي»…»

’’اہلِ سنت والجماعت کے اصولوں میں سے یہ ہے کہ ان کے دل اور زبانیں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے بارے میں پاک اور سلامت رہتی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ صفت بیان فرمائی ہے: ‘اور جو لوگ ان (مہاجرین و انصار) کے بعد آئے وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم سے پہلے گزر چکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ›۔ اور وہ نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کی پیروی کرتے ہیں: ‘میرے صحابہ کو برا نہ کہو۔‘‘ ( العقيدة الواسطية ص 27)

10۔نئے اسلامی سال کا محاسبۂ نفس

محرم اسلامی سال کا آغاز ہے، اس لیے یہ وقت ہے کہ بندہ اپنے گزشتہ اعمال کا جائزہ لے اور آئندہ کے لیے نیک ارادے کرے۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:

«حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا»

’’اپنا محاسبہ کر لیا کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب لیا جائے۔‘‘ (الزهد للإمام أحمد، ص: 120)

محرم الحرام کی رسوم و بدعات

محرم الحرام حرمت، عبادت، روزہ، تقویٰ اور اتباعِ سنت کا مہینہ ہے، لیکن افسوس کہ اس مبارک مہینے میں بعض ایسی رسومات اور بدعات رائج ہو گئی ہیں جن کی شریعتِ مطہرہ میں کوئی اصل نہیں۔ اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ دین مکمل ہو چکا ہے، لہٰذا جو عمل رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ اور سلفِ صالحین سے ثابت نہیں، اسے ثواب اور عبادت سمجھ کر اختیار کرنا بدعت ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (المائدۃ: 3)

’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا ہے۔‘‘

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»

’’جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔‘‘(صحیح البخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718)

نوحہ، ماتم اور سینہ کوبی

محرم میں بعض لوگ نوحہ خوانی، بین، واویلا، سینہ کوبی اور گریبان چاک کرنے کو ثواب سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ جاہلیت کے اعمال ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ»

«وہ شخص ہم میں سے نہیں جو رخسار پیٹے، گریبان پھاڑے اور جاہلیت کی پکار لگائے۔»(صحیح البخاری: 1294، صحیح مسلم: 103)

اور فرمایا:

«النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ»(صحیح مسلم: 934)

زنجیر زنی، قمہ زنی اور خود کو زخمی کرنا

بعض لوگ غمِ حسین رضی اللہ عنہ میں اپنے جسموں کو زنجیروں، تلواروں اور چھریوں سے زخمی کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَلَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا۰۰۲۹  (النساء: 29)

’’اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر بڑا مہربان ہے۔‘‘

اور فرمایا:

وَ لَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرۃ: 195)

’’اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔‘‘

یہ اعمال نہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں، نہ اہلِ بیت رضی اللہ عنہ سے اور نہ کسی صحابی سے۔

تعزیہ داری اور تعزیوں کے جلوس

تعزیے بنانا، ان کے سامنے تعظیم سے کھڑا ہونا، ان کے گرد طواف کرنا، منتیں ماننا یا انہیں مقدس سمجھنا شرعاً ثابت نہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وَأَمَّا مَا يَفْعَلُهُ بَعْضُ النَّاسِ مِنْ اتِّخَاذِ مَأْتَمٍ وَجَزَعٍ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَهُوَ مِنَ الْبِدَعِ الَّتِي لَمْ يَسْتَحِبَّهَا اللهُ وَلَا رَسُولُهُ»

’’عاشوراء کے دن ماتم اور نوحہ کی محفلیں قائم کرنا ان بدعات میں سے ہے جنہیں نہ اللہ نے پسند کیا اور نہ اس کے رسول ﷺ نے۔‘‘ (منهاج السنة النبوية، 4/554)

محرم کو سوگ کا مہینہ سمجھنا اور سیاہ لباس پہننا

بعض لوگ پورے محرم میں شادی بیاہ، خوشی اور دیگر جائز کاموں کو ترک کر دیتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»

’’کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، سوائے شوہر کے کہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ کرے۔‘‘ (صحیح البخاری: 1280، صحیح مسلم: 938)

سیاہ لباس پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے، خود جناب رسول اللہ ﷺ نے سیاہ عمامہ، سیاہ چادر، سیاہ جبہ زیب تن فرمایا ہے،

 اس لیے سیاہ لباس پہننا منع نہیں، لیکن چونکہ محرم کے مہینے میں سیاہ رنگ کا لباس پہننا روافض کا شعار بن چکا ہے، اور وہ لوگ سیاہ لباس اظہار سوگ کی علامت کے طور پر پہنتے ہیں،اس وجہ سے ان دنوں میں اس لباس کو ترک کرنا چاہیے، تاکہ روافض کے ساتھ مشابہت نہ ہو، لیکن جہاں روافض کے ساتھ مشابہت کا اندیشہ نہ ہو، تو ایسا لباس پہننا جائز ہے۔

 محرم میں نکاح کو ناجائز یا منحوس سمجھنا

شریعت میں محرم کے مہینے میں نکاح کی ممانعت کا کوئی ثبوت نہیں۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«لا يكره النكاح في شهر من الشهور»

’’سال کے کسی مہینے میں نکاح مکروہ نہیں۔‘‘(زاد المعاد، 3/183)

لہٰذا محرم میں شادی کو منحوس سمجھنا محض ایک رسم ہے۔

 بلکہ عجیب بات تو یہ ہے کہ بعض مؤرخین کے مطابق امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے شادی اسی ماہِ مبارک میں ہوئی۔( تاریخ مدینۃ الدمشق لابن عساکر،3/128)

عاشوراء کی مخصوص نمازیں اور من گھڑت عبادات

بعض لوگ عاشوراء کی مخصوص نمازیں، مخصوص رکعات یا خاص اذکار کو سنت سمجھتے ہیں۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«صَلَاةُ لَيْلَةِ عَاشُورَاءَ وَالصَّلَاةُ الْمَعْرُوفَةُ بِيَوْمِ عَاشُورَاءَ بِدْعَتَانِ بَاطِلَتَانِ»

’’عاشوراء کی رات اور دن کی مشہور مخصوص نمازیں باطل بدعت ہیں۔‘‘ (المجموع للنووي، 4/56)

سرمہ، غسل اور خاص اعمال کے فضائل

عاشوراء کے دن سرمہ لگانے، خاص غسل کرنے یا مخصوص عبادات کی فضیلت میں بیان کی جانے والی اکثر روایات ضعیف یا موضوع ہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«لَمْ يَرْوِ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الْمُعْتَمَدِ عَلَيْهِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ فِي ذَلِكَ شَيْئًا صَحِيحًا.»

’’اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے کوئی صحیح روایت اہلِ علم نے نقل نہیں کی۔‘‘ (منهاج السنة النبوية، 4/511)

نیاز، کھچڑا اور مخصوص کھانوں کو عبادت سمجھنا

عاشوراء کے دن کسی خاص کھانے کو ثواب یا سنت سمجھنا ثابت نہیں۔البتہ عام صدقہ و خیرات ہر وقت کی طرح اس دن بھی باعثِ اجر ہے، لیکن اسے عاشوراء کی مخصوص عبادت قرار دینا درست نہیں۔

البدایہ والنہایہ میں لکھا ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خوشی میں خوارج دسویں محرم کو مختلف اناج ملا کر پکاتے تھے ۔ معلوم ہوا کہ اس دن کھچڑا پکانا اہل بیت سے دشمنی رکھنے والوں کی ایجاد کردہ رسم ہے۔

اہلِ بیت کی محبت میں غلو کرنا

اہلِ بیت سے محبت ایمان کا حصہ ہے، لیکن ان کو حاجت روا، مشکل کشا یا عالم الغیب سمجھنا ناجائز ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ»

’’میری تعریف میں حد سے نہ بڑھو جیسا کہ نصاریٰ نے عیسیٰ ابن مریم کے بارے میں غلو کیا۔‘‘(صحیح البخاری: 3445)

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ پر طعن و تشنیع کرنا

بعض لوگ محرم کے موقع پر بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں، حالانکہ یہ قرآن و سنت کے خلاف ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي»

’’میرے صحابہ کو برا نہ کہو۔‘‘ (صحیح البخاری: 3673، صحیح مسلم: 2541)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وَمِنْ أُصُولِ أَهْلِ السُّنَّةِ: سَلَامَةُ قُلُوبِهِمْ وَأَلْسِنَتِهِمْ لِأَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ ﷺ»(العقيدة الواسطية ۔۔۔ تقدم )

’’اہلِ سنت کے بنیادی عقائد میں سے ایک یہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق اپنے دلوں کو کینہ وبغض سے، اور اپنی زبانوں کو طعن و تشنیع سے محفوظ رکھتے ہیں۔‘‘

محرم الحرام کے چند اہم واقعات

محرم الحرام محض اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہی نہیں بلکہ تاریخِ اسلام کے کئی عظیم اور سبق آموز واقعات کا امین بھی ہے۔ ان واقعات میں بعض انبیائے کرام علیہم السلام سے متعلق ہیں اور بعض عہدِ صحابہ و اہلِ بیت سے تعلق رکھتے ہیں۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی نجات

محرم الحرام کے سب سے مشہور واقعات میں سے ایک یومِ عاشوراء پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی فرعون سے نجات ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں:

«هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللهُ فِيهِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ فَصَامَهُ مُوسَى»

’’یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے اس دن روزہ رکھا۔‘‘ (صحیح البخاری: 2004، صحیح مسلم: 1130)

یومِ عاشوراء کے روزے کا مشروع ہونا

مدینہ منورہ ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو بھی اس کی ترغیب دی۔

«فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ» (صحیح البخاری: 2004)

’’آپ ﷺ نے خود روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی دیا۔‘‘

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت

ذوالحجہ 23 ہجری میں ابو لؤلؤ مجوسی نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا۔ چند دن زخمی رہنے کے بعد آپ یکم محرم 24 ہجری کو شہید ہوئے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

«وَتُوُفِّيَ عُمَرُ رضي الله عنه أَوَّلَ يَوْمٍ مِنَ الْمُحَرَّمِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ» (البداية والنهاية، 7/149)

’’سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یکم محرم 24 ہجری کو وفات پا گئے۔‘‘

آپ کی شہادت امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم سانحہ تھی۔

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں فتوحات کا تسلسل

محرم کے مہینے میں متعدد اسلامی لشکروں کی روانگی اور فتوحات کا ذکر کتبِ تاریخ میں ملتا ہے، اگرچہ ہر واقعہ کی تاریخ محرم میں ہونا قطعی طور پر ثابت نہیں۔

واقعۂ کربلا اور شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ

10 محرم 61 ہجری کو کربلا کے میدان میں نواسۂ رسول ﷺ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور ان کے رفقاء شہید ہوئے۔

امام ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

«قُتِلَ الْحُسَيْنُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ سَنَةَ إِحْدَى وَسِتِّينَ»

’’سیدنا حسین رضی اللہ عنہ عاشوراء کے دن 61 ہجری میں شہید کیے گئے۔‘‘ (سیر أعلام النبلاء، 3/311)

یہ واقعہ تاریخِ اسلام کا عظیم سانحہ اور صبر و استقامت کی روشن مثال ہے۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کا انجام

اہلِ تاریخ نے ذکر کیا ہے کہ واقعۂ کربلا میں شریک بہت سے ظالموں کو دنیا ہی میں عبرتناک انجام سے دوچار ہونا پڑا۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں متعدد واقعات نقل کیے ہیں۔ (البداية والنهاية، أحداث سنة 61 هـ وما بعدها)

اسلامی ہجری سال کا آغاز

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب اسلامی تقویم مرتب کی گئی تو محرم الحرام کو اسلامی سال کا پہلا مہینہ قرار دیا گیا۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«فَكَانَ أَوَّلُ هِلَالٍ اسْتَهَلَّ بَعْدَ الْعَزْمِ عَلَى الْهِجْرَةِ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَنَاسَبَ أَنْ يُجْعَلَ مُبْتَدَأَ التَّارِيخِ»

’’ہجرت کے عزم کے بعد پہلا چاند محرم کا تھا، اس لیے اسے اسلامی تاریخ کا آغاز بنایا گیا۔‘‘ (فتح الباری، 7/268)

فتحِ خیبر کا آغاز

بعض مؤرخین نے غزوۂ خیبر کی مہم کا آغاز محرم 7 ہجری میں ذکر کیا ہے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

«خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِلَى خَيْبَرَ فِي الْمُحَرَّمِ سَنَةَ سَبْعٍ»

’’رسول اللہ ﷺ سات ہجری کے محرم میں خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔‘‘ (البداية والنهاية، 4/185)

چند غیر ثابت مشہور باتیں

بعض کتابوں اور بیانات میں یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ:

سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ عاشوراء کے دن قبول ہوئی۔

سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر عاشوراء کے دن ٹھہری۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام آگ سے عاشوراء کے دن نجات پائے۔

سیدنا یوسف علیہ السلام قید سے عاشوراء کے دن نکلے۔

یہ روایات عموماً ضعیف اسناد یا بے اصل تاریخی نقلوں پر مبنی ہیں، لہٰذا انہیں قطعی اور یقینی فضیلت کے طور پر بیان نہیں کرنا چاہیے۔

لہٰذا ضروری ہے کہ ہم محرم الحرام کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھیں، اس کے فضائل و احکام کو جانیں، مسنون اعمال کو اختیار کریں، سیدنا عمر اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما سمیت تمام صحابۂ کرام و اہلِ بیت سے محبت رکھیں، اور ہر قسم کی بدعات و خرافات سے اجتناب کریں۔ یہی محرم الحرام کی حقیقی تعظیم اور اس کے پیغام سے صحیح استفادہ ہے۔

اے اللہ! ہمیں محرم الحرام کی حرمت کا حق ادا کرنے، اس کے مسنون اعمال اپنانے، اہلِ بیتِ اطہار اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے سچی محبت رکھنے، اور بدعات و خرافات سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین

admin

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago