سورۃ البقرہ میں ارشاد ہوتا ہے:
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍمِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ١ ؕوَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَۙ۰۰۱۵۵ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ ؕ۰۰۱۵۶ اُولٰٓىِٕكَ عَلَيْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ١۫ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ۰۰۱۵۷ [البقرۃ: ۱۵۵۔ ۱۵۷]
’’اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میووں کے نقصان سے تمھاری آزمائش کریں گے تو صبر کرنے والوں کو (اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی) کی بشارت سنا دو۔ ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اﷲ ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اُن کے رب کی مہربانی اور رحمت ہے اور یہی سیدھے راستے پر ہیں۔‘‘
پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو ایک خاص نظریہ کے تحت معرضِ وجود میں آیا ہے۔ وہ نظریہ ہے اسلام، صرف اور صرف اسلام، لیکن اس کے قیام کے فوری بعد اسے اپنی منزل سے دور رکھنے کے لیے کئی قسم کے مسائل پیدا کر دیے گئے۔ آج اس کے قیام کو پچھتر (75) برس ہونے کو ہیں، لیکن مسلسل مسائل میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ان مشکلات نے اہلِ پاکستان کی زندگی کو اجیرن ہی بنا دیا۔ اصل وجہ اس منزل سے دوری ہے جس کی خاطر اسے وجود میں لایا گیا تھا، جس عظیم مقصد کے تحت قوم نے قربانیاں دیں، اپنی جان و مال، اہل و عیال، کنبے قبیلے اور عزت و آبرو تک ہر چیز اس پر نچھاور کر دی، لیکن ہوا کیا؟ پچھتر (75) برس گزرنے کے بعد بھی منزل کا حصول ممکن نہ ہو سکا۔
ہر طرف اندھیر نگری۔۔۔ راحتوں کی پیامبر ٹھنڈی کرنوں کا کہیں نام و نشان نہیں، مایوسیاں ہی مایوسیاں، کہیں امید کا جگنو روشنی کرتا نظر نہیں آتا۔ ارضِ وطن اپنے لوگوں کی بے رخی اور بے فائی کے زخموں سے چور چور ہے۔ پورا چمن خون آلودہ نظر آتا ہے، دکھ ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں، درد ہےکہ اس کی ٹیسیس کسی پل سکون کا مرہم نہیں لینے دیتیں۔ آہ! میرے وطن کی خوبصورت صبحیں اداس ہیں اور اس کی حسین شامیں لہو کی چادر اوڑھے دہشت ناک منظر پیش کر رہی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس وحشت ناک منظر اور سنگین صورت حال کا ذمہ دار کون ہے؟ یقینا عوام و حکمران، سب ہی ان حالات کے ذمہ دار ہیں۔
یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ملک کی باگ دوڑ ایسے اشخاص کے ہاتھوں میں آئی جو ’’مقاصدِ پاکستان‘‘ اور ’’منزل اسلام یعنی لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اﷲ‘‘ کے ساتھ مخلص نہیں رہے اور ان کی کوشش یہی رہی کہ قوم کو معاشی مسائل اور بیرونی دھمکیوں میں الجھا کر اپنی آئینی مدت پوری کرو۔ یہ ایک عالمی ضابطہ ہے کہ جو قوم یا ملت اپنے ہدف اور ٹارگٹ سے ہٹ گئی تو وہ ہمیشہ ناکام ہی رہتی ہے۔ اسلامیان پاکستان قرآنِ مجید کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اﷲ تعالیٰ نے ایسی بے شمار اقوام کا تذکرہ فرمایا ہے جو اپنے نبیوں کے مقدس مشن اور مرکزی نقطہ نظر سے دور ہوئے تو اﷲ تعالیٰ نے اس پاداش میں انھیں صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا، یہ اس قوم پر اﷲ تعالیٰ کی خاص نظر کرم ہے کہ لا تعداد مسائل کے باوجود یہ آباد و شاد ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ:
کیا اس ملک کو قائم کرنے کا یہی مقصد تھا کہ اس پر حکمرانی کرنے والے ہی اس کی قسمت کے مالک بن جائیں، اکیس کروڑ عوام کے باسیوں کی قسمت کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں آجائے۔ اپنی مرضی سے ملک کو چلائیں، کسی قانون اور ضابطہ کی پابندی ان کے لیے ضروری نہ ہو، جب چاہیں اپنے اللّے تللوں سے ریاست کو جہنم زار بنا دیں۔ غریب باسیوں کو اﷲ کی طرف سے نازل کردہ مفت نعمت ’’پانی‘‘ بھی میسر نہ آئے۔ صحت و صفائی کی بنیادی سہولیات سے انھیں محروم کر دیا جائے اور جب چاہیں یہ تکبر کے پتلے اربوں کھربوں کے اثاثے لوٹ کر بیرون ملک اپنے خاندان کے ساتھ جا مقیم ہوں۔ ملک تباہی کے دہانے آن کھڑا ہو اور سیاستدان ایک دوسرے پر الزام تراشی کے ذریعے ووٹرز کو اپنے دامِ تزویر میں پھنسانے کے لیے دن رات لگے ہوں۔ ایک جانب ملک و ملت میں اتحاد کو فروغ دینے کے دعوے ہیں تو دوسری طرف باہمی تنازعات اور نفرت کا بیج بو کر ملک کی نظریاتی سرحدوں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔ عصبیت، قومیت، عدمِ برداشت، تشدد، افتراق اور غیر اسلامی تہذیب کا عفریت پھیلانے والے عناصر نہایت سرعت کے ساتھ اپنے غلیظ مقاصد کو پانے کے لیے تباہی کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔
چھ غلط کاموں کی طرف اشارہ
ایک حدیث مبارکہ میں دورِ فتن کے چھ (۶) غلط کاموں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جیسے ہم بلاشبہ موجودہ زمانے کے حالات پر منطق کر سکتے ہیں۔
سیدنا ابن عابس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺنے فرمایا:
’’(مندرجہ ذیل) چھ چیزوں کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے پہلے نیک اعمال میں جلدی کر لو:
۱۔بے وقوف حکمرانوں کی حکومت۔
۲۔پولیس اور حکومتی کارپردازوں کی کثرت۔
۳۔قطع رحمی۔
۴۔فیصلوں کی خرید و فروخت (یعنی انصاف بکنے لگے گا!)
۵۔قتل کو معمولی سمجھا جائے گا۔
۶۔ایسے افراد کا وجود جو قرآن کو راگ اور طرزوں کی چیز بنا لیں گے۔ لوگ مصلائے امامت پر ایسے آدمی کو کھڑا کریں گے جو نہ تو ان سے زیادہ فقیہ ہوگا اور نہ عالم، امامت سونپنے کا مقصد صرف یہ ہوگا کہ وہ انھیں قرآن گا کر ترنم سے سنائے۔‘‘(سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۲/ ۶۷۲، رقم: ۹۷۹)
عوام اور حکمران دونوں کے لیے یہ حالات باعثِ عبرت ہیں۔ سب کے سب اپنی ذمہ داریوں سے غافل، دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں، کوئی نہیں سمجھ رہا کہ کم از کم اس کے اسباب ہی تلاش کر لیے جائیں، پاکستانی اور مسلمان ہونے کے ناطے اتنا تو سمجھ لینا چاہیے کہ منزل کا حصول تو قرآن و سنت کے نظام میں ہے اور ہم کدھر جا رہے ہیں۔ منزلِ مقصود تو مشرق میں ہے اور ہم مغرب کی طرف سفر کر رہے ہیں۔ کائنات کے مالک نے فرما دیا تھا:
وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا [طٰه: ۱۲۴]
’’اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے گا، بے شک میں اس کے لیے اس کی زندگی تنگ کر دیتا ہوں۔‘‘
اقتدار کے حصول کے لیے غیروں کے آستانوں پر سجدہ کیا جا رہا ہے، اﷲ کے قانون کو خودساختہ دستور ساز اداروں کے ذریعے مشق ستم بنایا جاتا ہے۔ شوق سے سود کھانے والے کیا مسلمان نہیں کہلاتے؟ آج یہ تنگیاں اسی وجہ سے ہیں کہ انہی حکمرانوں نے توحید کو شرک میں اور سنت کو بدعات میں بدل دینے اور رواج دینے میں کھلا کردار ادا کیا ہے۔ عوام ہیں کہ ان کی اندھی عقیدت میں مرے جا رہے ہیں، کیا کسی کو اﷲ کے وقار کا لحاظ ہے؟ آج ہم نے قولی و فعلی دونوں طریقوں سے شریعت اسلامیہ سے منہ موڑ لیا ہے۔ اقتدار اعلیٰ کا ملک کون ہے؟ جواب آئے گا: ’’صرف اﷲ تعالیٰ کی ذات‘‘۔ مگر ملکی خزانہ لوٹ کر شیر مادر سمجھ کر کھانے والے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے مغربی آقاؤں سے اقتدار کی بھیک مانگنے والوں یا خود کو ایک عظیم فلسفی جانتے ہوئے صدیوں سے فوت شدہ ایک بزرگ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو کر وزارت عظمیٰ کا سوال کرنے والوں کے ان ’’اعمال‘‘ کو کیا عنوان دیا جائے؟؟ اگر توہم پرست لوگ ملک کے حاکم بن جائیں تو پھر اس ملک کی تباہی کے لیے کسی بیرونی دشمن کی ضرورت ہی نہیں۔
الشیخ عبدالعزیز الطریفی حفظہ اللہ نے کتنی حقیقت افروز بات ارشاد فرمائی:
عجباً لحاکم یدعو الناس إلی حرية اختیار الإله ولا يجعل لهم حرية اختيار حاكم إلا إياه جوّز الخروج على الله وحرّم الخروج على نفسه
’’اس حاکم پر تعجب ہے جس نے معبود کے معاملے میں تو لوگوں کو اختیار دے دیا کہ جسے چاہے معبود بنائے، لیکن اپنے معاملے میں کوئی اختیار نہ چھوڑا کہ اس کے علاوہ کسی اور کو حاکم نہ مانا جائے۔ اﷲ کے معاملے میں خروج جائز قرار دے دیا، لیکن اپنے معاملے میں خروج حرام۔‘‘
درسِ نصیحت
اس وقت ایک حدیث میرے سامنے آرہی ہے جو آزمائش اور دین کی مضبوطی کے حوالے سے ہے، اس سے ہم حاکم وقت اور اس کے خیر خواہوں کے لیے درسِ نصیحت حاصل کر سکتے ہیں:
عن سعد قال: سُئِلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ أَیُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً، قَالَ: الْأَنْبِیَاءُ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ، فَالْأَمْثَلُ فَیُبْتَلَی
الرَّجُلُ عَلَی حَسَبِ دِینِهِ فَإِنْ کَانَ دِینُهُ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلَاؤُہُ وَإِنْ کَانَ فِيْ دِینِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِیَ عَلَی حَسَبِ دِینِهِ فَمَا یَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّی یَتْرُکَهُ یَمْشِی عَلَی الْأَرْضِ مَا عَلَیْهِ خَطِیئَة
’’سیدنا سعدtسے روایت ہے: انھوں نے فرمایا کہ رسول اﷲe سے پوچھا گیا کہ کون لوگ آزمائش میں زیادہ سخت ہوتے ہیں؟ آپe نے فرمایا: انبیاء (o)، پھر وہ جو اُن سے قریبی درجہ میں ہوں، پھر وہ جو اُن سے مرتبہ میں قریب ہوں، لوگوں کو اُن کے دینداری کے اعتبار سے آزمایا جاتا ہے، پس جس کا دین قوی و مضبوط ہوگا، اس کی آزمائش بھی سخت ہوگی اور جس کا دین کمزور ہوگا، اس کی آزمائش بھی ہلکی ہوگی اور آدمی پر مصیبت نازل ہوتی ہے اور وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے، درآں حالیکہ اس کا کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔‘‘
وحیِ الٰہی ہی اصل قانون ہے
اس بات کو ذہن میں رکھیں، اپنے ملک کو بہتری، خوشحالی اور امن کی طرف لانے کے لیے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ زندگی کی پہلی فرصت میں اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں۔ اپنی دنیا میں گم ہو جانے کے بجائے ان چیزوں کا احساس کیجیے جو آپ کی محسوسات سے ماوراء ہیں۔ اغیار کی فلاسفی کچھ نہیں، اﷲ کے دین کی حکمت پر عمل کرنے سے دنیا کی بے شمار بھلائیاں آپ کے مقدر میں جمع ہو سکتی ہیں، کیوںکہ اﷲ کی وحی ہی اصل قانون اور ضابطۂ حیات ہے۔ اسی کی پابندی ہی ایک حاکمِ وقت اور دینی و سیاسی راہنما کے لیے ضروری ترین کام ہے۔ آئیے ابھی بھی وقت ہے کہ اپنے تمام مسائل کے حل کے لیے اﷲ تعالیٰ کی وحی کی طرف رجوع کریں جو قرآنِ مجید کی صورت میں تا قیامت بنی نوع انسانیت کا مرکز اور راہنما ہے۔ سورت نوح میں ارشاد ہوتا ہے:
اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِيْعُوْنِۙ۰۰۳[نوح: ۳]
’’کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔‘‘
اﷲ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی سیدنا نوحu نے اپنی مشرک قوم کو ایک اﷲ کی توحید کی دعوت دی تو بنیادی نکتہ یہی تھا کہ تم اکیلے اﷲ کی عبادت کرو (اس کے ساتھ غیر اﷲ کو شریک نہ کرو)، اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو، اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اﷲ غفور و رحیم ہے، وہ تمھارے سارے گناہ معاف کر دے گا اور تمھیں ایک مدتِ مقررہ تک مہلت دے گا، اور جب اﷲ کا مقرر کیا ہوا وقت آجائے تو اس میں تاخیر بالکل نہ ہوگی، کاش! تم یہ سادہ سی بات مان لو۔
اے پاکستان کے عوام و حکمران!
سیدنا نوحu نے اپنی قوم کو جن تین نکات کی طرف توجہ دلائی، اصل میں یہی کامیابی کے اصول ہیں:
۱۔(خالص ہو کر) ایک اﷲ کی عبادت کرنا۔
۲۔صرف اﷲ کا خوف رکھنا، اس سے ڈرتے ہوئے اس کے احکام بجا لانا۔
۳۔اﷲ تعالیٰ کے فرمودات اور احکامات پر عمل کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ بنی آخر الزماں رسول رحمت محمدﷺکی بلا مشروط اطاعت کرنا۔
کیا یہ تین سنہرے ضابطے ہمارے اندر موجود ہیں، جواب نفی میں آئے گا۔ سوائے چند لوگوں کے باقی سب ان ضابطوں سے عاری نظر آئیں گے۔
ایک اﷲ کی عبادت:
ہماری عبادتیں خالص نہیں ہیں، ہمارے نزدیک عبادتوں کا معیار کچھ اور ہے، گھڑی ہوئی اور ’’منقول‘‘ چیزیں عبادت میں شامل ہو چکی ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکاۃ وغیرہ کو عبادت میں شمار کرتے ہیں جب کہ شریعت اسلامیہ کے متعدد دیگر معروف احکام ہماری زندگی میں شامل ہی نہیں، مثلاً: سود اور رشوت سے بچ جانا بھی عبادت ہے، جب کہ ہم اسے منافع اور تحفے کا نام دے کر کھا رہے ہیں۔ ہم نے اپنے یا اپنے بزرگوں کے بنائے ہوئے ضابطوں کو عبادت کا درجہ دے رکھا ہے، اگرچہ وہ علم و عقل کی بنیاد پر بھی پورے نہ اترتے ہوں، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں، لکیر کے فقیر بس چلے جا رہے ہیں، جبکہ ہمارا ہر قول و عمل اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضامندی کے لیے ہونا چاہیے، یہی عبادت ہے۔
جو جماعتیں یا اقوام اپنی تہذیب و ملت کی باغی ہوجائیں تو وہ ذہنی طور پر کفار کی تہذیب و ثقافت کی ترجمان بن جاتی ہیں اور ہر وقت انھیں ان کی خوشنودی مطلوب ہوتی ہے۔ پاکستان تو ایک ایسی مملکت کا نام ہے جس کے باسی اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمیشہ اﷲ کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں، اس کی طاقتور فوج جب نعرہ تکبیر بلند کرتی ہے تو دشمن کے دل دہل جاتے ہیں، مگر سیاستدانوں نے اس پر بھی وار کرنے کی کوششیں کیں۔ دشمنوں کی زبان بولنے لگے۔ اقتدار کو بچانے کے لیے ’’یا امریکہ یا امریکہ‘‘ کی گردان کرتے نظر آئے اور کاسہ لیسی کی حد کر دی، جب کہ اﷲ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا کہ مانگنا بھی عبادت ہے:
وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ۠ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَؒ۰۰۶۰[المؤمن: ۶۰]
’’اور تمھارے رب نے فرمایا: مجھے پکارو، میں تمھاری دعا قبول کروں گا، بے شک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں، عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔‘‘
آیت صاف بتلا رہی ہے کہ کسی سے کچھ مانگنا ہی ’’دعا‘‘ ہوتا ہے۔ انسان کی بندگی کا تقاضا یہی ہے کہ ہر وقت اﷲ تعالیٰ سے مانگا جائے۔ مجبوری اور مشکل اوقات میں تو اس کے در کو چمٹ کر مانگا جائے۔ نبی کریمu کا ارشاد ہے:
اَلدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَة
’’دعا (پکارنا) ہی اصل عبادت ہے۔‘‘
اﷲ تعالیٰ کا خوف اور ڈر:
ہمیں حکم یہ دیا گیا تھا کہ اپنے اندر صرف خالقِ حقیقی کا خوف اور ڈر رکھا جائے، لیکن افسوس ہم نے یہاں کبھی اﷲ کے ڈر کی پروا نہیں کی۔ اس کی سزا ہمیں یہ ملی کہ دنیا کی سپر پاور سمجھی جانے والی قوتوں کا خوف ہم پر مسلط کر دیا گیا۔ آپ دیکھ لیں اﷲ تعالیٰ کے حکم کو نظر انداز کر کے ہماری دوستی یہود و نصاریٰ سے ہے، کیونکہ امریکہ و برطانیہ سے ہم ڈرتے ہیں اور ہر لمحہ اس وہم میں مبتلا ہیں کہ اس کی ناراضی مول لینے سے کہیں ہم پتھر کے زمانے میں نہ پہنچ جائیں، گویا ایک لحاظ سے ہم امریکہ کو تمام قوتوں کا مالک سمجھ بیٹھے، جب کہ ہمیں تو کہا گیا تھا:
اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ[الحجرات: ۱۳]
’’بے شک تم میں سے عزت والا اﷲ کے نزدیک وہ ہے جو اﷲ سے ڈرنے والا (پرہیز گار) ہے۔‘‘
بخاری و مسلم کی ایک حدیث کے مطابق آپe سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے معزز کون ہے؟ آپe نے فرمایا:
’’جو ان میں سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔‘‘(بخاري و مسلم)
آپ ایک دعا کیا کرتے تھے جس کے الفاظ کا ترجمہ دیکھیں:
’’اے اﷲ! میں تجھ سے ہدایت (تقویٰ) پاک دامنی اور (لوگوں سے) بے نیازی کا سوال کرتا ہوں۔‘‘
اﷲ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم تقویٰ کی زندگی گزاریں اور ہمارا شمار دنیا کی معزز ترین اقوام میں سے ہو۔
اطاعت مصطفیﷺ:
تیسرا اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے محمدعربیﷺ کی اطاعت اور سنت کی پیروی کی جائے۔ نبی اکرم کی سیرت زندگی کے تمام مراحل پر ہماری راہنمائی کرتی ہے۔ اس لیے ارشاد ہوتا ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ [الأحزاب: ۲۱]
’’تمہارے لیے رسول اﷲﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔‘‘
آپﷺ کی دعوت ایک عالمگیر اور دائمی دعوت ہے۔ اس سے مکمل کامیابی اور کامرانی ممکن ہے۔ سیرت النبیﷺکا ایک ایک گوشہ ہر مسلمان مرد و عورت کے لیے نادر نمونہ ہے۔ کافر قوموں نے آپﷺ پر کس قسم کے بھونڈے الزام لگائے، حملے کیے گئے، امن، وطن، چمن کو اجاڑا گیا، لیکن آپﷺثابت قدم رہے اور احکاماتِ الٰہی کی روشنی میں جنگی حکمت عملی طے کی، آج پاکستان کے ازلی دشمن اسے نشانے پر رکھے ہوئے ہیں تو حکمت عملی اور پالیسی امریکہ کی بجائے سیرت النبیﷺسے لی جائے۔
کثرت کے ساتھ استغفار ہی مسائل کا حل
سیدنا عبداﷲ بن عباس سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام محمدﷺ نے فرمایا:
’’جس نے استغفار کو لازم کر لیا، اﷲ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرماتے ہیں اور ہر غم سے خلاصی دیتے ہیں اور اسے وہاں سے رزق دیتے ہیں، جہاں سے گمان بھی نہیں کرتا۔‘‘ (مسند احمد، ابن ماجہ، ابوداود)
قرآنِ مجید میں بھی اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ۰۰۱۰ يُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًاۙ۰۰۱۱وَّ يُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِيْنَ وَ يَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ يَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ۰۰۱۲ [نوح: ۱۰۔ ۱۲]
’’تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگ لو، یقینا وہ ہمیشہ سے بہت معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر بہت برستی ہوئی بارش اتارے گا۔اور وہ مالوں اور بیٹوں کے ساتھ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں باغات عطا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کردے گا۔‘‘
قرآن و حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کثرت سے مغفرت و معافی طلب کرنا ہمارے مسائل کا حل ہے۔
استغفار کے دنیاوی فوائد
قرآن مجید میں استغفار کے جو دنیاوی فوائد بیان کیے گئے ہیں، ان میں سے چند ایک کا ذکر ملاحظہ فرمائیے:
۱۔سورۃ الاعراف میں فرمایا:
’’اگر بستیوں سے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔‘‘
۲۔سورۃ المائدۃ میں ارشاد ہوتا ہے:
’’اور اگر اہلِ کتاب تورات، انجیل اور جو کچھ ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل کیا گیا تھا، پر عمل پیرا رہتے تو ان کے اوپر سے بھی رزق برستا اور نیچے سے بھی۔‘‘
آیات کی روشنی میں ملکی حالات کا جائزہ
مذکورہ بالا سورۃ الاعراف اور سورۃ المائدہ کی روشنی میں ملکی حالات کا جائزہ لے سکتے ہیں کہ پانی کے لیے پورا پاکستان ترس رہا ہے، مہنگے داموں فلٹر پلانٹ لگائے جا رہے ہیں، مگر پانی کی ضرورت پوری ہی نہیں ہو رہی۔ کراچی کے لوگ گندا پانی پینے پر مجبور ہیں، پنجاب و سندھ اور بلوچستان و خیبر پختون خوا کے بعض علاقوں کے لوگ علی الصبح پانی کی تلاش کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ پانی کے حصول پر آئے روز جھگڑا بسا اوقات حالات قتل و غارت تک پہنچ جاتے ہیں۔ کالا باغ ڈیم، جو پاکستان کی بہت بڑی ضرورت ہے، اسے سیاسی مفاد کی خاطر نہیں بننے دیا جا رہا۔ ایک طرف پانی نہ ہونے سے پیداوار کم ہے، اور دوسری طرف بے روزگاری ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، مہنگائی اور اقتصادی بدحالی نے زندگی برباد کر کے رکھ دی ہے۔ لوڈ شیڈنگ نے کاروبار کو معطل کر کے زندگیوں کو جھلسا دیا ہے۔ ہر طرف بد امنی اور انتشار کی کیفیت نے طوفان برپا کر رکھا ہے۔ قتل و غارت گری نے خوف و ہراساں کا ماحول بنا رکھا ہے، ایسے حالات میں پوری قوم کو اپنے رب کے حضور استغفار کرنا ہوگا، پھر:
وَّ يَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ۰۰۱۲
سب کچھ مل جائے گا:
وَ يٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ يَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِيْنَ۰۰۵۲[ھود: ۵۲]
’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آئو، وہ تم پر بادل بھیجے گا، جو خوب برسنے والا ہوگا اور تمہیں تمہاری قوت کیساتھ اور قوت زیادہ دے گا اور مجرم بنتے ہوئے منہ نہ موڑو۔‘‘
بارشوں کے نزول کا مطلب صرف آسمانی بارش نہیں، بلکہ ضروری تمام دنیاوی مال و اسباب کی بارش، امن و سکون کی بارش، اتحاد و اتفاق کی برکت کی بارش، فراوانی رزق کی بارش۔ الغرض ہر اس نعمت کی بارش ہوگی جس سے بنی نوع انسانیت فرط و انبساط اور سکھ و چین محسوس کریں اور فرمایا:
وَّ يَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ[ھود: ۵۲]
’’اور تمہیں تمہاری قوت کے ساتھ اور قوت زیادہ دے گا۔‘‘
یعنی اﷲ تعالیٰ دلوں سے کدورتوں اور نفرتوں کو نکال پھینکے گا اور دلوں میں پاکیزگی کو بھر دے گا۔ اخلاق و محبت کی اس قدر وسعت ہوگی کہ مالدار لوگ اپنے غریب اور مفلوک الحال بھائیوں کو بھی وسائل فراہم کرنے لگ جائیں گے۔ ایک واقعہ آتا ہے کہ سیدنا عمر فاروقt بارش کی دعا کرنے کے لیے باہر نکلے اور صرف استغفار کو ہی کافی سمجھا۔ ان سے پوچھا گیا: اے امیر المومنین! آپ نے بارش کے لیے دعا تو کی نہیں؟ فرمایا:
’’میں نے آسمان کے ایسے دروازوں کو کھٹکھٹا دیا ہے، جہاں سے بارش کا نزول ہوتا ہے۔‘‘
اﷲ تعالیٰ ہمارا محافظ ہے، وہی ہماری سب ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور بھارت کے آگے مت جھکیں، غیروں پر بھروسہ کرنے اور مدد طلب کرنے سے اﷲ کے وقار کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ سیدھا سیدھا مالک الملک کے دربار میں سجدہ ریز ہو جائیں، خوشیاں ہمارا مقدر ہوں گی۔ رجوع الی اﷲ کرتے رہیں، استغفار کو نہ چھوڑیں، اچانک خوشخبریاں آنا شروع ہو جائیں گی، کیوںکہ:
اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًاؕ۰۰۶ [الانشراح: ۶]
’’بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘
کبھی یہ بھی نہ سوچیں کہ میں تو فردِ واحد ہوں، بھلا میرے اکیلے کے استغفار سے کیا تبدیلی آئے گی، بلکہ ہمیشہ انفرادی تبدیلی ہی اجتماعی سوچ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے آگے خود کو جھکا دیں اور اس کی رضا اور مرضی کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔ آمین
