قال أبو زرعة: فلمن ترك الباقي

حافظ ابو قریش روایت کرتے ہیں کہ میں امام ابو زرعۃ کے پاس تھا کہ امام مسلم بن حجاج آتے ہیں سلام کرتے ہیں اور کچھ دیر بیٹھتے ہیں اور آپس میں کچھ دیر بات کرتے ہیں جب وہ کھڑے ہوئے تو میں نے کہا کہ انہوں نے چار ہزار صحیح احادیث کو جمع کیا ہے تو اس وقت امام ابو زرعۃ نے یہ کہا تھا کہ : تو باقی صحیح احادیث کون جمع کرے گا؟

امام ابو زرعۃ کا یہ جملہ پندرھویں صدی ہجری کے استاذ محدث العصر محمد عبداللہ الاعظمی رحمہ اللہ پر ثبت آیا جنہوں نے مسلسل شب و روز کی مشقت و محنت کے بعد «الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل» کے نام سے ایک مجموعہ ترتیب دیا جس کی دوسری طباعت دار ابن بشیر و مکتبہ بیت السلام کے اہتمام سے منظر عام پر آئی ہے ۔ کتاب 19 جلدوں پر مشتمل ہے۔ پہلی جلد انتہائی قیم و علمی مقدمہ پر مشتمل ہے ، جو کہ 293 صفحات پر محیط ہے ۔ ہم اپنے قارئین کی دل چسپی کے لیے اسی مقدمہ کو اختصار کے ساتھ بیان کریں گے ان شاء اللہ اور اس مقدمہ کو بھی اپلوڈ کریں گے تاکہ اہل علم اس کتاب کی حقیقی قدر کر سکیں ۔

مقدمہ کی ابتدا میں فضیلۃ الشیخ رحمہ اللہ نے امام بخاری، امام مسلم، امام ابو داود رحمہم اللہ اور اپنی علم حدیث میں دیگر معروف محدثین سے سند اجازت بیان کی ہے جس میں آپ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک سند عالی چوبیس واسطوں پر پہنچتی ہے۔

مقدمہ 122 اہم نکات پر مشتمل ہے جس میں اہم ترین درج ذیل ہیں :

1۔ قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت 33 مختلف آیات میں مذکور ہے۔

2۔ اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح آپ کی زندگی میں صحابہ کے لیے لازم تھی آپ کی وفات کے بعد قیامت تک لوگوں پر بھی لازم قرار دے دی گئی ہے۔

3۔ دین میں اختلاف کی صورت میں مرجع وحید فقط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں (کتاب و سنت)

4۔مخلوقات میں کسی کے کلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔

5۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے کی شدید ممانعت اور اس پر سنگین وعید کا بیان

6۔ سنت رسول کا قرآن کے ساتھ تعلق تین اعتبار سے ہے: کلی موافقت، توضیحی و تشریح، جن امور پر قرآن میں اجمال ہے یا سکوت ہے اس کی تفصیل یا بیان

7۔ حدیث بیان کرنے میں حد درجہ احتیاط کے حوالے سے اسلاف رحمہم اللہ کی مثالیں

8۔امت محمدیہ کا ابلاغ علم میں سند کا اہتمام کرنا، احادیث کے مجموعی رواۃ کی تعداد تقریبا 60000 تک پہنچتی ہے جن پر جرحا و تعدیلا مکمل کیفیات محفوظ کر لی گئی ہیں۔ تاکہ ان سے روایت کردہ بیان کی صحت و ضعف کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہو جائے۔ قرن اول کے پہلے پانچ عشروں میں بھی اس کا اہتمام ملتا ہے۔

9۔ ہر دور ہر جگہ اللہ تعالی نے ایسے خوبصورت وجودوں کو انبیاء کا وارث بنایا جنہوں نے احادیث رسول کو سنا، سمجھا، عمل کیا اور آگے پہنچایا رحمہم اللہ جمیعا۔

10۔ کتابت حدیث کے حوالے سے تقریبا پچاس صحابہ نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو اپنے اپنے طور پر لکھا، 22 تابعین، 13 تبع تابعین اور پھر اصحاب کتب ستۃ اور دیگر محدثین رحمہم اللہ اظہر من الشمس ہیں، جو کتاب حدیث کا انکار کرتا ہے یا شکوک کا اظہار کرتا ہے گویا کہ اسلام کا انکار کرتا ہے

۔والعیاذ بالله من ھذه الهفوات

11۔ یہ بالکل غلط فکر ہے کہ حدیث کو قرآن پر پیش کیا جائے اگر قرآن سے موافقت ہو تو قبول کیا جائے ورنہ رد کر دیا جائے، باطل فکر جو قرآن مجید اور حدیث رسول دونوں کی توہین پر مشتمل ہے حجیت کے اعتبار سے دونوں ایک ہی درجہ پر ہیں اور جیسے قرآن کی دو آیات میں تعارض ممکن نہیں اسی طرح آیت اور صحیح حدیث میں تعارض ناممکن ہے۔

12۔ معروف آئمہ کی فقہ الحدیث پر مشتمل علمی جھود کا ذکر کیا گیا جس کے بعد وہ سب حیات جاوید پا گئے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ جن کی صحیح گیارہ راویوں سے بیان کی جاتی ہے سب سے مشہور روایت امام فربری رحمہ اللہ کی ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے کہیں یہ دعوی نہیں کیا کہ میں نے تمام صحیح احادیث کو جمع کر لیا ہے۔یہی بات ان کے شاگرد رشید امام مسلم رحمہ اللہ کے بارے میں کہی جا سکتی ہے ۔دونوں آئمہ کا منھج حدیث جامع تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔اسی طرح ابن جارود، ابن خزیمہ، ابن اصبغ، القرطبی، ابن السکن، الحاکم، ضیاء الدین المقدسی، امام مالک، امام احمد، امام ابو داؤد، امام ترمذی، امام النسائی، امام ابن ماجہ رحمہم اللہ کی کتب کا مختصر تعارف کروایا گیا ہے۔

مولف کتاب رحمہ اللہ ان بنیادی مصادر کے بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: کہ میرا گمان ہے کہ کتب ستہ، مسند احمد، اور موطا امام مالک کے بعد باقی رہ جانے والی صحیح احادیث دو ہزار سے زیادہ نہیں ہیں۔

13۔مجھ سے اکثر پوچھا گیا کہ اگر سنت دین میں حجت ہے تو کیا یہ کسی ایک کتاب میں جمع کی گئی ہیں۔تو اس سوال نے میرے اندر وہی تشجیع پیدا کی جو امام بخاری رحمہ اللہ کے اندر اپنے استاد کی بات سن کر پیدا ہوئی تھی۔

14۔ الجامع الکامل کی تالیف کے اسباب: تمام صحیح احادیث ایک جگہ جمع کر دی جائیں،مکذوبات و موضوعات کی پہچان ممکن بنائی جا سکے، منکرین سنت پر حجت تمام کرنا، فکری ہجومات کے سامنے ایک بند باندھا جا سکے،فقہ الحدیث وفہم الحدیث میں جامعیت لائی جا سکے کہ «القرآن یفسر بعضه وبعضا» کی طرح احادیث بھی یفسر بعضہ بعضا پر مشتمل ہے، رجوع الی الکتاب والسنۃ کو آسان بنایا جا سکے، حدیث پر عمل کے حوالے سے تذبذب و شکوک کو ختم کیا جا سکے۔ لہذا الجامع الکامل میں پانچویں صدی ہجری تک کی کتب کی احادیث شامل ہیں کیونکہ پانچویں صدی تک ایسی کیفیت کا اختتام ہو جاتا ہے کہ محدث اپنی سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث روایت کرے۔

15۔ شیخ اعظمی رحمہ اللہ کا منھج تالیف: بخاری،مسلم اورموطاکو پہلے درجہ میں رکھا گیا ہے، دوسرے درجہ میں سنن اربعہ ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ شامل ہیں۔ دوسرے درجہ کے زوائد علی کتب ثلاثہ جو صحیح یاحسن درجہ کے ہیں انہیں بیان کیا گیا ہے۔سنن اربعہ کے ساتھ صرف تقویت سندیاتصحیح سند کےلیے دیگر کتب کی بیان کردہ اسناد بھی ذکر کی گئی ہیں۔تیسرے درجہ میں معروف کتاب امام ھیثمی رحمہ اللہ کی مجمع الزوائد و منبع الفوائد ہے اور ابن حجر رحمہ اللہ کی معروف کتاب المطالب العالية بزوائد المسانید الثمانیةشامل ہیں۔

ان دونوں کتب کے سابقہ سات کتب پر زوائد کو بیان کیا گیا ہے۔ چوتھے درجہ میں ان نو کتب کی مکمل تخریج کا اہتمام کیا گیا ہے اس تخریج کی فہرست بہت طویل ہے جو کتاب کے آخر میں درج کی گئی ہے۔

16۔تمام صحیح احادیث محفوظ ہیں، ان احادیث کا کسی ایک جگہ جمع نہ کیا جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ احادیث محفوظ نہیں ہیں یا قطعی حجت کی حامل نہیں ہیں۔ ہر محدث و فقیہ نے اپنی اپنی رغبت و فکر کے مطابق صحیح احادیث کو جمع کیا کسی نے احکام پر احادیث کو جمع کیا تو کسی نے زھد پر جمع کی وغیرھا ۔

17۔اسفار محدثین علو سند کے لیے ہوئے یا حفاظ حدیث سے ملاقات اور علمی مذاکرات و استفادہ کی غرض سے ہوئے اور انہی علمی اسفار جنہیں رحلات علمیہ کا نام دیا جاتا ہے کی وجہ سے ابتدائی ادوار میں روایت کردہ مراسیل، موقوفات وغیرھا کو متصل اسانید کے ساتھ بیان کرنے میں مدد ملی جیسا کہ موطا امام مالک کی مراسیل کو بعد میں متصل سند کے ساتھ بیان کیا گیا ۔ایک ایک حدیث کی ایک سے زائد اسنادات جمع ہو گئی ۔

18۔ متون احادیث کی ممکنہ تعداد کیا ہو سکتی ہے؟ شیخ اعظمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں بغیر تکرار کے تقریبا چالیس ہزار متون ہیں جس میں آٹھ ہزار متون تو صرف کتب ستہ میں موجود ہیں اور انیس ہزار مجمع الزوائد (یعنی مسند احمد، بزار، ابو یعلی، معاجم ثلاثہ للطبرانی)میں ہیں اور ان کتب پر زوائد کی تعداد تقریبا بارہ ہزار ہے ۔ گو کہ امام سیوطی مجموعی متون پچاس ہزار بتاتے ہیں۔

19۔ اسانید کی مجموعی تعداد کتنی ہو سکتی ہے اس حوالے سے شیخ اعظمی رحمہ اللہ تین لاکھ اسانید بتاتے ہیں جس میں سے 34457 کتب ستہ کی ہیں۔اور یہ اسانید پچاس ہزار رواۃ پر مشتمل ہیں ۔

20۔ فی الواقع یہ ایک بہت مشقت طلب اور محنت والا کام ہے کہ تمام صحیح احادیث کا احاطہ کیا جائے اور ان کا تعین کیا جائے لیکن اگر باقاعدہ خطہ بنا لیا جائے تو ممکن ہو سکتا ہے۔

21۔ احادیث کی تین اقسام ہیں :

صحیح، ضعیف، مختلف فیہ۔اور تیسری قسم ہی سب سے زیادہ دقت طلب ہے اور اسی کی وجہ سے احاطہ کامل ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

22۔ مذکورہ بالا کتب پر کتب زوائد عمومی طور پر نکارت و شذوذ کا شکار ہیں۔

23۔ جہاں قرآن خاموش ہے وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام بھی درحقیقت وحی ہی ہے۔سنت قرآن کے ساتھ موافق ہے، یا اجمال کی تفصیل ہے یا جہاں قرآن خاموش ہے وہاں بیان ہے جیسا کہ بھتیجی اور پھوپھو کا ایک نکاح میں رہنے کی حرمت، اور اس کی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں۔لیکن اس سے یہ مفہوم قطعی اخذ نہ کیا جائے کہ حدیث فی ذاتہ حجت نہیں ہے البتہ بسا اوقات ایسا ضرور ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنبیہ کی گئی لیکن اس کا پس منظر بھی اکملیت پر فائز کرنا ہے ۔

24۔ محدثین کا منھج نقد حدیث : سنت کا قرآن سے ربط جس کا ذکر سابقہ اسطر میں کیا گیا ہے۔

25۔ حدیث کی تصحیح میں شیخ اعظمی رحمہ اللہ اپنا منھج بیان کرتے ہیں۔اور تخریج میں تمام مصادر کا ذکر نہیں کرتے کہ طوالت اور ضخامت بڑھ جاتی ہے لیکن کوئی اہم حوالہ ترک نہیں کیا۔اور اسی طرح تخریج کے اصول و ضوابط بیان کرتے ہیں کہ اطراف الاسانید و التقاء الاسانید کے ذریعے ممکن ہے۔

26۔گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ طرق حدیث میں وسعت پیدا ہوتی گئی لہذا کسی ایک حدیث کی ایک سے زائد اسناد ہونے کی صورت میں اصح سند کا اہتمام کیا گیا ہے۔

27۔ضعیف حدیث کو تقویت کیسے مل سکتی ہے اس کے حوالے سے محدثین کے بیان کردہ قواعد و ضوابط کو سمجھنا ضروری ہے کہ ہر ضعیف حدیث علی الاطلاق کثرت طرق سے تقویت نہیں حاصل کرتی اور نہ ہی شہرت کی بنیاد پر اسے تقویت حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی مرسل صحابی سے، نہ ہی موقوفات سے اور نہ ہی فتاوی تابعین سے بلکہ یہ محدث کے علمی اجتھاد سے متعلق ہےکیونکہ اس میں علماء کا اختلاف موجود ہے گو کہ ہم علی الاطلاق اس کی نفی بھی نہیں کر سکتے۔

28۔ البتہ ایسی احادیث جن کا ضعف یسیر ہو تو ایسی احادیث شواھد و قرائن سے تقویت حاصل کر سکتی ہے بالخصوص جب وہ کسی صحیح کی ایسی مخالفت میں نہ ہو اورجمع بین النقیضین کی کیفیت بھی نہ ہو۔

29۔ ایسی روایات کو قطعا تقویت حاصل نہیں ہو سکتی جو شدید ضعف یا نکارت کی حامل ہوں اور اس امر پر تمام محدثین متفق ہیں۔

30۔کسی حدیث کو خواب یا مکاشفہ کی بنیاد پر تصحیح حاصل نہیں ہو سکتی جیسا کہ اصحاب تصوف کرتے ہیں، اور واضح رہے قرآن مجید کے بعد «اخبرنا» اور « حدثنا» جیسے ادا کی کیفیات ہی کافی ہیں اس میں مکاشفات کی قطعا کوئی گنجائش نہیں ہے۔

31۔ ایسی روایات جو امر واقع کی صریح مخالف ہوں ان کی تصحیح میں تکلف نہ کیا جائے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افصح العرب تھے۔

32۔ حتی الامکان میں نے کوشش کی کہ آئمہ متقدمین کی تصحیح پر اعتماد کروں الا یہ کہ بعض مقامات پر جہاں مجھے محسوس ہوا کہ یہاں تصحیح حدیث کا حکم درست نہیں تو میں نے اس حدیث کا حکم مکمل تخریج و تحقیق سے واضح کیا اور یہ اس لیے کہ آئمہ متقدمین میں سے بعض متساھل تھےاسی طرح اگر کسی حدیث کی تضعیف کا حکم مجھے درست معلوم نہیں ہوا تو میں نے وہاں بھی مکمل وضاحت کی۔

33۔ شیخ اعظمی رحمہ اللہ نے متقدمین اور متاخرین کے منھج پر تفصیل سے گفتگو کی کیونکہ فن حدیث کے طالب علم کے سامنے یہ ایک بڑا سوال ہوتا ہے کہ وہ کس کی تحقیق پر اعتماد کرے۔متقدمین ہر حدیث کو اس کی تمام اسناد کے حوالے سے دیکھتے تھے پھر اس کے شواھد یا قرائن سے قطع نظر اس کی تصحیح و تضعیف کرتے تھے جبکہ متاخرین تصحیح حدیث میں شواھد و قرائن پر اعتماد کرتے ہیں ۔ اور اس منھج کی ابتدا چوتھی صدی ہجری کے آخر میں ہوئی۔ شیخ اعظمی رحمہ اللہ نے دونوں کے منہج کو بیان کرنے کے بعد لکھا کہ ایسا راوی جو سیئ حفظ میں خفیف کیفیت کا حامل ہے تو ایسی کیفیت میں اس حدیث پر شاھد پر اعتماد کیا جا سکتا ہے لیکن اگر راوی شدید ضعف کا شکار ہو تو پھر شاھد یا قرینہ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

By editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *