قارئین کرام ! حج یا عمرے کی سعادت حاصل کرنے والے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ مواقیت کا تعارف اور ان کے احکام معلوم کرلے تاکہ وہ کسی بھی قسم کی غلطی سے محفوظ ہو اور اس کا احرام درست ہو۔ ایسے خوش نصیب حضرات کے لیے ذیل میں ہم مکانی مواقیت کا مختصر تعارف اور ان کے بعض بنیادی احکام بیان کر رہے ہیں۔
آئیں ملاحظہ فرمائیں۔
1۔میقات کیا ہے ؟
میقات سے مراد وہ حدود ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کے لیے مقرر کی ہیں جو حج یا عمرے کی نیت سے وہاں سے گذرے تو احرام پہن لے۔
2۔ مواقیت اور ان کا تعارف
1ذوالحلیفہ: یہ اہل مدینہ کی میقات ہے جو مدینہ منورہ سے تقریبا چھ یا سات میل کے فاصلے پر واقع ہے۔
یاقوت حموی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
ذو الحليفة: قرية بينها وبين المدينة ستة أميال أو سبعة، ومنها ميقات أهل المدينة.
ذوالحلیفہ ایک بستی ہے اس کے اور مدینے کے درمیان چھ یا سات میل کا فاصلہ ہے۔(معجم البلدان: 295/2)
یہ دیگر تمام مواقیت کے مقابلے میں مکہ مکرمہ سے زیادہ دور ہے۔ مکہ سے اس کا فاصلہ کم و بیش چار سو پچاس کلومیٹر ہے۔ اسے ابیار علی بھی کہا جاتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اسے ابیار علی اس لیے کہا جاتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہاں بعض آبار پر جنات سے قتال کیا تھا شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وهو كذب. فإن الجن لم يقاتلهم أحد من الصحابة وعلي أرفع قدرا من أن يثبت الجن لقتاله
یہ بات جھوٹ ہے۔ کسی بھی صحابی نے جنات سے قتال نہیں کیا علی رضی اللہ عنہ کی منزلت تو اس سے بہت اعلی ہے کہ جنات ان سے قتال کر سکیں۔(مجموع الفتاوی: 100/26)
2جحفہ: یہ شام ، مصر اور مغرب سے آنے والوں کے لئیے میقات ہے۔ یہ رابغ شہر کے قریب وادی رابغ میں واقع ہے اور مکہ مکرمہ سے اس کا فاصلہ تقریبا 183 کلو میٹر ہے۔
جحفہ میں بخار کی منتقلی
سیدہ عائشہ رضی اللہ فرماتی ہیں:جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو سیدنا ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما کو بخار چڑھ آیا میں نے آپ ﷺکو اطلاع دی تو آپ نے فرمایا:
اللهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ.
اے اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی ایسی محبت ڈال دے جیسی ہمارے دلوں میں مکے کی محبت تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ، اور یہاں کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا۔ اور ہمارے لیے یہاں کے صاع اور مد میں برکت عطا فرما اور یہاں کے بخار کو مقام جحفہ میں بھیج دے۔(صحیح بخاری:3926)
اس کے بعد اللہ رب العالمین نے بخار کو جحفہ منتقل کردیا اور اس علاقے میں بخار اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ اگر کوئی پرندہ بھی وہاں سے گذرتا تو بخار میں مبتلا ہو جاتا۔
اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ جحفہ میں تو رسول اللہ نے بخار کے منتقلی کی بد دعا دی یے تو اسے میقات کیسے بنایا جائے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ: اس وقت جحفہ یہودیوں کی بستی تھی ابن جماعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وكانت الجحفة يومئذ دار اليهود ولم يكن بها مسلم.
جحفہ اس وقت یہودیوں کی بستی تھی وہاں کوئی مسلمان رہائش پذیر نہیں تھا۔(هداية السالك: 574)
لیکن حجاز سے ان کے زوال کے بعد یہ بخار کی وبا وہاں سے ختم ہو گئی یا اسے سے قبل ہی ختم ہو گئی جب آپ ﷺنے اسے میقات مقرر کیا تھا۔ اور آپ ﷺمسلمانوں کو ایسا حکم نہیں دے سکتے جہاں ان کے لیے کوئی تکلیف دہ چیز ہو۔(مفید الانام للشیخ عبداللہ بن عبدالرحمان الاشیقري السلفي: 159)
3قرن المنازل:طائف شہر کے شمال میں تقریبا 55 کلو میٹر اور مکہ سے تقریبا 94 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مقام ہے۔ اس کا موجودہ نام سیل الکبیر ہے۔ یہ نجد اور طائف سے آنے والوں کے لیے میقات ہے۔
4ذات عرق: یہ اہل عراق کی میقات ہے۔ جو مکہ مکرمہ کے شمال مشرق میں 94 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مقام ہے۔
5یلملم: یہ یمن سے آنے والوں کے لئیے میقات ہے۔ یہ مکہ کے جنوب میں ایک پہاڑ یے جو مکہ سے 54 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ برصغیر والوں کے لیے یہی میقات ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ هُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ.
نبی کریم ﷺ نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لیے حجفہ، نجد والوں کے قرن المنازل، یمن والوں کے یلملم بطور میقات مقرر کیا۔ یہاں سے ان مقامات والے بھی احرام باندھیں اور ان کے علاوہ وہ لوگ بھی جو ان راستوں سے آئیں جو حج یا عمرے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ لیکن جن کا قیام میقات اور مکہ کے درمیان ہے تو وہ احرام اسی جگہ سے باندھیں جہاں سے انہیں سفر شروع کرنا ہے۔ یہاں تک کہ مکہ کے لوگ مکہ ہی سے احرام باندھیں۔(صحیح بخاری: 1524)
3۔ اہل عراق کی میقات
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ.
رسول اللہ ﷺنے اہل عراق کی میقات ذات عرق مقرر کی ہے۔(سنن ابی داود: 1739)
امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:
أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّ إحْرَامَ الْعِرَاقِيِّ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ
اہل علم کا اجماع ہے کہ عراقی ذات عرق سے احرام باندھیں گے۔ (المغني: 245/3)
4۔ اہل قصیم کے لیے میقات کون سی ہے؟
شیخ صالح عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اہل قصیم کی میقات کون سی ہے؟ ایک شخص طیارے میں سوار ہوکر قصیم سے آیا اور اسے نیند آگئی اور وہ جدہ ایئرپورٹ پر اترا ہے تو اب وہ احرام کہاں سے باندھے؟ آپ حفظہ اللہ نے جواب دیا:
ميقات أهل القصيم إذا جاءوا من طريق الطائف هو السيل، وإذا جاءوا من طريق المدينة فهو ذو الحليفة المعروف بأبيار علي. والطائرة تمر بأبيار علي، فإذا نزل إلى جدة ولم يحرم وأراد أن يحرم فليرجع إلى أبيار علي ويحرم منها.
قصیم کا رہنے والا جب طائف کے راستے سے آئے تو اس کی میقات سیل (قرن المنازل) ہے اور اگر وہ مدینے کے راستے سے آتے ہیں تو اس کی میقات ذوالحلیفہ ہے اور طیارہ ابیار علی (ذوالحلیفہ) سے گذرتا یے اگر کوئی شخص جدہ اتر گیا اور اس نے احرام نہیں پہنا اور وہ احرام پہننا چاہتا ہے تو ابیار علی چلا جائے وہاں سے احرام پہن لے۔ (مجموع فتاوی ورسائل العثیمین: 312/21)
5۔ مواقیت کس سن کو مقرر کی گئی؟
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:
فِي أَيِّ سَنَةٍ وَقَّتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَوَاقِيتَ فَقَالَ عَامَ حَجَّ
کس سال کو میقات مقرر کی گئی؟ تو آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا: حجة الوداع کے سال۔(فتح الباري: 389/3)
6۔ مواقیت کے حدود کیا ہیں؟
شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ سے سوال کیا گیا: یہ کب طے ہو گا کہ بندہ میقات سے تجاوز کر گیا ہے؟ نیز تجاوز کرنے کی مسافت کتنی ہو گی؟ کیا اگر میں مسجد میقات سے 50 یا 80 میٹر کے قریب تجاوز کر جاؤں اور پھر وہاں جا کر عمرے کی نیت کروں تو کیا مجھے حدود میقات سے متجاوز سمجھا جائے گا یا نہیں؟ آپ حفظہ اللہ نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ سے ایسی کوئی بات منقول نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے ہر میقات کےلیے ان کا حدود اربعہ متعین کیا ہو کہ جو بھی ان حدود سے تجاوز کر گیا تو اس کیلیے وہاں سے واپس میقات لوٹنا ضروری ہوگا، بصورت دیگر اس پر دم واجب ہوگا۔ بلکہ آپ ﷺ نے ان مشہور و معروف جگہوں کے نام بتلا دئیے کہ ان جگہوں سے احرام باندھنا ہے۔
جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم میں ہے۔ شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
میقات کی جگہوں کے یہ نام ، ان جگہوں کے مکینوں اور آس پاس کے لوگوں کیلئے مشہور و معروف ہیں، البتہ اتنا ہے کہ یہاں رہنے والوں کو ان جگہوں کی حدود کے متعلق دوسروں سے زیادہ علم ہے، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان جگہوں کی حرم سے مسافت میل یا مرحلوں (اہل عرب کے ہاں مخصوص مسافت) کے ذریعے بیان نہیں فرمائی، نہ ہی آپ ﷺ نے ان میں سے کسی کا حدود اربعہ بیان کیا ، نہ ہی کوئی علامت وغیرہ بتلائی بلکہ صرف ان کا نام ذکر فرما دیا۔
جب یہ بات معلوم ہو گئی تو اس کے بعد اہل علم کے ہاں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ احادیث میں مذکور قرن المنازل جسے اضافت کے بغیر قرن بھی کہا جاتا ہے یہ اہل نجد اور طائف وغیرہ کی جانب سے آنے والے لوگوں کے لیے میقات ہے۔
اور حتمی طور پر حق بات یہ ہے کہ قرن المنازل پوری وادی کا نام ہے، اس میں وادی کا نچلا، بالائی اور درمیانی سارا علاقہ مراد ہے، اور اس سارے علاقے میں مذکورہ بستی اور اس کے آس پاس کا علاقہ بھی شامل ہے۔(فتاوى ورسائل الشيخ محمد بن إبراهيم :5/209)
اہل علم نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ جتنے بھی میقات ہیں سب کے سب بڑی بڑی وادیاں ہیں۔
شیخ عبد اللہ البسام رحمہ اللہ کہتے ہیں : احرام باندھنے کےلیے جتنے بھی میقات ہیں یہ سب بڑی بڑی وادیاں ہیں۔(تيسير العلام شرح عمدة الأحكام :ص/362)
احرام کی نیت کرنے والا شخص میقات کی حدود میں کہیں بھی نیت کر سکتا ہے، میقات کی اس جانب جا کر بھی نیت کر سکتا ہے جو طرف مکہ کے قریب ہے۔
ابن قاسم رحمہ اللہ الروض المربع (3/529) پر اپنے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ: اگر احرام میقات کی مکہ کے قریب ترین والی طرف سے باندھتا ہے تو جائز ہے کہ اس جگہ پر اس کا مخصوص نام صادق آتا ہے ، نیز اصل اعتبار میقات کی جگہ کا ہوگا۔
مندرجہ بالا تفصیلات کی بنا پر: اصل اعتبار مسجد کا نہیں ہے جو ان جگہوں میں بنائی گئی ہیں، بلکہ اعتبار اس جگہ کا ہے جہاں تک اس میقات کا نام صادق آتا ہے، اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ مسجد سے 50 میٹر کی مسافت طے کر جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، نہ ہی ایسے شخص کو یہ کہا جائے گا کہ وہ میقات عبور کر گیا ہے، کیونکہ وادی مسجد کے بعد بھی اس سے زیادہ دور تک پھیلی ہوئی ہے۔
لہذا اگر آپ نے عمرے کی نیت سے احرام باندھا اور مذکورہ مسافت کے لگ بھگ مسافت طے کرنے کے بعد عمرے میں داخل ہو گئے تو اس میں ان شاء اللہ کوئی حرج والی بات نہیں ہے، آپ کا عمرہ صحیح ہے اور ایسی کوئی بات محسوس نہیں ہوتی کہ آپ پر کچھ لازم ہو گا۔ (ویب سائٹ شیخ صالح منجد سوال نمبر: 240422)
7۔ میقات کے اندر رہنے والے
جو لوگ میقات اور حرم کے اندر رہنے والے ہوں وہ اپنے گھر سے احرام باندھیں گے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ کی طرف سے بیان کیے گئے مواقیت کے بعد مزید بیان کرتے ہیں:
فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ، حَتَّى إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا.
لیکن جو لوگ (میقات اور حرم) کے اندر رہنے والے ہیں وہ گھر ہی سے احرام باندھیں یہاں تک کہ مکہ والے مکہ سے احرام باندھیں۔(صحیح بخاری: 1526)
امام نووی رحمہ اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا صريح في أن من كان مسكنه بين مكة والميقات فميقاته مسكنه
یہ حدیث صریح (دلیل) ہے کہ مکہ اور میقات کے درمیان رہائش رکھنے والے شخص کی میقات (یعنی احرام باندھنے کی جگہ) اس کی رہائش گاہ ہے۔ (شرح النووي: 83/8)
امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَمَنْ كَانَ مَنْزِلُهُ دُونَ الْمِيقَاتِ، فَيُحْرِمُ مِنْ مَنْزِلِهِ
اور جس کا گھر میقات کے اندر ہو وہ اپنے گھر سے احرام باندھے۔ (شرح السنة: 41/7)
8 ۔مکہ مکرمہ میں موجود بیرونی لوگ
عمرہ سے سے فارغ ہوکر حج کے انتظار میں مکہ مکرمہ ٹھہرنے والے اور حج عمرہ کے ارادے کے بغیر یہاں داخل ہونے والے لوگ حج کے ارادے کی صورت میں مکہ سے ہی احرام باندھیں گے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَحْلَلْنَا أَنْ نُحْرِمَ إِذَا تَوَجَّهْنَا إِلَى مِنًى، قَالَ : فَأَهْلَلْنَا مِنَ الْأَبْطَحِ.
جب (عمرے سے فارغ ہوکر) ہم نے احرام کھولا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم منی کی طرف روانہ ہوتے وقت احرام باندھ لیں پس ہم نے ابطح (مکہ میں موجود ایک مقام) سے احرام باندھا۔(صحیح مسلم: 1214)
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فَمَنْ كَانَ فِي مَكَّةَ مِنْ أَهْلِهَا أَوْ وَارِدًا إِلَيْهَا وَأَرَادَ الْإِحْرَامَ بِالْحَجِّ فَمِيقَاتُهُ نَفْسُ مَكَّةَ وَلَا يَجُوزُ لَهُ تَرْكُ مَكَّةَ وَالْإِحْرَامُ بِالْحَجِّ مِنْ خَارِجِهَا سَوَاءٌ الْحَرَمُ وَالْحِلُّ هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ عِنْدَ أَصْحَابِنَا
پس جو شخص مکہ میں ہو، خواہ مکی ہو یا باہر سے آیا ہو اور حج کے احرام باندھنے کا قصد کرے، تو اس کی میقات مکہ ہی ہوگئی۔ اس کے لیے مکہ سے باہر جاکر حدود حرم کے اندر یا باہر سے احرام باندھنا جائز نہیں ہے۔ ہمارے علماء کے یہی صحیح بات ہے۔(شرح النووي: 84/8)
9۔ مکی لوگ عمرے کا احرام کہاں سے باندھیں
ایسے لوگ حدود حرم سے باہر نکل کر عمرے کا احرام باندھیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺنے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکو تنعیم سے عمرے کا احرام باندھ کر آنے کا حکم دیا تھا اس بارے میں امام نووی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
وَأَمَّا مِيْقَاتُ الْمَكِّيِّ لِلْعُمْرَةِ فَأَدْنَى الْحِلَّ لِحَدِيْثِ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَمَرَ هَا فِي الْعُمْرَةِ أَنْ تَخْرُجَ إِلَى التَّنْعِيمِ ، وَتَحْرُمُ بِالْعُمْرَةِ مِنْهُ ، وَالتَّنْعِيمُ فِي طَرَفِ الْحِل . وَاللهُ أَعْلَم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی بنا پر مکی کے عمرے کے لیے جائے احرام حدود حرم سے باہر کے قریب ترین جگہ ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے انہیں تنعیم جانے اور وہاں سے عمرے کا احرام باندھنے کا حکم دیا تھا اور تنعیم حدود حرم سے باہر ہے واللہ اعلم۔ (شرح النووي: 84/8) ماخوذ از : حج وعمرے کی آسانیاں از ڈاکٹر فضل الٰہی حفظہ اللہ۔
10۔ میقات سے پہلے احرام باندھنا
میقات سے پہلے احرام باندھا جا سکتا ہے امام ابن منذر رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
وأجمعوا على أن من أحرم قبل الميقات أنه محرم
اس بات پر اجماع ہے کہ جس نے میقات سے پہلے احرام باندھا وہ محرم ہے۔ (الاجماع: 51/1)
11۔ میقات سے قبل احرام باندھنے والے کا تلبیہ
علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اگر سوار ہونے سے پہلے یا میقات کے قریب ہونے سے قبل کوئی شخص احرام کی چادریں پہن لے تب بھی کوئی حرج نہیں لیکن جب تک میقات کے قریب یا بالمقابل نہ آجائے اس وقت تک لبیک نہ پکارے۔(أحکام الحج والعمرة والزيارة: 35)
12۔ جہاز پر احرام باندھنے کی صورتیں
علامہ عبدالستار حماد حفظہ اللہ فرماتے ہیں:بذریعہ ہوائی جہاز سفر کرنے والے کے احرام کی درج ذیل صورتیں ہیں:
1۔ گھر میں غسل کر کے، اپنے معمول کے کپڑے زیب تن کرے اور اگر چاہے تو وہ گھر ہی سے احرام پہن لے۔
2۔ گھر میں احرام نہ باندھا ہو تو ہوائی جہاز میں اس وقت احرام باندھ لے جب ہوائی جہاز کا عملہ اس کے متعلق اعلان کرتا ہے، وہ تقریباً بالمقابل پہنچنے سے پندرہ منٹ پہلے اعلان کرتا ہے۔ جب ہوائی جہاز میقات کے بالمقابل پہنچے اور عملہ اس امر کا اعلان کر دے تو حج یا عمرہ کی نیت کر کے تلبیہ کہنا شروع کر دے۔
3۔ کوئی شخص غفلت یا بھول کے اندیشے کے پیش نظر ازراہ احتیاط میقات پر آنے سے پہلے احرام باندھ لے اور اس کی نیت کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
بہرحال عمرہ کرنے والے کو خبردار رہنا چاہیے کہ جب بھی ہوائی جہاز کا عملہ اعلان کرے کہ ہم پندرہ منٹ بعد میقات کے بالمقابل پہنچ جائیں گے تو اسے بروقت حج یا عمرہ کی نیت کر کے تلبیہ شروع کر دینا چاہیے، بہتر ہے سوار ہوتے وقت ہی احرام کی نیت کرے اور تلبیہ کہنا شروع کر دے۔ (واللہ اعلم)(فتاوی اصحاب الحدیث: 3/224)
13۔ کیا احرام کی مخصوص رکعتیں ہیں؟
شیخ صالح ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ میقات کی مسجد میں سنتیں پڑھنے کا کیا حکم ہے اور کتنی رکعتیں پڑھنی چاہئیں؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا:
ليس هناك سنة تختص بمسجد الميقات ولا بالإحرام، فلم يرد عن النبي صلى الله عليه وعلى آله وسلم أنه كان إذا أراد أن يحرم صلى ركعتين، لكنه أهلّ بعد صلاة بمعنى أنه صلى الفريضة ثم أهل أي لبى، ولهذا كان القول الراجح ما قاله شيخ الإسلام ابن تيمية- رحمه الله- أنه ليس للإحرام صلاة تخصه
میقات کی مسجد اور احرام پہننے کے لیے کوئی مخصوص سنتیں نہیں ہیں آپ ﷺسے یہ ثابت نہیں کہ جب آپ احرام پہننا چاہتے تو دو رکعتیں پڑھتے، لیکن نماز کے بعد آپ کا تلبیہ پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے فرض نماز ادا کی اس کے بعد تلبیہ پکارا۔ لہذا شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا قول راجح ہے کہ احرام کے لیے کوئی مخصوص نماز نہیں ہے۔ (مجموع فتاوی ورسائل العثیمین: 13/22)
14۔ میقات گذرتے وقت حائضہ عورت کیا کرے؟
شیخ صالح ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ جب ایک عورت عمرے کی نیت سے میقات پہنچے اور وہ حیض کی حالت میں ہو تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا ایسی عورت جو میقات پہنچے اور حیض کی حالت میں ہو اور اسے ڈر ہو کہ وہ اپنے گھر والوں کے واپس ہونے تک پاکیزگی میں نہیں آ سکتی تو وہ احرام پہن لے اور شرط لگا لے اور کہے:
اَﻟﻠﻬﻢ إِنْ ﺣَﺒَﺴَﻨِﻲْ ﺣَﺎﺑِﺲٌ ﻓَﻤَﺤَﻠِّﻲْ ﺣَﻴْﺚُ ﺣَﺒَﺴَﺘْﻨِﻲْ.
اے اللہ اگر مجھے کسی روکنے والے نے روک لیا تو جہاں مجھے روکا گیا وہی مقام میرا حل ہوگا یعنی میں احرام سے نکل جاوں گی۔ اگر اس عورت نے یہ شرط لگالی اور اپنے اہل کے ساتھ واپس لوٹ گئی تو اس پر کوئی چیز نہیں لیکن اگر اس نے یہ شرط نہیں لگائی تو احرام کے حالت میں رہے گی اور ان کے ساتھ رہے گی یہاں تک کہ پاک ہو جائے اور پھر یہ عمرے کی قضا دے گی۔(مجموع فتاوی ورسائل العثیمین: 30/20)
15۔ میقات سے بغیر احرام کے گذرنا
علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا يجوز للمسلم إذا أراد الحج أو العمرة أن يتجاوز الميقات الذي يمر به إلا بإحرام، فإن تجاوزه بدون إحرام لزمه الرجوع إليه والإحرام منه، فإن ترك ذلك وأحرم من مكان دونه أو أقرب منه إلى مكة فعليه دم عند الكثير من أهل العلم يذبح في مكة ويوزع بين الفقراء؛ لكونه ترك واجبا وهو الإحرام من الميقات الشرعي
جب مسلمان حج يا عمرہ كرنا چاہتا ہو تو اس كے ليے بغير احرام ميقات تجاوز كرنا جائز نہيں، جس ميقات سے وہ گزر رہا ہے وہاں سے اگر اس نے احرام نہيں باندھا اور ميقات تجاوز كر گيا تو اس كے ليے واپس جا كر اسى ميقات سے احرام باندھنا لازم ہے۔اور اگر وہ ايسا نہيں كرتا اور تجاوز كرنے كے بعد وہيں سے ہى احرام باندھ ليتا ہے يا مكہ كے قريب جا كر احرام باندھتا ہے تو اكثر اہل علم كے ہاں اس پر دم ہے، وہ بكرا ذبح كر كے مكہ كے فقراء و مساكين ميں تقسيم كرےگا، كيونكہ اس نے واجب ترک كيا ہے اس ليے كہ ميقات سے احرام باندھ واجب ہے۔(مجموع فتاوى ابن باز: 9/17)
16۔ حج اور عمرے کے ادارے کے بغیر میقات سے گذرنا
جو شخص حج اور عمرے کے ارادے کے بغیر میقات سے گذرے اس پر احرام باندھنا واجب نہیں۔
رسول اللہ ﷺغزوہ بدر فتح مکہ وغیرہ کے لیے جہادی سفر پر نکلے آپ ذوالحلیفہ سے گذرے لیکن احرام نہیں باندھا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ.
رسول اللہ ﷺفتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر مبارک پر کالی پگڑی تھی آپ احرام سے نہیں تھے۔ (صحیح مسلم: 1358 سنن نسائی: 2869)
علامہ ابن باز رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
أما إن كان قدم لغرض آخر لم يرد حجا ولا عمرة إنما جاء لمكة للبيع أو الشراء أو لزيارة بعض أقاربه وأصدقائه أو لغرض آخر ولم يرد حجا ولا عمرة فهذا ليس عليه إحرام على الصحيح وله أن يدخل بدون إحرام، هذا هو الراجح من قولي العلماء والأفضل أنه يحرم بالعمرة ليغتنم الفرصة.
رہا وہ شخص جو حج اور عمرے کے علاوہ کسی اور مقصد سے مکے آتا ہے مثلا: وہ خریدوفروخت کے لیے ہےیا اپنے بعض عزیز واقارب سے ملنے کے لیے یا کسی اور مقصد کے لیے آتا ہے تو اس پر میقات سے گذرتے وقت احرام باندھنا لازم نہیں یے صحیح بات یہ ہے کہ اس پر احرام نہیں ہے وہ بغیر احرام کے داخل ہو جائے یہی علماء کا راجح قول ہے۔ لیکن اگر وہ احرام باندھ لے تو یہ افضل ہے تاکہ وہ موقعہ سے فائدہ حاصل کرلے۔ (مجموع فتاوی ابن باز: 10/17)
17۔ اگر راستے پر کوئی میقات نہ ہو
اگر کوئی شخص کسی ایسے راستے سے گذرتا ہے کہ اسی راستے پر کوئی میقات نہیں پڑتی تو وہ وہاں سے احرام باندھے جہاں سے اس کے غالب گمان کے مطابق کوئی میقات قریب پڑتی ہو۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ دو شہر (بصرہ اور کوفہ) فتح ہوئے تو لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ا ے امیرالمؤمنين! رسول اللہ ﷺ نے نجد کے لوگوں کے لیے احرام باندھنے کی جگہ قرن المنازل مقرر كی ہے اور ہمارا راستہ ادھر سے نہیں ہے، اگر ہم قرن کی طرف جائیں تو ہمارے لیے بڑی دشواری ہوگی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
فَانْظُرُوا حَذْوَهَا مِنْ طَرِيقِكُمْ، فَحَدَّ لَهُمْ ذَاتَ عِرْقٍ. (بخاری: 1531)
تم دیکھو کہ اس کے بالمقابل تمہارے راستہ میں کون سا مقام ہے، چنانچہ آپ نے ان کے لیے ذات عرق کو میقات مقرر کیا۔
18۔ بیرون سے آنے والوں کے لیے جدہ میقات نہیں۔
علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أما جدة فليست ميقاتا للوافدين وإنما هي ميقات لأهلها ولمن وفدوا إليها غير مريدين الحج ولا العمرة ثم أنشئوا الحج والعمرة منها.
باہر سے آنے والے وفود کے لیے جدہ میقات نہیں ہے یہ ان کے لیے ہے جو یہاں کے رہنے والے ہیں۔ ہاں اگر وہ اس حال میں جدہ آئیں کہ ان کا حج یا عمرہ کا ارادہ نہ ہو اور بعد میں حج یا عمرہ کا ارادہ ہو جائے تو ایسی صورت میں جدہ ان کے لیے میقات ہوگی۔(مجموع فتاوى ابن باز: 125/16)
19۔ جدہ میں ملازم مقیم کہاں سے احرام باندھے
علامہ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:ایک شخص ذو الحج سے دو ماہ قبل حج کی نیت کرتا ہے پھر وہ ایک ماہ سے جدہ میں ملازمت کرتا ہے یہاں تک کہ حج کے لیے احرام باندھنے کا وقت ہو جاتا ہے اور وہ جدہ میں موجود ہے اب ایسا شخص سعدیہ سے احرام باندھے گا یا جدہ سے ہی احرام باندھے گا؟آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا: اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص ملازمت کے سلسلے میں جدہ آیا ہے تو وہ جدہ سے ہی احرام باندھے گا رسول اللہ ﷺ نے جو مواقیت کی حد بندی فرمائی ہے اس میں ہے:
وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ .
اور جن کا قیام ان میقات کے علاوہ ہو (یعنی میقات اور مکہ کے درمیان ہو) وہ جہاں سے آغاز کریں (وہیں سے احرام باندھیں)۔(صحیح مسلم: 1524)
20۔ جدہ اتر کر مدینے جانے والا شخص
علامہ صالح ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:ایک شخص جدہ سے آیا پہلے وہ مسجد نبوی کی زیارت کے لیے مدینہ منورہ چلا گیا پھر اس نے اہل مدینہ کی میقات سے احرام باندھا کیا یہ عمل درست ہے؟آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا:
فأجاب: لا بأس ، يعني: لو أن الإنسان جاء من بلده قاصداً المدينة أولاً ، ونزل في جدة ثم سافر من جدة إلى المدينة ثم رجع من المدينة محرماً من ميقات أهل المدينة ، فلا بأس.
کوئی حرج نہیں! اگر کوئی شخص اپنے ملک سے پہلے مدینہ کی زیارت کی نیت سے آتا ہے اور وہ جدہ اتر کر مدینہ منورہ چلا جاتا ہے پھر اہل مدینہ کی میقات سے احرام باندھ کر آتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (لقاء الباب المفتوح: 30/121)
21۔ میقات سے گذرنے کے بعد واپس میقات جانا
شیخ صالح ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص طیارے میں مشغول ہو گیا یا احرام باندھنا بھول گیا یہاں تک کہ میقات سے گذر گیا اب وہ کار میں واپسی جا کر میقات سے احرام باندھتا ہے تو کیا ایسے کرنا درست ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا: جی جائز ہے! اصول یہ ہے کہ جو شخص حج یا عمرے کی نیت سے میقات سے گذرے اور وہ احرام نہ باندھے اور بعد میں کہیں سے احرام باندھے تو اس پر دم ہے۔
وإذا رجع إلى الميقات وأحرم منه فلا شيء عليه
لیکن جب وہ واپس جاکر میقات سے احرام باندھتا ہے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں۔(مجموع فتاوی ورسائل العثیمین: 302/21)
22۔ میقات سے گذرنے کے وقت بیمار ہونا
شیخ صالح ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک خاتون جب میقات سے گذر رہی تھی تو بیمار تھیں اس نے احرام نہیں باندھا اور کہا اگر میں صحتیاب ہوئی تو عمرہ کروں گی اور وہ مکہ میں صحتیاب ہو گئیں۔ اب وہ کہاں سے احرام باندھے گی؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا:
اس خاتون پر کوئی کفارہ نہیں کیونکہ جب وہ میقات پر پہنچی تو اپنے آپ کو بیمار پایا اور عمرے کی طاقت نہیں پائی اور اس کے بعد اس نے اپنے آپ کو صحتمند پایا اور عمرہ کرنا چاہا تو ہم یہ کہیں گے کہ:
أحرمي من حيث كنت إلا إذا كنت في الحرم فاخرجي إلى التنعيم أو غيره من الحل فأحرمي منه
تو جہاں چاہے وہیں سے احرام پہن لے تنعیم چلی جا یا کہیں بھی حل میں چلی جا اور وہیں سے احرام پہن لے۔(مجموع فتاوی ورسائل العثیمین: 305/21)
