اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اصلاسیدنا آدم علیہ السلام سے ان کی ہونے والی تمام اولاد کو نکالا اور اس کو اپنے سامنے پھیلایا اورفرمایا:

اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوْا بَلٰى شَهِدْنَا (الأعراف:172)

’’کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ نہایت مہربان ہے جس نے مخلوق کی راہنمائی کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام مبعوث فرمائے تاکہ لوگ عالم ارواح میں کیے ہوئے وعدہ کو بھول نہ جائیں بلکہ ثابت قدم رہیں۔ قرآن حکیم نے انبیاء کرام کی دعوت کا مقصد بیان فرمایا:

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ (النحل:36)

’’ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔‘‘

دوسرے مقام پر فرمایا:

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ(الأنبیاء:25)

’’ آپ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔‘‘

یہی دعوت پہلے انبیاء کرام کی تھی اور اسی سے نبی کریم ﷺ نے اپنی دعوت کا آغاز فرمایا۔ تو قوم نے آپ ﷺ کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا۔

نبی اکرم ﷺ کا بچپن جوانی وادی مکہ میں گزاری۔ آپ ﷺ نے غم اور خوشی کے مواقع میں شرکت کی اور ان خرافات سے دامن کش رہے جن میں اہل مکہ مبتلا تھے۔ بچپن میں بکریاں چرائیں اور جوان ہوکر آپ ﷺ نے تجارت کا پیشہ اختیار کیا۔ معاشی لین دین کے معاملہ میں صاف ستھرے تھے۔ معاشرہ میں آپ کا اس قدر ادب واحترام تھا کہ آپ ﷺ جہاں سے گزرتے لوگ صادق وامین کے نام سے پکارتے وہ آپ کو باہمی تنازعات میں اپنا ثالث تسلیم کرتےرہے۔

مشرکین مکہ نے بیت اللہ کو نئے سرے سے تعمیر کیا جب حجر اسود کو نصب کرنے کا موقع آیا تو ہر قبیلہ کی خواہش تھی کہ سعادت اس کو حاصل ہو۔ تلواریں نیام سے باہر آگئیں ان سنگین حالات میں رحمت عالم ﷺ نے حکمت عملی سے ثالثی فیصلہ صادر فرمایا جنگ وجدل کا خطرہ ٹل گیا۔ سب نے آپ ﷺ کی فہم وفراست اورحکمت ودانش پر اطمینان کا اظہارفرمایا۔

اعلان حق

خاتم النبیین ﷺ کی عمر چالیس سال ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ پر وحی کا نزول شروع ہوا۔ آپ ﷺ نے پہلے تین سال انفرادی دعوت پر توجہ دی پھر خاندان برادری کے لوگوں کو کوہ صفا پر بلایا یہاں تک کہ سب اکٹھے ہوگئے اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر میں یہ خبر دوں کہ دوسری طرف سے شہسواروں کی ایک جماعت جو تم پر حملہ کرنا چاہتی ہے تو پوچھا کیا تم یقین کر لو گے۔ سب نے کہا: ہاں ہم نے تجھ سے سچ کے سوا کچھ نہیں سنا۔ جب آپ ﷺ نے فرمایا: لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لو تو دنیا وآخرت میں کامیاب ہوجاؤ گے تو اہل مکہ آپ ﷺ کے مخالف ہوگئے لیکن آپ ﷺ نے دعوت جاری رکھی۔

داعی الی اللہ ﷺ مکہ کے چوراہوں میں، میلہ منڈیوں میں تشریف لے گئے اور مختلف قبائل کے پاس جاکر دعوت دی تو اس کے رد عمل میں مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کو شاعر، دیوانہ وجادوگر کہا۔ اس دعوت کی خاطر آپ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام نے مکہ میں بے انتہا مظالم برداشت کیے۔ مشرکین نے آپ ﷺ کو زن زر اور زمین کی پیشکش کی مگر ایک شرط کے ساتھ کہ دعوت دینے سے باز آجاؤ تو اس کے جواب میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’اگر تم میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دو تو پھر بھی اس دعوت کی نشرواشاعت سے باز نہ آؤں گا۔‘‘

مشرکین کے مطالبہ پر اللہ تعالیٰ کے حکم اور نبی کریم ﷺ کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ ہاتھ کی کنکریوں نے شہادت دی مگر وہ ماننے کو تیار نہ ہوئے۔ نبی کریم ﷺ مکہ سے چل کر دعوت دینے کے لیے طائف تشریف لے گئے انھوں نے آپ ﷺ کے ساتھ انتہائی بدترین سلوک کا مظاہرہ کیا آپ ﷺ نے بددعا نہیں کی بلکہ ان کے لیے ہدایت کی دعا کی۔ قریش مکہ نے وحدت الادیان کی پیشکش کی آپ ﷺ نے انکار کر دیا۔ بالآخر وہ آپ ﷺ کے قتل کے درپے ہوئے تو آپ ﷺ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی راہ اختیار کی اس کے باوجود مشرکین مکہ کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا بلکہ وہ مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوتے رہے اس بنیاد پر بدر ، احد اور خندق کے معرکے پیش آئے اور خونی رشتہ دار ایک دوسرے کے مقابلہ پر آگئے ۔

قابل غور نکات:

کیا ان میں اختلاف کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی ذات تھی؟ ہرگز نہیں بلکہ مشرکین اللہ کو مانتے تھے۔ ابو جہل نے بدر کے معرکہ میں اللہ سے فیصلہ کی دعا کی۔ اے اللہ! ہم میں سے جو فریق تیرے نزدیک زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے آج اس کی مدد فرما۔اس غزوہ بدر میں اسود بن عبد الاسد مخزومی یہ کہتے ہوئے میدان میں نکلا کہ میں اللہ سے عہد کرتاہوں کہ اس کے حوض کا پانی پی کر رہوں گا۔ادھر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ برآمد ہوئے تلوار سے حملہ کیا اور وہ حوض کے اندر ڈھیر ہوگیا۔

کیا مشرکین مکہ اللہ کی صفات کے منکر تھے؟ قرآن شہادت دیتاہے:

قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ يُّخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ يُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَ مَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَيَقُوْلُوْنَ۠ اللّٰهُ (یونس:31)

’’آپ کہیے کہ وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتاہے یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتاہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتاہے اور وہ کون ہے جو کاموں کی تدبیر کرتاہے؟ ضرور وہ یہی کہیں گے کہ ’’اللہ‘‘۔

مذکورہ آیت اس امر کی دلالت کرتی ہے کہ مشرکین اللہ کو رازق، خالق، مالک، محیی وممیت مانتے ہیں۔

دوسرے مقام پر قرآن وضاحت فرماتاہے کہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کو مختار مالک مانتے تھے۔

قُلْ مَنْۢ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّ هُوَ يُجِيْرُ وَ لَا يُجَارُ عَلَيْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ (المؤمنون:88۔89)

’’پوچھئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناہ دیتاہے اور جس کے مقابلہ میں کوئی پناہ نہیں دیاجاتا اگر تم جانتے ہو تو بتلا دو یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔‘‘

مشرکین اللہ تعالیٰ کو کائنات کا صاحب اختیار اور مخلوق کا دستگیر مانتے تھےجب مشرکین اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے قائل تھے وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام وسیدنا اسماعیل علیہ السلام کی نبوت کے قائل تھے۔ اہل مکہ بیت اللہ کا اس حد تک احترام کرتے تھے کہ انہوں نے اس کی تعمیر کے لیے خالص حلال کی کمائی خرچ کی بلکہ مشرکین بعض اوقات خالص اللہ تعالیٰ کو پکارتے تھے۔ اور انتہائی مصیبت کے عالم میں خالص اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے۔

فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ

’’پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لیے عبادت خالص کر لیتے ہیں۔‘‘(العنكبوت:65)

اس کے باوجود قرآن حکیم نے اُن کو اس لیے مشرک قرار دیا :

فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ يُشْرِكُوْنَ (العنكبوت:65)

’’ پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچالاتا ہے تو اسی وقت وہ شرک کرنے لگتے ہیں۔‘‘

مشرکین مکہ کی کشتی سمندر میں پھنس جاتی تو وہ موت وحیات کی کشمکش میں خالص اللہ تعالیٰ کو پکارتے لیکن جب اللہ کشتی کو سلامتی سے خشکی پر پہنچا دیتاہے تو اس وقت اپنے خود ساختہ معبودوں کو رب کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ مشرکین مکہ حج عمرہ کا احترام باندھتے تو اس طرح لبیک پکارتے تھے۔

جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ

لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلُكُهُ وَمَا مَلَكَ

’’میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ تیرا شریک ہے جس کا تو مالک ہے اور جس کا وہ مالک ہے اس کا بھی تو ہی مالک ہے۔‘‘(المعجم الأوسط، حديث: 12348)

یعنی تیری صفات میں صرف وہ شریک ہے جن کو تو نے مقرر کیا ہے اور پیارا بنایا اور جسے تو نے خود کچھ اختیارات حوالے کیے ہیں۔

قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ تُفْلِحُوا (مسند أحمد:16023)

جبکہ داعی الی اللہ نبی کریم ﷺ نے مشرکین مکہ کو دعوت دی۔

’’لا إلہ إلا اللہ کا اقرار کر لو تو کامیابی وکامرانی تمہارے قدم چومے گی۔‘‘

مشرکین مکہ دعوتی پیغام سن کر اس لیے آگ بگولہ ہوگئے کیونکہ وہ بخوبی سمجھ گئے کہ اللہ پر’’لا‘‘ کی تلوار لیے داخل ہے اور ’’إلا‘‘ کے ساتھ صرف اللہ کا استثناء ہے یعنی وہ تین سو ساٹھ معبود جو بیت اللہ میں سجائے ہوئے ہیں ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہے وہ قولی ومالی وبدنی عبادت کے لائق نہیں اس بنا پر وہ آپ ﷺ کے مخالف ہوگئے۔

لا إلہ إلا اللہ کا مفہوم ہے کہ ناگہانی آفت ومصیبت سے ڈر کر یا کسی کی محبت وعقیدت میں ڈوب کر یا ضرر ونقصان سے بچنے اورفتح ونصرت ومال نفع کے حصول کے لیے کائنات میں خشوع وخضوع کے لائق کوئی نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے۔داعی الی اللہ ﷺ نے ہر مقام پر لوگوں کو دعوت دی کہ اللہ تعالیٰ کو خالص پکارو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔

هُوَ الْحَيُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ(المؤمن:65)

’’وہ زندہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم خالص اس کی عبادت کرتے رہو اسے پکارو تمام خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں جو جہانوں کا رب ہے۔‘‘
دوسرے مقام پر فرمایا:

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ

’’تم اللہ کو پکارتے رہو اس کے لیے دین کو خالص کرکے گو کافر بُرا مانیں۔‘‘(المؤمن:14)

یعنی جب سب کچھ اللہ ہی اکیلا کرنے والا ہے تو منکرین کو چاہے کتناہی ناگوار گزرے صرف اسی ایک اللہ کو پکارو، اس کے لیے عبادت واطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ (احسن البیان)

غم ہو یا خوشی، صحت ہو یا بیماری میں، مسجد میں ہو یا بازار میں، تخت پر ہو یا تختہ دار پر، سمندر کی گہرائی میں یا آسمان کی بلندیوں پر، ہر حال میں خالص اللہ ہی کو پکارو یہ نہیں کہ زندگی اورموت کی کشمکش میں اللہ تعالیٰ کو پکارو اور جب عافیت حاصل ہوجائے تو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو شریک ٹھہراؤ۔ قرآن نے مثال دے کر خالص پکار کی وضاحت فرمائی ہے۔

وَ اِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ

’’اور تمہارے لیے چوپایوں میںبھی (مقام عبرت وغور) ہے کہ ان کے پیٹوں میں جو گوبر اور لہو ہے اس سے ہم تم کو خالص دودھ (لبنا خالصا) پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے۔‘‘(النحل:66)

نبی اکریم ﷺ نے قوم کو دعوت فکر دی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے خون اورگوبر کی بدبو سے پاک تم کو خالص دودھ دیا اسی طرح اللہ تعالیٰ کو خالص پکارو اور جس طرح خالص دودھ میں گوبر اور خون کی ملاوٹ نہیں اسی طرح رنج وراحت،غمی وخوشی کی پکار میں شرک کی ملاوٹ نہ کر۔

قابل غور پہلو:

جب مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کو خالق،رازق اورمدبرکائنات مانتے تھے، پھر وہ دوسروں کی عبادت وپکار کیوں کرتے تھے؟قرآن نے اُن کا جواب نقل کیا ہے۔

وَ يَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ (یونس:18)

’’ اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔‘‘

قرآن نے دوسرے مقام پر اُن کا جواب نقل کیا ہے :

اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى(الزمر:3)

’’دیکھو خالص عبادت اللہ ہی کے لیے(زیبا ہے) اور جن لوگوں نے اس کے اور دوست بنائے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کو اس لیے پوجتے ہیں کہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں۔‘‘

ان کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ ہمیں خود نہیں دے سکتے بلکہ دلواسکتے ہیں وہ خود ہماری مشکل تو حل نہیں کر سکتے بلکہ سفارش سے کراسکتے ہیں کیونکہ اللہ نے اُن کو اختیار دیا ہے۔ اللہ نے اُن کے نظریات کا رد فرمادیا۔

وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَ لَا يَنْفَعُهُمْ وَ يَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّـُٔوْنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِي الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ (یونس:18)

’’ اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں آپ کہہ دیجئے کہ تم اللہ کو2727 ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں وہ پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے۔‘‘

’’یعنی اللہ کو تو اس بات کا علم نہیں کہ اس کا کوئی شریک بھی ہے یا اس کی بارگاہ میں سفارشی بھی ہونگے؟گویا یہ مشرکین اللہ کو خبر دیتے ہیں کہ تجھے خبر نہیں ۔ لیکن ہم تجھے بتلاتے ہیں کہ تیرے شریک بھی ہیں اور سفارشی بھی ہیں جو اپنے عقیدت مندوں کی سفارش کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین کی باتیں بےاصل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک اور برتر ہے۔‘‘(احسن البیان)

مشرکین کا گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے دور ہے اس تک پہنچنے کے لیے واسطہ کی ضرورت پڑتی ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اعلان فرمایا:

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ (ق:16)

’’ ہم نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔‘‘

یعنی علم کے لحاظ سے ہم انسان کے بالکل بلکہ اتنے قریب ہیں کہ اس کے نفس کی باتوں کو بھی جانتے ہیں۔(احسن البیان)

(جاری ہے )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *