{مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ وَالَّذِینَ مَعَہُ أَشِدَّاء ُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء ُ بَیْنَہُمْ}(الفتح:۲۹)

’’محمداللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کفار کے ساتھ سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔‘‘

تاریخ اسلامی میں زبانیں جس شخصیت کے نام کا بار بار تذکرہ کرتی ہیں جو اس قدر زہد کا پیکرہے کہ دنیا کی تمام نعمتیں میسر ہونے کے باوجود ان کو ترک کرتے ہوئے اس شعار کواپناتا ہے اور جب کبھی اس عدل وانصاف کا تذکرہ ہوتا ہے جس میں کسی غرض کا شائبہ تک نہ ہو تو وہ فاروق اعظم ہی کا نام مراد ہوتا ہے اور جب کبھی تفقہ فی الدین پر گفتگو ہوتی ہے تو اس میں بھی حضرت عمرکے نام کا ذکر ضرور ہوتا ہے ۔

آپ نہ صرف تاریخ اسلامی بلکہ پوری انسانی تاریخ کی چند عظیم شخصیات میں سے ایک ہیں جن کے نام سے اسلام کی رفعت وسربلندی کی ایمان افروز داستانیں جڑی ہوئی ہیں۔

آپ کی شجاعت وبہادری کے متعدد واقعات محتاج بیان نہیں، قبول اسلام کے بعد خانہ کعبہ میںاعلانیہ نماز ،ہجرت کے موقع پر کفار کو للکارنا اور پوری شان و شوکت سے ہجرت کرنا، غزوہ بدر میں اپنے حقیقی ماموں عاص بن ہشام کو اپنے ہاتھوںسے قتل کرنا اور بڑے بڑے کافروں کی گردنیں تن سے جدا کر دینا آپکی جرأت و بہادری کے بیّن مظاہر ہیں۔اسکے ساتھ ساتھ تواضع کا یہ عالم تھا کہ خود کو سب سے کم تر تصور کرتے ، کھانے میں کبھی خشک روٹی تناول فرماتے یا پھر اگردودھ ساتھ میسر ہوتا تو نوش فرما لیتے تھے۔

حضرت عمر کے یہی فضائل و کمالات تھے جو ان کے عہد میں اسلامی حکومت کے قیام کا سبب بنے ۔ حتیٰ کہ اسی دور حکومت میں اس زمانے کی دو بڑی ریاستیں روم اور فارس بھی مسلمانوں کے زیر اقتدار آچکی تھیں ۔اس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دس سال میں اسلامی سلطنت کی بنیادیں اتنی استوار کر دیں کہ اس نے دنیا میں اپنے قد م جما لئے اور اس کی تہذیب پوری دنیا کے سامنے ایک منفرد اسلامی تہذیب کے روپ میں منظر عام پر آئی ۔

رسول اللہ ﷺ نے ان کی عظمت وجلال کے بارے میں فرمایا: اے عمر مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ، جس راستے سے تم گزرو گے اس راستے سے شیطان نہیں گزرے گا بلکہ وہ دوسرے راستے سے جائے گا۔(صحیح بخاری ، مسلم )

ان کے بارے میں ایک اور حدیث میں اس طرح کے الفاظ زبان نبوت سے بیان فرمائے گئے ہیں۔

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔(ترمذی)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام:

ٓٓٓٓٓآپ کے اسلام قبول کرنے کے بارے میں بہت سی روایات ملتی ہیں لیکن ان میں سے سب سے مشہور روایت یہ بیان کی جاتی ہے ۔

دعوت محمدی نے قریش کے اندر جو افتراق پیدا کر دیا تھا حضرت عمر اس سے بہت زیادہ دلبرداشتہ ہوئے اور اپنی قوم کے لوگوں کو اس اختلاف سے بچانے کے بارے میں سوچنے لگے جس کا حل انہیں صرف اس بات میں نظر آیا کہ نعوذ باللہ محمد ﷺ کو قتل کردیا جائے جس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی غرض سے ایک دن گھرسے نکل کھڑے ہوئے، یہ انہیں معلوم ہو ہی گیا تھا کہ آپ ﷺ اس وقت اپنے صحابہ کے ساتھ دارارقم میں موجود ہوں گے ،ابھی راستے میں ہی تھے کہ نعیم بن عبداللہ مل گئے انہوں نے پوچھا : کدھر کا ارادہ ہے ؟ جواب دیا : محمد ﷺ کا قصہ تمام کرنے جارہا ہوں ۔ نعیم نے کہا : تم کیا سمجھتے ہو کہ اگر تم نے انکوقتل کر دیا تو بنی عبد مناف تمہیں زندہ چھوڑ دیں گے؟پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو،تمہارے بہنوئی اور بہن فاطمہ خدا کی قسم وہ دونوں مسلمان ہو چکے ہیں۔ یہ سنتے ہی حضرت عمر اپنے گھر کی طرف غصہ کی حالت میں بڑھ گئے ۔اس وقت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ ہاتھ میں قرآن کے اجزاء لیے دونوں کو سورۃ طہٰ پڑھا رہے تھے ۔حضرت عمر کی آواز سن کر خباب بن ارت چھپ گئے اور فاطمہ نے بھی قرآن کے اجزا ء چھپا لیے، انہوں نے گھر میں داخل ہوتے ہی پوچھا : یہ کیا ہورہا تھا ؟ انکی بہن نے جواب دیا : کچھ نہیں ، بولے : نہیں خدا کی قسم مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ تم لوگوںنے محمد ﷺ کا دین قبول کر لیا ہے۔ یہ کہہ کر اپنے بہنوئی سعید بن زید پر جھپٹے تو ان کی بہن اپنے شوہر کو بچانے کی خاطر آگے بڑھیں تو ان کو بھی مار پیٹ کر زخمی کر دیا ، تو اس وقت دونو ں نے اقرار کر لیا کہ ہم لوگ مسلمان ہو چکے ہیں تمہاراجو جی چاہے ہمیں وہی سزا دے دو ، حضرت عمر نے جب اپنی بہن کے جسم سے خون نکلتے دیکھا تو اپنی زیادتی پر نادم ہو گئے اور بولے: لاؤ مجھے بھی تو دکھاؤ کیا پڑھ رہے تھے، دیکھوں تو سہی کہ محمد ﷺ کیا لائے ہیں؟ انکی بہن نے وہ اجزاء انکو دے دیے جن کو پڑھ کر بول اٹھے کتنا حسین اور بزرگ کلام ہے ۔ یہ سن کر خباب رضی اللہ عنہ سامنے آ گئے اور بولے: اے عمر مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے تمہیں اپنے نبی کی دعوت کیلئے منتخب کرلیا ہے کیونکہ میں نے کل ہی رسول اللہ ﷺ کی زبان اقدس سے یہ دعا سنی کہ اے اللہ ابوالحکم بن ہشام یا عمر بن خطاب کی قوت کو اسلام میں شامل حال کر، یہ بات سنتے ہی حضرت خباب سے کہنے لگے کہ میری رہنمائی کرو کہ میں اسلام لے آؤں۔ وہ آپ کو اپنے ساتھ لیکر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور ایمان کی دولت کو قبول کر لیا جس کے بعد اللہ کے نبیﷺ نے اللہ اکبر کہا اور تمام صحابہ کو علم ہو گیا کہ عمر مسلمان ہو چکے ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے ’’عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام ہماری فتح ، ان کی ہجرت ہماری کامیابی اور انکی امارت ہمارے لیے اللہ کی رحمت تھی، جب تک عمراسلام نہیں لیکر آئے تھے ہم کعبہ میں نماز ادا نہ کر سکتے تھے لیکن جب وہ اسلام لیکر آئے تو قریش کے ساتھ لڑ ائی کر کے انہیں مجبور کیا کہ وہ مسلمانوں کو کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں‘‘۔ یہ حقیقت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس وقت تک چین سے نہ بیٹھے جس وقت تک کہ انہوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کیلئے کعبے کے اندر نماز پڑھنے کے وہ تمام حقوق حاصل نہ کرلیے جو اللہ کے دشمنوں کو اللہ کے گھر پر حاصل تھے۔جس سے دعوت محمدی تمام قریش میں پھیل گئی اورانکی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کر لیا ۔

اعزاز شہادت

انسان چاہے جتنا ہی نیک اور پاکبازہی کیوں نہ ہو ، یا بے شک وہ کسی ملک کا حاکم ہی کیوں نہ ہووہ دنیا کے لوگوں پر تو حکومت کرسکتاہے لیکن اس کی اپنی جان اس کے ہاتھ میں نہیں ہوتی کیونکہ جب اجل کا وقت آتا ہے تووہ اس میں تقدیم وتاخیر کا مجاز نہیں ہوتا ۔ اسی طرح اسلام اور اس کے ماننے والوں کے ہر جگہ اور ہر وقت میں بہت زیادہ دشمن سامنے آئے ہیں جو ان کی جان تک کو ختم کردینے پر تلے ہوتے ہیں اس کی ایک واضح مثال حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت ہے ۔

۲۶ ذی الحجہ ۲۳ھ کو آپ حسب معمول نماز فجر کیلئے مسجد میں تشریف لائے اور نماز شروع کی ۔ ابھی تکبیر تحریمہ ہی شروع کی تھی کہ ایک شخص ابو لؤلؤ فیروز مجوسی جو پہلے سے ہی زہر آلود خنجر لیے مسجد کے محراب میں چھپا ہوا تھا، اس نے خنجر کے تین وار یکے بعد دیگرے آپ کے پیٹ پر کیے جس سے آپ کوبہت گہرے زخم آئے اور آپ بے ہوش ہوکر زمین پر گِرگئے اس دوران قاتل کو پکڑنے کی کوشش میں مزید صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی زخمی ہوگئے اور قاتل نے پکڑے جانے کے خوف سے خود کشی کر لی ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زخم درست نہ ہوپائے اور آپ یکم محرم الحرام کو تقریباً دس سال اور چھ ماہ تک ۲۲ لاکھ مربع میل پر نظام خلافت راشدہ جاری کرنے کے بعد 63برس کی عمر میں جام شہادت نوش کیا۔ آپ کا جنازہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے پڑھایا اور آپ کو روضئہ نبوی ﷺ میں خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشادات رسول ﷺ

رسول اللہ ﷺنے فرمایا: عمر رضی اللہ عنہ کی زبان اور قلب پر اللہ تعالیٰ نے حق کو جاری کردیاہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں لوگوں کے قول کے مطابق حکم نازل نہیں ہوا مگر قرآن کریم اکثر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق نازل ہوا ہے۔(ترمذی )

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم سے پہلی امتوں میں صاحب الہام گزرے ہیں ، اگر میری امّت میں کوئی ہوسکتاہے تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (صحیح بخاری )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *