غیبت اور چغلی

کسی کی پیٹھ پیچھے ایسی برائی بیان کرنا جو اس میں موجود ضرور ہے لیکن اگر اس کے سامنے بیان کی جائے تو اسے ناگوار گزرے یہ غیبت ہے ۔ اگر اس میں وہ برائی موجود ہی نہیں ہے اور اس کا تذکرہ کیا جائے تو بہتان ہے۔اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے:

ایک دوسرے کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو ،کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کریگا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے تم اس سے ضرور نفرت کرو گے ۔ (الحجرات)

غیبت اور بہتان دونوں ہی اسلام میں سنگین گناہ ہیں کیونکہ یہ اجتماعی زندگی میں فساد برپا کرنے کا سبب بنتے ہیں ، ان سے لوگوں کے آپس کے تعلقات اور بھائی چارے کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

قرآن کریم اور سنت نبوی ﷺمیں غیبت پراتنی وعید کے باوجود بیشتر مرد اور عورتیں اس برائی کا استعمال بڑے مزے کے ساتھ کرتے ہیں ۔غیبت کرنا ہی نہیں بلکہ غیبت سننا بھی اسلام میں منع ہے ، کوئی آپ سے کسی دوسرے کی برائی کرے تو اسے ہمدردی اور مناسب اندازمیں منع کر نا چاہئے اور لوگوں کو سمجھانا چاہئے کہ یہ اچھا نہیں بلکہ بہت برا کام ہے۔

دعا مانگنے کے آداب

انسان کو جب بھی کوئی ضرورت درپیش ہو یا کسی پریشانی کا سامنا ہو یا وہ مشکلات میں گھرا ہو ا ہو یا اپنے کیے ہو ئے گناہوں پر نادم ہو جائے تو اس کیلئے شریعت اسلامیہ نے ایک نہایت آسان اور بہترین طریقہ بتایا ہے کہ ان تمام حالات میں صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے لیکن اللہ سے دعا مانگنے کیلئے کچھ آداب کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

۱-باوضو ہونا ۔     

۲-قبلہ رخ ہو کر دعا مانگنا۔

۳-پاک حالت میںدعا کرنا        

۴-دعاکرتے وقت ہاتھ اٹھے ہوئے اور کھلے ہوئے ہونے چاہیئں۔

۵-دعا کرتے وقت جسم وجاں اور زبان سے مسکینی ظاہر ہو۔

۶-دعا سے پہلے کوئی نیک کا م کرنا ۔ 

۷-خلوص دل سے دعا کرنا۔   

۸-کسی ناممکن بات کی طلب نہ کرنا ۔  

۹-دل کی گہرائی سے دعا کرنا۔

۱۰-کسی چیز کا بار بار سوال کرنا۔      

۱۱-قرآن وحدیث میں جو مذکورہ دعائیں ہیں ان کے ذریعے مانگنا۔    

۱۲-دعاشروع کرنے سے پہلے اللہ کی حمدو ثناء کرنا۔        

۱۳-حمدوثناء کے بعد درود شریف پڑھنا۔           

۱۴۔اپنی تمام حاجات صرف اللہ سے ہی مانگنا ۔              

۱۵۔اگر امام ہو تو صرف اپنے لئے نہیں بلکہ مقتدیوں کو بھی دعا میں شریک کرے۔        

۱۶-دعا ختم کرنے سے پہلے اللہ کی حمدو ثناء اور پھر درود پڑھے۔

۱۷- دعا کے اختتام پر آمین کہناچاہئے۔

قرآن کریم میں

۱-قرآن کریم میں مساجد میں سے مسجد الحرام ، مسجد اقصیٰ ، مسجد قبا اور مسجد ضرار کا نا م آیا ہے ۔

۲-قرآن کریم میں شہروں میں سے مکہ مکرمہ ،یثرب (مدینہ منورہ )اور بابل کا نام آیا ہے ۔

۳-قرآن کریم میں پہاڑوں میں سے کوہ طور ،کوہ جودی کوہ صفا اور کوہ مروہ کا نام آیا ہے ۔

۴-قرآن کریم میں دھاتوں میں سے سونا ،چاندی ،تانبا اور لوہے کا نام آیا ہے ۔

۵- قرآن کریم میں سبزیوں میں سے پیاز ، لہسن ،ککڑی ، اور ساگ کا نام آیا ہے ۔

۶-قرآن کریم میں درختوں میں سے کھجور ،زیتون ،اور بیری کا نام آیا ہے ۔

۷ – قرآن کریم میںپرندوں میں سے ہدہد ، ابابیل، کوا، تیتر، اور بٹیر کا نام آیا ہے ۔

صحبت کا اثر

۱-جو دولت مندوں کے پاس بیٹھتا ہے اس میں دنیا کی محبت وحرص بڑھ جاتی ہے ۔

۲-جو فقراء کے پاس بیٹھتا ہے اس میں اللہ کے شکر اور اس کی تقسیم پر رضامندی میں اضافہ ہو تاہے۔

۳-جو سلطان کے پاس بیٹھتا ہے اس میں تکبر اور فخر بڑھتا ہے ۔

۴-جو فاسق لوگوں کے پاس بیٹھتا ہے اس میں گناہوں کی دلیری اور توبہ میں سستی زیادہ ہوتی ہے ۔

۵-جو صلحا ء کے پاس بیٹھتا ہے اس میں اطاعت کی رغبت اور حرام سے نفرت بڑھا دی جاتی ہے۔

۶-جو علماء کے پاس بیٹھتا ہے اللہ تعالیٰ اس میں علم اور تقویٰ کا اضافہ فرما دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *