لغوی تحقیق

سن عربی زبان کا لفظ ہے جو کہ اصل میں ’’سَنَۃ‘‘ ہے اور’’سَنَۃ‘‘اس مدت کا نام ہے جوزمین سورج کے گرد اپنا ایک چکر مکمل کرتی ہے یوں سمجھئے کہ بارہ مہینے میں یا باون ہفتے یا تین سو پینسٹھ اور دن کا چوتھائی حصہ زمین کا ایک چکر سورج کے گرد کہلاتاہے۔

یادرہے کہ اس دور میں سَنَۃَ بہت سی صفات کے ساتھ استعمال کیا جاتاہے سمجھنے کے لئے چند کا ذکر ضروری ہے ۔

(۱) السنۃ العادیۃ : تین سو پینسٹھ (۳۶۵) دنوں کا دوسرا نام ہے۔

(۲) السنۃ الفلکیۃ : فلکی سال تین سو پینسٹھ (۳۶۵) دن پانچ گھنٹے اور انچاس (۴۹) منٹوں کا ہوتاہے۔

(۳) السنۃ النجومیۃ : نجومیہ سال سورج کے اپنے مدار سے ایک نقطہ پر سے گزرنے کانام ہے جوکہ تین سو پینسٹھ دن  (۳۶۵) چھ گھنٹے نو مِنٹ اور نو سیکنڈ کاہوتاہے۔

(۴) السنۃ الکسبیۃ : کسبیۃ سال جو چار کے ہندسوں پر تقسیم ہوجائے جیسے انیس سو چالیس (۱۹۴۰) انیس سو ساٹھ (۱۹۶۰) انیس سو اڑسٹھ (۱۹۶۸) وغیرہ

(۵) السنۃ الضوئیۃ : ضوئیہ سال اس مسافت کانام ہے جو روشنی ایک سال میں مکمل کرتی ہے۔

مشاہداتی تحقیق :

یادرہے کہ’’ سَنَۃ‘‘کا لفظ عربی زبان میں برس یا ایک سال کے معنی میں استعمال ہوتاہے جب کہ ہر انسان کو معلوم ہے کہ ایک دن میں چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں ایک ہفتہ میں سات دن ، اور ایک ماہ میں انتیس یا تیس دن ہوتے ہیں اور سال بارہ مہینوں کاہوتاہے۔ اور سو سال گزرنے پر ایک صدی کانام دیا جاتاہے لیکن یہ سوال ابھی تک اہل علم کے ہاں زیر غور ہے کہ ایام کی اس تقسیم کا عمل کس قوم نے کس زمانے میں انجام دیا ؟ البتہ اس معاملے میں سب لوگ متفق ہیں کہ مہینوں کا شمار چاند سے کیا گیا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ دنیا کی ہر زبان میں جو لفظ مہینہ کے لئے مستعمل ہے وہ اس زبان میں چاند کے لفظ سے مشتق ہے مثلاً : ماہ ، مہینہ ، ماس ، مون ، منتھ وغیرہ

اس مفروضے پر یقین کرنے کا سبب یہ ہے کہ آج بھی چاند کا عمل وہی ہے کہ ابتداء میں نصف دائرہ پھر آہستہ آہستہ بڑھنے لگتاہے اور جب روشنی سے دائرہ بھر جاتاہے تو پھر کم ہونا شروع ہوجاتاہے۔ حتی کہ غائب ہی ہوجاتاہے۔ جب انسان نے چاند کے اس عمل کو محسوس کیا تو اس نے حساب کتاب کے لئے اسی کو اہمیت دی اور جب انسان نے چاند کے عروج و زوال کو بارہ مرتبہ ہونے کے بعد تقریباً وہی موسم دوبارہ آجانا محسوس کیا ۔ جو گذشتہ سال تھا تو موسمی اثرات کے پیش نظر انسان کے ایک سال کو بارہ ماہ اور ایک ماہ کو تیس یا انتیس دنوں میں تقسیم کرلیا۔

’’ضرورت ایجاد کی ماں ہے ‘‘کے تحت ماہ وسال کی تقسیم کے بعد سالوں کو شمار کرنے کا مرحلہ آیا کس طرح شمار کیا جائے؟ اس کے کسی اہم واقعہ کو ابتداء قرار دے کر حساب کتاب شروع کیا جائے یا کسی جنگ کی ابتداء و انتہا کو بنا دیا جائے یا کسی حکمران کی تخت نشینی کو ابتداء قرار دیا جائے؟

اسی طرح لوگوں کو جب زرعی پیداوار کے بہتر بنانے کا احساس پیدا ہوا جس کے اصول وقواعد لازمی تھے۔ ان کی تکمیل کے لئے لوگوں میں شعور پیدا ہوا تو اعداد وشمار کی طرف لوگوں نے توجہ مبذول کی اور پایہ ِ تکمیل کو پہنچایا۔

اور پھر جب کہ زراعت کے اعتبار سے موسموں کی ضرورت تھی کیونکہ فصلیں موسموں کے حساب سے اُگتی ہیں تو چار موسم معرض وجود میں آئے ۔ موسم بہار، موسم خزاں ، موسم گرما ، موسم سرما۔ مزید الجھن یہ تھی کہ قمری تاریخوں کے اعتبار سے فصلیں تیار ہوتی تھیں۔ لیکن دوسال بعدقمری سال میں موسم تبدیل ہونا شروع ہوجاتاہے اس خرابی کو دور کرنے کیلئے (لوند) اور کسبیہ کا طریقہ رائج کیا جس سے شمسی سال کا حساب برابر کردیا گیا۔

وضاحت طلب بات یہ تھی کہ ابتداء تو قمری مہینوں کے ساتھ کچھ اضافہ کرنے کے بعد شمسی سال کے برابر کرلی۔ لیکن یہ نظام ناقص ہونے کی بناء پر اور کارآمد ثابت نہ ہونے کی وجہ سے علیحدہ علیحدہ کرنا پڑا۔ کیونکہ یہ دونوں نظام یکساں نہیں چل سکتے تھے تو پھر مذہبی امور کے لئے قمری حساب کو باقی رکھا گیا جیسے کہ عیسائیوں کا الیسر،  ہندؤں کی دیوانی اور یہودیوں کا صوم کبور آج بھی قمری حساب سے قائم ہے جب کہ دیگر کاروباری معاملات کے لئے شمسی سال رائج ہے۔

دنیا میں آج کل صرف دو قسم کے کیلنڈر رائج ہیں۔ قمری اور شمسی اور کرئہ ارضی پر اسی کے ذریعہ اعداد وشمار کا حساب کتاب جاری ہے ۔ جن کو آج کل کے دور میں شمسی یا قمری نظام سے یاد کیاجاتاہے۔

نظام شمسی

شمسی سال نظام شمسی کا ایک حصہ ہے آج کل کے جدید دور میں سب سے زیادہ شمسی کیلنڈر رائج ہے۔ شمسی سال کیاہے؟ ذرا ساغور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی حرکتیں دو قسم کی ہیں۔

(۱) اپنے محور پر زمین گھومتی ہے جس کی بدولت دن رات بنتے ہیں یعنی زمین کا ایک حصہ سورج کی روشنی کے سامنے آجاتاہے اور دوسرا حصہ سورج کی روشنی سے محروم ہوجاتاہے۔

(۲) زمین دوسری دفعہ سورج کے گرد گھومتی ہے جوکہ بیضوی طور پر ایک دائرہ ہے۔ جس کی بنا پر موسم تبدیل ہوتے ہیں۔ یادرہے کہ زمین بیضوی دائرے پر اپناایک چکر (۳۶۰) دن (۲۴) گھنٹے (۴۸) منٹوں میں مکمل کرتی ہے۔ اور اسی مدت کو شمسی سال کہا جاتاہے۔

شمسی سال میں مہینوں کی تقسیم

شمسی سال کی یہ مدت بارہ مساوی مہینوں پر قابل تقسیم ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے جس کی بناپر مہینوں کے دنوں میں گنتی کے اعتبار سے کمی بیشی واقع ہوئی ہے۔ اور شمسی سال کویوں تقسیم کردیا جاتاہے سات مہینے اکتیس دن کے اور چار مہینوں کے تیس دن اور فروری کا مہینہ صرف اٹھائیس دنوں کا رہنے دیا ہے لیکن اسی کمی کوپورا کرنے کے لئے لیپ کے سال میں ایک دن اضافہ کرتے ہوئے انتیس دن بنا لیتے ہیں تاکہ یہ مدت کسی نہ کسی طریقہ پر تقسیم ہوسکے۔

یادرہے کہ اس مدت کی دنوں کے اعتبار سے مہینوں میں تقسیم ناقص ہے۔ کیونکہ چار سوسال بعد موسم اور مہینہ میں فرق پڑجاتاہے اس لئے شمسی کیلنڈر میں باربار ترمیم کی جاتی رہی اور جہاں تک ہمارا خیال ہے کہ یہ ترمیم ہوتی رہے گی کیونکہ ۱۹۲۳ء؁ میں اقوام متحدہ نے جنیواکے ماہرین کی ایک خصوصی کمیٹی بنائی تھی۔ جوساری دنیا کیلئے ایک جدید شمسی کیلنڈر تیار کرنے پر مامور کی گئی تھی۔ کمیٹی کے ارکان نے کافی غور فکر کے بعد یہ رپورٹ پیش کی کہ اسی شمسی کیلنڈر کو تیرہ ماہ کا بنا دیا جائے تاکہ موسم اور تاریخ ہمیشہ یکساں رہیں لیکن ایسا کیلنڈر تیار کرنا ناممکن تھا۔ اور یہ بات بھی نا ممکن تھی کہ ساری دنیا کا ایک کیلنڈر اور تاریخ رہے اور کسی خاص مہینہ میں ایک ہی موسم رہے مثلاً خط استواء کے شمال میں ہمیشہ ۲۲ دسمبر کو سب سے چھوٹا سرد دن ہوتاہے۔ اور خطِ استواء کے جنوب میں ۲۲ دسمبر کو سب سے بڑا اور گرم دن ہوتاہے اسی طرح بین الاقوامی طور پر خطِ تاریخ سے مشرق مغرب میں ہمیشہ دن اور تاریخ کا فرق رہتاہے۔ یوں سمجھئے کہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔

نظام قمری

قمری سال نظام قمری کا ایک حصہ ہے چاند کے بارہ مرتبہ عروج وزوال کی گردش سے ایک قمری سال بنتاہے۔ اس میں کسی موسم کی پابندی نہیں رہتی۔ بعض دفعہ ابتدائے سال میں سخت سردی اور کبھی سال کا آغاز شدید گرمی سے ہوتاہے ۔ دراصل چاند زمین کے گرد جس زاویے سے چکر لگاتاہے وہ دائرہ بالکل گول نہیں ہے ۔ اسی لئے چاند کبھی زمین کے قریب آجاتاہے اور کبھی دور اور چاند کی رفتار ایک جیسی نہیں ہے کبھی چاند کی گردش تیز ہوتی ہے اور کبھی سست رفتار اسی وجہ سے زمین کے گرد چاند کا چکر کبھی تیس دن میں مکمل ہوتاہے اور کبھی انتیس دنوں میں پورا ہوجاتاہے۔ یادرہے چاند کے زمین کے گرد بارہ چکروں کی مجموعی مدت (۳۵۴) دن (۴۸) گھنٹے اور (۳۴) منٹ ہے اور اسی مدت کا دوسرا نام قمری سال ہے۔

قمری سال کی چینیوں نے اٹھائیس منزلیں بنائی ہیں۔ جنہیں چینی (سیو) ہندو (پخھتر) اورلاطینی زبان میں (یوں) کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔

چاند کی اٹھائیس منزلیں

٭ الشرطان              ٭البطین

٭الثریا                     ٭ الدبران

٭الہقعۃ                    ٭الہصنعۃ

٭الذراع    ٭التشرہ

٭الطرف ٭ الجبہ

٭الزبرۃ                    ٭الصرقۃ

٭العواء                    ٭السماک

٭الغفر                     ٭الذمانی

٭الاکلیل   ٭القلب

٭الشولۃ                    ٭التغالم

٭البلدۃ                      ٭سعد الذابح

٭سعد بلع ٭سعد السعرد

٭سعد الخبیۃ             ٭الفرغ الأول

٭الفرغ الثانی           ٭ بطن الحوت

علامہ اقبال مرحوم نے بھی ان دونوں شمسی ، قمری نظام کو ان لفظوں میں یاد کیا ہے۔

ایک حلقے پر اگر قائم تری رفتار ہے

میری گردش بھی مثال گردش پر کار ہے

اتنی طویل بحث کا مقصد صرف معلومات میں اضافہ کرنا ہی نہیں بلکہ آپ کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ اس دور حاضر میں بکرمی سن کے علاوہ زیادہ تر دو ہی سن رائج ہیں اور انہی کا کیلنڈر آج کل زیادہ مشہور ہے تو وہ عیسوی سنہ ہے یا اسلامی ہجری سنہ ہے ۔عیسوی سن شمسی سال کے ساتھ تعلق رکھتاہے۔ جب کہ ہجری کیلنڈر قمری سال کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔

عیسوی سن کی حقیقت

آج کل جس شمسی کیلنڈر کو عیسوی سنہ کہاجاتاہے حقیقت میں یہ گریگوری کیلنڈر ہے جو اصل میں پرانا رومی کیلنڈر ہے جس کو اکیئس نے تبدیل کیا۔ اور پھر جولین نے بھی تبدیل کیا۔ اس بنا پر اس کو جولین کیلنڈر بھی کہا جاتاتھا۔ ہمیشہ باربار تبدیلیوں کے بعد آخری مرتبہ ۱۵۸۲ء؁ میں پاپائے گریگوری کے حکم سے تبدیلی آئی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے طرف اس کو منسوب کرنے کی جو روایات بیان کی جاتی ہیں وہ غلط اور بے بنیاد ہیں ۔امریکی پیپل انسائیکلو پیڈیا نے مسیحی کیلنڈر بنانے کی روایات بیان کی ہے وہ بھی غلط ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جولین کے چھ سوسال بعد ایک عیسائی راہب ڈئنس ایگزیگوس نے اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب کردیا تھا ورنہ حقیقتاً اس کا تعلق اس سے کوئی نہیںہے۔اور یہ کتنے ظلم کی بات ہے کہ عیسائی لوگ عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بھی تصور کرتے ہیں اور پھر اس کی میلاد بھی مناتے ہوئے سنہ کا آغاز کررکھا ہے جب کہ خدا {لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَد} ہے اور بیٹے کی میلاد منائی جارہی ہے ان کے اعتقاد سے معلوم ہوتاہے کہ یہ روایت غلط اور بے بنیاد ہے۔

اسلامی سن سے قبل عربوں کے مقدس مہینے

عرب چار مہینوں کو مقدس اور حرمت کے مہینے سمجھ کر احترام کرتے تھے یہ مہینے رجب ، ذوالقعدہ ، ذی الحجہ اور محرم تھے۔ ان مہینوں کا تقدس صرف حج وعمرہ کی بناء پر قائم تھا لیکن قمری مہینوں میں موسم ایک جیسے نہیں رہتے۔ اسی وجہ سے جب اہل عرب نے یہ دیکھا کہ حج کبھی گرمی میں اور کبھی سردی میں آتاہے اور اس وقت فصلیں اور قربانی وغیرہ کے جانور تیار نہیں ہوتے جو کہ ان کی پیشہ وارانہ تجارت تھی ، تو انہوں نے یہودیوں سے کسبیہ کا طریقہ سیکھ کر رائج کرلیاکہ دوتین سال بعد ایک ماہ کا اضافہ کرلیتے اس طریقہ کار کو ہندوستان میں (لوند) کہاجاتاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہرتین سال کے بعد سال کو بارہ ماہ کی بجائے تیرہ ماہ کا بنادیاجاتاہے۔ اس کا طریقہ کاریہ تھا کہ باری باری ہرماہ کے ساتھ کچھ دنوں کا اضافہ کردیتے اور دوساڑھ ساڑھ کے مہینے بنالیتے۔ نام وہی رہنے دیتے اورماہ تین گزرجاتے۔

سب سے پہلے جس شخض نے اس کو سرانجام دیا وہ بنی کنانہ کا قلمس نامی سردار تھا اس کارخیر کی ابتداء بنی کنانہ کی طرف سے ہوئی تھی۔ لہذا یہ کام انہی کے سپرد کردیا گیا کہ قبیلہ کنانہ کاسردار حج کے مقدس موقع پر اعلان کردیتاکہ آئندہ حج کس ماہ میں ہوگا اور اضافی ماہ کس مہینے کے ساتھ بڑھایا جائے گا کنانی لوگ اس کو قلامسہ کیلنڈر کہتے تھے۔

جب کہ اس کمی بیشی کو عربی میں النیسئی کہتے اور اور یہ کام بھی قبیلہ کنانہ کے سردار کے سپرد تھاکہ وہ اعلان کرتاکہ کون سے مہینے حرمت اور مقدس کے ہیں یادرہے کہ (النیسئی) کو پورے عرب نے قبول نہیں کیا بلکہ مکہ اور اس کے نواح کے لوگ تو کسبیہ والے سال کو بھی شمار کرتے اور بغیر کسبیہ سال کو بھی یادرکھتے تھے۔ لیکن اسے شمار نہیں کرتے تھے۔ اسی بناء پر عربوں میں دو قسم کے کیلنڈر رائج تھے۔

(۱) اہل بدو کا کیلنڈر جیسے السنۃالبدویۃ یا السنۃ المدینۃ کہا جاتاتھا۔

(۲) دوم قلمس کے نام پر کیلنڈر تھا جسے السنۃ الحضریۃ یا السنۃ مکیۃ کے نام سے یاد کیا جاتاتھا۔ (جاری ہے)

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *