قسط: 12

أ  ف  ک

اَفَکَ ، یَأفِکُ   باب ضَرَبَ یَضْرِبُ

جس کا مطلب بولنا یا جھوٹی بات بنانا ہے۔ (تاج العروس)

ابن فارس نے کہا ہے کہ اس کے بنیادی معنی کسی چیز کو الٹ دینا اوراسکی جہت سے پھیر دینا ہوتا ہے۔ (مقاییس اللغہ)

اِفک کسی چیز کو پلٹ دینا ، الٹ دینا یا جس طریق پر کسی چیز کو ہوناچاہئے اسے اس سے پھیر دینا۔ (راغب)

جھوٹ اور گناہ کیلئے اِفک  یا  اِفِیْکَۃً یا  اِفْکَۃًکا لفظ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اور ایسا شخص جو خیر سے محروم ہو اور عاجز رائے دینے والاہو اسے اَفِیْک یا مَأفُوْکٌ کہا جاتا ہے۔

سورۃ الذاریات میں پھیر دینے کے مفہوم میں بھی آیا ہے ،

{ یُوفَکُ عَنْہُ مِنْ اُفِک }(۹/۵۱)

’’اس سے وہی پھیرا جاتا ہے جو پھیر دیا گیا ہو‘‘   یا ’’ اس سے وہ باز رکھا جاتا ہے جو پھیر دیا گیا ہو‘‘

اس میں ایک خاص نکتہ یہ پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو گمراہ نہیں کرتے بلکہ وہ خودہی گمراہ ہوتا ہے ۔

یہ قانون فطرت ہے تخلیق کے بعدانسانوں کیلئے دونوں راستے واضح کر دیے ہیں اب اگر گمراہی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے خود اپنے آپ کو گمراہی کے راستے کا پیروکار بنایا ہے ۔

الأفکۃ: قحط والے سال کو بھی کہتے ہیں  (تاج العروس، القاموس المحیط)

المأفوک:  جہاں بارش نہ ہوئی ہو اور وہاں گھاس وغیرہ کچھ نہ ہو۔ (تاج ، المحیط)

المؤتفکات:

 المؤتفکات سے مراد وہ ہوائیں جو اپنے صحیح رخ سے ہٹی ہوئی چلتی ہیں یا اس سے مراد وہ بستیاں ہیں جو فطرت کے تقاضوں کو نظرا نداز کر کے اللہ تعالیٰ کے احکام کی باغی ہوں جس کی بناء پر انہیںالٹ دیا گیا ہو۔

بسا اوقات جھوٹ گھڑنے کے مفہوم میں بھی استعمال کیا گیا ہے ۔

{فَسَیَقُوْلُوْنَ ھَذَا اِفْکٌ قَدِیْمٌ} (الأحقاف:۱۱) 

’’یہ کہیں گے کہ یہ تو وہی قدیم سے گھڑا جاتا رہا ہے ۔‘‘

قرآن مجید میں ہی سورۃ النور میں اہل ایمان کو بطور نصیحت بیان کیا گیا ہے کہ وہ جھوٹے الزامات نہ وضع کریں اور معاشرہ میں اس قسم کی باتوں کو نہ پھیلائیں ، اس ضمن میں ایک واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے جو واقعہ افک کے نام سے مشہور ہے ۔

قرآن مجید میں اس کے درج ذیل مشتقات استعمال ہوئے ہیں:

أفِکْ، تأفکا، تُؤفَکُوْن، یُؤفَکُ، یُؤفَکُوْن، یَأفِکُوْن، اِفْک، اَلاِفْک، اِفْکًا، اِفْکُھُمْ، أفِّاک، اَلْمُؤتَفِکَۃُ، اَلْمُؤتَفِکَات۔

قرآن میں یہ لفظ درج ذیل مفاہیم میں استعمال ہوا ہے ۔

1- الکذب یعنی جھوٹ 

سورۃ الأحقاف میں ہے: 

{وَاِذْلَمْ یَھْتَدُوْا فَسَیَقُوْلُوْنَ ھَذَا اِفْکٌ قَدِیُم} (۴۶/۱۱)

’’اور چونکہ انہوں نے اس قرآن سے ہدایت نہیں پائی پس وہ کہہ دیں گے کہ یہ تو قدیم جھوٹ ہے۔ ‘‘

2- عبادت اصنام:

 {اِذْ قَالَ لِاَ بِیْہِ وَقَوْمِہِ مَاذَ ا تَعْبُدُوْنَ أئِفْکًا آلِھَۃً دُوْنَ اللہِ تُرِیْدُوْنَ}(الصافات ۸۶)

  ’’انہوں نے اپنے باپ او ر اپنی قوم سے کہا کہ تم کیا پوج رہے ہو ؟ کیا تم اللہ کے سوا گھڑے ہوئے معبودوں کی عبادت کرتے ہو۔‘‘

3- قذف محصنات ، تہمت لگانا

سورۃ النور میں ہے: 

{اِنَّ الَّذِیْنَ جَائُ وْا بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌمِنْکُم}(۱۱)

’’جو لوگ یہ بہت بڑا بہتان باند ھ لائے ہیں یہ بھی تم میں سے الگ گروہ ہے۔

4- پھیرنا:

سورۃ الذاریات میں ہے : 

{یُؤفِکُ عَنْہُ مَنْ اُفِک}

’’اس سے وہی باز رکھا جاتا ہے جو پھیر دیا گیا ہو۔‘‘

سورۃ الاحقاف میں ہے:

{لِتَأفِکَنَا عَنْ آلِھَتِنَا}  (۲۲)

’’تاکہ تم ہمیں ہمارے خداؤں سے پھیر سکو۔‘‘

5- تقلیب  یعنی الٹ دینا یا پلٹ دینا

سورۃ النجم میں ہے:

{وَالْمُؤتَفِکَۃَ اَھْویٰ} (۵۳) 

’’اور شہر یا الٹی ہوئی بستیوں کو اسی نے الٹا۔‘‘

سورۃ الحاقہ میں ہے : 

{وَالْمُؤتَفِکَاتُ بِالْخَاطِیٔۃ}(۹) 

’’اور جن کی بستیاں الٹ دی گئیںانہوں نے بھی خطائیں کیں۔‘‘

6- سحر  یعنی جادو۔

سورۃ الشعراء میں ہے : 

{فَاِذَا ھِیَ تَلْقَفُ مَا یَأفِکُوْنَ}(۴۵)

  ’’پس جس نے اس وقت ان کے جھوٹ موٹ کے کرتب (جادو ) کو نگلنا شروع کر دیا۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *