پروفیسر محمد مسعود عالم قاسمی صاحب صدر شعبہ دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ لکھتے ہیں کہ :

’’رسول ش کافر ستادہ اور اس کا نمائندہ ہوتا ہے۔ رسول کے مخاطب انسان ہوتے ہیں وہ انسانوں کے درمیان رہتا اور بستاہے بھر پور سماجی اور اجتماعی زندگی گزارتاہے ۔اور صالح انسانی سرگرمیوں میں حصہ لیتاہے ، اور انسانوں کے دکھ درد میں شریک ہوتاہے اور ان کی مشکلات کو حل کرتاہے ۔ ان کا غم خوار ہوتاہے ان کی تعلیم وتربیت کرتاہے اور ان کی تطہیر وتعمیر کی راہ ہموار کرتاہے ۔ایک طرف تو رسول کا تعلق اللہ سے گہرا اور مضبوط ہوتاہے او ردوسری طرف انسانوں سے ا س کا رشتہ ا ٹوٹ اور بے لوث ہوتاہے۔ منصب رسالت کے یہ بنیادی پہلو ہیں اور یہی کارِ پیغمبری ہے۔‘‘ (ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور ۔ جون ۲۰۰۸ء؁ میں ۳۷)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی خدمت میں یہ دعا کی ۔

{رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیہِمْ رَسُولاً مِّنْہُمْ یَتْلُو عَلَیْہِمْ آیَاتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیہِمْ إِنَّکَ أَنتَ العَزِیزُ الحَکِیمُ}(البقرۃ:۱۲۹)

’’اے ہمارے رب ان میں انہیں میں سے رسول مبعوث فرما۔ جو ان کے سامنے تیری آیات پڑھے۔ انہیں کتاب وحکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے یقینا تو غالب حکمت والاہے۔‘‘

صاحب احسن البیان اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ :یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آخری دعا ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لختِ جگرحضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں حضرت محمد رسول اللہ  ﷺ کو مبعوث فرمایا ۔ (احسن البیان ص/۵۱)

میاں محمد جمیل صاحب مسند احمد کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ :’’سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول محترم  ﷺ سے پوچھا : کہ آپ کی نبوت کی ابتداء کس چیز سے ہوئی ۔ آپ  ۔ﷺ نے فرمایا میرے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور میری ماں نے دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محل روشن ہوگئے۔ (فہم القرآن ج/۱ ، ص/۲۱۶)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت

قرآن مجید میں ہے :

{وَإِذْ قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِی إِسْرَائِیلَ إِنِّی رَسُولُ اللَّہِ إِلَیْکُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ یَأْتِی مِن بَعْدِی اسْمُہُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاء ہُم بِالْبَیِّنَاتِ قَالُوا ہَذَا سِحْرٌ مُّبِینٌ}(الصف :۶)

’’ اور جب مریم کے بیٹے عیسی علیہ السلام نے کہا : (اے میری قوم ! ) بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں ۔ مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں ، اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے والا ہوں ، پھر جب ان کے پاس کھلی دلیلیں لائے تو کہنے لگے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔‘‘

اس آیت کی تفسیر میں حافظ صلاح الدین یوسف صاحب حفظہ اللہ فرماتے ہیں :

یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد آنے والے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ  ﷺ کی خوشخبری سنائی چنانچہ نبی  ﷺ نے فرمایا :

’’أنَا دعوۃُ ابی ابراہیم وبشارۃ عیسیٰ ۔‘‘

میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا مصداق ہوں ۔ (احسن البیان :۱۵۷۳)

احمد کے یونانی زبان میں معنی ہیں ’’فار قلیط‘‘

انجیل یوحنا میں فار قلیط (احمد ) سے متعلق جتنی نشانیاں بیان ہوئی ہیں ، وہ سب رسول اکرم  ﷺ کے وجود باوجود سے پوری ہوتی ہیں اور یہ واضح ہوجاتاہے کہ یہ بشارت رسول کریم  ﷺ کے متعلق ہے۔

مولانا سید مودودی رحمہ اللہ نے اس آیت کی بڑی تفصیل سے تفسیر کی ہے ، خاص کر لفظ ’’احمد‘‘ کے متعلق بڑی طویل بحث فرمائی ہے ، میں یہاں صرف ایک اقتباس نقل کرنے پر اکتفا کرونگا۔ مولانا مرحوم لکھتے ہیں :

’’یہ قرآن مجید کی بڑی اہم آیت ہے ، جس پر مخالفین اسلام کی طرف سے بڑی لَے دے بھی کی گئی ہے۔ اور بدترین خیانت مجرمانہ سے کام لیا گیا ہے ، کیونکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رسول اللہ  ﷺ کا صاف صاف نام لے کر آپ  ﷺ کی آمدکی بشارت دی تھی۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس پر تفصیل سے بحث کی جائے۔‘‘

اسراس میں نبی کریم  ﷺ کا اسم گرامی احمد بتایا گیا ہے ۔ احمد کے دومعنی میں ایک وہ شخص جو اللہ کی سب سے زیادہ تعریف کرنے والا ، دوسرے وہ شخص جس کی بہت سے زیادہ تعریف کی گئی ہو۔ یا جو بندوں میں سب سے زیادہ قابل تعریف ہو ، احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ یہ بھی حضور  ﷺ کا ایک نام تھا۔ مسلم اور ابوداؤد طیالسی میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضوراکرم  ﷺ نے فرمایا :

’’انا محمد وانا احمد والحاشر ۔‘‘

’’میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں اور میں حاشر ہوں ۔‘‘

اسی مضمون کی روایات حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے امام مالک رحمہ اللہ ، بخاری ، مسلم ، دارمی ، ترمذی اور نسائی رحمہم اللہ نے نقل کی ہیں۔ حضور  ﷺ کا یہ اسم گرامی صحابہ میں معروف تھا ، چنانچہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا شعر ہے :

صلی اللہ ومَن یحف بعرشہ
واللیتنبون علی المبارک احمد

’’ اللہ نے اور اس کے عرش کے گرد جمگھٹا لگائے ہوئے فرشتوں نے اور سب پاکیزہ ہستیوں نے بابرکت احمد پر درود بھیجا ہے۔‘‘

تاریخ سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ حضور اکرم  ﷺ کانام مبارک صرف محمد  ﷺ ہی نہ تھا ، بلکہ احمد بھی تھا ۔ عرب کا پورا لٹریچر اس بات سے خالی ہے کہ حضور  ﷺ سے پہلے کسی کانام احمد رکھا گیا ہو ، اور حضور  ﷺ کے بعد احمد اور غلام احمداتنے لوگوں کے نام رکھے گئے جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے بڑھ کر اس بات کا کیا ثبوت ہوسکتاہے ، کہ زمانہ نبوت سے لیکر آج تک تمام امت میں آپ کا اسم گرامی معلوم ومصروف رہا ہے۔ اگر حضور اکرم  ﷺ کا یہ اسم گرامی نہ ہوتا تو اپنے بچوں کے نام غلام احمد رکھنے والوں نے آخر کس احمد کاغلام اُن کو قرار دیا تھا۔ (تفہیم القرآن ۵/۴۶۱)

دین اسلام کے بعد کوئی نیا دین اور نبی نہیں آئے گا

دین اسلام کاکامل ہوجانا اس امر پر دلالت کرتاہے کہ سلسلہ نبوت ترقی اور ارتقاء کی تمام منازل طے کر چکا ہے اب مزید ترقی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس طرح اکمال دین ختم ِنبوت ہے نبوت کے ختم ہونے کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے :

{مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللَّہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ وَکَانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلِیمًا} (الأحزاب :۴۰)

’’لوگو! تمارے مردوں سے کسی کے باپ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نہیں۔ لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ، اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا (بخوبی )جاننے والا ہے۔‘‘

صاحب احسن البیان اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ :

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ورسالت کا خاتمہ کردیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا ، وہ نبی نہیں ، کذاب اور دجال ہوگا۔ احادیث میں اس مضمون کوتفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اور اس پر پوری امت کا اجماع واتفاق ہے ، قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا ،جو صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے ، تو وہ نبی کی حیثیت سے نہیں آئیں گے ، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بن کر آئیں گے۔ اس لئے ان کانزول عقیدہ ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔(احسن البیان ، ص:۱۱۸۲)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا ختم ہونا،آپ کے فضائل ومناقب کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

کتب احادیث میں بے شمار احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیںآئے گا ۔

ہاں !میری امت میں تیس کذاب ہوں گے، جن میں سے ہر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کر ے گا، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘(سنن  ابی داؤد ، کتاب الفتن ، بروایت ثوبان رضی اللہ عنہ )

ختم نبوت کے بارے میں رسول اللہ  ﷺ کے ارشادات

۱۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء علیہم السلام کیا کرتے تھے ، جب کوئی نبی فوت ہوجاتا تھا تودوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ بلکہ خلفاء ہوں گے۔(صحیح بخاری ، کتاب المناقب ، باب ما ذکر من بنی اسرائیل)

۲۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے۔ جیسے ایک شخص نے عمارت بنائی اور خوب حسین وجمیل بنائی ، مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے ہیں اور لوگ اس کی خوبی پر اظہار حیرت کرتے تھے ، مگر کہتے تھے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی ، تو وہ اینٹ میں ہوں ۔ اور میں خاتم النبیین ہوں (یعنی میرے آنے پر نبوت کی عمارت مکمل ہوچکی ہے ۔اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے جسے پُر کرنے کیلئے کوئی آئے۔) (صحیح بخاری ، کتاب المناقب ، باب خاتم النبین )

۳۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا د فرمایا : مجھے کچھ باتوں میں انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے۔

مجھے جامع ومختصر بات کہنے کی صلاحیت دی گئی۔

میرے لئے اموال غنیمت حلال کئے گئے ہیں۔

 میرے لئے زمین کو مسجد بنا دیاگیا، اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی (یعنی میری شریعت میں نماز صرف مخصوص عبادت گاہوںمیں ہی نہیں ، بلکہ روئے زمین پر ہرجگہ پڑھی جاسکتی ہے ، اور غسل کی حاجت بھی پوری کی جاسکتی ہے)

 مجھے تمام دنیا کیلئے رسول بنایا گیا۔

اور میرے اوپر انبیاء کاسلسلہ ختم کردیاگیا۔ (صحیح مسلم، جامع الترمذی ، سنن ابن ماجہ)

۴۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

رسالت اور نبوت کاسلسلہ ختم ہوگیا۔میرے بعد اب نہ کوئی رسول اور نہ نبی آئے گا۔(جامع ترمذی ، کتاب الرؤیا ، باب ذہاب النبوۃ )

۵۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کے بعد کوئی امت نہیں (یعنی کسی نئے آنے والے نبی کی امت) ‘‘ (بیہقی ، کتاب الرؤیا)

۶۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد (یعنی مسجد نبوی) ہے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الحج ، باب مسجد مکہ والمدینہ)

مذکورہ بالا احادیث نقل کرنے کے بعد مولانا سید مودودی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ :

یہ احادیث بکثرت صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں ، اور بکثرت محدثین نے ان کو بہت قوی سندوں سے نقل کیا ہے ، ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے مختلف الفاظ میں اس امر کی تصریح فرمائی۔ کہ آپ آخری نبی ہیں ، آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے ، نبوت کا سلسلہ آپ پر ختم ہوچکا ہے، اور آپ کے بعد جو لوگ بھی رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کریں وہ دجّال اور کذّاب ہیں۔ قرآن کے الفاظ {خَاتَمَ النَّبِیِّیْن} کی اس سے زیادہ مستند ومعتبر اور لفظی الثبوت تشریح اور کیا ہوسکتی ہے۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد تو بجائے خودسند وحجت ہے۔ مگر جب وہ قرآن کی ایک نص کی شرح کررہا ہو تب تو وہ اور بھی زیادہ قوی وحجت بن جاتاہے۔ اب سوال یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر قرآن کو سمجھنے والا اور اس کی تفسیر کاحق اداکرنے والا اور کون ہوسکتاہے کہ وہ ختم نبوت کا کوئی دوسرا مفہوم بیان کرے، اور ہم قبول کرنا کیا معنی قابل التفات بھی سمجھیں۔ (تفہیم القرآن ۴/۱۴۴)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل قرآن مجید میں

قرآن مجید میںارشاد ربانی ہے :

{وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِینَ} (الأنبیاء :۱۰۷)

’’اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کیلئے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے ۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پورے جہان کیلئے ہے ، اس لئے آپ جہان کیلئے رحمت بن کر آئے ہیں ۔ اس آیت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کردیاہے اس آیت نے اس بات کو واضح کردیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف انسانوں کیلئے رحمت تھے بلکہ پوری کائنات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت سے مستفید ہورہی تھی۔ اللہ تعالیٰ اگر رب العالمین ہیں ، تو آپ رحمۃ للعالمین ہیں۔ اور آپ کی لائی ہوئی کتاب(قرآن مجید) ھدی للعالمین ہے۔

تاریخ انسانی کااگر مطالعہ کیا جائے تو قرآن مجید کی اس آیت کی صداقت پر کائنات کی ہر چیز گواہی دے رہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف انسانوں کیلئے رحمت تھے ، بلکہ شمس وقمر ، شجر وحجر ، آ گ وپانی اور حیوانات کیلئے بھی آپ کی رحمت عام تھی۔ لیکن انسانی معاشرے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس خلق عظیم کو پیش کیا ، پوری تاریخ انسانیت میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

آپ سراپارحمۃللعالمین تھے ۔احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ مشرکین کیلئے بددعا نہ کرنا یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا ایک واقعہ تھا۔

’’انی لم ابعث لعانا وإنما بعثت رحمۃ ۔‘‘

’’مجھے کسی شخص پر لعنت کرنے کیلئے نہیں بھیجا گیا بلکہ مجھے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم ، حدیث نمبر ۲۰۰۶)

اسی طرح غصے میں کسی مسلمان کو لعنت یا سب وشتم کرنے کو بھی قیامت والے دن رحمت کاباعث قرار دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا حصہ ہے۔ (مسند احمد ۵/۴۳۷ ، سنن ابی داؤد/۴۶۵۹)

ایک دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے :

’’انما انا رحمۃ فہداۃ ‘‘

’’میں رحمت مجسم بن کر آیا ہوں ، جو اللہ کی طرف سے اہل اسلام کیلئے ایک ہدیہ ہے۔‘‘ (صحیح جامع الصغیر :۲۳۴۵) (احسن البیان ، ص/۹۰۹)

مولانا سید مودودی رحمہ اللہ نے {وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِینَ} (الأنبیاء :۱۰۷)کا ایک ترجمہ یہ کیا ہے ۔

’’اے محمد  ﷺ ! ہم نے جو تم کو بھیجا ہے ، تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔ ‘‘ (تفہیم القرآن ۳/۱۸۹)

دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتاہے کہ :’’ہم نے تم کو دنیا والوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے ۔‘‘

اس کی تفسیر میں مولانا سید مودودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’دونوں صورتوں میں مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت دراصل نوع انسانی کیلئے خدا کی رحمت اور مہربانی ہے ،کیونکہ آپ نے آکر غفلت میں پڑی ہوئی دنیا کو جگا دیا ہے اور اسے وہ علم دیا ہے جو حق اور باطل کا فرق واضح کرتاہے اور اس کو بالکل غیر مشتبہ طریقہ سے بتادیا ہے اس کیلئے تباہی کی راہ کونسی ہے ۔ اور سلامتی کی راہ کونسی ، کفار مکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو اپنے لئے زحمت اور مصیبت سمجھتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ اس شخص نے ہماری قوم میں پھوٹ ڈال دی ہے ، ناخن سے گوشت جدا کرکے رکھ دیا ہے ، اس پر فرمایا گیا ، نادانو! تم جسے زحمت سمجھ رہے ہو، یہ در حقیقت تمہارے لئے رحمت ہے ۔ (تفہیم القرآن ۳/۱۹۲)

مولانا قاضی محمد سلیمان صاحب سلمان منصور پوری رحمہ اللہ نے اپنی بے نظیر کتاب ’’رحمۃ للعالمین‘‘ جلد دوم ، باب ششم ، {وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِینَ}میںتفصیل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمۃ للعالمین ہونے پر بڑے عمدہ پرائے میں گفتگو فرمائی ہے جس کا ایک اقتباس درج ذیل ہے ، قاضی صاحب مرحوم لکھتے ہیں :

وہ !

غریب کا محب 

مسکین کا ساتھی

شاہوں کا تاج

آقاؤں کا آقا

غلاموں کا محسن

یتیموں کا سہارا

بے آسروں کا سہارا

بے مأووںکا ماویٰ

دردمندوں کی دوا

چارہ گروں کا دردمند

مساوات کا حامی

اخوت کا بانی

محبت کا جوہری

افلاس کا مشتری

صدق کا منبع

 صبر کا معدن

خاک ری کا نمونہ

رحمت ربانی کا پتلا

اولین انسان

آخرین رسول  ﷺ

اگر رحمۃ للعالمین کے لقب سے ملقب نہ ہوگا ، تو پھر ان جملہ صفات کے جامع کا اور کیا نام ہوگا۔

ہاں رحمۃ للعالمین وہی ہے جس نے ملکوں کی دوری ، اقوام کی بیگانگی ، رنگوں کا اختلاف ، زبانوں کا تباین دور کرکے سب کے دلوں میں سب کے دماغوں میں ایک ہی تصور ، سب کی زبانوں پر ایک ہی کلمہ جاری کردیا ہو۔ہاں رحمۃ للعالمین وہی ہے ، جو بندہ کو خدا کے حضور تک لے جاتا اور اسے{اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ} کی قدسی آواز سے آشنا بناتاہے ، اور خداوبندہ کے درمیان کسی تیسرے کے لئے کوئی رخنہ باقی نہیں چھوڑتا۔(رحمۃ للعالمین ، ج/۲ ، ص :۳۳۳ ، ۳۳۴ ، مطبوعہ لاہور ۱۹۶۸ء؁ ، شیخ غلام علی اینڈ سنز ، لاہور )         (جاری ہے )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *