الحمد للہ کہ خاتم الأنبیا ء ﷺ پر نازل ہوئی اکمل کتاب ۔جس سے جہالت کی ظلمتیں دور ہوئیں اور عذاب کے سارے اسباب۔ علم کے نفیس ترین خزانوں اور چہروں سے ہٹایا سارا حجاب۔
نیز حقائق دینیہ اور اَسرار ومحاسن سے کھو لا نقا ب ۔ اسکے ساتھ عبادت خالص ہوئی برائے العزیز الوھاب اس کتاب کے ذریعے دونو ںجہاں کی کامیابی کیلئے کھول دئیے ابواب۔ اس کتاب کے کثیر وغزیر علوم سے مردہ دلو ں کو جو زندگی ملی وہ مردہ زمینوں کی زندگی سے بدر جہا بڑھ کر ہے جسے ہو سیرابی بواسطہ و ابل السحاب ۔
اسی کتاب کی آیات میں تدبر سے ہی جدا ہوسکتے ہیں۔خطا و صواب ۔قرآن پاک کے الفاظ ومعانی اور احکا م ہر قسم کے عیوب و نقائص سے ہے پاک ۔
{کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِّیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ}(ص:۲۹)
’’یہ کتاب آپ پرنازل ہوئی تاکہ لوگ اسکی آیات پر تدبر کریں اور نصیحت پکڑیں تب تو یہ ہیں أولو الالباب ۔‘‘
اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ہر خیر صرف اس کیلئے ہے جو رہے مُتَّبِع الکتاب۔
{فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَلَا یَشْقَی}(طٰہٰ :۱۲۳)
’’جس نے صرف میری ہدایات پر عمل کیا وہ نہ بھٹکے گا اور نہ کبھی پریشان ہوگا ۔‘‘
سب اعراض کرنے والے جہنم کے ایندھن بنیں گے جس سے ڈریا ہے مُنَزِّلُ الکتاب ۔
{وَمَن یَکْفُرْ بِہِ مِنَ الأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُہُ} (ھود ـ:۱۷)
اور جن جن جماعتوں نے اس کتاب کو جھٹلایا یا جھٹلائیںگے تو پس جہنم ہی اس کا ٹھکانااور مآب ۔ کتاب اللہ سے اعراض کرنے والوں کو گد ھوں سے تشبیہ دی ہے العزیز الوھاب ۔
{فَمَا لَہُمْ عَنِ التَّذْکِرَۃِ مُعْرِضِینَ٭ کَأَنَّہُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَۃٌ} (المدثر : ۴۹۔۵۰)
انہیں کیا ہوا ہے کہ نصیحت آموز کلام سے اعراض کرتے ہیںگویا کہ یہ سخت ڈرپوک گدھے ہیں ۔قران پاک سے اعراض کرنے والے قیا مت کے روز اپنی پیٹھو ں پر بوجھ اٹھا ئیں گے ۔
(وَقَدْ آتَیْنَاکَ مِنْ لَّدُنَّا ذِکْرًا )
’’یقینا ہم نے آپ کو خا ص ذکر عطا فر مایا ہے ۔‘‘
{مَنْ أَعْرَضَ عَنْہُ فَإِنَّہُ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وِزْرًا ٭ خَالِدِینَ فِیہِ وَسَاء لَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حِمْلًا}(طہ: ۹۹۔۱۰۰۔ ۱۰۱)
جو بھی قرآن پاک (کے پڑھنے سمجھنے اور عمل کرنے) سے اعراض کرے گا قیامت کے روزوہ یقینا بہت بڑا بوجھ اٹھاتا ہوا آئے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور بہت ہی برا بوجھ ہو گا۔ اسی کتاب کے ذریعے اللہ تعا لی نے بے بصیرتو ں کو بصیرت عطاکی ۔جیسے فرمایا کہ :
{وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِکْرِی فَإِنَّ لَہُ مَعِیشَۃً ضَنکًا وَنَحْشُرُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْمَی} (طٰہٰ :۱۲۴)
جس نے بھی ہماری اس عظیم نصیحت سے اعراض برتا ہم اس کی زندگی تنگ کردیںگے اور قیامت کے روزہم اسے اندھا اٹھائیں گے ۔
اس کتاب کے عجائبات کبھی ختم ہونہیںسکتے ۔دن رات میں کثرت تلاوت سے نہ کبھی یہ بوسیدہ ہوسکتی ہے۔ بہت سارے لوگ اس کتاب پر عمل کرنے کی وجہ سے زمانے کے معزز بنے اور دوسرے اس پر عمل چھوڑنے کی وجہ خوار بھی ہوئے۔
{وَذَرْنِیْ وَمَنْ یُّکَذِّبُ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ سَنَسْتَدْرِجُہُم مِّنْ حَیْثُ لاَ یَعْلَمُونَ ٭ وَأُمْلِی لَہُمْ إِنَّ کَیْدِی مَتِینٌ} ( ن : ۴۴۔۴۵)
’’مجھے اکیلا ہی چھوڑ دیں کہ میں ان لوگوں سے نمٹوں جو میری اس بات (وحی) کو جھٹلاتے ہیں ہم آہستہ آہستہ ان کی رسی کھینچیں گے کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا میں تو انہیں ڈھیل دیتاہوں میری تدبیر بہت مضبوط ہے۔‘‘
یہی کتاب آسمانی کتابوں میں سے سب سے آخری پیغام رب العالمین ہے ہر خیر کے حصول کا ذریعہ اسی کتاب سے تعلق جوڑنے سے ہے اور ہر شر کا سبب اسی کتاب سے اعراض ہے۔
برکات ہی برکات صرف ان لوگوں کیلئے ہیں جن کے لئے یہ کتاب حجت بنی اور بربادی ہی بربادی ان پر ہے جن کے خلاف یہ کتاب حجت بنی ، اللہ رب العالمین کافرمان غور سے ملاحظہ فرمائیں:
{قُلْ ہُوَ لِلَّذِینَ آمَنُوا ہُدًی وَشِفَاء وَالَّذِینَ لَا یُؤْمِنُونَ فِی آذَانِہِمْ وَقْرٌ وَہُوَ عَلَیْہِمْ عَمًی أُوْلَئِکَ یُنَادَوْنَ مِن مَّکَانٍ بَعِیدٍ}(حم السجدہ:۴۴)
’’آپ اعلان فرما دیں کہ یہ قرآن ایمان لانے والوں کیلئے ہدایت اور شفا ہے اور جو ایمان لانا نہیں چاہتے ان کے کانوں میں (بہراپن اور) بوجھ ہے اور آنکھوں پر پٹی ہے گویا کہ ان لوگوں کو کہیں دور سے آوازیں دی جارہی ہیں ۔‘‘
اللہ کے مطیع اور فرمانبردار کیلئے یہ کتاب خوش خبری ہی خوش خبری ہے ۔نافرمان عاصی کیلئے یہ وعید ہی وعید ہے۔
اس کے باوجود بھی آج کے اکثر مسلمان قرآن پاک میں تدبر سے کتراتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خالق ومالک کے فرمان
{أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَی قُلُوبٍ أَقْفَالُہَا}(محمد:۲۴)
’’یہ قرآن پاک میں تدبر کیوں نہیں کرتے یا کہ ان کے دلوں پر تالے لگ چکے ہیں۔‘‘
اس اللہ کے فرمان کی پرواہ بھی نہیں کرتے اور نہ ہی قرآن کے احکام کی پابندی کرتے ہیں اور نہ ہی قرآن پاک کے اخلاق حسنہ کی تعلیمات پر کان دھرتے ہیں بلکہ قرآن مخالف نظاموں اور اصولوں کو اپناتے ہیں اور گمراہ کن راستوں پر چلتے ہیں حالانکہ قرآن کی آیت کتنی واضح ہے ۔ {وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰہُ فَأُؤْلٰئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْنَ} جو اللہ کی وحی کے مطابق اپنے فیصلے کرتے یا کراتے نہیں یہی لوگ کافر ہیں۔
{أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِینَ یَزْعُمُونَ أَنَّہُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْکَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ یُرِیدُونَ أَن یَتَحَاکَمُواْ إِلَی الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن یَکْفُرُواْ بِہِ وَیُرِیدُ الشَّیْطَانُ أَن یُضِلَّہُمْ ضَلاَلاً بَعِیدًا} (النساء :۶۰)
’’آپ ان لوگوں کو جانتے ہیں جودعوی تو کرتے ہیں کہ ہم آپ پر نازل شدہ اور آپ سے پہلے نازل شدہ تمام آسمانی کتابوں پر ایمان والے ہیں لیکن فیصلے طاغوت سے کراتے ہیں حالانکہ حکم تھا کہ طاغوت سے کفر کریں حقیقت میں شیطان انہیں دور کی کسی گمراہی میں ڈالنا چاہتاہے۔‘‘
اکثر لوگ ان کو حقیر سمجھتے ہیں جو آداب قرآن اور قرآن کے اخلاق حسنہ اپناتے ہیںاور اس پر انگشت نمائی ہوتی ہے حالانکہ وہ خود ہی حقیقت میںحقیر لوگ ہیں۔
میرے بھائیو! اگر لوگوں کی اکثریت کتاب اللہ سے کتنی ہی بے رغبتی اختیار کرے اور کتاب اللہ پر عمل کرنے والوں کو کتنا ہی حقیر سمجھے لیکن یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ عقل مند ، سمجھ دار اور صاحب فراست پر ان کی تنقیدوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے پرواہ ہوتی ہے۔
لہذا لوگ جتنا ہی اس کتاب کو پس پشت ڈالیں اور اعراض کو ہی اپنا شعار بنالیں لیکن جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کا علم نوازاہے انہیں ہمت کرنی چاہیے کہ اس کتاب عظیم کی خوب خدمت کریں اور کتاب اللہ کی تفسیر کتاب اللہ کے ذریعے اور سنت رسول اللہ ﷺ کے ذریعے تفسیر کرکے لوگوں کے سامنے اس کے محاسن واضح کریں اور مشکل مقامات سمجھائیں۔
اور یہ بھی یادرکھیں کہ مکمل سنت رسول اللہ ﷺ کتاب اللہ کی ایک ہی آیت میں مندرج اور داخل ہیں۔
{وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانتَہُوا }(الحشر:۷)
’’جو کچھ بھی رسول اللہ ﷺ تمہیں دیں اسے قبول کرو اور جس چیز سے منع فرمائیں اس سے فوراً باز آجاؤ۔‘‘
کتاب اللہ کی تفسیر اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا اور اللہ نے رسول اللہ ﷺ پر جو کچھ وحی فرمایا بس یہی صحیح ترین تفسیر ہے۔
